• اگست
  • ستمبر
2002
محمد دین قاسمی
''اجی، چھوڑیئے، احادیث کو۔ ان میں اختلافات ہیں، لہٰذا وہ اسلامی آئین کے لئے بنیاد اور مسائل حیات کے لئے دلیل و سند کیوں کر ہوسکتی ہیں۔''
یہ ہیں وہ الفاظ، جو اکثر و بیشتر منکرین حدیث کی زبان پر جاری و ساری رہتے ہیں، لیکن جب اس کے جواب میں یہ کہا جاتا ہے کہ ایسا اختلاف تعبیر قرآن میں بھی ممکن ہے... تو یہ جواب ، ان کے لئے، سانپ کے منہ میں چھچھوندر والا معاملہ پیدا کردیتا ہے،
  • جون
1989
محمد دین قاسمی
سوشلزم یا کمیونزم کیسا نظام ہے؟پرویز صاحب نے اس کا جواب بڑی تفصیل سے اپنی مختلف کتب میں دیا ہے۔

کمیونزم کا جوتجربہ روس میں ہورہا ہے نوع انسانی کے لئے بدترین تجربہ ہے۔جس میں اول تو انسانی زندگی اور حیوانی زندگی میں فرق نہیں کیا جاسکتا۔دونوں کی زندگی محض طبعی زندگی سمجھی جاتی ہے۔جس کاخاتمہ موت کردیتی ہے۔لہذا اس میں انسانیت کے تقاضے طبعی تقاضوں سے زیادہ کچھ نہیں سمجھے جاتے۔
  • مئی
1989
محمد دین قاسمی
قرآن کے جعلی پرمٹ پر نام نہاد"نظامِ ربُوبیّت"کامنزل بمنزل نفاذ

پرویزصاحب،زندگی بھر،جہاں اشتراکیت کو"نظامِ ربوبیت"کے نام سے مشرف باسلام کرنے میں کوشاں رہےہیں،وہاں وہ امّتِ مسلمہ کو یہ باور کروانے کی ناکام کوشش بھی کرتے رہے ہیں کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلّم نے اسی نظام کو بتریج نافذفرمایاتھا،جو اموال واراضی کی شخصی ملکیت کی نفی پر قائم تھا،
  • نومبر
1989
محمد دین قاسمی
فطرت انسانی کے متعلق پرویز صاحب کا موقف:

ان کے مندرجہ ذیل اقتباسات سے ظاہر ہے:

1۔فطرت مجبور اشیاء کی ہوتی ہے جو اسے بدلنے پر قادر نہیں ہوتیں۔لہذا صاحب اختیار وارادہ کی کوئی فطرت نہیں ہوسکتی اور انسان کی بنیادی خصوصیت یہ ہے
  • جون
1988
محمد دین قاسمی
قرآن کریم کی روشنی میں

1۔ زید نے کھانا کھایا

2۔ زید نے آم کھایا
  • اکتوبر
1988
محمد دین قاسمی
ماہنامہ محدث کی جون 1988ء کی اشاعت میں پروفیسر محمد دین قاسمی صاحب کا ایک نہایت علمی اور وقیع مضمون بعنوان۔۔ "خدا و رسول یا مرکزِ ملت(قرآن کریم کی روشنی میں)" شائع ہوا تھا۔ جس میں انہوں نے اخلاق، تہذیب اور شائستگی کو ملحوظ رکھتے ہوئے، قرآن کریم کی روشنی میں، پرویز صاحب کے اس نظریے پر، کہ قرآن کریم میں وارد الفاظ "اللہ اور رسول" سے مراد "مرکزِ ملت" ہے، بڑی جاندار تنقید کی تھی۔
  • فروری
1990
محمد دین قاسمی
قرآن کریم کی روشنی میں!

