• اگست
1984
اکرام اللہ ساجد
ایک شوراٹھا،ایک طوفان برپا ہوا کہ"عورت کی نصف گواہی نا منظور!" اور وہ جو ہمیشہ سے عورت کو چراغِ خانہ کی بجائے شمع محفل بنانے کی کوششوں میں مصروف تھے۔چادر اور چار دیواری کے تقدس کو اپنی عیاشیوں کے راستے کا روڑا خیال کرتے۔اور کتاب وسنت کی فضاؤں میں اپنی خواہشات کا دم گھٹتا محسوس کرتے تھے۔اس نعرہ"مستانہ" کو سن کر میدان میں آگئے۔
  • جنوری
1986
اکرام اللہ ساجد
مارشل لاء رخصت ہوا اور جمہوریت بحال ہوگئی ہے۔ 30 دسمبر 1985ء کے سورج کی رو شنی میں قوم نے اپنی ''کھوئی ہوئی منزل'' کو اپنے سامنے یوں اچانک مسکراتے دیکھا کہ وزیراعظم صاحب کے بقول ''جب وہ ایوان میں داخل ہوئے تو مارشل لاء موجود تھا، لیکن جب ایوان سے باہر نکلے تو جمہوریت کا سورج طلوع ہوچکا تھا''اور روزنامہ ''جنگ '' کے مطابق :''گذشتہ ایک ہفتہ سے مسلسل بارشوں، شدید سردی اور کُہر آلود موسم کی لپیٹ 
  • دسمبر
1985
اکرام اللہ ساجد
جمہوریت پرستوں کی طرف سے  ملک عز یز میں بحا لی جمہوریت کا جس بیتا بی سے انتظا ر ہو رہا ہے ،اس کے پیش نظر یو ں معلو م ہو تا ہے ،کہ اہالیان پاکستان،جواس کے قیام سے لے کر اب تک تاریکیوں میں بھٹک رہے ہیں ، یکم جنوری 86 کے سورج کی ابتدائی کرنو ں کی رو شنی میں اچا نک اپنی منزل مقصود کو اپنے سا منے دیکھیں گے اور پلک جھپکتے میں ان کےدینی ،سیا سی، سماجی ،معا شی،معاشرتی اور جغرافیائی سبھی مسائل حل ہو جائیں گے۔۔۔یہ الگ بات ہےکہ علمبرداران جمہوریت کو خودبحالی جمہوریت ہی پر اطمینان حاصل نہ ہو ۔یعنی جمہوریت مل جا نے کے با وجود جمہوریت ہی انہیں نصیب نہ ہو اور منتخب حکومت ہی منتخب کہلا نے کی حقدار نہ ہو ۔۔۔وجہ یہ کہ ان کے نزدیک "آسمانی صحیفہ"اورمنزل من اللہ "1973ءکےدستورکی کسی "آیت"کی رُو سے غیر جماعتی انتخابات ،ملک عزیز کو"اسلامی جمہوریہ پاکستان"بنادینے کی راہ میں بری طرح حائل ہیں ۔
  • مارچ
1982
اکرام اللہ ساجد
موجودہ دور میں مال و دلت، ساز و سامان اور منفعتِ دنیوی کے حصول کے لیے دوڑ جس شدت سے جاری ہے۔ بعض دفعہ اس کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا کوئی بہت ہی قیمتی متاع لوگوں سے چھن گئی ہے، جس کے تعاقب میں یہ ہر ممکن تیزی کے ساتھ روانہ ہو کر اسے حاصل کر لینا چاہتے ہیں ۔۔۔ یا کوئی انتہائی خوفناک بلا خود ان کے تعاقب میں ہے، جس سے یہ جتنی جلد ممکن ہو سکے دور اور دور نکل جانا چاہتے ہیں ۔
  • ستمبر
1982
اکرام اللہ ساجد
ایک شخص کئی سال سے قلعہ اسلام پر، اسلام ہی کےحصار میں رہ کر،مسلسل گولہ باری کر رہا ہے۔
’’ طلوع اسلام ،، کےنام پرغروب آفتاب اسلام اس کی زندگی کی سب سےبڑی تمنا ہے- وہ قرآن کاسہارا لےکر قرآن سےکھیلتا ، حدیث کی آڑ میں حدیث پرحملہ آور ہوتا ، صحابہ سےمحبت جتلا کر انہی کامذاق اڑاتا، دین کی پناہ حاصل کرکےدین کی بنیادیں ہلاتا ، اشتراکیت کی مذمت کرکےاشتراکیت ہی کا پرچارکرتا، مادیت پرستی سےدشمنی ظاہر کرکے مادیت کی راہ ہموار کرتا، مادیت اور روحانیت کےدرمیان بظاہر قرآنی راہ اعتدال کاحوالہ دے کرشریعت سےبیزاری کااظہار کرتا، سائنس کےنام پرعلماء دین کورگیدتا ، سائنسی علوم کےمقابلے میں علوم دین کو ہیچ سمجھتا ، تاریخ کومسخ کرتا ،آخرت کا تصوّر دلوں سےمحوکرتااورشعاراسلام کی علی الاعلان تضحیک کرتا ہے۔ اتنا شاطر، اتنا چالاک ، اس قدر ذہین لیکن اسی قدر بدباطن کہ آیات قرآنی کےمختلف ٹکڑے چنتا ، ان کوایک خاص ترتیب دےکراس خوبی سےان کوباہم مربوط کرتا اور اُن کوخوش نما معانی پہنا کرمن مانے مطالب اخذکرتا ہے
  • اکتوبر
1988
اکرام اللہ ساجد
﴿ أَلَيسَ مِنكُم رَ‌جُلٌ رَ‌شيدٌ﴾

ملک میں عام انتخابات کے انعقاد کے لئے 16 نومبر سئہ 1988ء کی تاریخ مقرر ہوئی ہے۔۔۔لیلائے اقتدار کے پرستار لنگر لنگوٹ کس کر میدان میں اُتر چکے ہیں اور ایک دوسرے کو نہ صرف دعوتِ مبارزت دے رہے ہیں، بلکہ کہیں کہیں باقاعدہ کشتیوں، ہاتھا پائی، توڑ پھوڑ اورفائرنگ وغیرہ کی خبریں بھی پڑھنے سننے میں آئی ہیں۔
  • دسمبر
1981
اکرام اللہ ساجد
پاکستان کو معرضِ وجود میں آئے تینتیس سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ۔۔۔ اس دوران کئی حکومتیں تبدیل ہوئیں اور مختلف نظامہائے حکومت آزمائے گئے، لیکن نہ تو کسی حکومت کو استحکام نصیب ہو سکا اور نہ ہی یہاں کوئی طرزِ حکومت کامیاب ہو سکا، بلکہ نت نئے تجربوں نے خود ملک کی سلامتی ہی کو داؤ پر لگا دیا ۔۔۔ چنانچہ جو لوگ 14 اگست سئہ 1947ء کو نقشہ دُنیا پر ایک نئی اسلامی مملکت کے وجود سے آشنا ہوئے تھے،
  • اگست
1985
اکرام اللہ ساجد
اسلام دین کامل ہے۔یہ آج سے چودہ صدیاں قبل مکمل ہوا۔اورآج تک کتاب وسنت میں مکمل ،جوں کاتوں موجود ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا سے رخصت ہوتے وقت اپنی امت کو یہ وصیت فرمائی تھی:
"میں تم میں دو چیزیں چھوڑ چلاہوں۔جن کو اگر تم نے مضبوطی سے تھامےرکھا تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے ان میں سے پہلی چیز کتاب اللہ ہے اور دوسری اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت!"
زبان نبوت سے ادا ہونے والے یہ پاکیزہ اور قیمتی الفاظ اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسلامی تعلیمات کوابدیت حاصل ہے۔تاقیامت ہمیں نہ کسی دوسرے شریعت کی ضرورت پیش آئے گی۔اور نہ ہی شریعت محمدیہ میں کسی قسم کی کمی بیشی یاتبدیلی کی گنجائش ہے!۔قیامت تک اب کوئی نبی نہیں آئے گا۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین اور خاتم المرسلین ہونے کا یہی نتیجہ ہے کہ شریعت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہر دور میں ہماری راہنمائی ہوگی!
  • اپریل
1982
اکرام اللہ ساجد
*خبرِ واحد حجتِ شرعیہ ہے ۔۔۔ اس کو حجت تسلیم نہ کرنے والے حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے قائل نہیں (علامہ احسان الہی ظہیر)

