• فروری
2009
عبدالرؤف ظفر
پاکستان کے معروف محقق پروفیسر ڈاکٹر شیر محمد زمان چشتی کے سالہا سال کے مطالعہ اور علمی تجربہ کا نچوڑ 'نقوشِ سیرت' ہے جو 234 صفحات پر مشتمل ہے۔ خوبصورت جلد میں یہ کتاب نہایت دیدہ زیب ہے۔ 2007ء میں اسے 'پروگریسو بکس' اُردو بازار لاہور نے شائع کیا ہے۔کتاب کی ابتدا میں ملک کے معروف سکالر اُستادِ محترم پروفیسر ڈاکٹر خالد علوی رحمة اللہ علیہ، معروف ادیب اور عربی زبان کے فاضل اجل پروفیسر ڈاکٹر خورشید رضوی اورممتاز دانش ور پروفیسر عبدالجبار
  • مارچ
1990
عبدالرؤف ظفر
فقروشاہی واردات مصطفیٰ است
ایں تجلی ہائے ذات مصطفیٰ است (اقبال )

سلسلہ انبیاؑء کی آخری کڑی انسان کا مل حضرت محمدمصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ انسانی زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے راہنمائی نہ ملتی ہو اسی وجہ سے اللہ تبارک وتعا لیٰ نے ارشاد فر ما یا۔
  • مئی
2012
عبدالرؤف ظفر
قيام پاکستان کے بعد اہلحدیث مجموعہ ہائے فتاویٰ کا تعارف
۱۔ فتاویٰ ثنائیہ ازمولانا ابو الوفاء ثناء الله امرتسری﷫ (۱۸۶۴ء۔۱۹۴۸ء)
مولانا ابو الوفاء ثناء الله بن خضر امرتسریکشمیر کے منٹو خاندان میں ۱۸۶۴ء کو اَمرتسر میں پیدا ہوئے۔
  • مارچ
2012
عبدالرؤف ظفر
قيام پاکستان سے قبل اہلحدیث مجموعہ ہائے فتاویٰ کا تعارف
فتویٰ کامفہوم
لغوی اعتبار سے فتویٰ اسم مصدر ہے جو'افتاء' کے معنی میں مستعمل ہے اور اس کی جمع فتاوٰی (بفتح الواو) اور فتاوِی(بکسر الواو) آتی ہے۔
  • جنوری
1992
عبدالرؤف ظفر
قرآن مجید کلام الٰہی ہے ۔مثل مشہور ہے کلام الملوک ملوک الکلام۔قرآن مجید کا ملوک الکلام ہونا اس کے ایک ایک لفظ سے ثابت ہوتا ہے۔اس کی تفسیر لکھنے کے لئے بہت سے علماء نے کوششیں کی۔یہ ہمہ پہلو کتاب ہے۔اس لئے اس کی تفسیر کے لئے اپنی فہم وفراست کے مطابق صاحب علم وفضل لوگوں نے مختلف انداز سے کام کیا بعض نے نہایت مختصر اور بعض نے مفصل کتب لکھیں۔بعض نے صرف وجوہ قرآت پرگفتگو کی۔بعض نے الفاظ کے معنی پر زور قلم صرف کیا۔
  • فروری
1984
عبدالرؤف ظفر
بخاری شریف کی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دور میں باقاعدہ فوجیوں کے نام درج کر کے ان کو جنگوں میں لڑنے کے لیے بھیجا جاتا تھا۔ یہ کام بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی موجودگی میں کرایا۔ اس کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط اور معاہدات ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر قوموں سے کیے۔ وہ بھی گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے لکھائے ہوئے تھے۔ ممانعت کی صورت میں ان کے لکھوانے کا جواز ہی نہیں تھا۔
  • جنوری
1984
عبدالرؤف ظفر
التوابين كتابه الحديث وكراهتهاوالتطابق بين الاحاديث المتعارضه
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم شریعتِ اسلامیہ کا دوسرا قانونی ماخذ ہے۔ قرآن مجید پڑھنے سے کئی مقامات پر حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہمیت کا علم ہوتا ہے۔ قرآن مجید کی طرح اس کی حیثیت بھی مسلم ہے۔ اس کا انکار گویا قرآن مجید کا انکار ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
