• مارچ
  • اپریل
1979
اسرار احمد سہاروی
کیا آمد بہار ہے غم خوار کچھ نہ پوچھ گلش میں ہیں بہار کے آثار کچھ نہ پوچھ
کس اوج پر ہے طالع بیدارکچھ نہ پوچھ مشرق ہے آج مطلع انوار کچھ نہ پوچھ
احیائے دین نوید بہاراں ہے اِن دنوں دامانہ گلفروش ہے ہر خار کچھ نہ پوچھ
  • دسمبر
1981
اسرار احمد سہاروی
ہشیار ہو غافل کہ بجا ہے طبلِ جنگ
نغمے کی صدا تیز ہو لے ہو بلند آہنگ
جھنکار سلاسل کی صدا دیتی ہے ہر دم
  • مارچ
1987
اسرار احمد سہاروی
میں نے ''شاہنامہ بالاکوٹ'' شروع سے آخر سے آخر تک پڑھ ڈالا ہے۔ مجھے سب سے زیادہ جس چیز نے متاثر کیا، وہ اس کا عنوان ہے۔مصنف نےایسے لوگوں کو یاد کیا ہے جس کا حق بہت زیادہ فائق تھا اور جن کی طرف سے ہمارے تمام شعراء دانستہ یا نادانستہ مجرمانہ چشم پوشی کررہےتھے۔بالاکوٹ کے یہ باعزیمت جانباز مجاہد اگر یاد آوری اور فخر کے قابل نہیں تو پھر کون لوگ ہوسکتے ہیں؟ یہ تحریک بھی اپے عوامل و 
  • مارچ
1983
اسرار احمد سہاروی
زمیں سے سوئے آسماں ہم چلے ہیں
یہ دیکھو کہاں سے کہاں ہم چلے ہیں

ستاروں کے سارے جہاں ڈھونڈ کر اب
درائے زماں و مکاں ہم چلے ہیں
  • مئی
  • جون
1995
اسرار احمد سہاروی
ازل سے ملتا ہے مجھ کو ذوق  لطف ربانی مرا دل بن گیا ہے مرکز انوار یزدانی
اسی نے نور بخشا ہے نگاہوں کو بصیرت کا جلاتا ہے وہی انساں کے دل میں شمع ایمانی
وہ دیتاہے دل کو آرزو فقر رسالت کی سکھائے ہیں اسی نے ہم کوانداز جہاں بانی
وہی کرتاہے روشن لطف سے تاریک سینوں کو نظر کو بخش دیتاہے کرم سے نور عرفانی
شعورذات کی دولت عطا کرتاہے انساں کو اسی کے در پہ جھکتی ہے شہنشاہوں کی پیشانی
  • جون
1987
اسرار احمد سہاروی
وہ رونق خیال بھی غم کی دوا بھی ہیں
یادوں کے نغمہ زار میں دل کی صدا بھی ہیں

