• فروری
2007
مختلف اہل علم
سوال: اگر كوئى شخص صرف عاشورا كا روزہ ركهتا ہے اور ساتھ نويں محرم كا روزہ نہيں ملاتا تو اس كے بارے ميں شريعت مطہرہ كا كيا حكم ہے ؟جواب : شيخ الاسلام ابن تيميہ اس كے متعلق فرماتے ہيں :" عاشو را كا روزہ ايك سال كے گناہوں كا كفارہ ہے اور صرف عاشورا كا روزہ ركهنا مكروہ نہيں ہے-"
  • فروری
2009
مختلف اہل علم
علامہ اقبالؒ نے تو کہا تھا ؎
اخوت اس کو کہتے ہیں چبُھے کانٹا جو کابل میں
ہندوستان کا ہرپیر و جواں بے تاب ہوجائے