• مئی
  • جون
1995
ڈاکٹر سعد بن ناصر
تبلیغ دین میں نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کے اسوہ کی اہمیت :۔
رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  انسا نو ں کے لیے زند گی گزارنے کا بہترین نمونہ ہیں ۔زندگی کے ہر وہ شے میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی عملی مثا ل اور نمونہ موجود ہے۔ اور مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اسی نمونہ کے مطا بق اپنا نظا م زندگی استوار کریں ۔اسی بات کو قرآن مجید نے ان الفا ظ کے ساتھ بیا ن کیا ہے۔
﴿لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّـهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّـهَ كَثِيرًا ﴿٢١﴾...الأحزاب
"بے شک تمھا رے لیے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی زندگی بہترین نمونہ ہے جو اللہ سے ملنے اور قیامت کے آنے کی امید کرتا ہواور اللہ کا ذکر کثرت سے کرتا ہو"
دین کی نشرو اشاعت اور دعوت دین کے فروغ کے حوالے سے حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کو قرآن مجید میں حکم دیا گیا : 
﴿يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ... ٦٧﴾...المائدة
"اے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  جو چیز آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کی گئی ہے اسے دوسروں تک پہنچا ئیں اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو آپ نے فریضہ رسالت ادا نہیں کیا ۔
چنانچہ اس فریضہ کی ادائیگی  کے سلسلے میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک بہترین نمونہ اور طریقہ کا ر پیش فر ما یا : آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی دعوت کا بنیا دی منشور قرآن تھا اور اس کی عملی تصویر اپنا کر دار تھا آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کےفرا ئض نبوت کے حوالے سے قرآن مجید میں ارشاد فر ما یا گیا ۔
﴿ لَقَدْ مَنَّ اللَّـهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ...١٦٤﴾...آل عمران
"یقیناً اللہ نے مومنین پر احسان فر ما یا کہ ان میں ایک رسول انہی میں سے بھیجا جو ان پر قرآن کی آیات تلاوت کرتا ہے ان نفوس کا تزکیہ کرتا انہیں کتا ب کی تعلیم دیتا اور انہیں حکمت سکھاتا ہے"
  • نومبر
2006
ڈاکٹر سعد بن ناصر
ہیئة کبار العلماء سعودی عرب کے ممتاز علما پر مشتمل ایک کونسل ہے جو سرکاری سطح پر مصروفِ عمل ہے اس کونسل سے سعودی عوام اپنے مسائل کے حل کے سلسلے میں رجوع کرتے ہیں۔ سعودی معاشرے میں علما کی اس سپریم کونسل کو انتہائی وقیع حیثیت حاصل ہے اور شرعی موضوعات پر ان کی رائے حرفِ آخر سمجھی جاتی ہے۔ یہ مایہ ناز اہل علم دیگر عالم اسلام میں پیش آنے والے مسائل کے بارے میں بھی اُمت ِمسلمہ کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے رہتے ہیں۔ زیر نظرتحریر اسی کونسل کے معزز رکن جناب ڈاکٹر سعد بن ناصر شَثری کی ہے۔