  • ستمبر
  • اکتوبر
1979
عبدالرؤف ظفر
دُنیا کی تمام زندہ قومیں اپنےمشاہیر کی یاد سے اپنے دلوں کو گرماتی اور تازہ دم ہوجاتی ہیں لیکن ملّت اسلامیہ اپنے مزاج کے لحاظ سے بالکل جداگانہ نوعیت کی ہے۔ یہ قوم اپنی رُوح کی تازگی کے لیے ہمیشہ حضرت محمد ﷺ کی سیرت طیبہ سےحصول فیض کرتی ہے اور ان برگزیدہ شخصیتوں کی یاد سے اپنے دلوں کوگرماتی ہے جن کی زندگیاں اسوہ حسنہ کے سانچے میں ڈھلی ہوں او رانسانیت کاجیتاجاگتا نمونہ بن گئی ہوں۔
  • جنوری
1986
عبدالرؤف ظفر

؎ تازہ خواہی داشتن گرداغ ہائے سینہ را
گاہے گاہے باز خواں ایں قصہ پارینہ را

تاریخ اسلام میں بہت سی ایسی شخصتیں گزری ہیں، جنہوں نے ہر حال میں کلمہ حق بلندکیا۔ خواہ انہیں اس کی پاداش میں عقوبت و سزا کے کتنے ہی

  • مارچ
1982
عبدالرؤف ظفر
ہندوستان کی مذہبی تاریک میں کاندان ولی اللھی کی بلند مساعی اور کارناموں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس خاندان نے بغیر خوف لومۃ لائم احیائے سنۃ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سرتوڑ کوششیں کیں۔ پہلے شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے قرآن و حدیث سے لوگوں کو روشناس کیا اور بعد ازاں ان کے لڑکوں نے ترجمہ قرآن مجید اور تفسیر و حدیث کی بے لوث خدمت کی۔ ان کے پوتے شاہ اسماعیل رحمۃ اللہ علیہ نے عملی جہاد میں جان تک کی بازی لگا دی۔
  • اکتوبر
1996
عبدالرؤف ظفر
اللہ تعالیٰ کی محبت کا اہل اور اس کے تعلق کا مستحق بننے کے لئے ہر مذہب نے ایک ہی تدبیر بتائی ہے کہ اس مذہب کے شارع اور طریقہ کے بانی کی تعلیمات پر عمل کیا جائے لیکن اسلام نے اس سے بہتر تدبیر یہ بھی اختیار کی ہے کہ اس نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا عملی نمونہ سب کے سامنے رکھ دیا ہے جس کو محفوظ طریقے سے ہر دور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بھی کیا گیا ہے۔ اور اس عملی مجسمے کی پیروی اور اتباع کو خدا کی محبت کے اہل اور اس کے تعلق کے مستحق بننے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّـهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّـهُ ﴿٣١﴾ (1)
"کہہ دیجئے اگر تمہیں اللہ سے محبت ہے تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا"
قرآن مجید میں ایک اور جگہ آیا ہے:
 لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ  ﴿٢١ (2)
"ضرور تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے"
انسانی زندگی کے ہر پہلو کے بارے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عملی نمونہ ملتا ہے۔ اس بات کا اقرار تو کافر بھی کرتے ہیں۔
