• جنوری
1996
عبدالقوی لقمان
مسئلہ خلق قرآن

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام اور اس کی صفات میں سے ایک صفت اور غیر مخلوق ہے۔ سلف صالحین رحمة اللہ علیھم اور ائمہ اہل السنة والجماعة کا یہی عقیدہ ہے۔ جبکہ جھمیة اور معتزلہ نے اپنے "اصول توحید" کے پس پردہ اللہ تعالیٰ کی اس صفت کا بھی انکار کرتے ہوئے اسے مخلوق گردانا ہے اور کہتے ہیں کہ
  • نومبر
1995
عبدالقوی لقمان
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَما لَهُم بِهِ مِن عِلمٍ ۖ إِن يَتَّبِعونَ إِلَّا الظَّنَّ ۖ وَإِنَّ الظَّنَّ لا يُغنى مِنَ الحَقِّ شَيـًٔا ﴿٢٨﴾ فَأَعرِ‌ض عَن مَن تَوَلّىٰ عَن ذِكرِ‌نا وَلَم يُرِ‌د إِلَّا الحَيو‌ٰةَ الدُّنيا ﴿٢٩﴾ ذ‌ٰلِكَ مَبلَغُهُم مِنَ العِلمِ ۚ إِنَّ رَ‌بَّكَ هُوَ أَعلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبيلِهِ وَهُوَ أَعلَمُ بِمَنِ اهتَدىٰ ﴿٣٠﴾... سورةالنجم
  • اگست
1993
عبدالقوی لقمان
ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَدَّ كَثيرٌ‌ مِن أَهلِ الكِتـٰبِ لَو يَرُ‌دّونَكُم مِن بَعدِ إيمـٰنِكُم كُفّارً‌ا حَسَدًا مِن عِندِ أَنفُسِهِم مِن بَعدِ ما تَبَيَّنَ لَهُمُ الحَقُّ...﴿١٠٩﴾... سورة البقرة

ترجمہ بہت سے ہل کتاب اپنے دل کی جلن سے یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لا چکنے کے بعد تم کو پھر کا فر بنا دیں ۔حالانکہ ان پر حق ظاہر ہو چکا ہے۔
  • اکتوبر
1994
عبدالقوی لقمان
فرمان باری تعالیٰ ہے:۔
﴿إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّـهِ الْإِسْلَامُ ۗ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِآيَاتِ اللَّـهِ فَإِنَّ اللَّـهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ ﴿١٩﴾...آل عمران
"  بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے، اور اہل کتاب نے اپنے پاس علم آجانے کے بعد آپس کی سرکشی اور حسد کی بنا پر ہی اختلاف کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ جو بھی کفر کرے اللہ تعالیٰ اس کا جلد حساب لینے والا (اور سزا دینے والا)ہے "
  • مارچ
1996
عبدالقوی لقمان
تمام تر تعریفیں اس اللہ جل شانہ کےلیے ہیں جو تمام جہانوں کا مربی ہے، جو سب سے زیادہ مہربان او ر نہایت رحم والا ہے، جو جزا کے دن کا مالک ہے او ر تمام انسانوں کو ان کے اعمال کے مطابق پورا پورا بدلہ دے گا۔

اللہ کی قدرت کہ آج مجھے کس ہستی پر قلم اٹھانا اور کس بات کا تذکرہ کرنا مقصود ہے! قلم ہے کہ قرطاس پر جنبش کی سکت نہیں رکھتا، عقل ہے
  • اکتوبر
2007
محمد بن صالح العثیمین
لغت میں 'علم' جہالت کی ضد ہے، اور اس سے مراد 'کسی چیز کی اصل حقیقت کو مکمل طور پر پالینا' ہے۔اصطلاح میں بعض علما کے نزدیک 'علم' سے مراد وہ معرفت ہے جو جہالت کی ضد ہے۔جبکہ دیگر اہل علم کا کہنا ہے کہ 'علم' اس بات سے بالاترہے کہ اس کی تعریف کی جائے۔ مطلب یہ کہ لفظ 'علم' خود اتنا واضح ہے کہ اس کی تعریف کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔
  • اپریل
2007
محمد بن صالح العثیمین
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
إِنَّ ٱلَّذِينَ تَوَفَّىٰهُمُ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ ظَالِمِىٓ أَنفُسِهِمْ قَالُوا۟ فِيمَ كُنتُمْ ۖ قَالُوا۟ كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِى ٱلْأَرْ‌ضِ ۚ قَالُوٓا۟ أَلَمْ تَكُنْ أَرْ‌ضُ ٱللَّهِ وَ‌ٰسِعَةً فَتُهَاجِرُ‌وا۟ فِيهَا ۚ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ مَأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَسَآءَتْ مَصِيرً‌ا ﴿٩٧﴾ إِلَّا ٱلْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ ٱلرِّ‌جَالِ وَٱلنِّسَآءِ وَٱلْوِلْدَ‌ٰنِ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا ﴿٩٨﴾ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَعْفُوَ عَنْهُمْ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَفُوًّا غَفُورً‌ۭا ﴿٩٩...سورۃ النساء