اسلام کی نگاہ میں عورت کیا ہے کیا نہیں

پاکستانی خواتین کے حقوق کی کمیٹی کے چیئرمین اور پاکستان کے اٹارنی جنرل مسٹر یحییٰ بختیار نے پاکستانی خواتین کے حقوق کی کمیٹی کی رپورٹ شائع کردی ہے،¬ انہوں نے کہا کہ :

وزیراعظم بھٹو نے کابینہ کے پانچ ممبروں پرمشتمل ایک کمیٹی مقرر کردی ہے جو رپورٹ پر غور کرے گی او راپنی سفارشات حکومت کو پیش کرے گی۔

اس خالص اسلامی مسئلہ پر غور کرنے کے لیے جن حامل قرآن اور محقق علمائے کرام کا نام تجویز کیا گیا ہے، ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں:

وفاقی وزیر داخلہ خان عبدالقیوم خان، وفاقی وزیر خوراک شیخ محمد رشید، مذہبی امور کے وفاقی وزیر کوثر نیازی، وفاقی وزیرقانون ملک محمد اختر اور جناب مسٹر یحییٰ بختیار ۔ (نوائےوقت 19 جولائی)

قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں

میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں

خواتین کی حقوق کمیٹی نےسفارش کی ہے کہ:

1. مردوں کے لیے شادی کی عمر کی حد 18 برس سے بڑھا کر 21 برس کی جائے۔

2. خواتین کی حیثیت کے بارے میں ایک مستقل کمیشن قائم کیا جائے جسے قومی اسمبلی کی منظوری کے بعد باقاعدہ قانونی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔

3. کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی کو ایم بی بی ایس کے نصاب میں لازمی مضمون کی حیثیت سے شامل کیا جائے۔

4. قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے پہلے سے مختص شدہ نشستوں کے علاوہ انتخابات میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں کے لیے لازمی قرار دیا جائے کہ وہ کم سے کم دس فیصد امیدوار خواتین سےکھڑا کریں۔

5. لوکل گورنمنٹ (بلدیات) میں خواتین کو 25 فیصد نمائندگی دی جائے۔

6. اور قانون طلاق مجریہ 1869ء میں مناسب ترمیم کی جائے جس میں اگر کوئی شوہر یا اس کے اعزہ و اقارب، بیوی کو اپنے والدین ، بچوں اور بھائی بہنوں سےملنے سے روکیں تو ان کے اس فعل کو قابل تعزیر جرم قرار دیا جائے جس کی سزا تین ماہ قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں مقر رکی جائیں۔

7. طلاق مؤثر ہونے کی صورت میں اگر شوہر جہیز کا سامان ایک ماہ کے اندر اندر واپس نہیں کرتا تو اس صورت میں وہ تین ماہ قید محض یا جرمانے یا دونوں سزاؤں کا مستوجب ہوگا۔

8. اگر شادی کے پانچ سال بعد عورت کو طلاق ملی ہے تو طلاق مؤثر ہونے کے بعد بیوی ، شوہر کی جائیداد کے آٹھویں حصے کی حقدار ہوگی (امروز 19 جولائی) خاوند کو عدت کی مدت کی کفالتی رقم اور ازدواجی کے ہرسال کے حساب سے ایک ایک ماہ کی کفالتی رقم ادا کرنا ہوگی۔ (نوائے وقت 19 جولائی)

9. حکومت یا خواتین کی حقوق کمیٹی ایسی کوئی سفارش نہیں کرے گی جو قرآن و سنت کی تعلیمات کے منافی ہو۔ (امروز)

فاضل اٹارنی جنرل نے نیز کہا کہ:

10. حقوق کمیٹی کی رپورٹ میں عبوی سفارشات شامل ہیں جو کمیٹی نے آزادانہ طور پرتیار کی ہیں، یہ تجاویز یا سفارشات حکومت کی نہیں ہیں، حکومت اس سلسلے میں ابھی پوری طرح غور کرنے کے بعد کوئی اقدام کرے گی چنانچہ وزیراعظم بھٹو نے :

