• جون
1971
محمد اسحاق
نام اور کنیت:

محمد بن جریر نام، ابو جعفر کنیت، طبرستان کے شہر آمل میں ۲۲۴؁ھ میں آپ کی ولادت ہوئی۔ جب ہوش سنبھالا تو ہر طرف علم و فضل کے چرچے اور زہد و ورع کی حکائتیں عام تھیں، ہوش سنبھالت ہی یہ بھی کسبِ علوم و کمال کی خاطر گھر سے نکل پڑے، دور دراز کے سفر ط کئے اور وقت کے علما و فضلا سے شرفِ تلمذ حاصل کیا، تعلیمی اسفار کے دوران میں آپ کے والد آپ کو باقاعدہ خرچ پہنچاتے رہے۔
  • اکتوبر
1982
محمد اسحاق
آپ کااسم ِ گرامی عبداللہ اورکنیت اورعبدالرحمن تھی ، مگرابن عمر    کےنام سے مشہور ومعروف ہیں ۔
خاندان  : 
ابن عمر   کاسلسلہ نسب نویں پشت پررسول اللہ ﷺ سےمل جاتاہے۔ 
تاریخ پیدائش : 
آپ کی تاریخ پیدائش میں اختلاف ہے۔بعض کےنزدیک آپ نبوت کےپہلے سال پیدا ہوئے بعض دوسرے یاتیسرے سا ل کی تاریخ بتاتےہیں مگر راجح تاریخ پیدائش نبوی مطابق 611ء ہے۔ 
حلیہ : 
شکل وشباہت میں والدماجد سےمماثلت تھی : قد لمبا ، جسم بھاری ، رنگ گندمی، داڑھی مشت بھر ، مونچھیں کاٹی ہوئی جس سےلبوں کی سفیدی نمایاں ہوجاتی ، بال کاندھوں، تک ، سیدھی مانگ نکالا کرتے،عموماً زردخضاب پسند فرماتے تھے۔ 
لباس : 
معمولی موٹا پائجامہ ، سیاہ عمامہ اورپاؤں میں سادہ سی چپل ، کبھی کبھار قیمتی لباس زیب تن فرماتے تاکہ کفران نعمت نہ ہو۔ انگوٹھی پرعبدالرحمن بن عمر  کندہ تھا جومہرکاکام بھی دیتی تھی ۔
  • جنوری
1993
محمد اسحاق
سعودی عرب کا دستور جدیث مارچ 1992ء سے مملکت میں نافذ العمل ہے۔ ہر چند کہ اخبارات و جرائد میں اس کا بے حد چرچا رہا لیکن اکثریت اس کی بنیادی خاکہ سے بھی ناواقف ہے۔ چند ایک ترجمے بھی شائع ہوئے لیکن وہ مترجمین کے مخصوص نظریات کے بھینٹ چڑھ گئے۔ دستور تاحال اپنی اصلی روح کے ساتھ منظر عام پر نہیں آیا۔ اسی ضرورت کے مدنظر ادارہ ہذا نے اس کے ترجمے کا اہتمام کیاہے تاکہ نہ صرف اسلامک لاء سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے بلکہ قارئین محدث کے لئے بھی