• اکتوبر
1992
صلاح الدین یوسف
زکواۃ کا انکار؟

حدیث سے انحراف اور قرآن میں تحریف!

مسٹر غلام احمد صاحب پرویز کے نظریات کا پرچارک ماہنامہ"طلوع اسلام" جس کا مشن ہی اسلامی مسلمات کا انکار اور ان کی دوراز کارکیک تاویلات ہے۔
  • جون
1999
صلاح الدین یوسف
آہ شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ تعالیٰ
علم و عمل اور ہدایت کے آفتابِ عالم کا غروب

افسوس ہے کہ 26 محرم الحرام 1420ھ، مطابق 13 مئی 1999ء بروز جمعرات عالم اسلام کی عظیم علمی شخصیت اور سعودی عرب کے مفتی اعظم سماحۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز ریاض میں انتقال فرما گئے ۔۔۔ انا لله انا اليه راجعون !! دوسرے دن بروز جمعۃ المبارک خانہ کعبہ میں ان کی نمازِ جنازہ پڑھی گئی اور جنة المعلىٰ کے مشہور اور تاریخی قبرستان میں اُن کی تدفین عمل میں آئی۔ علاوہ ازیں سعودی عرب سمیت پورے عالم اسلام کے ہر شہر اور قریے میں شیخ مرحوم کی نماز جنازہ غائبانہ ادا ہوئی اور ان کی مغفرت اور رفع درجات کے لئے دعا کی گئی۔ پاکستان میں بھی ہر جگہ بڑی بڑی مساجد اہل حدیث میں نمازِ جنازہ غائبانہ کا اہتمام کیا گیا۔اس سلسلے میں لاہور میں جامع مسجد قدس اہل حدیث چوک دالگراں میں سب سے بڑا اجتماع ہوا، جس میں مولانا حافظ عبدالرحمٰن مدنی صاحب نے مرحوم کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور اُن کی دینی، ملی اور علمی خدمات پر روشنی ڈالی۔
  • اپریل
1999
صلاح الدین یوسف
حکومت اور اعلیٰ عدالتوں کے فاضل ججوں کی طرف سے تسلسل اور تکرار کے ساتھ یہ بات کہی جا رہی ہے کہ عوام کو فوری انصاف مہیا کیا جانا ضروری ہے۔ بلکہ اس سلسلے میں دونوں طرف سے بعض اقدامات کئے جانے کا بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ جیسے وزیراعظم بہ اصرار یہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے کراچی میں فوجی عدالتیں فوری طور پر عدل و انصاف مہیا کرنے اور امن و امان قائم کرنے کے لیے قائم کی تھیں۔ اسی طرح سپریم کورٹ کا ایک حالیہ فیصلہ اس کی واضح مثال ہے جو اس نے وفاقی محتسب کے فیصلوں پر صدرِ مملکت کی نظر ثانی کے سلسلے میں دیا ہے جس پر ابھی مزید گفتگو عدالت میں ہو گی۔ جو یہ ہے کہ وفاقی محتسب نے ایک شخص محمد طارق پیرزادہ کے حق میں ایک فیصلہ 17 اکتوبر 1993ء کو دیا تھا۔
  • ستمبر
1998
صلاح الدین یوسف
عالم اسلام کےلئے چیلنج اور لمحہ فکریہ

20اور21اگست کی درمیانی رات کو امریکہ نے افغانستان کےمتعددمقامات پر اور سوڈان کی ایک دواساز فیکٹری پر بمباری کرکے جس بربریت بہمیت اور دہشت گردی کابدترین مظاہر ہ کیا ہے وہ عالم اسلام کی آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہونا چاہئے ۔امریکہ نے اس درندگی کامظاہر کرکے
  • اگست
1999
صلاح الدین یوسف