* ناسخ و منسوخ کی ساری بحث حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تک محدود ہے، ۔۔۔ حدیث قرآن مجید کی تائید کرتی ہے ۔۔۔ کوئی صحیح حدیث قرآن مجید سے معارض نہیں۔ (پروفیسر قاضی مقبول احمد)
  • فروری
1982
اکرام اللہ ساجد
وہ قوم کہ جس کے ایوانوں کی رونق مدتِ مدید تک عالمِ اسلام کے علوم و فنون کی رہینِ منت رہی، جس کے دانشوروں نے ایک طرف مسلمانوں کی تضحیک کی، ان کے دین اور ان کی کتاب کو اعتراضات کا نشانہ بنایا، ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق پر رکیک اور پست حملے کئے۔۔۔ اور دوسری طرف اس نے انہی مسلمانوں کے عادات و خصائل، ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ پاک اور انہی کی کتابِ ہدایت (قرآن مجید) کا بغور مطالعہ کیا
  • مارچ
1986
اکرام اللہ ساجد
یوں تو افسوسناک واقعات و حوادث اس ملک میں روز مّرہ کا معمول بن گئے ہیں، لیکن 13 فروری 1986ء کو لاہو رمیں جو حادثہ رونما ہوا، اس نے ملک کے اسلام پسند طبقہ کو بجا طور پر یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والے اس ملک میں خود اسلام کامستقبل کیا ہوگا؟ کھلے سر اور کھلے چہروں کے ساتھ، (اور ماسوائے معدودے چند) دوپٹے سے بے نیاز کچھ ''خواتین'' نے، جنہیں خواتین کہنا خودخواتین کی بھی توہین ہے،
  • اگست
1972
اکرام اللہ ساجد
فرد اور معاشرہ باہم لازم و ملزوم ہیں، جس طرح فرد معاشرے سے الگ ہو کر ایک بے حقیقت اکائی کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے، اسی طرح معاشرہ سے افراد کے بغیر وجود میں نہیں آسکتا۔ دوسرے لفظوں میں افراد کی مجموعی حیثیت کا نام معاشرہ ہے۔ اس لحاظ سے فرد کی اصلاح معاشرہ کی اصلاح پر منتج ہو گی اور فرد کا بگاڑ پور معاشرہ کے بگاڑ کا باعث بنے گا۔ اسی لئے اسلام نے فرد اور معاشرہ دونوں کی اصلاح کا اہتمام کیا ہے۔
  • جنوری
1988
اکرام اللہ ساجد
اپنے افغان بھائیوں کی مدد کرنا مسلمانانِ عالم کی ضرورت بھی ہے اور دینی فریضہ بھی۔

قازان، استرخان، زرقشان، آذربائیجان، سائبریا، کریمیا، قفقاز، خوقند، قوقند، اور سمرقند و بخارا وغیرہ میں ظلم و بربریت کے وحشیانہ مظاہروں کے بعد اب سرخ شیطان افغانستان میں ننگا ناچ رہا ہے۔۔۔27 دسمبر سئہ 1979ء کو روسی فوجوں نے افغانستان میں اپنے ناپاک قدم رکھے
  • اپریل
1983
اکرام اللہ ساجد
ایک آواز سنائی دی ہے کہ مسلمان کو توحید کی نشرواشاعت ، شرک کی بیخ کنی اور بدعات و لغویات کی تردید کے علاوہ بھی تبلیغ دین کی ضرورت ہے۔ اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت اور اخلاق و عادات کے لیے بھی اسلامی تعلیمات درکار ہیں۔ حقوق و فرائض سے ناواقفیت بھی ناگزیر ہے۔ معاشرت، معیشت اور سیاسیات سے آگاہ ہونا بھی از بس ضروری ہے۔ ادھر رُوس ہماری شہ رگ کو دبائے بیٹھا ہے، اس کے مقابلےکے لیے جہاد کی 
  • ستمبر
1983
اکرام اللہ ساجد
دور حاضر کا ایک بہت بڑا فتنہ مغربی سیاست کے تسلط کے باعث ذہنی مرعوبیت بلکہ ذہنی غلامی کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی معروف اسلامی فکر کا ٹکراؤ مغرب کے فریب خوردہ ذہن سے ہوتا ہے تو کوشش یہ کی جاتی ہے کہ کسی طرح اسلامی نقطہ نظر کی ہم آہنگی مغربی نظریات سے تلاش کی جائے جس کے بعث نہ صرف تاویل و الحاد کا دروازہ کھل جاتا ہے بلکہ اصل اسلامی فکر پس پردہ چلا جاتا ہے اور ایک بالکل غلط نظریہ  
  • مئی
1985
اکرام اللہ ساجد
حکومت پاکستان کو خبردار رہنا چاہیے:
11 فروری 1979ء کو ایران میں اسلام کے نام پر ایک انقلاب برپا ہوا۔کیونکہ اس سے قبل ایران میں شاہی نظام رائج تھا۔ اور اس انقلاب سے اب یہاں بحالی جمہوریت کی امید پیدا ہوئی تھی۔اس لئے برصغیر  کی بعض سیاسی تنظیموں نے،جن کے نزدیک جمہوری پروگرام شریعت کی عمل داری کےتقاضوں سے بڑھ کر اہم اور موجب خیر وبرکت ہے۔اس انقلاب کا باقاعہد خیر مقدم کیا اور انقلابی رہنما آیت اللہ خمینی کو مبارک باد کے پیغام روانہ کئے۔چنانچہ پاکستان کے ایک روزنامہ جسارت (کراچی) نے اپنی 13 فروری 1979ء کی اشاعت میں ایک خبر کی سرخی یوں  جمائی کہ:
"خدا ہمارے ایرانی بھائیوں کی مدد  اور ر اہنمائی فرمائے۔ہم عظیم الشان کامیابی پر آپ کو دلی مبارک باد پیش کرتے ہیں۔خمینی کو مولانا مودودی اور میاں طفیل کا  پیغام!"پھر اس کے تحت تفصیلی خبر میں اس پیغام کے یہ الفاظ بھی نقل کیے کہ:
"ایران کےہزاروں نوجوانوں نے اسلامی جمہوریہ کے قیام کےلئے جو قربانیاں دی ہیں،وہ پورے عالم اسلام کے مشعل ِراہ ہیں۔۔۔۔
  • جولائی
1987
اکرام اللہ ساجد
و طن عزیز میں مسلم معاشرہ آج جس تنزل ، انحطاط اور پستیوں کا شکار ہے، زبان قلم اس کو کسی ایک ، یا کئی نشستوں میں بیان کرنے سے قاصر ہے۔ ہاں مگر جس کی نت نئی اور خونچکاں داستانیں روزانہ اخبارات کے ہزاروں لاکھوں صفحات پر جا بجا بکھری پڑی ہیں اور جن کو پڑھ سن کر اس معاشرہ میں رہنے بسنے والوں کے طرز زندگی کے جملہ پہلوؤں کا رخ معین ہوجاتا ہے۔
  • جولائی
1983
اکرام اللہ ساجد
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''بینما انا نائم اتیت بخزائن الارض فوضع فی کفی سواران من ذھب فکبر علی فاوحی الی ان انفخہما فنفختہما فذھبا فاولتہما الکذابین الذین انا بینہما صاحب صنعاء و صاحب الیمامة'' 1''اس دوران جبکہ میں سویا ہوا تھا (یعنی خواب میں) میں زمیں کے خزانوں پر لایا گیا اورمیری ہتھیلی میں سونے کے دو کڑے رکھے گئے، جو مجھے بوجھل محسوس ہوئے تو میری طرف وحی کی گئی، ان پر پھونک ماریے ، پس جب میں نے ان پر پھونکا تو یہ اڑ گئے۔ میں نے (اپنے اس خواب کی) تعبیر یہ کی کہ (کڑے) دو جھوٹے (مدعیان نبوت) ہیں جن میں سے ایک تو صاحب صنعاء (اسود عنسی) ہے او ردوسرا صاحب یمامہ (مسیلمہ کذاب) ہے!''
  • دسمبر
  • جنوری
1972
اکرام اللہ ساجد
نظامِ کائنات پر غور فرمائیے! آگ کی حدّت اور برف کی برودت، جھلسا دینے والی گرمی اور کپکپا دینے والی سردی، دن کی روشنی اور رات کی تاریکی، خزاں کی بے رونقی اور بہار کی بہاریں کانٹوں کا زہر اور پھولوں کی صباحت و ملاحت، پتھر کی ٹھوس اور سنگلاخ چٹانیں اور پانی کی روانی کفر و شرک کی آندھیاں اور اسلام کی رحمت آلود گھٹائیں غرض اضداد و اختلافات کا ایک سلسلہ جس پر دنیا کی بقاء کا انحصار ہے۔
  • جون
1986
اکرام اللہ ساجد
جمہوریت، جمہوریت، جمہوریت، ہر سُو اک شور برپا ہے، لیکن تجربہ شاہد ہے کہ ''آزادی یہ یہ نیلم پری۔ جمہوریت'' جہاں بھی تشریف لے جاتی ہے، عوام الناس کی زندگیاں غیر محفوظ ہوجاتیں او رامن و امان کے سنگین مسائل اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ فلپائن کے جمہوری تماشوں کے بعد بنگلہ دیش کے حالات پر اک نگاہ دوڑائیے، اخبارات کے ذریعے، بنگلہ دیش کے حالیہ انتخابات میں سینکڑوں افراد کے زکمی ہونے کےعلاوہ 62 سے زیادہ
  • جون
1983
اکرام اللہ ساجد
سورة البقرہ : (سلسلہ اشاعت: آسان اردو ترجمہ قرآن مجید) مؤلف : حافظ نذر احمد ناشران : ١۔ مسلم اکادمی، محمد نگر لاہور نمبر 5 : 2۔ پاک مسلم اکادمی، الفضل مارکیٹ، 17۔ اردو بازار لاہور نمبر 2 بڑا کتاب سائز، صفحات 280، سفیدکاغذ، بہترین کتابت و طباعت ترجمہ کا انداز یہ ہے: پہلی سطر میں کلام اللہ کی عبارت ہے، دوسری سطر میں ایک ایک لفظ کا جدا جُدا ترجمہ ہے اور تیسری سطر میں سلیس ترجمہ دیا گیا ہے۔ خوبی یہ ہے کہ لفظی
  • مارچ
1982
اکرام اللہ ساجد
کتاب: ہمارے فرائض اور ہمارے حقوق

