• اپریل
1999
عبدالرحمن عزیز
عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی ملتِ اسلامیہ کی اہم عبادت اور شعار ہے۔ قربانی کے جانور کی عمر کے بارے میں حدیث نبوی ہے کہ "تم مسنة جانور ہی ذبح کیا کرو، اگر یہ ملنا مشکل ہو جائے تو بامر مجبوری بھیڑ کا جذعة بھی ذبح کیا جا سکتا ہے" (صحیح مسلم) مسنة عربی زبان میں سال بھر یا اس سے زیادہ عمر کی بکری کے لئے بولا جاتا ہے۔ جبکہ جذعة کا اطلاق چھ ماہ سے سال تک کی عمر کی بکری، بھیڑ کے لئے کیا جاتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ مختلف جانوروں کی عمر کے اعتبار سے اس اصطلاح کا اطلاق ان پر مختلف انداز سے ہوتا ہے چنانچہ مسنة بکری کے لئے ایک سال یا اس سے زیادہ، گائے کے لئے دو سال یا اس سے زیادہ، اونٹ کے لئے 5 سال یا اِس سے زیادہ پر بولا جاتا ہے چنانچہ علماء نے مسنة سے اونٹ، گائے اور بھیڑ، بکری سے ہر ایک کا دو دانتا جانور مراد لیا ہے
  • جنوری
1986
عبدالرحمن عزیز
چند ماہ پیشتر ''اوّل جیش'' کے تحت جہاد قسطنطنیہ میں یزید کی شمولیت و عدم شمولیت اور قیادت پرطبع آزمائی شروع ہوئی، تو اس کے باعث قارئین میں اضطراب کا تموج پیدا ہوا اور مختلف زبانیں استعمال ہونے لگیں۔ جناب اللہ یار صاحب کی تحقیق یہ تھی کہ یزید اس لشکر میں شامل نہ تھا۔ ان کا یہ مضمون ہفت روزہ ''اہلحدیث'' میں شا ئع ہوا۔اس پر محترم صاحبزادہ برق التوحیدی نےاس موضوع پر قلم اٹھایا اور حتی الوسع یزید کو لشکر مغفور
  • مئی
1999
عبدالرحمن عزیز
((زیر نظر مضمون میں واقعہ کربلا میں افراط و تفریط کاایک جائز پیش کرتے ہوئے غزوہ قسطنطنیہ میں امارت کے مسئلہ پر تحقیقی انداز سے روشنی ڈالی گئی ہے جس سے تاریخ اسلام کے اہم ترین واقعہ "کربلا" کے بارے میں حقیقت پر مبنی بعض پہلوؤں کی نشاندہی کرکے حقیقی صورتحال اور صحیح تاثر اُجاگر کرنا مقصود ہے۔وما توفیقی الا باللہ۔
1۔حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مصالحت اور بیعت اور کوفیوں کی حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ورغلانے کی کوشش:۔
  • جون
2000
عبدالرحمن عزیز
محمد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی حیات  طیبہ پر متعدد اور بسیط کتب منصہ شہود پر آئیں جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی حیات مبارکہ کے قیمتی لمحات کو ذکر کیا گیا۔لیکن اختصاراً کوئی رسالہ راقم السطور کی نظر نہیں گزرا جس میں صادق مصدوق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کے لیل ونہار کو تاریخ وارثبت کیا گیا ہو۔
ذیل میں انتہائی تتبع اور تحقیق وجستجو کے ساتھ چند سطور پیش خدمت ہیں۔بعض مقامات پر وفود سرایا میں تقدیم وتاخیر اور تاریخی اختلاف مجھے درستگی کے قریب معلوم ہوئی صرف اسی کاہی اندارج کیا گیا ہے۔مزید تحقیق اور اطمینان کے لیےا صل کتب مراجع کی طرف  رجوع کریں۔
  • اکتوبر
  • نومبر
1985
عبدالرحمن عزیز
خلفاء ثلاثہ کی شہادت :
ایرانیوں ، یہودیوں اور عیسائیوں کی سازش سے جب سیدنا حضرت عمر فاروقؓ نے یکم محرم الحرام 24 ھ کو ابو لوء لوء کے ہاتھوں جام شہادت نوش فرمایا تو داماد رسول ؐ سیدنا عثمان بن عفان ؓ مسند خلافت پر جلوہ گر ہوئے مگر یہ بھی مجوس و یہود کی سازش کے تحت ذو الحجہ 35ھ کو جام شہادت نوش فرما کر مالک حقیقی سے جا ملے تو حضرت علیؓ نے اس منصب کو بادل نخواستہ قبول فرمایا اور ہمیشہ اپنے دور خلافت میں اپنے ہی محبوں کے ہاتھوں نالاں ہے جیسا کہ حضرت علیؓ کے اس خطبہ سے طاہر ہے :
’’ خدا وند تو جانتا ہے کہ میں ان سے تنگ ہوں اور یہ مجھ سے تنگ آ چکے ہیں مجھے ان سے راحت دے اور ان کو اس شخص کے ہاتھ مبتلا کر دے جس کے بعد مجھے یاد کریں میں ان کا دشمن ہوں اور یہ میرے دشمن ہیں ۔‘‘ ( جلاء العیون ص 229)
  • دسمبر
1985
عبدالرحمن عزیز
حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سفر:
ادھر کوفہ میں یہ صورت حال تھی اُدھرحضرت حسین  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی خدمت میں اہل کوفہ کے خطوط قاصدوں کے تقاضے ،بیعت کی ظاہری کثرت ،اور جان چھڑ کنے کے زبانی وعدے ،یہ سب حسین خواب تھے چنانچہ حضرت حسین  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے اہل کو فہ کی خواہش پوری کرنے کے لیے کو فہ روانہ ہونے کا ارادہ کرلیا ۔مگر اکابرین اہل علم وتقویٰ مثلاًحضرت عبد اللہ  بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابوبکر  بن عبد الرحمن بن حارث  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  حضرت عبد اللہ بن میطع رضی اللہ تعالیٰ عنہ  حضرت عبد الرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابو داقد  لیشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  انصاری،اور حضرت ابوسعید الخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے بہت روکا حضرت محمد بن حنفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو (حضرت حسین  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارادہ خروج الی ا لکوفہ سن کر رو پڑئے ۔
  • اگست
1985
عبدالرحمن عزیز
جنگ خیبر:
سن 7ہجری میں خیبر کامشہور معرکہ پیش آیا۔اس معرکہ میں حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   اور حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   بھی شامل ہیں۔جب مرحب حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے ہاتھوں مارا گیا تو معرکہ خیبر بھی ختم ہوا۔خیبر کی زمین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہدین میں تقسیم کردی۔چنانچہ زمین کا ایک ٹکڑا حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے حصہ میں آیا۔انہوں نے اس ٹکڑے (ثمغ) کو راہ خدا میں وقف کردیا۔صحیح مسلم میں اس کی تفصیل مذکور ہے۔(ملاحظہ ہو باب الوقف صحیح مسلم)
  • مارچ
1985
عبدالرحمن عزیز
وفات رسول صلی اللہ علیہ وسلم:
وفات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر سن کر صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین  کو سخت صدمہ پہنچا حتیٰ کہ حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   ہاتھ میں  تلوار لئے فرمارہے تھے:
مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم  (بخاری )
"خدا کی قسم رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم پر موت وارد نہیں ہوئی۔"
حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   یہ سنتے ہی تشریف لائے چہرہ انور سے چادر ہٹا کر بوسہ دیا اور فرمایا!"اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ  تعالیٰ آپ پر دو موتیں نازل نہیں کرے گا،پھر وفات کا اعلان ان الفاظ میں کیا:
"من كَانَ يعبد مُحَمَّدًا فَإِن مُحَمَّد قد مَاتَ وَمن كَانَ يعبد الله فَإِن الله حَيّ لَا يَمُوت وقال إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَقال وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚوَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّـهَ شَيْئًا الایة"
 تو صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین  کو موت کا یقین ہوا۔(بخاری)
  • نومبر
1987
عبدالرحمن عزیز
نام و نسب و منصب:

عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ، کنیت ابو عبداللہ، والدہ کا نام ارویٰ بنت کریز بن ربیعہ، نانی ام حکیم بیضاء بنت عبدالمطلب، اس لحاظ سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نبی علیہ السلام کی پھوپھی زاد بہن کے بیٹے تھے (تاریخ اسلام از مولانا نجیب آبادی ص393، عنوان النجابہ ص27)
  • ستمبر
1985
عبدالرحمن عزیز
 جعفر صادق کا فرمان:
"مخالفین میں سے ایک شخص نے حضرت ابو بکر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   اور حضرت عمر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے متعلق اما م جعفر صادق ؒ سے سوال کیا تو آپ نے جواباً فرمایا کہ:"وہ  دونوں(ابوبکر وعمر رضوان اللہ عنھم اجمعین ) عادل ،منصف امام تھے۔وہ دونوں حق پررہے اور حق پر انہوں نے وفات پائی۔پس ان دونوں پر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو۔"(احقاق الحق ص16)
پھر مدائن کے مال غنیمت میں شہزادی شہر بانو کا آنا اور حضرت عمر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کا حضرت علی   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے مشورہ سے اس شہزادی کا حضرت حسین   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   سے نکاح کرنا اور حق مہر بیت المال سے ادا کرنا شیعہ حضرات کی معتبر کتب مثل اصولی کافی منتہی الامال جلد دوم جلاالعیون ص239) سے ثابت ہے۔اگر خلافت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   غیر حقہ اورغاصبانہ تھی تو یہ نکاح کیسے درست ہوسکتا ہے؟یہ بھی یاد رہے کہ حضرت زین العابدین علی بن حسین   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   شہزادی شہر بانو کے فرزند ارجمند ہیں۔
  • جولائی
1985
عبدالرحمن عزیز
ہجرت عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ :
فریقین کی کتب تواریخ وسیر اس بات پر متفق ہیں کہ 13 نبوی میں اہل مدینہ کی  عقبہ ثانیہ کی بیعت کے بعد قریش کے ظلم وستم نے مسلمانوں پر ملکی رہائش تنگ کردی۔اکثر مسلمان بحکم و اجازت نبویؐ حبشہ کی  طرف ہجرت کرچکے تھے۔باقی ماندہ کو بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانی اورایمانی دولت بچانے کی عام اجازت دے دی تھی کہ مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ چلے جائیں۔ مگر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے خصوصی طور پر فرمایا کہ وہ ان اجازت یافتگان ہجرت سے پہلے مدینہ پہنچ کر وہاں اقامت اختیار کریں اور مسلمان مہاجرین کی جمیعت خاطر کا سبب بنیں۔مسلمانوں سے جس طرح بھی بن  پڑا مدینہ پہنچ گئے۔حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کی روایت کے مطابق مہاجرین میں سب سے پہلے مدینہ پہنچنے والے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  تھے۔پھرحضرت عبداللہ ابن مکتوم رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  نے قدم رنجہ فرمایا۔پھرعمر بن خطاب رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  بیس سواروں کے ہمراہ رونق افروز ہوئے۔انصار نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کےمتعلق دریافت فرمایا،تو حضرت عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  نے فرمایا کہ " وہ میرے پیچھے تشریف لانے والے ہیں۔"(بخاری عنوان البخابہ)
  • فروری
1985
عبدالرحمن عزیز
نام و نسب و منصب:

