• مئی
2010
خلیل الرحمان
آغا شورش کاشمیریؒنے دورِ حاضر کی سیاست کو ایک ایسی طوائف سے تشبیہ دی تھی جو تماش بینوں میں گھری ہوئی ہے۔ کچھ اس طرح کا معاملہ ہمارے حال ہی میں آزاد ہونے والے میڈیا کا بھی ہے۔ بعض اوقات معمولی واقعات کواس قدر غیر معمولی کوریج دی جاتی ہے کہ دیکھنے والے حیران و پریشان ہوجاتے ہیں کہ آیا یہی سب سے بڑا قومی مسئلہ ہے؟
  • جنوری
2010
خلیل الرحمان
اربابِ علم و دانش اس حقیقت سے پوری طرح باخبر ہیں کہ ہماری خارجہ پالیسی کا قبلہ روز اوّل سے ہی درست نہیں رہا اور کم وبیش ہمارے تمام حکمران کسی نہ کسی درجے میں امریکہ کی کاسہ لیسی پر مجبور رہے ہیں لیکن سابق صدر پرویز مشرف نے جس انداز میں قومی خود مختاری کا سودا کیا، اس کی مثال ہماری ملکی تاریخ میں اس سے پہلے نہیں ملتی۔
  • مئی
2010
خلیل الرحمان
اس سے قبل علما کے ۲۲ نکات اور دستور پاکستان ۱۹۷۳ء کا ایک تقابل پیش کیاجا چکاہے۔ اس تقابلی جائزہ سے ظاہر ہے کہ اَب 'ملی مجلس شرعی' کی قرار داد میں اِن اُمور کا مطالبہ ہونا چاہئے:

1. حکومت کا سیاسی عزم"Political Will"اور مقتدرہ اشخاص کااسلامی ذہن "Mindset" اسلامی اقدار کے فروغ کے لئے ضروری ہے۔
  • مئی
2010
خلیل الرحمان
'ملی مجلس شرعی' کے مقتدر علماے کرام اِن دنوں 'متفقہ تعبیر شریعت'کی تیاری کے مراحل میں ہیں تاکہ نفاذِ شریعت کے کسی بھی مرحلے پر ایک متفقہ تعبیر اور نفاذِ شریعت کاطے شدہ منہج پہلے سے موجود ہو۔ اس سلسلے میں 'ملی مجلس شرعی' نے مختلف مکاتب ِفکر کے نمائندہ ۳۱؍علمائے کرام کے ۱۹۵۱ء میں تیار کردہ ۲۲ نکات کو ہی عصر حاضر میں ریاست وحکومت کے اسلامی کردار کو استوار کرنے کے لئے اساس قرار دیتے ہوئے انہی نکات کی تصویب و حمایت کی ہے۔