چنانچہ برصغیر میں پٹنہ کے مشہور مبلغ ماسٹر حسن علی ایک رسالہ "نور اسلام" نکالتے تھے جس میں انہوں نے اپنے ایک تعلیم یافتہ ہندو دوست کی رائے لکھی کہ اس نے ایک دن ماسٹر صاحب سے کہا کہ "میں آپ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کا سب سے بڑا کامل انسان تسلیم کرتا ہوں" ماسٹر صاحب نے پوچھا" ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں تم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کیا سمجھتے ہو؟" اس نے جواب دیا کہ "محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایسے معلوم ہوتے ہیں جیسے کسی دانائے روزگار کے سامنے ایک بھولا بھالا بچہ بیٹھا ہو، میٹھی میٹھی باتیں کر رہا ہو" انہوں نے دریافت کیا کہ "تم کیوں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کو دنیا کا کامل انسان جانتے ہو اس نے جواب دیا کہ مجھ کو ان کی زندگی میں بیک وقت اس قدر متضاد اور متنوع اوصاف نظر آتے ہیں جو تاریخ نے کسی ایک انسان میں یکجا کر کے نہیں دکھائے۔(3)
  • اکتوبر
2008
عبدالرؤف ظفر
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے قضا کے منصب پر فائز کیا اور اس کے کچھ اُصول مقرر کیے جیسا کہ قرآنِ مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَقُلْ ءَامَنتُ بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِن كِتَـٰبٍ ۖ وَأُمِرْ‌تُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمُ''...﴿١٥﴾...اور فرمادیجئے میں اس کتاب پر ایمان رکھتا ہوں جو اللہ نے نازل فرمائی ہے اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں تمہارے درمیان عدل قائم کروں ۔''
  • جنوری
1990
عبدالرؤف ظفر
مفسر قرآن کے لیے مندرجہ ذیل آداب و شرائط کا حامل ہو نا ضروری معلوم ہو تا ہے

1۔صحۃ الاعتقاد :کا اثر انسان پر بہت زیادہ ہو تا ہے اس کی وجہ سے انسان صحیح اور غلط اعمال کا ارتکاب کرتا ہے ایک بد عقیدہ آیات قرآن کی تحریف اور تنقیص سے باز نہیں آتا اس لیے محدثین عام طور پر ایسے بدعتی کی روایت نہ لینے پر متفق ہیں جو داعی ہو چنانچہ مشہور امام جرح و تعدیل ابو حاتم محمد بن حبان بستی ؒ فرماتے ہیں ۔
  • نومبر
1982
عبدالرؤف ظفر
معاشرے احوال وظروف کےبدلنے کےساتھ ساتھ اقوام عالم اپنےتجارتی انداز ڈھنگ بھی بدلتی رہتی ہیں۔ہردور کےاپنے ذرائع پیداور اور کشش سامان ہوتے ہیں زمانہ قبل ازاسلام عربوں کےہاں تجارت جیسی تھی؟ عربوں کابرگزیدہ قبیلہ قریش ان کی تجارت میں کس مقام پر فائز تھا؟اس دور میں منڈیاں کیسی تھیں؟دیگر ممالک کےساتھ ان کےتجارتی روابط کیسے تھے؟ مختلف موسموں میں وہ کونسے تجارتی سفر کرتے تھے؟ منڈیوں میں لیں دین کےانداز اورقدریں کیاتھیں؟
  • جنوری
1983
عبدالرؤف ظفر
معاشرتی احوال و ظروف کے بدلنے کے ساتھ ساتھ اقوام عالم اپنے تجارتی انداز اور ڈھنگ بھی بدلتی رہتی ہیں۔ ہر دور کے اپنے ذرائع پیداوار اور پرکشش سامان ہوتے ہیں۔ زمانہ قبل از اسلام عربوں کے ہاں تجارت کیسی تھی؟ ربوں کا برگزیدہ قبیلہ قریش، ان کی تجارت میں کس مقام پر فائز تھا؟ اس دور میں منڈیاں کیسی تھیں؟ دیگر ممالک کے ساتھ ان کے تجارتی روابط کیسے تھے؟ مختلف موسموں میں وہ کون سے تجارتی سفر کرتے تھے؟ 
  • جولائی
2000
عبدالرؤف ظفر
محترم و مکرم جناب حافظ حسن مدنی صاحب ،مدیر معاون ،السلام علیکم!

