• اپریل
2010
محمد عمران صدیقی
ہرتہذیب و نظریہ جہاں مختلف اَہداف ومقاصدکا حامل ہوتا ہے، وہاں ان مقاصد کے لئے اپنے نعروں اور لائحۂ عمل کو خوشنما اور دیدہ زیب نام بھی دیتا ہے۔ ان اصطلاحات اور نعروں میں ظاہری اشتراک کے باوجود دونوں کے مفہوم ومدعا اور معنویت میں وہ فرق پوری تاثیر سے موجود ہوتا ہے جو ہر دو نظریات میں درحقیقت پایا جاتا ہے۔
  • جون
2010
محمد عمران صدیقی
ترقی! ترقی! ترقی!... ہر فرد کی کوشش کامحور یہی ہے۔ہر معاشرہ ترقی کی منزلیں طے کرنا چاہتا ہے۔ہر حکومت اسی میں ملک و قوم کی کامیابی تصور کرتی ہے۔ انسانی حیات کی ہر تین سطحوں پر یعنی فرد، معاشرے اور حکومت کی کامیابی کا تصور... ترقی... کے ساتھ جڑا ہے۔ کامیاب فرد وہی ہے جو مسلسل ترقی کررہا ہو، کامیاب معاشرہ وہی ہے جو مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن ہو،
  • اگست
2010
محمد عمران صدیقی

اِسلامی علمیت کابنیادی ماخذ وحی الٰہی یعنی قرآن و حدیث ہے اور 'جاہلیت ِجدیدہ' یعنی تہذیب ِ مغرب کی علمیت کا ماخذ 'وحی بیزار عقل' اور 'مذہب دشمن جذبات' ہیں۔ اس 'وحی بیزار عقل' اور ' مذہب دشمن جذبات 'نے جس علمیت کو جنم دیا، وہ 'جدید سائنس' (نیچرل وسوشل) کے نام سے پہچانی جاتی ہے۔