کشمیر کا مسئلہ نیا نہیں، بلکہ قیامِ پاکستان کے ساتھ ہی یہ مسئلہ اُٹھ کھڑا ہوا تھا، جن اُصولوں پر متحدہ ہند کی تقسیم عمل میں آئی تھی، ان میں ایک اُصول یہ بھی تھا کہ مسلم اکثریت کے علاقے پاکستان میں شامل ہوں گے۔ لیکن اس وقت کشمیر میں ڈوگرہ راج نے اس اصول کے برخلاف بھارت کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے اسے پاکستان میں شامل نہیں ہونے دیا۔ اس وقت سے آج تک پاکستان کا بننے والا یہ حصہ ایک متنازعہ صورت میں قائم چلا آ رہا ہے۔
اس مسئلے پر تین جنگیں بھی ہو چکی ہیں لیکن یہ مسئلہ جوں کا توں ہے۔ اس کی ایک وجہ تو قابض ملک بھارت کا وہ رویہ ہے جو عدل و انصاف کے مسلمہ اُصولو ں اور بین الاقوامی ضابطوں کے سراسر خلاف ہے۔ دوسرے، استعمال ملکوں کے مفادات ہیں جو اس وقت قوت کے نشے میں مخمور دنیا کے چودھری بنے ہوئے ہیں، وہ اس کے حل میں رکاوٹ ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ یہ مسئلہ پاکستان کی خواہش کے مطابق حل ہو۔ تیسرے، بھارت جو نسبتا پاکستان سے بڑا ملک ہے اور کافر ہے، بینُ الاقوامی طاقتیں اسے ناراض کرنا پسند نہیں کرتیں، بلکہ اس کی ناز برداری میں لگی رہتی ہیں۔ چوتھے، خود پاکستانی حکمرانوں کا رویہ بھی اس میں رکاوٹ چلا آ رہا ہے، جس کی مختصر تفصیل حسبِ ذیل ہے:
ہمارے پاکستانی حکمران بدقسمتی سے جہاد کی اہمیت اور جذبے سے عاری ہی رہے ہیں۔
  • جون
2008
صلاح الدین یوسف
آج کل الیکٹرانک میڈیا (ٹی وی،انٹرنیٹ،ریڈیو وغیرہ) اور پرنٹ میڈیا (اخبارات ورسائل) نشرواشاعت کے جدید اور انتہائی مؤثر ذرائع ہیں جن کے ذریعے لاکھوں اور کروڑوں افراد تک اپنی آواز پہنچائی جا سکتی اور ان کے دل و دماغ کو متاثر کیا جا سکتا ہے ۔ان ذرائع ابلاغ کے موجد چونکہ ملحد اور سیکولر قسم کے لوگ ہیں جو کسی قسم کے اخلاقی اُصول اور ضابطۂ حیات کے قائل نہیں
  • نومبر
1998
صلاح الدین یوسف
تا8اکتوبر1998ءہوٹل ہالیڈے اِن اسلام آباد میں ایک بین الاقوامی کانفرنس،بنام۔امام ابو حنیفہ احوال وآثار اور خدمات۔۔۔۔منعقد ہوئی۔جس میں پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک کے اہل علم وفکر بھی شریک ہوئے۔ہندوستان سے بھی4افرادپرمشتمل اہل علم کا ایک وفد کانفرنس میں شرکت کے لئے آیا،جس میں مولاناسلمان الحسنی الندوی تھے جو ندوۃالعلماءلکھنؤمیں استاذ،انجمن شباب المسلمین لکھنؤکے روح رواں اور مولانا ابو الحسن علی ندوی کے نواسے ہیں۔عالم عرب سے آنے والے مندوبین میں ڈاکٹر وہبہ الزحیلی(شام)تھے،جو عالم اسلام کی بڑی سربرآوردہ شخصیت،نہایت فاضل بزرگ اور متعدد علمی کتابوں کے مصنف ہیں،جن میں الفقہ الاسلامی وادلتہ اور التفسیر الوجیز جیسی فاضلانہ کتابیں شامل ہیں۔اسی طرح اور بھی مختلف ملکوں اور علاقوں کے اہل علم وفکرتشریف لائے۔