جون کے محدث میں آپ نے میرامضمون شائع کیا ہے جس پر تبصرہ کرتے ہوئے ص56پر آپ نے "سیکولرازم کے فتنہ اباحیت کا شکار"کے الفاظ استعمال کئے ہیں جن کی وجہ سے میں نے اپنا مضمون بہت غورو فکر سے کئی مرتبہ پڑھا لیکن باوجود کوشش کے اس مفہوم کوتلاش کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا بلکہ مجھے تو اس میں سیکولرازم کی مکمل نفی نظر آئی ۔آپ کی دوبارہ توجہ اور غور کے لیے اپنے مضمون کے چند اقتباسات نقل کرتا ہوں ۔مضمون کے آخری تین چار صفحات جو ابھی شائع نہیں ہوئے میں جدید اطراز حکومت سے استفادہ کی باتیں لکھ کر میں نے تحریر کیا تھا کہ:
  • دسمبر
1983
عبدالرؤف ظفر
پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے جس کی بنیاد صرف اسلامی شریعت کی عملداری کے لیے رکھی گئی تھی۔ اگرچہ بوجوہ ابھی تک ایسا ممکن نہیں ہوسکا۔ تاہم اس سلسلہ میں حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے او رابھی تک یہ سفر جاری ہے۔ واضح رہے کہ جہاں حکومت اور سیاستدانوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اس سلسلہ میں خصوصی دلچسپی لیں۔ وہاں اہل علم کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس کو قابل عمل ثابت کریں اور لوگوں کو بتائیں
  • اگست
1984
عبدالرؤف ظفر
نوٹ۔اس مضمون کی پہلی قسط گزشتہ سال ذوالحجہ 1403ھ کے محدث میں شائع ہوئی تھی لیکن مسودہ گم ہوجانے کی وجہ سے اس کی تکمیل نہ ہوسکی تھی۔چنانچہ صاحب مضمون سے اسے دوبارہ حاصل کیاگیا اور اب موقع کی مناسبت سے اس کی دوسری قسط ہدیہ قارئین ہے۔۔۔بہرحال اس مضمون کو محدث جلد13 عدد 12(ذوالحجہ 1403ھ) کے آخری مضمون سے ملا کر پڑھا جائے تو اس کی تکمیل ہوجائےگی۔(ادارہ)
  • ستمبر
1984
عبدالرؤف ظفر
قربانی کی شرعی حیثیت:
قربانی کی اصل حقیقت متعین کرنے کے لئے ضروری ہے۔پہلے قرآن مجید پھر حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر اقوال صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  اور ائمہ پر غور کریں۔اور پھر تاریخ اسلام پر نظر ڈالیں۔اس سے قربانی کے متعلق منشاء الٰہی اسوہ حسنہ اور عمل صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  کا علم ہوگا۔اوراس کی اہمیت کا بھی اندازہ ہوگا۔
قرآن مجید اورقربانی:
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللهِ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ﴾...(الحج:34)
" اور ہم نے ہر ایک اُمت کے لئے قربانی مقرر کردی  تاکہ وہ لوگ اللہ کا نام لیں ان جانوروں پر جو اللہ نے اُن کوعطافرمائے ہیں۔"
  • اپریل
1983
عبدالرؤف ظفر
زیر نظر مضمون ، آج سے تقریباًآٹھ نو ماہ قبل ''پاکستان ٹائمز'' میں چھپنے والے ایک مضمون (Mairaj-un-Nabi.Man at Spiriturel Summit)کے جواب میں ہے،........ مضمون کے آغاز میں ''پاکستان ٹائمز'' کے مذکورہ مضمون کا خلاصہ چند نکات کی صورت میں درج تھا، جس کی ابتدائی سطور پڑھ کر ہی ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ چنانچہ ضرورت محسوس ہوئی کہ اصل مضمون کو منگوا کر اس کا مطالعہ کیا جائے تاکہ پوری ذمہ داری 