وہ دل کا مدعا بھی غم جانفزا بھی ہیں
مہر سکوت بھی ہیں میرے ہمنوا بھی ہیں
  • مارچ
1982
اسرار احمد سہاروی
ترے جلووں کی اصلا کیف سامانی نہیں جاتی
دل پر شوق کی بیتاب حیرانی نہیں جاتی
نگاہوں میں سماتے بھی نہیں لیکن یہ عالم ہے
  • مئی
  • جون
1982
اسرار احمد سہاروی
قیامِ زیست کا حاصل کہاں ہے
جنوں کا جلوہ پرور دل کہاں ہے
عطا وہ کر تو دین کونین لیکن
  • فروری
1984
اسرار احمد سہاروی
باوجود دردِ پیہم دل کا ماتم کیا کریں
خستگی تیری رضا ہے چشمِ پُرنم کیا کریں
تیرے سنگِ آستاں پر جھک گئی اپنی جبیں
  • اپریل
  • مئی
1984
اسرار احمد سہاروی
وہ فرمائیں گے رحمت کی نظر آہستہ آہستہ
بنے گا غم ہمارا معتبر آہستہ آہستہ!
کبھی تو ہو ہی جائے گی صدائے غم کی شنوائی
  • جنوری
  • فروری
1980
اسرار احمد سہاروی
حسن كی جلوه نمائی ہو تو دیوانے بہت !!
درد کے گرقدرداں آئیں نظر کے سامنے 
قیس پر کیا منخصر ہے کوہکن ہے کیا ضرور 
دل کی ویرانی کا قصہ مختصر یہ ہے کہ آج !!
وہ رہے نا آشنا ئے غم اگر چہ ہر طرف 
شوق کو مہمیز کیجئے  بیدلی ہے سدراہ 
بیدلی ہائے تمنا  کا برا ہو ان دنوں 
ایک عالم پر ہجوم یاس ہے چھا یا ہوا
  • اپریل
1985
اسرار احمد سہاروی
مجھ کو دیوانہ بنا کر خوب رسوا کیجیے               غنچہ و گل میں سما کر مجھ سے پردہ کیجیے
شومئی قسمت کا اپنی یوں مداوا کیجیے             حسن یکتا کو دلوں میں بھلوہ فرما کیحیے
خود ہی ہو جائیں گے وہ محو تماشائے جنوں    دل میں ذوق جستجو کا حسن پیدا کیجیے
  • اپریل
1980
اسرار احمد سہاروی
ہشیار ہو غاف کہ بجا ہے طبل جنگ               نغمے کی صدا تیز ہو ،لے ہو بلند آہنگ
جھنکار سلاسل کی صدا دیتی ہے ہر دم            جینا ہے غلامی کا تجھے موت کا ہمرنگ
صیقل ہے ضروری تیرو تیغ کی ہردم               فرمان نبی ﷺ ہے کہ نہ کھا جائے  انھیں رنگ
اٹھ تجھ کو بلاتی ہے صدا آ ہ وفغان کی             خون شہدا سے کمر و کوہ ہے اثررنگ
  • دسمبر
1978
اسرار احمد سہاروی
مُدعی آج چشم پُرنم ہے   التفات اس کا باعث غم ہے
عشق کی سربلندیاں ہر سو ! ہو مبارک ، ہوس کا سرخم ہے
اہل دل کو خوشی مبارک ہو بوالہوس آج محو ماتم ہے
  • جون
1980
اسرار احمد سہاروی
بکھری ہوئی ہیں ان کی ادائیں کہاں کہاں

دامن کو دل کے ان سے بچائیں کہاں کہاں

جلوے قدم قدم ہیں تمہارے بہ ہر نگاہ

آنکھوں کو فرش راہ بنائیں کہاں کہاں

ہیں امتحان میں اپنی وفاداریاں ہنوز

داغوں سے اپنے دل کو سجائیں کہاں کہاں
  • مئی
  • جون
1979
اسرار احمد سہاروی
طلوعِ نور سے تاریکیاں ہوئیں رخصت  اُفق پر چھا گیا نورِ سحر بہ صد شوکت
ظلامِ جہل سدھارا ہے آج باحسرت دوئی چلی گئی۔ آئی ہے شان سے وحدت
نیا سفر ہےپرانے چراغ گل کردو
  • مئی
1986
اسرار احمد سہاروی
اُنہیں شامل تو کرلوں داستاں میں
یہ مشکل ہے کہاں وہ اور کہاں میں

تکلف برطرف یہ بات سچ ........ ہے
نہیں ہوں نعت کے شایان شاں میں
  • جنوری
1985
اسرار احمد سہاروی
تیرے دیوانے جو طیبہ کی جناں سے گزرے
روحِ بیتاب پکاری "یہ کہاں سے گزرے"
منزلِ شوق میں ہم سود و زیاں سے گزرے
  • ستمبر
1987
اسرار احمد سہاروی
ان کا دامن پھول چُن چُن کر سجاتی رہ گئی