بقول امام النسب حضرت زبیر بن بکار، قبل از اسلام آپ رضی اللہ عنہ کا نام عبدالکعبہ تھا۔ اور قبولِ اسلام کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کا نام عبداللہ رکھا۔
  • دسمبر
1987
عبدالرحمن عزیز
جملہ معترضہ:

جنگ خندق کے موقعہ پر جب ماحول "(اذالقلوب لدى الحناجر)" کا منظر پیش کر رہا تھا اور اسی طرح دیگر سخت ترین اور مہلک مواقع پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے، حنین کے تیر انداز ان کے پائے ثبات کو متزلزل نہ کر سکے، طائف کے سخت جان جنگ جوؤں سے وہ نہ گھبرائے،
  • جنوری
1988
عبدالرحمن عزیز
استخلافِ عثمان رضی اللہ عنہ:

گزشتہ سطور میں قارئین کرام یہ ملاحظہ فرما چکے ہیں کہ جس مملکتِ اسلامیہ کی بنیاد حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں رکھی گئی تھی، اس کے استحکام میں سیدنا عثمان، غنی رضی اللہ عنہ کے پاکیزہ مال سے متعدد امور پایہ تکمیل تک پہنچے۔
  • فروری
1984
عبدالرحمن عزیز
کتاب و سنت اور علمائے سلف کی روشنی میں

التوسل والوسيلة" کا لغوی معنیٰ ہے بذریعہ عمل تقرب حاصل کرنا، جیسا کہ علامہ جوہری نے صحاح کے ص456 پر تحریر فرمایا ہے:

توسل اليه بوسيلة اى تقرب اليه بعمل
  • مارچ
1984
عبدالرحمن عزیز
قرآن و حدیث اور اقوال، سلف کی روشنی میں

پہلی دلیل:

حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا، جب آدم علیہ السلام سے خطاء کا ارتکاب ہوا تو انہوں نے بارگاہ، ایزدی میں التجا کی:
  • اپریل
  • مئی
1984
عبدالرحمن عزیز
قرآن وحدیث اور اقوال سلف کی روشنی میں!

ساتویں دلیل

اذا اعليكم الامور فعليكم باهل القبور