آج سے تقریباً چھ سال قبل شہید صدرضیاء الحق کے دور میں ،خواتین کی عدالتی شہادت کے موضوع پر دو گروہ خم ٹھونک کر ایک دوسرے کے مقابل آگئے تھے۔ایک گروہ ان علمائے امت پر مشتمل تھا جن کا مؤقف یہ ہے کہ شہادت کے چار درجے ہیں،بعض میں عورت کی شہادت مقبول ہے اور بعض میں مقبول نہیں ہے۔اور جہاں مقبول ہے وہاں بھی بعض شرائط کی پابندی لازم ہے۔اس کی تفصیل درج ذیل ہے۔
  • مارچ
  • اپریل
1988
محمد دین قاسمی
اس میں شک و شبہ نہیں کہ ملائکہ مستور و مخفی مخلوق ہیں۔ عام حالات میں یہ نظر نہیں آیا کرتے۔ لیکن بعض خصوصی حالات میں، جبکہ وہ انسانی پیکر میں نمودار ہوں، تو ان کا نظر آجانا امرِ مستعبد نہیں۔ چنانچہ نزولِ قرآن مجید سے لے کر اب تک علماء و مفکرین، فقہاء و مجتہدین اور محدثین و مفسرین ہمیشہ اس کے قائل رہے ہیں۔ البتہ معتزلہ وہ پہلا فرقہ تھا جس نے اس کا انکار کیا۔ اور آج کے اس دور میں غلام احمد پرویز نے اس حقیقت کا انکار کیا ہے۔
  • جولائی
1988
محمد دین قاسمی
1۔ شخصیتِ آدم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔2۔ نبوتِ آدم

1۔ شخصیتِ آدم:

شخصیتِ ادم کے متعلق دورِ حاضر کے ایک متجدد، اپنی انگریزی تفسیر میں یوں لب کشائی فرماتے ہیں:
  • اپریل
1985
محمد دین قاسمی
زمانہ ماضی کا ہو یا حال کا،ہر دور میں بگڑے ہوئے لوگوں کا یہ مستقل وطیرہ رہاہے کہ وہ اپنے مفسدانہ نظریات کی اشاعت ،ان ہستیوں کے نام کی آڑ میں کرتے رہے ہیں جو معاشرے میں قابل اعتماد اور لائق احترام ہوں۔ایسے لوگ عامۃ الناس کے سامنے آکر بھی یہ نہیں کہتے کہ "جوکچھ ہم پیش کررہے ہیں یہ ہمارے طبع زاد نظریات اور خود ساختہ افکار ہیں"بلکہ وہ انھیں یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں
  • مارچ
2006
محمد دین قاسمی
ایک زمانہ تھا جب پرویز صاحب علماے سلف و خلف کی ہم نوائی میں قرآن و سنت کے سرچشمہ اسلام ہونے کے قائل تھے۔ دونوں کو (یعنی قرآن کو بھی اور سنت ِ رسول کو بھی) اَدلہ شرعیہ مانتے تھے اور ہر چیز کو کتاب و سنت ہی کی کسوٹی پر پرکھنے کے دعوے دار تھے، اور اثبات ِ دعویٰ کے لئے خود اپنے آپ پر بھی، اور دو سروں پربھی کتاب و سنت ہی سے دلیل پیش کرنے کا مطالبہ کیا کرتے تھے۔
  • اگست
2009
محمد دین قاسمی
شیطان اس حقیقت سے خود واقف ہے کہ وہ اپنی دعوتِ ضلالت کو ضلالت کے نام سے اگر پیش کرے گا تو وہ ہرگز قابل قبول نہ ہوگی، چنانچہ وہ ہمیشہ یہ حربہ اختیارکرتا رہا ہے کہ وہ گمراہی کو ہدایت کے روپ میں پیش کرے۔ جھوٹ کو لباسِ صدق پہنائے، بے دینی کو دین کے بھیس میں سامنے لائے اور خلقِ خداکو دھوکہ دینے کے لئے فریب ِکار کی بجائے ناصحِ درد مند کا بہروپ اپنائے۔
  • نومبر
2009
محمد دین قاسمی
'مفکر قرآن' جس قدر قرآن، قرآن کی رٹ لگایا کرتے، اسی قدر وہ قرآنِ کریم سے گریزاں اور کتاب اللہ سے کنارہ کش تھے۔ پھر اس پر مستزاد یہ کہ وہ اپنے مقابلے میں جملہ اہل علم کو قرآن سے بے خبر اور جاہل قرار دیا کرتے تھے جس کی تفصیل پہلی قسط میں گزر چکی ہے۔ مفکر قرآن کے ایمان بالقرآن کی حقیقت ذلک قولہم بأفواہہم سے زیادہ نہیں ہے۔
  • جنوری
2006
محمد دین قاسمی
چوتھی مثال (واقعہ ذبح ِبقرہ اور قیاسی تفسیر)
سورة البقرة میں، ذبح ِبقرہ کے واقعہ کے ضمن میں قتل ِنفس کا واقعہ بایں الفاظ مذکور ہے :
وَإِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادَّارَ‌أْتُمْ فِيهَا ۖ وَاللَّـهُ مُخْرِ‌جٌ مَّا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ ﴿٧٢﴾ فَقُلْنَا اضْرِ‌بُوهُ بِبَعْضِهَا ۚ كَذَٰلِكَ يُحْيِي اللَّـهُ الْمَوْتَىٰ وَيُرِ‌يكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ﴿٧٣...سورۃ البقرۃ
''اور تمہیں یاد ہے وہ واقعہ جب تم نے ایک شخص کی جان لی تھی، پھر اس کے بارے میں باہم جھگڑے اور قتل کا الزام تھوپنے لگے او راللہ نے فیصلہ کرلیا تھا کہ جو کچھ تم چھپاتے ہو، اسے وہ کھول کر رکھ دے گا، اس وقت ہم نے یہ حکم دیا کہ مقتول کی لاش کو، اس کے ایک حصے سے ضرب لگاؤ۔ دیکھو، یوں اللہ لوگوں کو زندگی بخشتا ہے اور یوں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھ سے کام لو۔''
  • مئی
1987
محمد دین قاسمی
یہ ایک ناقابل تردید تاریخی حقیقت ہےکہ فرعون نے ولادت موسوی سے قبل ابنائے بنی اسرائیل کو قتل کرنے کا ظالمانہ سلسلہ شروع کر رکھاتھا اور خود قرآن مجید بھی اس حقیقت کی تائید کرتا ہے، مگر ''طلوع اسلام'' کے بانی غلام احمد پرویز کو اس سے انکار ہے۔قرآن مجیدکے ہراس مقام پر ، جہاں فرعون کے ہاتھوں ابنائے بنی اسرائیل کا قتل مذکور ہے، انہوں نے یہ تاویل، (بشرطیکہ اسے تاویل کہا بھی جاسکے) فرمائی ہے کہ فرعون ،
  • جون
1987
محمد دین قاسمی
سورہ القصص کی درج ذیل آیات ملاحظہ ہوں :