11. یہ خواہش ظاہر کی ہے کہ کیبنٹ کمیٹی کو اپنی سفارشات پیش کرنے سے پہلے رپورٹ کے بارے میں رائے عامہ معلوم کی جائے۔ اٹارنی جنرل نے مختلف تنظیموں اور طبقات سے اپیل کی ہےکہ وہ رپورٹ کے بارے میں اپنی آراء آئندہ 20۔ اگست تک اسلام آباد روانہ کردیں۔ (ملخصاً امروز 19جولائی)

چونکہ یہ پابندی ایسی ہے شاید ہی ارکان کمیٹی اسے نباہ سکیں، اس لیے بطور گنجائش یہ بھی کہہ دیا ہے کہ :

تاہم اس سلسلے میں بعض نکات پراختلاف رائے ہوسکتا ہے اس بارے میں ہمارا ذہن بالکل صاف ہے۔(امروز 19 جولائی)

پاکستانی خواتین کے حقوق کمیٹی کے چیئرمین کی پیش کردہ رپورٹ کی کچھ تفصیل ہم نے اس لیے نقل نہیں کی کہ ہم ان کا کوئی تفصیلی جواب دینا چاہتے ہیں، کیونکہ اس کا بیشتر حصہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کے لیےاپنا قیمتی وقت ضائع کیا جائے بلکہ اس سے غرض صرف یہ ہےکہ :آپ اندازہ کرسکیں کہ ان حضرات کے سوچنے کا انداز کیا ہے او روہ پاکستان خواتین کے مرتبہ کی تشخیص کرکے پاکستانی ملت اسلامیہ کو کس مخمصے میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔

اسلام کیا ہے او رمحمدیت (علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) کسے کہتے ہیں؟ یا ملت اسلامیہ کا مزاج او راس کے خصائص کیا ہے؟ ہمارے یہ مہربان کچھ نہیں جانتے۔ ان کے نزدیک بس چند واجبی سی خوش فہمیوں کا نام اسلام اور ملت اسلامیہ ہے جن کے حضور زبانی کلامی ''خراج عقیدت'' پیش کرکے وہ تصور کرلیتے ہیں کہ اب وہ دینی ذمہ داریوں اور تقاضوں سے عہدہ برآ ہوگئے ہیں۔ اس لیے ان سے یہ توقع کرنا بالکل بےجا ہوگا کہ وہ خواتین کے سلسلے کے اسلامی تقاضوں یا روح کی نشاندہی صحیح صحیح او رٹھیک ٹھیک کرسکیں گے۔ ان کی طرف سے پیش کردہ حالیہ رپورٹ کے مندرجات خود اس پر گواہ ہیں۔

اسی رپورٹ کے نمبر 1،4،5 اور8 کی تجویز تو حد درجہ مایوس کن ہے۔ باقی رہے نمبر 6،7 سو مطلقاً وہ دونوں ہی صحیح نہیں ہیں بلکہ ان میں کچھ تفصیل ہے جو بالکل واضح ہے۔

خواتین کے مرتبہ کے تعین کے بارے میں قرآن و حدیث نے ہماری جو رہنمائی کی ہے وہ جامع بھی ہے او رہمارے لیے وجہ تسلی بھی۔ اس فرصت میں ہم انہی چند بنیادی اقدار کو آپ کے سامنے رکھنے کی کوشش کرتے ہیں او راس امر کی وضاحت کرتے ہیں کہ : اسلام کی نگاہ میں عورت کیا ہے، کیا نہیں ہے؟

عورت یہ بھی ایک انسان ہے جو خمیر مرد کا ہے وہی ان کا ہے۔
وَهُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ(اعراف ع24) وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا(النساء ع1)

وہ خمیر مٹی ہے۔

وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَكُمْ مِنْ تُرَابٍ..... وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا(روم ع3)

اس کی تخلیق سے غرض عائلی زندگی میں سکون و طمانیت ہے بوجھ اور سردردی نہیں ہے:

لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا(ایضاً)

لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا(الروم ع3)

اس جوڑے میں دونوں کے لیے وجہ کشش فطری ہے، یہ محبت کی چیز ہے نفرت کی نہیں۔

وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً (الروم ع3)

عورت متاع میراث نہیں ہے جیسےباقی مال۔

لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا(پ4۔ النساء ع3)

ہاں ساری متاع دنیا میں بھلی عورت ''خیر المتاع'' ضرور ہے۔

الدنیا کلھا متاع و خیر متاع الدنیا المرأۃ الصالحة (مسلم، عبداللہ بن عمر)

شوہر او ربیوی ایک دوسرے کے لیے لباس ہیں، ستر بھی اور تحفظ بھی، معاون اور ایک دوسرے کے محتاج اور ضرورت مند بھی۔ ایک دوسرے سے کوئی بھی مستغنی نہیں ہے: عورت مرد کی کنیز او رلونڈی نہیں ہے ساتھی اور رفیقہ ہے۔

ھن لباس لکم و انتم لباس لھن (پ2 ۔بقرہ ع23)

وہ آپ کے لیے لباس ہیں آپ ان کےلیے لباس ہیں۔

ایک دوسرے پر دونوں کے حقوق ہیں، جیسےمردوں کے عورتوں پر ویسے عورتوں کے مردوں پر ہیں۔

ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف (پ2۔ بقرہ ع28)

لیکن یوں نہیں کہ ان میں سے کوئی بھی کسی کے سامنے جواب دہ نہ ہو یا گھریلو ریاست کسی ''امیر'' کے بغیر ''شتر بے مہار'' ہو۔ کیونکہ مرد و عورت کی مساوات کا یہ تصور، فرنگی تہذیب او رانار کی کے داعیوں کا تصور ہے۔ اسلام میں اس کےلیے کوئی گنجائش نہیں ہے، کیونکہ اس انارکی کے جن مضمرات کو مغربی تہذیب اب محسوس کرنے لگی ہے ، اسلام نے صدیوں پہلے ان پر روشنی ڈالی اور یہ اعلان کیا کہ اس باب میں برتری اور فضیلت صرف مرد کو حاصل ہے۔

وللرجال علیھن درجۃ (پ2 ۔ بقرہ ع28)

کیونکہ اس دنیا کے نظام کو کنٹرول کرنے پرمرد زیادہ قادر ہے۔

الرجال قوامون علی النسآء (پ5۔ النساء ع6)

مرد، عورت کے سردھرے ہیں۔

عورت کی سربراہی رسول پاک ﷺ کے نزدیک قوم کے مستقبل کو مخدوش بنا کر رکھ دیتی ہے۔

لن یفلح القوم ولوا أمرھم امرأۃ (بخاری)

مگر آج کل اصرار ہ کہ قومی سربراہی او رنمائندگی کے لیے ان کے لیے سیٹیں مختص کی جائیں۔ معاشرت کا انتظامی تقاضا اس امر کامتقاضی ہے کہ ان میں ایک راعی ہو اور دوسرا ''رعیت'' او ریہ بات مصنوعی نہیں ہے بلکہ قدرتی ہے۔

بما فضل اللہ بعضھم علی بعض (ایضاً)

ویسے بھی اپنی ضروریات کے معاملہ میں عورت مرد کی دست نگر ہے۔

وبما انفقوا من اموالھم (پ5۔ النساء ع6)

بھلی خاتون اسلامی تقاضوں کے مطابق اپنے شوہر کی اطاعت شعار او رسچی وفادار ہوتی ہے۔

فالصلحت قنتت حفظت للغیب بما حفظ اللہ (ایضاً)

عورت مردوں کی بالکل بھکارن ، منگتی اور دست نگر نہیں ہے بلکہ وہ کمائی کا حق بھی رکھتی ہے اور وہ اس کی مالک بھی ہوسکتی ہے۔

