• اکتوبر
1998
خورشید احمد
اسے ذہنی مرعوبیت کہیے ، احساس کمتری سمجھیئے یافیشن کانام دے لیجے ------
بہرحال ہمارے ہاں یہ روِش ایک عرصے سےچل نکلی ہےکہ کوئی مسئلہ ہو،اصطلاح ہو، یاکوئی حوالہ اورجملہ ، جو مغرب سےہمارے ہاں پہنچے،ہم اسےفوراً حرزِ جاں اوروِردِزبان بنالیتے ہیں ۔ اور یوں محسوس کرتے ہیں کہ گویا یہ ایک الہام ہے، جسےنقل کرنا، جس کی پیروی کرنا اورجسے عام کرنا ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔۔۔۔
اس کےباوجود ہم سینہ پھلا کر کہتےہیں کہ ہم آزادہیں ! 47ء کےبعد صرف ہمارے حکمران بدلے ہیں ،اذہان میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ،----
  • فروری
2003
خورشید احمد
ترکش ِمارا خدنگ ِ آخریں

برعظیم پاک و ہند کے علمی اور دینی اُفق کودرخشاں کرنے والے تمام ستارے ایک ایک کرکے ڈوب گئے...! اس سنہری سلسلے کا آخری تارہ٭ ڈاکٹرمحمد حمیداللہؒ مغرب کی آغوش میں ہمیشہ کی نیند سوگیا۔ انالله وانا اليه راجعون