زندگی کی ہر ادا دل کو لبھاتی رہ گئی

ان کی آمد باعث تزئین صد گلشن ہوئی

ہر کلی فرط حیا سے منہ چھپاتی رہ گئی

اک جھلک دیکھی تھی حسن جانفرا کی دُور سے

چشم نرگس فرط حیرت سے لجاتی رہ گئی
  • دسمبر
1985
اسرار احمد سہاروی
انہیں شامل تو کرلوں داستاں میں                   یہ مشکل ہے کہاں وہ اور کہاں میں
تکلف برطرف یہ بات سچ ہے                    نہیں ہوں نعت کے شایان شاں میں
رسائی اُن کی ہے عرش بریں  تک                         سیہ بخت و نصیب دشمناں میں
  • نومبر
1984
اسرار احمد سہاروی
ذوق جنوں کی بات ذرا مان جائیے
خدمت میں ان کی لے کے دل وجان جائیے
امّی لقب ہیں باعثِ تزئین کائنات
  • فروری
1985
اسرار احمد سہاروی
تیرے دیوانے جو طیبہ کی جناں سے گزرے
روحِ بیتاب پکاری "یہ کہاں سے گزرے"
منزلِ شوق میں ہم سود و زیاں سے گزرے
  • اکتوبر
  • نومبر
1978
اسرار احمد سہاروی
زندگی پُر اَلم بنائی ہے ربّ عالم تیری وہائی ہے
ایک سہارا تھا دل کامبہم سا وہ بھی اب رہن بے وفائی ہے
نفسی نفسی کا ایک عالم ہے بے خودی سی ہر اک پہ چھائی ہے
  • فروری
  • مارچ
1995
اسرار احمد سہاروی
مال کار پہ اپنے سدا نظر رکھنا    چرا غ راہ گزر ہو ذرا خبر رکھنا 
سکوں شناس نہ ہو نا فریب منزل    قدم قدم کو سدا مائل سفر رکھنا 
صفائے قطب وہ گو ہر ہے جس کا مول نہیں    اسی چراغ سے روسن خدا کا گھر رکھنا 
گھرے ہو ئے ہو شب تار کے اندھیر ے میں    خدا کی ذات سےامید تم مگر رکھنا 
شب سیاہ مصائب کی جانے والی ہے   دلوں میں حوصلہ تا آمد سحر رکھنا
  • اکتوبر
1995
اسرار احمد سہاروی
یقین رحمت پروردگار رکھنا  امید خیر دل بے قرار میں رکھنا
عدو ہے سخت بہ ظاہر ضعیف تم ہو مگر کرم خدا کا بھی اپنی شمار میں رکھنا
لہو سے اپنے سنوارے ہیں تم نے کوہ و دمن لہو کا رنگ ہر اک جوئبار میں رکھنا
  • مارچ
  • اپریل
1974
اسرار احمد سہاروی
یہ شعر وصفِ نبی ﷺ کے بارے میں انتہائی بلیغ سمجھا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بھی مدحتِ رسول کا قرار واقعی حق ادا نہیں کرتا۔ کیونکہ رسالت مآب کی بہت سی خصوصیات ایسی ہیں جو کسی دوسرے نبی میں نہیں پائی جاتیں اسے آپ آنحضرت ﷺ کی بے مثالیت کہہ لیں یا کچھ اور نام دے دیں۔ بہرحال یہ ہیں آپ کی ذات کے ساتھ ہی مخصوص۔ کہیں اور آپ کو یہ کیفیت نظر نہیں آتی۔
  • مئی
  • جون
1973
اسرار احمد سہاروی
یہ شعر وصفِ نبی ﷺ کے بارے میں انتہائی بلیغ سمجھا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بھی مدحتِ رسول کا قرار واقعی حق ادا نہیں کرتا۔ کیونکہ رسالت مآب کی بہت سی خصوصیات ایسی ہیں جو کسی دوسرے نبی میں نہیں پائی جاتیں اسے آپ آنحضرت کی بے مثالیت کہہ لیں یا کچھ اور نام دے دیں۔ بہرحال یہ ہیں آپ کی ذات کے ساتھ ہی مخصوص۔ کہیں اور آپ کو یہ کیفیت نظر نہیں آتی۔