وللنساء نصیب مما اکتسبن (پ5۔ النساء ع5)

میراث کے مالک تنہا مرد نہیں، عورت بھی حصہ دار ہے۔

للذکر مثل حظ الانثیین (پ4۔ النساء ع2)

فان کن نسآء فوق اثنتین فلھن ثلثا ما ترک (ایضاً)

وان کانت واحدۃ فلھا النصف (ایضاً)

وللنساء نصیب مما ترک الوالدان والا قربون مما قل منہ او کثر (پ4۔ النساء ع1)

یہ حصہ رضا کارانہ جذبات کا حصہ نہیں بلکہ قطعی اور قانونی ہے۔

نصیبا مفروضا (ایضاً)

نسل انسانی کی بقا کا سرچشمہ کوئی ایک نہیں دونوں ہیں۔

وبث منھما رجالا کثیرا و نسآء (پ4۔ النساء ع1)

حکم ہوتا ہے کہ: ان کےساتھ اچھے سلوک سے رہو اور ان کےساتھ باوقار معاملہ کرو۔

دعا شروھن بالمعروف (النساء ع3)

مارنا مناسب نہیں، ہاں اگر سرکشی یا غیرت کامعاملہ ہو تو الگ بات ہے لیکن اس کے باوجود مار دینے والی مار کی اجازت پھر بھی نہیں ہے،اتنی اجازت ہے کہ جتنی تادیب کہی جاسکتی ہے۔

والتی تخافون نشوزھن فعظو ھن واھجروھن فی المضاجع و اضربو ھن (پ5۔ النساء ع5)

فقال عمر: ذئرن النساء علی أزواجھن فرخص في ضربھن (ابن ماجہ و ابوداؤد)

اگر راہ راست پر آجائیں تو پھر زیادتی کرنا ممنوع ہے۔

فان اطعنکم فلا تبغوا علیھن سبیلا (ایضاً)

اضربو ھن ضربا غیر مبرح (ابن ماجہ والترمذی)

ولا تضربن ظعینتك ضربك أمیتك ( ابوداؤد)

مارنا بھی ہو تو چہرہ پر نہ مارے ، نہ اسے گالیاں دے اور نہ اسے گھر سے نکال باہر کرے۔

ولا تضرب الوجھه ولاتقبح ولا تھجر إلا في البیت (ایضاً)

گھرسے نکالنا صرف اسی وقت جائز ہے جب وہ کھلم کھلا بے حیا ہوجائیں۔

لا تخرجوھن من بیوتھن ولا یخرجن الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ (پ28۔ الطلاق ع1)

فرمایا:صرف اس کے تاریک پہلو پرنگاہ رکھیں، آخر اس کے کچھ روشن پہلو بھی ہوں گے یا ہوسکتا ہے کہ خود اس میں آپ کیلئےکوئی فائدہ مضمر ہو۔

فان کرھتموھن فعسیٰ ان تکرھوا شیئا ان یجعل اللہ فیہ خیرا کثیرا (النساء ع3)

إن کرہ منھا خلقا رضي منھا اخر (مسلم)

اسلام نے ''دختر کشی'' کی سخت ممانعت کی ہے۔

واذا المؤدۃ سئلت بای ذنب قتلت (الشمس)

قرآن تعدد نکاح کی اجازت دیتا ہے بشرطیکہ سب سے یکساں معاملہ رکھا جائے ورنہ صرف ایک پر اکتفا کیا جائے۔

فانکحوا ماطاب لکم من النساء مثنیٰ و ثلث و ربع وان خفتم الا تعدلوا فواحدۃ (النساء ع1)

فلا تمیلوا کل المیل فتذروھا کالمعلقۃ

عورت چراغ محفل نہیں، گھر کی زینت ہے: گھر میں ٹک کے رہے، باہر ٹہلے نہیں۔

وقرن فی بیوتکن ولا تبرجن تبرج الجاھلیۃ الاولیٰ (پ21۔ احزاب ع4)