مؤلفہ: حافظ نذر احمد، پرنسپل شبلی کالج لاہور

صفحات: بڑا کتابی سائز 36*23/16 : 336 صفحات
  • مئی
  • جون
1982
اکرام اللہ ساجد
حدیثِ جاں (حمد و نعت)

نتیجہ فکر جناب راسخ عرفانی

ضخامت 112 صفحات، کاغذ و طباعت اعلیٰ
  • اگست
1984
اکرام اللہ ساجد
رسالہ منطق۔از مولانا حافظ عبداللہ محدث غازی پوری ؒ ف1337ھ)

صفحات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔88۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قیمت8/۔

پتہ۔فاروقی کتب خانہ بیرون بوھر گیٹ ملتان شہر
  • جنوری
1985
اکرام اللہ ساجد
نام کتاب: شرف المسلم

تالیف: الدکتور محمد اسحاق (مدینہ منورہ)

ضخامت: 108 صفحات
  • ستمبر
1984
اکرام اللہ ساجد
محمدی نماز:
مصنفہ۔۔۔۔۔۔۔ابو عبدالرحمٰن محمد شفیع مسکین
ضخامت ۔۔۔۔۔۔۔450 صفحات کتابی سائز
ہدیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔24 روپے
ناشر۔۔۔۔۔محمدی مسجد اہل حدیث کیر کلاں ٹاؤن شپ لاہور
ہمارے زیر نظر اس کتاب کاتیسرا ایڈیشن ہے۔۔۔یوں تو نماز پر سینکڑوں کتابیں لکھی  گئی ہیں،لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے۔کہ آج کامسلمان زیادہ  تر بے نماز ہے۔پھر جو لوگ نماز پڑھتے ہیں۔ان میں سے اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو نماز کا صحیح طریقہ نہیں مانتے۔حالانکہ نماز  دین کاستون ہے۔اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس نے اس ستون کو گرایا،اس نے پورے دین کو گویا مسمار کرڈالا۔
  • اکتوبر
1982
اکرام اللہ ساجد
ابراء اهلحديث والقرآن مما فى جامع الشواهدمن التهمتر البهتان 
تاليف------------------ مولانا حافظ عبدالله محدث غازى پوری 
صخامت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 136 صفحات 
ناشر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عبداللہ سلیم ناظم نشرواشاعت دارالحدیث کمالیہ 
رجسٹر راجووال ]( ساہیوال ) 
ملنے کاپتہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سبحانی اکیڈیمی اردو بازار لاہو ر 
سفید کاغذ، آفسٹ طباعت وکتابت ، قیمت درج نہیں ۔
تقریباً ایک صدی قبل ( 1883؁ ء میں ) صادق پور، عظیم آباد ۔پٹنہ کےعلاقے سےایک رسالہ یافتویٰ شائع کرکے عوام میں تقسیم کیا گیا تھا جس میں درج ذیل سوالات اٹھائے گےتھے
  • دسمبر
1981
اکرام اللہ ساجد
نام کتاب ۔۔۔ عالمِ برزخ

