• ستمبر
  • اکتوبر
1981
حافظ محمد سعید
پندرھویں صدی ہجری امت مسلمہ کے سامنے فکر و عمل کی ایک دعوت پیش کر رہی ہے۔ آج امت کے ہر فرد کو اپنے نصب العین مقاصد اور فرائض کا شعور اپنے اندر پیدا کرنا ہے۔ اپنی منزل کا تعین کر کے اس تک پہنچنے کے لیے تمام کوششیں صرف کر دینا ہے اور نتیجتا دنیا کے سیاسی اور فکری افق پر اسلام کو غالب نظام کے طور پر پیش کرتا ہے۔ موجودہ حالات اسی کا تقاضا کرتے ہیں اور امت کی بقاء اور عروج کا انحصار اسی بات پر ہے۔
اسلام زمان و مکان کی تمام بندشوں سے بالا ایک دین ہے۔ جو بنی نوع انسان کے سامنے امن و سلامتی کی دعوت پیش کرتا ہے اور ترقی و خوشحالی کی ضمانت دیتا ہے۔ اسلام کے اندر وہ فطری اور استدلالی قوت ہے کہ جب بھی اس کے اپنے رنگ میں کوششیں کی گئیں یہ غالب نظام کے طور پر ابھرا۔ دنیا کے ہر نظام اور قوتِ پر غالب آنا اس کی نیچر ہے کیونکہ حق کی شان ہی یہ ہے کہ (ألحق  يعلو ولا يعلى عليه) یعنی حق ہمیشہ غالب آتا ہے اور اس پر کوئی چیز غالب نہیں آ سکتی۔ ہادی برحق صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عالمگیر حقیقت کو دعوتِ اسلام کے پہلے روز ہی واضح کر دیا تھا۔ جب "لا اله الا اللہ" کو پیش کیا تو اس کی وضاحت ان الفاظ میں بیان فرمائی:
(هى كلمة واحدة  تعطونيها  تملكون بها العرب  وتدین لکم بها  العجم)
یعنی بظاہر تو یہ ایک کلمہ ہے۔ لیکن اس پر ایمان و عمل کا نتیجہ یہ ہے کہ تم عرب کے مالک ہو گے اور پورا عجم تمہارے زیرنگیں ہو گا۔
  • جولائی
  • اگست
1973
حافظ محمد سعید
ذیل میں ہم رسول اکرم ﷺ کی ایک حدیث کی تشریح دے رہے ہیں، جس میں آنحضرت ﷺ نے امت میں پیدا ہونے والی خرابیوں اور پھر عذاب کی مختلف شکلوں کی پیش گوئی فرمائی۔ گذشتہ چند سالوں میں رب العالمین سے بے اعتنائی اور عدمِ تعلق کی بنا پر ہمارے اندر جن بے شمار اخلاقی اور روحانی خرابیوں نے گھر کیا آج ہماری الفراوی اور اجتماعی مشکلات اور مصائب انہی کا نتیجہ ہیں۔
  • مئی
1986
حافظ محمد سعید
ملک میں بحالی جمہوریت کے بعد نفاذ اسلام کی باتیں ایک بھولی بسری داستان ہوکر رہ گئی ہیں او رماضی قریب میں اس سلسلہ میں جو تھوڑی بہت پیش رفت ہوئی بھی، موجودہ ''ہاؤہو'' کے پُرشور نعروں میں اب اس کی صدائے بازگشت بھی سنائی نہیں دیتی۔یہ بات فراموش نہیں کی جاسکتی کہ پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے۔ اس کی اٹھان ''لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ'' کی بنیادوں پر ہوئی، لہٰذا اس کی بقاء کا راز بھی انہی بنیادوں کی حفاظت