  • جون
1983
عبدالرؤف ظفر
3۔ نبیﷺ نےاپنے منہ بولے بیٹے حضرت زید بن حارثہؓ کی مطلقہ بیوی سے نکاح کیا تو منافقین اور مخالفین نے پروپیگنڈہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا، نبیؐ نے یہ نکاح خود نہیں کیا بلکہ ہمارے حکم سے کیا ہے:فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرً‌ۭا زَوَّجْنَـٰكَهَا لِكَىْ لَا يَكُونَ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ حَرَ‌جٌ فِىٓ أَزْوَ‌ٰجِ أَدْعِيَآئِهِمْ إِذَا قَضَوْا۟ مِنْهُنَّ وَطَرً‌ۭا...﴿٣٧﴾...سورۃ الاحزاب''پھر جب زید کا جی اس سے بھر گیا تو ہم نے اس کا نکاح آپؐ سے کردیا تاکہ اہل ایمان کے لیے اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں سےنکاح کرنے میں کوئی حرج مانع نہ ہو، جبکہ وہ ان سے جی بھر چکے ہوں (یعنی طلاق دے چکے ہوں)''
  • جولائی
1983
عبدالرؤف ظفر
حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں پوری جرح و تعدیل کے ساتھ ان تمام روایات کو نقل کیاہے۔ پھر پچیس صحابہ کرامؓ کے اسمائے گرامی نقل کیے ہیں جن سے یہ روایات منقول ہیں۔ان کےاسماء یہ ہیں:حضرت عمر ؓبن خطاب، حضرت علیؓ، حضرت ابن مسعودؓ، حضرت ابوذرغفاریؓ، حضرت مالک بن صعصعہؓ، حضرت ابوہریرہؓ، حضرت عبداللہ بن عباسؓ، حضرت شدادؓ بن اوس، حضرت ابی بن کعبؓ، حضرت عبدالرحمٰن بن قرصؓ، حضرت ابوحیہؓ، حضرت ابویعلیٰؓ
  • اگست
1983
عبدالرؤف ظفر
معراج النبیﷺ کی تاریخ میں دشواری کا سبب یہ ہےکہ ہجرت سے قبل سن اور تاریخ نہیں تھے، قرآن مجید میں لیلاً کا لفظ ہے، گویا رات کو ہونے میں کوئی شک نہیں اور یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ ہجرت سے قبل یہ واقعہ مکہ مکرمہ میں پیش آیا۔ قاضی سلیمان منصورپوری نے آنحضرتؐ کی 23 سالہ سیرت مبارکہ کی جنتری تیارکی ہے جس کے مطابق 52 ولادت نبویؐ 27 رجب المرجب کو شب معراج ہوئی۔ 27 رجب
  • اگست
2001
عبدالرؤف ظفر
برصغیر پاک و ہند کے معروف دینی سکالر مولانا امین احسن اصلاحی بعمر ۹۴ سال ۱۵/ دسمبر ۱۹۹۷ء کو لاہور میں انتقال فرما گئے۔آپ نے مولانا حمید الدین فراہی، مولانا عبدالرحمن نگرامی اور مولاناعبدالرحمن محدث مبارکپوری (صاحب ِتحفة الاحوذی شرح ترمذی )جیسے ماہر اساتذہ سے مختلف علوم و فنون میں دَرک حاصل کیا۔
  • فروری
1986
عبدالرؤف ظفر
تاب دیکھنے، خریدنے اور حفاظت سے رکھنے کا بہت شوق تھا ۔ آپ کی آمدنی کا معقول حصہ کتب کی خریداری کے لیے وقف تھا اور یہ سلسلہ آخر تک جاری رہا۔ یہی وجہ تھی کہ ایک بہترین کتب خانے کے مالک تھے۔ جو کتاب چھپتی اسے پسند کرتے اور خرید لیتے۔ اگر کسی کتب خانے چلے جاتے تو اچھی خاصی رقم کتابوں کی خرید و خرچ کرڈالتے۔کتب خانے والے آپ کی اس عادت سے اس قدر واقف ہوچکے تھے کہ بعض اوقات نئی