طسم ﴿١﴾ تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ ﴿٢﴾ نَتْلُو عَلَيْكَ مِن نَّبَإِ مُوسَىٰ وَفِرْ‌عَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ﴿٣﴾ إِنَّ فِرْ‌عَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْ‌ضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا يَسْتَضْعِفُ طَائِفَةً مِّنْهُمْ يُذَبِّحُ أَبْنَاءَهُمْ وَيَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ ﴿٤﴾ وَنُرِ‌يدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْ‌ضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِ‌ثِينَ ﴿٥﴾وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الْأَرْ‌ضِ وَنُرِ‌يَ فِرْ‌عَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُم مَّا كَانُوا يَحْذَرُ‌ونَ ﴿٦﴾ وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ أُمِّ مُوسَىٰ أَنْ أَرْ‌ضِعِيهِ ۖ فَإِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَأَلْقِيهِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِي وَلَا تَحْزَنِي ۖ إِنَّا رَ‌ادُّوهُ إِلَيْكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ الْمُرْ‌سَلِينَ ﴿٧...سورۃ القصص
  • جولائی
2005
محمد دین قاسمی
جناب غلام احمد پرويز بلا شبہ ذہين آدمى تهے- ذہانت و فطانت كے ساتھ عمده قلمى صلاحيتوں كے بهى حامل تهے- جديد افكار و نظريات سے متاثر ہى نہيں بلكہ انتہائى مرعوب بهى تهے- اسى فكرى اسيرى اور ذ ہنى غلامى كے باعث وہ قرآن مجید سے نت نئى چيزيں كشيد كيا كرتے تهے، جو ان كے پيروكاروں كے نزديك 'علمى جواہر پارے' اور ان كے مخالفين كى نظر ميں 'تحريفات و تلبيسات'تهيں-
  • اگست
2005
محمد دین قاسمی
'طلوعِ اسلام' مئى 2005ء كے شمارہ ميں خواجہ ازہر عباس صاحب __ "قرآن فہمى وحديث نبوى " موٴقر ماہنامہ محدث سے چند گزارشات كے زيرعنوان فرماتے ہيں :
"قرآن فہمى كے اُصولوں اور قواعد كے سلسلہ ميں محترم پرويز صاحب اور محترم جاويد غامدى صاحب كے حوالے سے مضمون ميں جو كچھ كہا گيا ہے،
  • مئی
2007
محمد دین قاسمی
پریسٹ ہڈ(Priesthood) یعنی 'مذہبی پیشوائیت'اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے اسلام کے علاوہ دیگر ادیان، مثلاً نصرانیت، ہندومت اور یہودیت کا تصور ہے۔ لیکن ہمارے 'مفکر ِقرآن' جناب چوہدری غلام احمد پرویز صاحب نے مذاہب ِباطلہ سے اس کا تخم لے کر، اسے سرزمین اسلام میں کاشت کیا، اور پھر اس کا ترجمہ'مُـلَّا اِزم' کرتے ہوئے علماے امت، محدثین ِکرام اور فقہاے عظام کو مطعون کرنے کا ذریعہ بنایا۔
  • جون
2007
محمد دین قاسمی
پاکستان بن جانے کے بعد جب اس مقصد کو عملی جامہ پہنانے کا وقت آیا جس کے لئے پاکستان بنایا گیا تھا تو مسلم لیگ کے لئے نفاذِ اسلام ایک مسئلہ بن گیا، کیوں؟ اور کیسے؟ یوں اور اس طرح کہ اگرچہ مسلم لیگی حکمرانوں نے اسلام کا نعرہ لگا کر پاکستان بنا لیا تھا، لیکن وہ اس میں اسلام کو اس لئے نافذ نہیں کرسکتے تھے کہ وہ خود مغربی افکار و نظریات کا دودھ پی پی کر یورپ کے فاسد تمدن کی گود میں پرورش پائے ہوئے تھے۔
  • اگست
2007
محمد دین قاسمی
پاکستان کے جدید تعلیم یافتہ طبقے کو زیادہ تر دو شخصیات نے متاثر کیا ہے ۔ جن میں ایک جناب سیدابوالاعلیٰ مودودی ہیں اور دوسرے جناب غلام احمد پرویز۔ مؤخر الذکر کے نزدیک سید مودودی اور ان کی جماعت ہی 'مُلّا' ہیں، جو اگرچہ اقامت ِدین کا نام لیتے ہیں، لیکن ان کے پیش نظر مذہبی پیشوائیت کا نظام قائم کرنا ہے
  • جولائی
2007
محمد دین قاسمی