کانفرنس کی تین زبانیں تھیں۔(اردو،عربی اور انگریزی)ان تین زبانوں میں سے کسی بھی زبان میں تقریر یا مقالہ پیش کیا جاسکتا تھا،تینوں زبانوں میں بیک وقت ترجمے کی سہولت موجود تھی۔یعنی عربی تقریر یا مقالے کا اردو اور انگریزی ترجمہ اور اسی طرح انگریزی تقریر کا اردو،عربی اور اردو تقریر کا عربی اور انگریزی میں ترجمے کا انتظام تھا۔اس طرح کسی بھی زبان میں تقریر ہوتی،تمام شرکاءاس سے مستفید ہوسکتے تھے۔یوں نمائندگی اور وسیع انتظامات کے اعتبار سے بلاشبہ یہ ایک بین الاقوامی کانفرنس تھی۔
  • اپریل
2016
صلاح الدین یوسف
تحفظ نسواں بل 2016ء پنجاب کی صوبائی اسمبلی سے جب سے پاس ہوا ہے، اس کی مخالفت اور حمایت نہایت شدومد سے جاری ہے۔مخالفت کرنے والے بلاتفریق مسلک ومشرب علماے کرام اور تمام دینی جماعتیں ہیں۔ کسی بھی مذہبی مکتبِ فکر کی حمایت اس کو حاصل نہیں ہے۔
  • مارچ
2017
صلاح الدین یوسف
مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کے آخری دور میں ان کے نظریات میں، اُن کی زندگی کے دورِ اوّل کے مقابلے میں، خاصی تبدیلی بلکہ انحراف آ گیا تھا۔ دوِر ثانی کی تحریروں سے، جن میں ان کے دروس پر مبنی صحیح بخاری کی شرح (دو جلدیں) اور تفسیر ’تدبر قرآن‘ اور ’مبادئ تدبر حدیث‘ وغیرہ شامل ہیں، فتنۂ انکار حدیث کو بڑی تقویت ملی، کیونکہ ان کتابوں میں بے دردی سے احادیثِ صحیحہ اور مسلّماتِ اسلامیہ کا انکار کیا گیا ہے۔
  • مارچ
2002
صلاح الدین یوسف
پہلے حصے یا سوال کا جواب بالکل واضح ہے کہ اس وقت مسلمانانِ عالم کا کوئی عالمی کردار نہیں ہے۔ یعنی کہنے کو تو مسلمانوں کی ۶۰ مملکتیں ہیں اور ان میں اور دیگر ملکوں میں بسنے والے مسلمانوں کی تعداد بھی ایک اَرب سے متجاوز ہے۔ علاوہ ازیں مسلمان افرادی قوت اور متعدد قدرتی وسائل سے بھی مالا مال ہیں، ان کا جغرافیائی محل وقوع بھی نہایت اہمیت کا حامل اور تقریباً باہم پیوست ہے
  • جنوری
2013
صلاح الدین یوسف
کراچی کے ایک رہائشی ملک محمد عثمان نے حدود آرڈیننس کی پانچ دفعات کو بدلنے کے لیے پانچ رِٹیں ( درخواستیں) وفاقی شرعی عدالت میں دائر کی تھیں۔ شرعی عدالت نے اپنے طریق کار کے مطابق بعض علماے کرام سے مذکورہ درخواستوں پر ان کی رائے طلب کی۔ راقم (حافظ صلاح الدین یوسف) کو بھی شرعی عدالت کا مشیر ہونے کے ناطے ان سوالات پر اپنا موقف پیش کرنے کو کہا گیا۔
  • ستمبر
2013
صلاح الدین یوسف
حاجی ظہورالٰہی کےبارے میں یہ مضمون اُن کی وفات کے فوراً بعد 18 سال قبل،جون 1995ء میں تحریر کیا گیا تھا۔ اس عرصے میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں، بہت سے اضافے ناگزیر ہوگئے ہیں، بہت سی نئی معلومات سامنے آئی ہیں، کچھ پہلو مزید وضاحت طلب ہوگئے ہیں، جن توقعات کا اظہار کیا گیا تھا، کچھ پوری اور کچھ نقش برآب ثابت ہوئی ہیں۔ چنانچہ اس مضمون کے آخر میں استدراک کے طور پر مزید معلومات اور تأثرات کا اظہار کیا گیا ہے
  • مئی
  • جون
1995
صلاح الدین یوسف