مولف۔۔۔ مولانا عبدالرحمن عاجز

ناشر۔۔۔رحمانیہ دارالکتب امین پور بازار فیصل آباد
  • جولائی
1986
اکرام اللہ ساجد
یہ افسوسناک واقعہ 17 مئی کی شام کو اسلام آباد ہوٹل میں ایک سیمینار کے دوران پیش آیا۔ روزنامہ جسارت کے الفاظ ہیں: ''خواتین محاذ عمل اسلام آباد کے ایک جلسے میں صورت حال اس وقت سنگین ہوگئی، جب ایک خاتون مقرر عاصمہ جیلانی نے شریعت بل کے خلاف تقریر کرتے ہوئے سرور کائناتؐ کے بارے میں غیر محتاط زبان استعمال کی۔ اس پر ایک مقامی وکیل نے احتجاج کیا اور کہا کہ رسول خداؐ کے بارے میں گفتگو کرتے
  • فروری
1988
اکرام اللہ ساجد
وہ ہینڈ بل کراچی میں تیار ہوا، لیکن لاہور میں تقسیم ہوا او رہاتھوں ہاتھ ادارہ محدث تک بھی  پہنچا۔ یوں اغلب گمان یہی ہے کہ ملک عزیز کے تقریباً تمام بڑے بڑے شہروں میں ضرور بانٹاگیا ہوگا۔ جس کا ایک ثبوت یہ بھی ہےکہ اس کے آخر میں’’شرعی ذمہ داری‘‘ کے عنوان کے تحت لکھا گیا ہے:
ملّت جعفریہ کے تمام شیعان علیؑ کےمومنین و مومنات (جذبہ امامیہ سےسرشار) پرفرض ہے کہ وہ اس دعوت مبین کی تشہیر و تبلیغ بذریعہ فوٹو کاپی ؍طباعت (چھپوا کر) یا خود پڑھ کر کریں اور ثواب حصل کریں!‘‘
چنانچہ ادارہ محدث کو ایک نہیں، بلکہ ایک ہی مضمون کی دو مختلف قسم کی فوٹو کاپیاں ملیں جن میں سے ایک کا عکس شمارہ زیر نظر کے صفحہ 10۔11 پر دیکھا جاسکتاہے۔
 ہم حیران ہیں کہ وہ کون سی شریعت ہے، جس کے حوالے سے  اور وہ کون سا ایمان ہے، جس کی رُو سے
  • ستمبر
1984
اکرام اللہ ساجد
تحریک اتحاد ملت کے سلسلہ میں جماعت اسلامی کی ایک علاقائی تنظیم نے "اتحاد بین المسلمین" کے موضوع پر  ایک جلسہ کاانتظام کیا تھا۔۔۔بریلوی فرقہ کی ایک مسجد میں عشاء کی نماز کے بعد عوام کی ایک بڑی تعداد جمع تھی اور سٹیج پر اہل حدیث۔دیوبندی۔بریلوی اور شیعہ فرقوں کے مقامی علماء شانہ بشانہ رونق افروزتھے ۔مہمان خصوصی ایک سجادہ نشین تھے۔جبکہ علاقے کے چیئر مین کرسی صدارت پرتشریف رکھتے تھے۔۔۔سٹیج سیکرٹری(جو ایک پر جوش نوجوان تھے) نے یہ تاکیدکرنے کےبعد کہ نعرہ صرف سٹیج سے لگایا جائےگا۔"نعرہ تکبیر۔۔۔اللہ اکبر!" اوراتحاد بین المسلمین۔۔۔۔زندہ باد!" کے نعرے بلندکئے اور تلاوت کے لئے قاری صاحب کو دعوت دی۔۔۔جلسہ کاآغاذ ہوچکا تھا ۔کلام پاک کے بعد مقررین نے یکے بعد دیگرے اپنے اپنے خیالات کااظہارفرمایا۔ان تمام حضرات کے درمیان قدر مشترک تو نعرہ اتحاد تھا لیکن اس کی عملی صورت کچھ یوں تھی کہ:
  • اپریل
1987
اکرام اللہ ساجد
23 مارچ کی رات ظلمتوں کا پیغام لےکر آئی تو 24 مارچ کا سورج خون میں نہاکر نکلا۔ صبح صبح خبر ملی کہ رات اہل حدیث کے جلسہ میں بم کا دھماکہ ہوا، 6۔افراد موقع پر شہید ہوگئے، 100 کے قریب زخمی ہوئے جنہیں میوہسپتال کے ایمر جینسی وارڈ میں داخل کردیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ مولانا حبیب الرحمٰن یزدانی اورعلامہ احسان الٰہی ظہیر کی حالت نازک ہے۔ یہ روح فرسا اور ہولناک خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیلی او رہرطرف
  • دسمبر
1987
اکرام اللہ ساجد
گزشتہ دنوں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہوا تو گویا اچانک، ملک بھر میں شرافت، خلوص، دیانتداری، حسنِ اخلاق، ہمدردی اور خدمتِ عوام کا ایک سیلاب امڈ آیا جو روکے نہ رکتا اور تھامے نہ تھمتا تھا۔۔۔گلیوں، بازاروں، چوراہوں میں لہریں لیتا ہوا جب یہ سیلاب مکانوں، کوٹھیوں اور رہائش گاہوں کے دروازوں پر بھی رات گئے تک دستک دیتا سنائی دیتا تو ان رہائش گاہوں کے مکین جہاں نیندیں حرام ہونے پر شکوہ کناں ہوتے،
  • مارچ
1985
اکرام اللہ ساجد
ملک میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات مکمل ہوگئے ہیں۔اور عمومی تاثر یہی ہے کہ انتخابات انتہائی منصفانہ اورپرامن ہوئے ہیں۔چنانچہ جہاں تک ان کے منصفانہ ہونے کا تعلق ہے۔ہم نے بڑے بڑے جبہ ودستاروالوں کے متعلق یہ سنا ہےکہ انہوں نے ووٹروں کو رات کو تنہائیوں میں یہ مشورہ دیا:
"اگر آپ دوسری پارٹی سے ووٹ دینے کی حامی بھر چکے ہیں تو کوئی حرج نہیں آ پ بظاہر ان سے یہی کہتے رہیں کہ ووٹ آپ کو دیں گے۔لیکن در پردہ مہر لگاتے وقت ہمارا انتخابی نشان۔۔۔یاد رکھئے گا!"
۔۔۔اورتجزیہ اکثر لوگوں کا ہوا ہوگا۔۔۔علاوہ ازیں دھاندلیوں اورجبرواکراہ کے کچھ واقعات بھی پڑھنے سننے میں آئے ہیں۔اور جن کی بناء پر بعض شہروں میں کشیدگی کی فضاپائی جاتی ہے۔جمہوریوں کےنزدیک شاید یہ باتیں زیادہ اہم نہ ہوں لیکن یہ بات ضرور ان کے سوچنے کی ہے۔کہ اگر عدل وانصاف ان کے ہاں اسی کا نام ہے۔
  • اپریل
1985
اکرام اللہ ساجد
صدر پاکستا ن ،جنرل محمد ضیاء الحق نے فرما یا ہے کہ:"نئے وزیر اعظم کے حلف اُٹھا نے اور سول حکومت کی بحالی کے بعد وہ بہت زیادہ مسرت اور (اپنے تیئں)ہلکا پھلکامحسوس کر رہے ہیں ۔۔۔وہ خدا تعالیٰ کے احسان مند ہیں کہ اس نے انہیں قوم سے کیا ہوا اپنا وعدہ پورا کرنے کی قوت اور حوصلہ بخشا!"(روزنامہ جنگ 26مارچ1985ء)۔۔۔ہم اس "ایفائے عہد" پر صدر صاحب کو مبارکباد"پیش کرنے  کے ساتھ ساتھ انہیں یہ بھی یا د دلانا چاہتے ہیں کہ ان کا بحالی جمہوریت کا یہ وعدہ پوری قوم سے نہیں بلکہ درحقیقت صرف سیاستدانوں سے تھا جو اُن کے دوران اقتداران کے واحد حریف ہیں اور جن میں سے اکثر آج بھی جیلوں میں یا اپنے اپنے گھروں میں نظر بند ہیں لہٰذاایہ فیصلہ کرنا کہ صدر صاحب نے بحالی جمہوریت کے تقاضے کس حد تک پورے کیے ہیں ۔ان نظر بند سیاستدانوں کا کا م ہے!۔۔۔البتہ جہا ں تک عوام کا تعلق ہے ،انہیں ان بحالی جمہوریت سے نہ کل کو ئی خاص د لچسپی تھی نہ آج کو ئی دلچسپی ہے ۔۔۔ہاں مگر چند لو گ ایسے ضرور ہیں کہ مغربی جمہوریت سے مرعوب ہو نے کے ساتھ ساتھ زبان وقلم تک بھی جن کو رسائی حاصل  ہے،وہ جمہوریت کا ڈنڈا لیے عوام کے سر پر سوار ہیں ۔اور یوں اس نعرہ جمہوریت کو خود ہی انہوں نے عوام کی نظروں میں مقبول تصور کر لیا ہے۔۔۔ چنانچہ یہ پرو پیگنڈہ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے کہ:"عوام نے انتخابات میں بھر پو ر شرکت کر کے  جمہوریت اور انتخابی عمل سے اپنی گہری وابستگی کا ثبوت فراہم کردیا ہے۔"
  • مارچ
1987
اکرام اللہ ساجد
ملک و ملّت کو درپیش جغرافیائی، سیاسی، اخلاقی اور معاشرتی مسائل روز بروز سنگین صورت اختیارکرتے جارہے ہیں، اور اصلاح احوال کی کوئی بھی صورت نظر نہیں آتی۔ الّا یہ کہ اللہ رب العزّت کے حضور گڑ گڑا کر توبہ کی جائے اور ا س کے سچے پیامبر، رسول رحمت، محسن انسانیت، سرور عالم ﷺپر نازل ہونے ان آسمانی تعلیمات کو حرز جان بنا لیا جائے کہ جن کے باعث آج سے چودہ سو برس قبل سرزمین عرب کی خزاؤں کوبہاروں کا
  • اپریل
1986
اکرام اللہ ساجد
16۔اکتوبر 1985ء کو یہ قرار داد قومی اسمبلی نے اپنے اجلاس میں حکومتی پارٹی اور آزاد گروپ کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت متفقہ طور پر منظور کی۔(1)  قومی اسمبلی متفقہ طور پر یہ قرار داد منظور کرتی ہے کہ اس کے آئندہ اجلاس میں ایک نئے دستوری ترمیمی بل کے ذریعے درج ذیل دستوری ترامیم کی جائیں۔(الف) : آرٹیکل نمبر 2 میں ''اسلام پاکستان کا سرکاری مذہب ہے'' کے بعد اضافہ کیا جائے کہ ''قرآن و سنت
  • جولائی
1985
اکرام اللہ ساجد
روزہ خور توجہ فرمائیں
ع۔(تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں؟)
روزوشب:
ماہ وصال تو گزر ہی جاتے ہیں لیکن یہی روز وشب بھی ماہ وسال کسی کے لئے انتہائی مبارک ثابت ہوتے ہیں تو کسی کے لئے محرومیوں اور حسرتوں کا  پیغام چھوڑ جاتے ہیں۔رمضان المبارک کا بابرکت اور پرعظمت مہینہ آیا اور رخصت بھی ہوگیا چنانچہ جن لوگوں نے اس ماہ مقدس میں دن کو روزہ رکھا تلاوت قرآن مجید اور نماز باجماعت کا خصوصی اہتمام کیا اور راتوں میں قیام ورکوع وسجدہ کے زریعے اپنے رب کی بارگاہ میں حاضری دے کر اپنی خطاؤں پر آنسو بہائے،اظہار ندامت کیا،وہ یقیناً اللہ تعالیٰ کی مغفرت ورحمت کے مستحق بھی ہوئے اور جہنم سے آزادی کی نوید بھی انھوں نے حاصل کرلی!۔لیکن جن لوگوں نے اس مبارک مہینے کے تقاضوں کو نہ صرف ملحوظ نہ رکھا۔بلکہ اس کی حرمتوں کو پامال اور اس کے تقدس کو مجروح کیا۔بلاشبہ انھوں نے اللہ کے غضب کوللکارا اور اپنی نفسانی خواہشات پر اُخروی فوائد کو قربان کرتے ہوئے سراسر گھاٹے کاسود کیا ہے۔لیکن اس خسارے کا آج بھی انھیں احساس نہیں ہے۔
  • دسمبر
  • جنوری
1972
اکرام اللہ ساجد
ہر طرف شورِ آہ و بکا ہے، معصوموں کی دل دوز اور جگر سوز چیخیں ہیں، لہو کے چھینٹے ہیں، گوشت کے ٹکڑے ہیں، عصمتوں کے خون ہیں۔ اور ان سب کی قیمت ایک وحشیانہ قہقہے سے زیادہ نہیں۔ آہ یہ چیزیں اتنی سستی تو نہ تھیں۔ مسلمان تو ان کی حفاظت کی خاطر ہزاروں میل کا سفر گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر کر سکتا تھا مگر آج کوئی محمد بن قاسم موجود نہیں، کوئی طارق بن زیاد نہیں، کوئی موسیٰ بن نصیر نہیں، کوئی قیتبہ بن مسلم باہلی نہیں،
  • مئی
  • جون
1982
اکرام اللہ ساجد
٭رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت نبی ہیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع بھی امت کے لیے تاقیامت لازمی ہے۔