مگر آج کل اس کی نمائش جیسی کچھ عام ہورہی ہے وہ کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ عورت کے حقوق کا غم کھانے والے بھی ان کے فرائض ، ذمہ داریوں اور حدود سے اغماض کررہے ہیں۔ انا للہ ۔

اگر نکلنے کی ضرورت پڑ جائے تو گھونگھٹ کرلیا کریں۔عریاں چہروں سے نہ نکلا کریں۔

یایھا النبی قل لازواجک و بنتک و نسآء المؤمنین یدنین علیھن من جلابیبھن (پ22۔احزاب ع8)

سینہ تان کر نہیں، بُکل مار کر چلیں۔

ولیضر بن بخمرھن علی جیوبھن

لیکن ہار سنگار سے نہیں۔

ولا یبدین زینتھن (نور۔ ع4)

آنکھیں پست رکھا کریں یعنی ممکن احتیاط کے ساتھ راہ سے تعلق اور واسطہ رکھیں او رنیچی نگاہیں کرکے چلیں۔

وقل للمومنت یغضضمن من ابصارھن (پ18۔ نور ع4)

بن ٹھن کر نہ نکلیں کہ دعوت مطالعہ کا سامان ہو۔

ولا یبدین زینتھن(نور۔ع4)

ولا یضربن بارجلھن لیعلم مایخفین من زینتھن (نور۔ع4)

عورت کاروبار نہیں ہے کہ عصمت فروشی کرکے روٹی کماؤ۔

ولا تکرھوا فتیتکم علی البغآء ان اودن تحصنا التبتغوا عرض الحیوۃ الدنیا (نور۔ ع4)

مگر افسوس! خواتین کے بڑے ہمدردوں او ران کی بہی خواہی کے سب سے بڑے ٹھیکیداروں نے عورت کی اس تذلیل کا سدباب کرنے کے بجائے ان کی بدکاریوں کو آمدنی کا ایک ذریعہ تصور کررکھا ہے۔

کثرت سے بچے جننا عیب نہیں، مستحسن ہے۔

تزوجوا الودودوالولود فإني مکاثر بکم الأمم (نسائی)

مستورات کے مغربی بہی خواہ، اس کے بجائے ان کوبانجھ کرکے ان کی جسمانی عافیتوں کو بھی غارت کررہے ہیں۔ یہ حدیث ان کو دعوت مطالعہ دیتی ہے۔

رسول کریمﷺ کا ارشاد ہے کہ : غیر محرم کے ساتھ خلوت جائز نہیں ہے۔

إیاکم والدخول علی النساء (بخاری)

خاص کر ان کے شوہر یا دوسرے سرپرستوں کی عدم موجودگی میں۔

لاتلجوا علی المغیبات (ترمذی)

شادی سے پہلے اس کی رضا مندی معلوم کرنا ضروری ہے۔

لا تنکح الأیم حتی تستأمرولا تنکح البکر حتیٰ تستأذن (بخاری)

اگر اس کی مرضی کے بغیراس کا نکاح کردیا گیا تو اسے اختیار حاصل ہے، اسےباقی رکھے یا نہ رکھے۔

إن جاریة بکرا أتت رسول اللہ فذکرت أن أباھا زوجھا وھي کارھة فخیرھا النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ابوداؤد)

لیکن ولی کی اجازت کے بغیر وہ بھی تنہا خود کسی سے شادی نہیں کرسکتی جیسا کہ آج کل رواج ہورہا ہے۔

لانکاح إلا بولي (ترمذی وغیرہ)

جو سرپرستوں سےبالابالا نکاح کرلیتی ہیں وہ بدکار ہیں۔

فإن الزانیة ھي التي تزوج نفسھا (ابن ماجہ)

طلاق دینا صرف شوہر کا حق ہے بیوی کا نہیں۔ قرآن و حدیث میں طلاق کی نسبت شوہروں کی طرف کی گئی ہے۔

واذا طلقتم النساء (بقرہ ع29)

فإن بداله أن یطلقھا فلیطلقھا قبل أن یمسھا (ابوداؤد وغیرہ)