ادلہ شرعیہ اور مصادر شریعت کے تذکرے میں قرآن کریم کے بعد حدیث رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  اک نمبر آتا ہے۔یعنی قرآن کریم کے بعد شریعت اسلامیہ کا یہ دوسرا ماخذ ہے۔حدیث کا اطلاق  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے اُمور،افعال اور تقریرات پر ہوتا ہے۔تقریر سے مراد ایسے امور ہیں کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کیے گئے لیکن آپ نے اس پر کوئی نکیر نہیں فرمائی بلکہ خاموش رہ کر ا س پر اپنی پسندیدگی کا اظہارفرمایا:ان تینوں کے قسم کے علوم نبوت کے لئے بالعموم چار الفاظ استعمال کئے گئے ہیں:خبر،اثر،حدیث اورسنت۔
خبر:ویسے تو ہر واقعے کی اطلاع اور حکایت کو کہا جاتا ہے۔مگر آنحضرت   صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے لئے بھی ائمہ کرام اور محدثین عظام نے اس کا استعمال کیا ہے۔ اور اس وقت یہ حدیث کے مترادف اور اخبار الرسول کے ہم معنی ہوگا۔
اثر: کسی چیز کے بقیہ اور نشان کو کہتے ہیں،اورنقل کو بھی"اثر" کہا جاتا ہے۔اس لئے صحابہ وتابعین سے منقول مسائل کو"آثار" کہا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب آثار کا لفظ مطلقاً بولا جائے گا۔تو اسے مراد آثار صحابہ وتابعین ہوں گے لیکن جب اس کی اضافت رسول کی طرف ہوگی یعنی"آثار الرسول" کہا جائے گا تواخبار الرسول کی طرح آثار الرسول بھی احادیث الرسول کے ہی ہم معنی ہوگا۔
  • اگست
2001
صلاح الدین یوسف

معاصر ’ اشراق ‘ کی ایک تفسیری بحث کا جائزہ :

﴿وَلَقَد فَتَنّا سُلَيمـٰنَ وَأَلقَينا عَلىٰ كُر‌سِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنابَ ٣٤ قالَ رَ‌بِّ اغفِر‌ لى وَهَب لى مُلكًا لا يَنبَغى لِأَحَدٍ مِن بَعدى ۖ إِنَّكَ أَنتَ الوَهّابُ ٣٥ فَسَخَّر‌نا لَهُ الرّ‌يحَ تَجر‌ى بِأَمرِ‌هِ رُ‌خاءً حَيثُ أَصابَ ٣٦ ﴾... سورة ص

  • اکتوبر
2014
صلاح الدین یوسف
پس نوشت

مضمون کی تکمیل کے بعد چند مزید چیزیں اور نظر سے گزریں یا علم میں آئیں، مناسب معلوم ہوتا ہے وہ بھی نذرِ قارئین کردی جائیں۔ ان میں سے ایک خود مولانا تقی عثمانی صاحب کا فرمودہ ہے کہ حیلے سے حکم میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، جب کہ حلالۂ ملعونہ کے جواز کی ساری بنیاد ہی حیلے پر ہے، تعجب ہے کہ محولہ فتوے کے باوجود موصوف حلالۂ ملعونہ کو حیلوں اور باطل تاویلوں سے حلال کرکے دین کو کیوں بازیچۂاطفال بنا رہے ہیں؟
  • فروری
2014
صلاح الدین یوسف
تفویضِ طلاق کے مسئلے میں جس طرح فقہاے احناف کا مسلک قرآن وسنت کے مطابق نہیں ہے جس کی ضروری تفصیل محدث کے شمارہ نمبر 361 اور 362 میں بیان ہوچکی ہے، اسی طرح اُنہوں نے مروّجہ حلالے کوبھی نہ صرف جائز بلکہ اسے باعثِ اجروثواب قرار دے کر شریعت کے ایک اور نہایت اہم حکم سےانحراف کیا ہے، یا بہ الفاظِ دیگر تفویض طلاق کی طرح شریعت کا خود ساختہ نظام تشکیل دیا ہے۔