٭ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر قول اور ہر فعل ہمارے لیے شرعی راہنما ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے کسی حصہ کو نبوت سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ نبی علیہ السلام کی شخصی اور نبوی دو الگ الگ حیثیتیں متعین کرنا ایک بہت بڑا دھوکا، ایک بہت بڑی جسارت اور اہالیاِنِ اسلام کے خلاف ایک گہری سازش ہے۔
  • جنوری
1982
اکرام اللہ ساجد
ربِ ذوالجلال والاکرام کے لیے یہ کچھ مشکل نہ تھا کہ چھٹی صدی عیسوی کے وہ لوگ جو دینِ حنیف کو چھوڑ کر شرک کی بھول بھلیوں میں گم ہو چکے اور معبودِ حقیقی سے منہ موڑ کر سینکڑوں خود ساختہ خداؤں کے سامنے اپنی پیشانیاں رگڑ رہے تھے، اچانک ایک ایسی زور دار آواز سے ۔۔۔ کہ جس کو وقت کا ہر ذی شعور سن اور سمجھ سکتا ۔۔۔ چونک اٹھتے کہ: "لوگو، فلاں مقام پر ایک کتاب موجود ہے، جاؤ اسے تلاش کر کے اس پر عمل کرو اور اس میں اپنی دنیاوی اور اخروی فلاح کے سامان تلاش کرو کہ یہ کتاب کتابِ ہدایت ہے ۔۔۔ اور اس کے کتابِ الہی ہونے میں کچھ بھی شک نہیں" ۔۔۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔
پھر یہ بھی نہیں ہوا کہ ایک خاص وقت میں ایک کتاب آسمانوں سے اس طرح اترتی کہ اس کے نزول کی کیفیت کو وقت کا ہر انسان اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ۔۔۔ اور اس بناء پر لوگوں کو اس کے "منزل من اللہ" ہونے کا یقین ہو جاتا تاکہ وہ اپنی زندگیاں اس کی ہدایات کے تحت بسر کر سکیں ۔۔۔ یہ، اور ایسی کسی بھی صورت کو واقعات اور عقل تسلیم کے لیے تیار نہیں ہیں!
  • مارچ
  • اپریل
1988
اکرام اللہ ساجد
بلی بالآخر تھیلے سے باہر آ گئی

13 جولائی سئہ 1985ء کو سینٹ کے دو ارکان مولانا سمیع الحق اور قاضی عبدالطیف نے سینٹ میں نفاذِ شریعت بل پیش کیا۔۔۔اس بِل میں شریعت کی تعریف یوں کی گئی تھی کہ:
  • ستمبر
1985
اکرام اللہ ساجد
خلفائے راشدین  رضوان اللہ عنھم اجمعین بشمول ائمہ اہل بیت رضوان اللہ عنھم اجمعین کادستور کتا ب وسنت 
وقت کاتقاضا ہے کہ اس دستور محمدیؐ پرمتفق ہوجائیے!!!
وطن عزیز نہ صرف اس وقت چاروں طرف سے بیرونی خطرات کی زد میں ہے بلکہ اس کی داخلی صورت حال بھی کسی طورپرقابل اطمینان نہیں!بالخصوص حکومت اور ایم۔آر۔ڈی کی تازہ محاذآرائی نے تو اس ملک کے ہر بہی خواہ کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ ناجانے اس کا انجام کیا ہوگا؟
یوم آزادی کو جہاں ایک طرف اس تجدید عہد کا دن قرار دیاجارہا تھا کہ جس ا خوت،اتحاداورتنظیم کی بدولت ہمیں آزادی ملی، اور یہ ملک پاکستان معرض وجود میں آیاتھا۔آئندہ بھی ہمیں اسی اتحاد ویکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کی حفاظت اوراستحکام کے لئے جدو جہد کرنا ہوگی وہیں دوسری طرف بغض وعداوت اتمشار وانارکی اور بدامنی وبدنظمی کی راہیں ہموار کرتے ہوئے ملک دشمنی کے سامان بھی فراہم ہوتے رہے!
  • نومبر
1983
اکرام اللہ ساجد
صدر مملکت، چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جناب جنرل محمد ضیاء الحق ماشاء اللہ ایک بہترین مقرر ہیں، اور قوم کے نام ان کی ہر نشری تقریر سے جہان ایک سربراہ مملکت کا جاہ و وقار ٹپکتا ہے، وہاں ایک بیدار مغز سیاستدان کی حکمت عملی اس سے مترشح ہوتی اور کسی واعظ دلپذیر کی اثر آفرینی بھی اس میں پائی جاتی ہے۔ ان کی 12۔ اگست کی تقریر بھی انہی خوبیوں کا حسین مرقع ہے او راس طویل تقریر میں انہوں نے تقریباً ہر وہ بات بیان
  • اکتوبر
  • نومبر
1985
اکرام اللہ ساجد
ملک عزیز اس وقت جن گونا گوں مسائل کا شکار ہے تو اس کا بڑا سبب کتاب و سنت سے بے اعتنائی بلکہ ان سے انتہائی ظالمانہ سلوک ہے ۔ اور ارباب سیاست و اقتدار سے لے کر اصحاب جبہ و دستار تک سبھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں ۔"هل افسد الذين الا الملوك واحبار سوء ورهبانها"یعنی ’’ فساد دین کے ذمہ دار ہی تین طبقے ہیں ۔۔۔۔۔۔صاحبان اقتدار ، علمائے سوء اور برے درویش ! ‘‘
کوئی نہیں جانتا کہ دین اسلام صرف اور صرف کتاب و سنت سے عبارت ہے اور رسول اللہ ﷺ نے بطور وصیت اپنی امت کے راہ ہدایت پر قائم رہنے کا راز ’’ تمسک بالکتاب والسنۃ ‘‘ ہی میں مضمر بتلایا تھا ؟ لیکن اب اس کا کیا کیا جائے کہ یہ دین اسلام کے علمبردار ہی ہیں جو ٹولے ٹوٹکوں سے تو اس قوم کی نیا کو پار لگانے کی فکر میں ہیں لیکن کتاب وسنت ہی کا نام لینا انہیں گوارا نہیں ہے ! ۔۔۔۔۔ ایک طرف اگر فقہ جعفری کو ملک کا دستور قرار دینے کے نعرے بلند ہو رہے ہیں تو دوسری طرف فقہ حنفی کے نفاذ کو عین اسلام قرار دیا جا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔
  • اگست
1985
اکرام اللہ ساجد
روزنامہ "جنگ"کی 4 تا7جولائی کی چاراشاعتوں میں پروفیسر وارث میر کا ایک مضمون بعنوان "عورت،پردہ اورجدید زندگی کےمسائل شائع ہوا ہے!
صاحب مضمون کو ابھی حال ہی میں"اجتہاد وتعبیر" کاشوق چرایا ہے۔اور یہ مضمون لکھنے سے قبل اسی سلسلہ کے چند اخباری بیانات داغ کر وہ اس زعم میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ اجتہاد وتعبیر کامیدان گویا صدیوں سے انھی کا منتظر چلا آتا تھا۔چنانچہ اب یہ"گوہر مقصود"اسے مل گیا ہے ۔اور اسی بناء پرانہوں نے یہ طویل مضمون لکھا ہے:
  • اکتوبر
  • نومبر
1985
اکرام اللہ ساجد
بیرون ملک کھیل کے میدانوں میں مسلمان بہو بیٹیوں کو روانہ کر کے ’’ پورے ملک اور قوم کے وقار ‘‘ کا ’’ تحفظ ‘‘ کرنے کے بعد پروفیسر صاحب اب خود تحقیق و تنقید کی جو لانگاہ میں قدم رنجہ فرماتے ہیں ۔۔۔ وضاحتوں والے مضمون کی دوسری قسط کی ابتداء ہی میں ارشاد ہوتا ہے :
’’ حضرت شاہ عبد القادر نے پردے کے حکم کی توجیہ پیش کرتے ہوئے لکھا ہے ‘‘ پہچانی پڑیں کہ لونڈی نہیں ، بی بی ہے صاحب ناموس ، بد ذات نہیں نیک بخت ہے ‘‘
ہمارے نزدیک قرآن مجید کی تفسیر و ترجمہ کرنے والی تمام شخصیتیں محترم ہیں اور شاید ہم گنہگار ہی قرآنی احکام کی تفسیروں میں پوشیدہ اس قسم کی حکمتوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں جن کی رو سے کنیز اور لونڈی کو ایک قابل احترام اور مکمل عورت یا انسان تسلیم کرنے میں آج بھی تامل کیا جاتا ہے ۔
  • ستمبر
1985
اکرام اللہ ساجد
پروفیسر صاحب کے نزدیک کتا ب وسنت کی حیثیت اور اسلام میں"اجتہاد وتعبیر کا تصور"ان کی مندرجہ ذیل عبارات سے واضح ہے:
1۔وضاحتوں والے مضمون میں آپ اپنے پہلے مضمون کے تبصرہ نگاروں سے شکوہ  کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"ان میں سے بعض نے دلیل سے بات کرنے کی بجائے تہدید وترہیب اور سب وشتم سے بھی کام لیا ہے۔اورچند ایک نے ایسی معروف روایات کی معلوم تشریحات کو دوہرایا  ہے۔جن سے عورت کو ڈھانپ کر رکھنے برقعہ پہننے اور گھونگھٹ نکالنے کے موقف کی حمایت کا پہلو تلاش کرنے میں مدد ملتی ہے۔افسوس ان میں سے کسی معترض نے موجودہ سماجی حالات اورہرآن تیزی سے پیدا ہوتے اور بدلتے حقائق کے دباؤ کا قطعاً کوئی ذکر نہیں کیا۔"
2۔(پردے کے بارے میں قرآنی احکامات پرغورکرتے ہوئے)نزول آیات کے زمانے اورآج کے زمانے کے معاشرتی مقتضیات کو پیش نظررکھنا پڑے گا۔کہ یہ احکام کیوں نازل ہوئےان کے اخلاق کی ظاہری صورت کیابنتی تھی۔اور آج ان احکام کی غرض وغایت کو عملی طور پر کونسی شکل میں ڈھالا جاسکتا ہے!"
  • مئی
  • جون
1982
اکرام اللہ ساجد
مسند دارمی میں روایت ہے، ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا:

"اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ہم دورِ جاہلیت میں بتوں کو پوجتے اور اپنی اولاد کو قتل کر دیا کرتے تھے۔۔۔چنانچہ میری ایک پیاری سی بیٹی تھی، جب میں اسے پکارتا تو وہ بڑی خوشی محسوس کرتی، ایک دن میں نے اسے بلایا اور اپنے ساتھ لے کر باہر کی طرف چلا۔
  • دسمبر
1985
اکرام اللہ ساجد
پرو فیسر وارث میر،معرفت روز نامہ "جنگ کے نام!
اوپرآزاد عورت اور لونڈی کے احکام ستر وحجاب  میں فرق کے جو دلائل ہم نے ذکر کئے ہیں ۔ان سب میں اس  فرق کے علاوہ،آزاد عورت کے اجنبی مردوں سے چہرہ چھپانے کا ثبوت بھی واضح اور بین ہے!۔۔۔ اب ہم وہ دلائل نقل کرتے ہیں جن کا تعلق براہ راست اسی مسئلہ سے ہے ۔چنانچہ تفسیر ابن کثیر جلد 3صفحہ518،اور تفسیر جا مع البیان للطبری 33/22 طبع مصر پر ہے:
"حضرت ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا "اللہ تعا لیٰ نے مومنوں کی عورتوں کو حکم دیا ہے کہ جب وہ اپنے گھروں سے کسی ضرورت کے تحت نکلیں تو چادروں سے اپنے سروں کے اوپر سے چہروں کو ڈھانپ لیں اور (صرف )ایک آنکھ کو ظاہر کر یں۔"
  • جون
1984
اکرام اللہ ساجد
قانونی اختلافات سے عافیت کتاب وسنت کی دستوری حیثیت تسلیم کرنے میں ہے

اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

﴿ما فَرَّ‌طنا فِى الكِتـٰبِ مِن شَىءٍ...﴿٣٨﴾... سورةالانعام
  • نومبر
1982
اکرام اللہ ساجد
آپ نے اکثر شام کے وقت غروب آفتاب کامنظر دیکھاہوگا..... اتنابڑا سورج جوآپ کی زمیں سے بھی کئی گنابڑا ہے اپنے دن بھر کے سفر کےبعد مغرب کے رخ دور بہت دور درختوں مکانون پہاڑیوں یا بادل کے چند ٹکڑوں کی اوٹ میں اتنی سعادتمندی سے چھپ جاتا ہے جھک جاتاہے اس تیزی سے زمین کی گود میں گرتا ہوا محسوس ہوتا ہے یوں جیسے کہ کسی بہت ہی مقتدر اور اعلیٰ تیزی زمین کی گود میں گرتا ہوا محسوس ہوتا ہے
  • جنوری
1983
اکرام اللہ ساجد
آپ نے اکثر شام کے وقت غروبِ آفتاب کا منظر دیکھا ہوگا۔ اتنا بڑا سورج جو آپ کی سرزمین سے بھی کئی گنا بڑا ہے، اپنے دن بھر کے سفر کے بعد مغرب کے رخ، دُور، بہت دُور،درختوں، مکانوں ، پہاڑوں یا بادل کے چند ٹکڑوں کی اُوٹ میں اتنی سعادتمندی سے چھپ جاتا ہے ، جھک جاتا ہے، اس تیزی سے زمین کی گود میں گرتا ہوا محسوس ہوتا ہے ، یوں جیسے کہ کسی بہت ہی مقتدر اور اعلیٰ ہستی کے سامنے سجدہ ریز ہونے کے لیے 
  • جنوری
1984
اکرام اللہ ساجد
محوِ حیرت، پریشان و مضطرب، اپنے گرد و پیش کے واقعات پر نگاہیں دوڑاتے ہوئے فکر و نظر کے تانے بانے سلجھانا چاہتا ہوں، لیکن کوئی سرا ہاتھ نہیں آتا۔۔۔ عالمِ اسلام پر ایسا وقت تو کبھی نہ آیا تھا۔۔۔کہیں بے گور و کفن لاشیں ہیں تو کہیں مظلوموں کی چیخیں۔۔۔ اپنوں سے بے اعتنائی اور اغیار کی طرف اٹھے ہوئے ہاتھ، پھیلائی ہوئی جھولیاں۔۔۔ دوستوں سے سرد مہری اور دشمنوں سے دوستی کی پینگیں۔
  • دسمبر
1983
اکرام اللہ ساجد
محدث اگست 1983ء کے شمارہ میں ہمارا ایک مضمون بعنوان ''یوم آزادی کا اعلان.... ہمارا دستور قرآن ہے!'' فکر و نظر کے صفحات میں شائع ہوا تھا۔جس کا ماحصل یہ تھا کہ موجودہ دور کی اسلامی تحریکوں اور مسلمان لیڈروں کا بنیادی نعرہ یہی ہوتا ہے کہ ''قرآن ہمارا دستور ہے!'' لیکن یہ بات صرف نعرہ کی حد تک ہے، جبکہ ان کے سیاست و ریاست کے نظریات میں قرآن مجید کواسلامی مملکت کا دستور تسلیم نہیں کیا جاتا۔ لہٰذا
  • نومبر
1984
اکرام اللہ ساجد
ربِ قدیر کے لیے یہ کچھ مشکل تو نہ تھا کہ اہلِ زمین کی نگاہوں کے سامنے ایک مدون و مرتب، سلی سلائی کتاب آسمانوں سے نازل ہوتی، اور اس کے ساتھ ہی "إِنَّ هـٰذَا القُر‌ءانَ يَهدى لِلَّتى هِىَ أَقوَمُ " کا ایسا آوازہ بلند ہوتا جسے ہر شخص اپنے کانوں سے سن کر بخوبی یہ جان لیتا کہ یہ ہے وہ کتاب (قرآن مجید) جسے "هدى للمتقين" اور "هدى للناس" ہونے کا شرف حاصل ہے۔
  • اپریل
  • مئی
1984
اکرام اللہ ساجد
ان القبر اول منزل من منازل الاخرة(الحديث)