ہاں عورت علیحدگی کے لیے درخواست کرسکتی ہے۔

فقال له خذا لذي لھا علیك وخل سبیلھا (نسائی)

مطلقہ اگر حاملہ ہو یا رجعی طلاق ہو تو اس کے بعد عدت کے عرصہ کی کفالت بھی شوہر کے ذمہ ہوگی۔

لا تخرجوھن من بیوتھن ولا یخرجن الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ وتلک حدود اللہ ومن یتعد حدود اللہ فقد ظلم نفسہ لا تددی لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا۔

لا تدری لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا سے مراد اسی رجعت کے امکان کی طرف اشارہ ہے۔

اگر طلاق رجعی نہ ہوئی تو پھر کاہے کا امکان؟

وفي روایة: إنما النفقة والسکنی للمرأۃ إذا کان لزوجھا الرجعة (رواہ النسائی)

مطلقہ ثلٰثہ کے بارے میں فرمایا: لا نفقة ولا سکنیٰ (بخاری وغیرہ)

لیکن یہ مسئلہ کہ طلاق بائنہ میں یا پانچ سال بعد اگر طلاق ہوئی تو شوہر کی جائیداد میں سے 1؍8 حصہ جائیداد کی حقدار ہوگی یا ازدواجی کے ہر سال کے حساب سےایک ایک ماہ کی کفالتی رقم ادا کرنا ہوگی۔ کوئی دینی مسئلہ یا ہوش کی بات نہیں ہے، بس ''عورت نوازی'' ہے۔

اگر شوہر گم ہوجائےتو بیوی کو غیر متعین میعاد کی بھینٹ چڑھا کر اس کی زندگی کو تلک کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی، بلکہ چار سال کے بعد اسے چھٹی مل جاتی ہے تاکہ وہ نئے مستقبل کی تیاری کرسکے یعنی چار ماہ دس دن عدت گزارنے کے بعد۔

إن عمر بن الخطاب قال أیما امرأۃ فقدت زوجھا فلم یدرأین ھوفإنھا تنتظر أربع سنین ثم تعتد أربعة أشھر و عشرا(مؤطا مالک)

اگر بعد میں پہلا خاوند آ بھی جائے تو وہ اسے دوبارہ نہیں ملے گی۔

قال مالک وإن تزوجت بعد انقضاء عدتھا فدخل بھا زوجھا أولم یدخل بھا فلا سبیل لزوجھا الأول إلیھا (مؤطا مالک)

او ریہی نظریہ حضرت عمرؓ کا ہے۔(مؤطا)

روٹی کپڑے کا ذمہ دار بھی شوہر ہے۔

وعلی المولولہ رزقھن و کسوتھن بالمعروف (قرآن)

وفي روایة : ولھن علیکم رزقھن و کسوتھن بالمعروف (حدیث)

ہاں اگر ناشزہ (نافرمان اور سرکش) ہوتو پھر نان و نفقہ بھی واجب نہیں ہے۔ (بدایۃ المجتہد)

بالمعروف سے مراد ہے حسب توفیق او رمناسب۔ ایسا نہیں کہ : خود کوبیچ کر ہی اس کے ناز نخرے پورے کیے جائیں۔

الغرض، اسلام نے عورت کو انسان او ربھلی عورت کو بہترین متاع حیات قرا ردیا ہے، اس کااحترام او راس کے ساتھ معاملہ باوقار ایک دینی فریضہ ہے۔ہاں عورت مرد کے تابع ہے متبوع نہیں ہے۔ جو امور ان کی زندگی کو تلخ بناسکتے ہیں، اسلام نے ان میں ان کی پوری مدد کی ہے۔مگر اس کے ذمے کچھ حقوق ، فرائض اور ذمہ داریاں بھی ہیں جو خود ان کے حقوق سے زیادہ اہم ہیں بلکہ ان کی وجہ سے ان کے حقوق کا بھی تعین ہوتا ہے۔