پانچواں واقعہ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ ہے، اُنہیں مسئلہ خلقِ قرآن کے سلسلہ میں انتہائی اذیتوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اُنہوں نے اربابِ اقتدار کے ہاتھوں مصائب میں مبتلا ہونا قبول کرلیا لیکن ان کی ہاں میں ہاں نہیں ملائی۔ معلوم نہیں 'مفکر قرآن' صاحب کی وہ مذہبی پیشوائیت کہاں تھی جو اربابِ اقتدار کی ہاں میں ہاں ملایا کرتی تھی :
  • اگست
1987
محمد دین قاسمی
دورِ نزول قرآن سے لے کر اب تک عیدالاضحیٰ پر جانوروں کی قربانی، اُمت مسلمہ میں ایک مجمع علیہ اور متفق علیہ عبادت کی حیثیت سے تواتر کے ساتھ قائم رہی ہے۔ معتزلہ، جو ابتدائی زمانہ میں حدیث اور سنت نبوی سے گریزاں رہے ہیں، بھی قربانی کاانکار نہ کرپائے۔ لیکن ہمارے زمانے میں غلام احمد پرویز نے عیدالاضحیٰ کے مواقع پر کی جانے والی قربانی کی شدید مخالفت کی او راسے خلاف قرآن عمل قرار دیاہے، البتہ حج کے موقع
  • دسمبر
1989
محمد دین قاسمی
دور حاضر میں یتیم پوتے کی وراثت کے مسئلے کو بہت اچھا لا گیا ہے فکر مغرب کی یلغار سے مسخر دماغوں نے اس مسئلے کو ایک جذباتی پس منظر میں رکھ کر علماء اُمت کو بالعموم اور فقہاء اسلام کو بالخصوص ،خوب نشانہ بنایا ہے۔قرآن کے نام پر قرآن کی مرمت کرنے والوں نے اسلام کےقانون وراثت کو جس طرح تختہء مشق بنایا ہے۔اس کی واضح مثال بھی چونکہ"یتیم پوتے کی وراثت کا مسئلہ" ہے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اس پر قرآن وسنت کی  روشنی میں بحث کرنے کے بجائے ،صرف قرآن ہی کی روشنی میں غلام احمد پرویز صاحب کے دلائل کا جائزہ لیاجائے:
  • جولائی
2006
محمد دین قاسمی
سالِ رواں کے پہلے ماہ کے پہلے دن، میری ایک تصنیف ... جناب غلام احمد پرویز، اپنے الفاظ کے آئینے میں... منظر عام پر آئی۔ 31؍ مارچ2006ء کو ہفت روزہ 'فرائیڈے اسپیشل'(کراچی) نے،اور 16تا31؍مارچ کے پندرہ روزہ 'انکشاف' (اسلام آباد)نے اس کتاب پر تبصرہ کیا۔ اِن دونوں کے علاوہ کسی اخبار او ررسالہ میں اس پر تبصرہ تاحال پیش نہیں ہوا۔
  • مئی
2006
محمد دین قاسمی
وحیصرف قرآن ہی میں ہے یا قرآن کے علاوہ بھی پیغمبر علیہ الصلوٰة والسلام پر وحی آیا کرتی تھی؟ اس پر علماے کرام نے قرآن کریم کی روشنی میں بہت کچھ لکھا ہے، لیکن منکرین حدیث کے ہم نواؤں میں سے مولوی ازہر عباس صاحب ، فاضل درسِ نظامی فرماتے ہیں :''لیکن جو اصل موضوع ہے، اور سب منکرین حدیث کا اصل الاصول اور عروة الوثقیٰ ہے کہ حدیث وحی نہیں ہے اور 'وحی صرف قرآن میں ہے۔' اس موضوع پر کچھ تحریر کرنے سے ہمارے علماے کرام ہمیشہ بچتے رہے اور اجتناب کرتے رہے ہیں۔''
  • مارچ
2007
محمد دین قاسمی
علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ مسلمانانِ برصغیر كى عظیم فكرى شخصیت ہیں اور آپ نے شاعرى كے ذریعے مسلم اُمہ میں بیدارى كى لہر پیدا كى- اثرآفرینى اور ملى افكار كى بدولت آپ كى شاعرى ممتاز حیثیت كى حامل ہے-لیكن ان غیر معمولى خصائص كا یہ مطلب نہیں كہ آپ كے جملہ افكار اور شاعرى كو مقامِ عصمت اور تقدس حاصل ہے۔
 
  • اپریل
2006
محمد دین قاسمی
ہر جعل ساز کو یہ علم ہے کہ اس کے کھوٹے سکے صرف اُسی وقت قابل قبول ہوں گے، جب اُنہیں اصلی اور کھرے سکوں کے رُوپ میں پیش کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں ہر ابلیس، اپنے فساد کو اِصلاح کے لباس میں، اور ہر شیطان اپنے جھوٹ کو سچ کے بھیس میں پیش کرنے پر مجبور ہے اور اِس کے ساتھ ہی یہ ابالیس و شیاطین یہ پراپیگنڈا بھی شروع کردیتے ہیں کہ افکار ونظریات کے یہ سکے فلاں فلاں قابل ِاحترام بزرگوں کے ہاں مقبول و مسلّم رہے ہیں۔