پُر رونق اور زندگی سے بھر پور بستیوں میں سے رہنے والوں میں سے شائد ہی کوئی شخص ایسا ہوگاجس نے کسی شہر خموشاں کا نظارہ نہ کیا ہوگا۔۔۔۔اورشائد ہی کوئی بستی ایسی ہوگی،جس کے دامن میں مشاغل حیات سے لا تعلق اور زندگی کے ہنگاموں سے بے نیاز،مہیب اورجامد سناٹوں کے درمیان ہُو کے عالم میں،
  • اکتوبر
1984
اکرام اللہ ساجد
جماعتِ اسلامی کی تحریکِ اتحادِ ملت پر مولانا عبدالستار خاں صاحب نیازی کو طویل غصہ آیا ہے۔۔۔ آپ "نوائے وقت" کے ذریعے 16 اگست کو جماعت پر یوں برسنا شروع ہوئے کہ پورا عالمِ اسلام اس کی لپیٹ میں آ گیا۔۔۔ بمشکل30 اگست کو جا کر ان کا غصہ فرو ہوا۔۔۔ "اتحاد بین المسلمین" ایک متفق علیہ اور فوری توجہ کا مستحق موضوع" کے عنوان سے نوائے وقت میں چھپنے والا آپ کا یہ مضمون پانچ اقساط پر مشتمل ہے۔
  • فروری
1986
اکرام اللہ ساجد
تحریک پاکستان سے ہی شریعت کی عملداری کا نعرہ گو بڑامقبول رہا ہے، لیکن 5 جولائی 1977ء کو برسراقتدار آنے والی حکومت نے یہ نعرہ اس زور و شور سےلگایا کہ عوام کویہ توقع ہونے لگی کہ ''تحریک نظام مصطفیٰؐ'' میں دی جانے والی قربانیوں کا ثمرہ انہیں عنقریب اور اسی دور حکومت میں ملے والا ہے۔ لیکن افسوس کہ اسلام کی عملداری کا خواب پھر بھی تشنہ تکمیل ہی رہا، اور آٹھ سال تک مسلسل ''اسلام، اسلام '' کی رٹ لگائے جانے کے
  • اپریل
1986
اکرام اللہ ساجد
گزشتہ شمارہ (محدث مراچ 1986ء) میں ہم نے لکھا تھا کہ ''اسلامی مملکت کا دستور کتاب اللہ ہی ہوتا ہے، جس کی کامل اور متعین تعبیر سنت رسول اللہ ﷺ ہے او راسی کا نام شریعت ہے'' اسلامی دستور کے بارے میں یہی مؤقف ہم محدث کے ادارتی کالموں اور دیگر مضامین میں بھی ، موقع بہ موقع پیش کرتے چلے آئے ہیں۔ لہٰذا اس کی تفصیلات میں تو ہم نہیں جائیں گے، لیکن چونکہ اپنے وعدہ کے مطابق (جو گزشتہ شمارہ میں ہم
  • اکتوبر
1982
اکرام اللہ ساجد
؏ وائے ناکامی متاع ِ کارواں جاتا رہا ! 
کسی دوسرے کی مصیبت کااحساس اس وقت ہوتاہےجب وہی مصیبت خو د پرآئے،یاکم از کم انسان یہی تصور کرےکہ اگراس مصیبت زدہ کی جگہ وہ خو د ہوتاتو اس کی کیفیت کیا ہوتی ؟----- بیروت میں نہتےفلسطینیوں کوقطاروں میں کھڑاکرکے گولیوں سےبھوں دیا گیا ہزاروں بےگوروکفن لاشیں بیروت کےگلی کوچوں میں بکھرگئیں ------- اخبارات میں ان دلدوز مناظر کےفوٹو بھی شائع ہوئے------- انسانی بھیریوں کی سفاکی ،درندگی اوربہمیت کی داستانیں بھی زبان زد عام ہوئیں اورمظلوموں کی جگر سوز چیخوں نےلبنان کی فضاؤں کومرتعش کرکےعرشی الہی تک کوہلا ڈالا ہوگا ---لیکن میں دوسروں کوکیا الزام دوں ، میں خود بھی توان کروڑوں بےنصیب مسلمانوں میں سےایک ہوں کہ جن کی آنکھوں سےایک آنسو بھی نہ ٹپکا ، جن کےمنہ سےایک آہ تک نہ نکل سکی،جن کےسینے سےاِک ہوک بھی نہ اٹھی -----
  • جنوری
1985
اکرام اللہ ساجد
ریفرنڈم میں شاندار کامیابی کے بعد، اب پاکستان کے منتخب عوامی صدر جناب جنرل محمد ضیاءالحق کی ذمہ داریاں اطاعتِ شریعت کے سلسلہ میں پہلے سے بہت بڑھ گئی ہیں جنہیں نظر انداز کرنا ان کے لیے ناممکن نہ ہو گا۔ کیونکہ رنفرنڈم کی حمایتی مہم میں جو نعرہ سرِ فہرست رہا ہے، اور عوام کی اس میں دلچسپی اور جوش و خروش نے عین ریفرنڈم کے دن جو رنگ اختیار کیا ہے، وہ مطالبہ اقامتِ دین اسلام کے سوا اور کچھ نہیں۔
  • فروری
1987
اکرام اللہ ساجد
مار دھاڑ، قتل و غارت، خون آشامی اور دہشت پسندی، لسانی، قومی علاقائی بنیادوں پر فسادات، علیحدگی کی تحریکیں اور ''ملک توڑ دو'' کے نعرے ، چوریاں، ڈاکے، آتشزنی، لوٹ مار، فائرنگ اور دھماکے، مطالبات، ہڑتالیں ، جلسے جلوس، لاٹھی چارج، آنسو گیس، گرفتاریاں اور رہائیاں، بدعنوانی، لوٹ کھسوٹ، غبن، جھوٹ، منافقت اور ریا کاری، عریانی ، فحاشی، بے پردگی، بے حیائی، او راس کے نتیجے میں اغوا، زنا بالجبر اور آبروریزی، شراب
  • فروری
1984
اکرام اللہ ساجد
روزنامہ جنگ 27 جنوری سئہ 1984ء کے صفحہ اول پر چوکٹے میں درج شدہ ایک انتہائی نمایاں عبارت ہمارے پیشِ نظر ہے، جس کی چار جلی سرخیاں ہیں ۔۔۔ ان میں سے دو مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ "علامہ اقبال اور قائدِاعظم نے قانون سازی کے متعلق کتاب و سنت کا نام نہیں لیا"
  • ستمبر
1983
اکرام اللہ ساجد
14۔اگست کے موقع پر حکومت کی جانب سے نئے سیاسی ڈھانچے کا اعلان متوقع ہے او راخبارات میں اس سلسلہ کے ظن و تخمین، قیاس آرائیوں، سیاسی پیشگوئیوں اور تجاویز پر مشتمل خبریں اور بیانات شائع ہورہے ہیں۔ چنانچہ امیر جماعت اسلامی کا خیال ہے کہ:''ذات برادری کی بنیاد پر لوگ اگر منتخب ہوکر اسمبلیوں میں آئے تو انتخابات کا کچھ فائدہ نہ ہوگا۔''اور اس طرح !''حکومت نے نشاندہی کردی ہے کہ وہ اقتدار نہیں چھوڑنا چاہتی۔''
  • دسمبر
1999
اکرام اللہ ساجد
پاکستان میں عیسائیوں کو مذہبی آزادی اور ہر قسم کا جانی و مالی تحفظ حاصل ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ وہ دین اسلام کی اہانت کے مرتکب بھی ہوں اور مسلمانوں کو ان کے عقائد سے برگشتہ کرنے کی کوشش کریں ۔اب تک ان کی طرف سے توہین رسالت کے متعدد واقعات رونما ہوچکے ہیں اور کسی بھی حکومت کو نہ صرف ان کا خاطر خواہ نوٹس لینے کی توفیق میسر نہیں ہو ئی بلکہ ان کے رد عمل میں مسلم عوام کی طرف سے اگر اضطراب کی کوئی لہر اٹھی تو اسے بھی دبا دیا گیا اور مجرموں کو اس حد تک تحفظ فراہم کیا گیا کہ وہ صاف بچ نکلے اور ان کا بال تک بیکا نہ ہو ا۔یہی وجہ ہے کہ ان کی ہمتیں جوان ہو گئی ہیں ۔اور ان کی طرف سے نت نئی شرارتیں سامنے آرہی ہیں۔ اس کا ایک تازہ ثبوت لاہور کے ایک پادری غلام مسیح کا سوالنامہ ہے جو فوٹو سٹیٹ ہو کر ملک کے طول و عرض میں پھیلایا گیا ہے جس میں اس نے حضرات انبیائے کرام  علیہ السلام   کی شان میں شرمناک گستاخیاں کی ہیں حکمرانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ عیسائیوں کی ان حرکات بد کا سختی سے نوٹس  لیں۔ورنہ اگر وہ دین اسلام کی حمایت سے اسی طرح دست کش رہے تو اس کے نتیجہ میں وہ خود بھی رب کی حمایت سے محروم ہو جائیں گے، کیونکہ اللہ کی مدد انہی کے شامل حال ہو تی ہے جو اللہ کے دین کی مدد کریں۔
  • جون
1983
اکرام اللہ ساجد
اخبارات میں کافی دنوں سے قانون شہادت زیربحث ہے او ریہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ حالانکہ اہل علم نے مسئلہ کی وضاحت کربھی دی ہے کہ:1۔ حدود و قصاص کے سلسلہ میں عورت کو گواہی کے لیے زحمت نہیں دی جائے گی۔2۔ رضاعت وعدت وغیرہ کے مسائل میں عورت کی گواہی قابل قبول ہوگی اور مرد مکلّف نہ ہوگا۔3۔ مالی معاملات میں دو مردوں کی گواہی مطلب ہوگی، اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور
  • مارچ
1980
اکرام اللہ ساجد
عرب جاہل تھے ،گنوار تھے ، تہذیب و تمدن کی روشنی  سے کوسوں دور وہ  ایک ایسے خطہ کے مکین تھے جس کی تاریخ خاندانی جھگڑوں یا قبائلی جنگوں سے عبارت تھی----- لیکن انھیں اپنے اس اندو ہناک ماضی پر فخر تھا اور اپنے حال کی پستیوں پر ناز ! ---کوئی برائی جو انہیں اپنے  حال کی پستیوں پر ناز ! ------کوئی برائی جو انہیں اپنے آباؤ اجداد سے ورثہ میں ملی تھی، ان کی نظر میں قابل نفرت ، اور کوئی نیکی جسے ان کے آباؤ  اجداد ٹھکرا چکے تھے ، ان کے نزدیک قابل التفات نہ تھی  ----ان کا و جود زندگی کی ہر سعاد ت کی نفی  کرتا تھا ------وہ جس روش پر چل  رہے تھے اسی پر چلتے رہنا چاہتے تھے ----ان کے ماحول کی ظلمتوں کو کسی روشنی کی احتیاج نہ تھی لیکن یہی و ہ ظلمت کدہ تھا جو آئندہ کے لیے روشنی کے ہر جویا کی نگاہوں کا مرکز بننے والا تھا -----اوریہی وہ افق تھا جس کی تاریکیاں آفتاب رسالت کی ضیاء پاشیوں کی اولین مستحق سمجھی گئی تھیں ----ہاں وہ ربع الاول ہی کی ایک صبح درخشاں تھی جس نے مدتوں سے بھیانک تاریکیوں ارو بے نشان راستے پر چلنے والی انسانیت کو ایک نئی روشنی کا پیغام دیا -----اور -----جس نے تاریک رات کے مسافروں کو چونکا دیا تھا :
آفتاب رسالت فاران کی چوٹیوں پر سے نمودار ہو ا اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری کائنات کو ایک ایسی  روشنی سے منور کر گیا کہ جس کی تابندگی و تابانی ، زوال و غروب کے الفاظ سے کبھی آشنا نہ ہو سکی اور آئندہ کبھی ہو سکے گی :
﴿هُوَ الَّذى أَرسَلَ رَسولَهُ بِالهُدىٰ وَدينِ الحَقِّ لِيُظهِرَهُ عَلَى الدّينِ كُلِّهِ وَلَو كَرِهَ المُشرِكونَ ﴿٣٣﴾...التوبة
  • مارچ
1983
اکرام اللہ ساجد
دین سے متعلقہ ہر وہ کام جس کا سبب زمانہ رسولؐ میں موجود تھا ، لیکن رسول اللہ ﷺ نے خود کیا اور نہ امت کو اس کے کرنے کا حکم دیا او رجس کی علامت یہ بھی ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جسے درخور اعتنا نہ جانا او رتابعین عظام رحمہم اللہ تعالیٰ کے دور میں بھی اس کا کچھ اتہ پتہ نہیں ملتا، بدعت کہلاتا ہے۔کیونکہ یہ تین زمانے خیر القرون میں شمار ہوتے ہیں۔جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''خیر القرون قرنی ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم'' 1
  • جون
1988
اکرام اللہ ساجد
شریعت کے دامن میں پناہ

ہمارے صدر صاحب ماشاءاللہ بڑے مرنجاں مرنج قسم کے آدمی ہیں اور شروع ہی سے لوگوں کو حیران کر دینے کے عادی رہے ہیں۔۔وہ خاصے بڑے بڑے اقدام اور فیصلے یوں اچانک کر ڈالتے ہیں کہ ان کے متعلق پڑھ سن کر لوگوں کو پہلے تو یہ واہمہ ہوتا ہے، شاید ان کی بصارت و سماعت انہیں دھوکا دے رہی ہے۔ لیکن پھر جلد ہی وہ یہ تسلیم کرنے پرمجبور ہو جاتے ہیں کہ وہ حقائق کا سامنا کر رہے ہیں۔۔۔چنانچہ
  • فروری
1985
اکرام اللہ ساجد
سیاستدانوں کو اب بھی اصرار ہے کہ ملک میں جمہوریت بحال کی جائے۔۔۔حالانکہ یہ بحال ہو چکی ہے، ورنہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان محاذ آرائی کی خبریں پڑھ سن کر عوام کی پریشانی اور بے چینی کے کیا معنی؟ اور وہ جمہوریت ہی کیا جو غارت گر امن و سکون ثابت نہ ہو سکے؟

لیکن یوں معلوم ہوتا ہے کہ سیاستدانوں کو اس پر اطمینان حاصل نہیں ہے، وجہ ظاہر ہے کہ عام انتخابات کے اعلان کے باوجود انتخابی مہم اس قدر روکھی پھیکی ہے
  • اگست
1986
اکرام اللہ ساجد
13 جولائی 1985ء کو سینیٹ میں ''نفاذ شریعت بل'' پیش ہوا۔ اس وقت سے یہ بل مختلف کمیٹیوں کے سپرد ہوتا ہوا، اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس پہنچا، جہاں سے اس کی رپورٹ آچکی ہے۔ اسی دوران یہ بل عوام،انجمنون اور دینی جماعتوں کے غور کے لیےبھی نشر کیا گیا۔چنانچہ تقریروں، کانفرنسوں اور کنونشنوں میں زیربحث آنے کے بعد اس پر اظہار خیال کے علاوہ ،اخبارات و جرائد میں بھی اس کے حق یا مخالفت میں تبصرے شائع
  • جولائی
1984
اکرام اللہ ساجد
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کے زریعے اللہ کے عذابوں کو دعوت نہ دیجئے!

قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے جن وانس کی تخلیق کا مقصد یوں بیان فرمایا ہے:

﴿وَما خَلَقتُ الجِنَّ وَالإِنسَ إِلّا لِيَعبُدونِ ﴿٥٦﴾... سورة الذاريات
  • جنوری
1982
طالب ہاشمی
نام کتاب:                                سید بادشاہ کا قافلہ
مولفہ: آباد شاہ پوری         ضخامت: 456 صفحات
بڑا سائز، کاغذ کتابت، طباعت عمدہ، مجلد، سنہری ڈائیدار، قیمت 48 روپے
ناشر: البدر پبلی کیشنر 23 راحت مارکیٹ اردو بازار لاہور
سید احمد شہید بریلوی نے عزم و ہمت، صبر و استقامت اور راہِ حق میں بلا کشی کے جو نقوش سیتہ گیتی پر مرتسم کئے، وہ ابدالاباد تک اہل ایمان کے دلوں مین حرارت پیدا کرتے رہیں گے۔ فی الحقیقت احیاء دین کے سلسلہ میں سید احمد شہید اور ان کے سرفروز رفقاء کی مساعی جمیلہ اور ان کی داستان، جہاد و شہادت ہماری تاریخ کا ایک تابناک باب ہے، اتنا تابناک کہ اس کی روشنی میں ملتِ اسلامیہ اپنی منزلِ مقصود کا رخ متعین کر سکتی ہے۔ مولانا سید سلیمان ندوی نے سید احمد کی تحریک جہاد کا تعارف یوں کرایا ہے:
"تیرھویں صدی میں جب ایک طرف ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی طاقت فنا ہو رہی تھی اور دوسری طرف ان میں مشرکانہ رسوم اور بدعات کا زور تھا، مولانا اسمعیل شہید اور حضرت سید احمد بریلوی کی مجاہدانہ کوششوں نے تجدیدِ دین کی نئی تحریک شروع کی، یہ وہ وقت تھا جب سارے پنجاب پر سکھوں کا اور باقی ہندوستان پر انگریزوں کا قبضہ تھا۔ ان دو بزرگوں نے اپنی بلند ہمتی سے اسلام کا علم اٹھایا اور مسلمانوں کو جہاد کی دعوت دی جس کی آواز ہمالیہ کی چوٹیوں اور نیپال کی ترائیوں سے لے کر خلیج بنگال کے کناروں تک یکساں پھیل گئی اور لوگ جوق در جوق اس علم کے نیچے جمع ہونے لگے، اس مجددانہ کارنامہ کی عام تاریخ لوگوں کو یہیں تک معلوم ہے کہ ان مجاہدوں نے سرحد پار ہو کر سکھوں سے مقابلہ کیا اور شہید ہوئے حالانکہ یہ واقعہ اس کی پوری تاریخ کا صرف ایک باب ہے۔" (دیباچہ سید احمد شہید از سید ابوالحسن علی ندوی)