  • اگست
2014
صلاح الدین یوسف
عمومِ قرآن کی تخصیص میں، حدیثِ رسولﷺ سے گریز کے نقصانات

بہرحال بات ہورہی تھی، قرآنِ کریم کے الفاظ ﴿ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ١ؕ ﴾ کی کہ حدیثِ رسول «لعن الله المحلل...» نے اس نکاح کو خاص کردیا ہے اس نکا ح کے ساتھ جو آباد رہنے کی نیت سے کیا جائے، کیونکہ شریعتِ اسلامیہ میں نکاح کا صرف یہی طریقہ رکھا گیا ہے۔
  • نومبر
2010
صلاح الدین یوسف
اِن دنوں وفاقی شرعی عدالت میں خلع اور طلاق کے حوالے سے درپیش روزمرہ مسائل کے حوالے سے ایک درخواست زیر سماعت ہے جس میں رہنمائی اور مشاورت کے لئے عدالت مذکور نے ایک سوال نامہ گذشتہ دنوں اِدارئہ محدث کو ارسال کیا۔اِدارہ نے یہ سوال نامہ مولانا حافظ صلاح الدین یوسف  کی خدمت میں پیش کردیا، جس پر اُنہوں نے اپنا موقف حسب ِذیل تحریر میں بہ تفصیل درج کیا۔ شرعی عدالت کے سوالات کے جوابات قارئین 'محدث' کے استفادہ کے لئے شائع کیے جارہے ہیں۔ ح م
  • اکتوبر
2007
صلاح الدین یوسف
وطنِ عزیز کے حالیہ المناک حالات بلاشبہ بداعمالیوں اور کوتاہیوں کا لازمی نتیجہ ہیں ۔ جن دشمنوں کو خوش کرنے کے لئے اپنوں کو بے دردی سے ہلاکت وبربادی کی بھینٹ چڑھایا گیا، آج وہی عراق وافغانستان کی طرح اُسامہ بن لادن کی یہاں موجودگی کا الزام لگاتے ہوئے ہم پر حملہ کے لئے پر تول رہے ہیں ۔
  • دسمبر
2007
صلاح الدین یوسف
زیر نظرمضمون محترم حافظ صاحب نے چند ماہ قبل ادارۂ محدث کو اشاعت کے لئے دیا تھا جس میں گذشتہ برس پاس ہونے والے تحفظِ حقوق نسواں بل کے خطرناک پہلوئوں کو نمایاں کیا گیا ہے۔ آج ہم بحیثیت ِقوم وملت جن مسائل کا شکار ہیں ، اس تک پہنچنے میں ہماری ماضی کی المناک غلطیوں کا بہت بڑا عمل دخل ہے۔
  • جون
2002
صلاح الدین یوسف
نبی ٴ عربی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لائے بغیر اور آپ کے لائے ہوئے دین اسلام کو اختیار کئے بغیر بنی نوعِ انسان کی نجات ممکن نہیں۔ اوراس نجات سے صرف اُخروی نجات ہی مرادنہیں بلکہ حقیقت میں دنیاکی تلخیوں اور مشکلات سے نجات بھی دامن رسالت ِمحمدیہ سے وابستہ ہونے ہی میں ہے۔ یعنی آپ کی رسالت پر ایمان رکھنے والے ہی آخرت میں فوز و فلاح سے ہم کنار ہوں گے۔
  • دسمبر
1999
صلاح الدین یوسف
ہم رمضان المبارک کا استقبال کیسے کریں؟
اللہ تعالیٰ نے اس ماہ مبارک کو بہت سے خصائص وفضائل کی وجہ سے دوسرے مہینوں کے مقابلے میں ایک ممتاز مقام عطا کیاہے جیسے:
ا س ماہ مبارک میں قرآن مجید کا نزول ہوا:
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ (البقرہ:2/185)
اس کے عشرہ اخیر کی طاق راتوں میں ایک قدر کی رات(شب قدر) ہوتی ہے جس میں اللہ کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے:
لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ (القدر 97/3)
"شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے"
ہزار مہینے 83 سال اور 4 مہینے  بنتے ہیں۔عام طور پر ایک انسان کو اتنی عمر بھی نہیں ملتی۔یہ امت مسلمہ پر اللہ کا کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے اسے اتنی فضیلت والی رات عطا کی۔
رمضان کی ہر رات کو اللہ تعالیٰ اپنےبندوں کو جہنم سے آزادی عطا فرماتے ہیں۔
اس میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کےدروازے بند کردیئے جاتے ہیں۔
سرکش شیاطین کو جکڑ دیاجاتا ہے۔
  • جنوری
1999
صلاح الدین یوسف
الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه الى يوم الدين
اس مضمون میں روزے سے متعلق ضروری احکام و مسائل بیان کیے گئے ہیں، مثلا ۔۔ روزے کے واجبات و آداب کیا ہیں؟ رمضان المبارک میں کون سی دعائیں مسنون ہیں؟ اس کے فوائد اور فضائل کیا ہیں؟ روزن کن چیزوں سے ٹوٹ جاتا ہے اور کن چیزوں سے نہیں ٹوٹتا؟ اور اسلام میں اس کی اہمیت کیا ہے؟ وغیرہ، مختصر ان باتوں کا ذکر ہو گا۔ وباللہ التوفیق ۔۔
روزے کی اہمیت
روزے کی اہمیت تو اسی سے واضح ہے کہ یہ اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
بني الإسلام على خمس: شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمداً رسول الله، وإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، وصوم رمضان، وحج البيت
(صحیح بخاری، الایمان، باب، رقم الحدیث 8 ۔ مسلم، الایمان، باب ارکان الاسلام، رقم 16)
  • مارچ
2000
صلاح الدین یوسف
متحدہ ہند جسے بر ِصغیر بھی کہا جاتا ہے اور تقسیم کے بعد برصغیر پاک و ہند کہلاتا ہے، میں بہت سے خاندانوں میں پشت در پشت، علمی و دینی روایات اور خدمات کا ایسا تسلسل رہا ہے جس کی بنا پر وہ پورے خطہ میں نمایاں اور ممتاز مقام کے حامل رہے۔ جیسے سلفی مسلک اور فکر کے حاملین میں غزنوی خاندان، لکھوی خاندان اور مولانا عبدالوہاب دہلوی، امام جماعت غربائِ اہلحدیث کاخاندان اور اس قسم کے کچھ اور خاندان ہیں، انہی میں سے ایک روپڑی خاندان ہے!
  • ستمبر
  • اکتوبر
1998
صلاح الدین یوسف
سوال: ربا کی حقیقت، تعریف اور معنویت کیا ہے؟
جواب: رِبا عربی زبان کا لفظ ہے اور قرآنِ کریم میں بھی استعمال ہوا ہے۔ اس کے لغوی معنی زیادتی، بڑھوتری، اضافے کے ہیں۔ لیکن شرعی اصطلاح میں اس سے مراد مطلق اضافہ اور زیادتی نہیں ہے، بلکہ ایک مخصوص قسم کی زیادتی ہے
  • مارچ
2013
صلاح الدین یوسف
بارات اور جہیز کے علاوہ شادی کے رسوم ورواج میں جن فضولیات کا اہتمام ہوتا ہے، ان کی تفصیل کافی لمبی ہے اور نہایت ہوش ربا بھی۔چند سال قبل روزنامہ'جنگ ' کے ایک فیچر نگار نے ان تفصیلات پر مبنی ایک مفصل فیچر لکھا تھا جو راقم کی کتاب 'مسنون نکاح' مطبوعہ دارالسلام میں درج ہے ۔ قارئین اس کتاب میں ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔
  • نومبر
1999
صلاح الدین یوسف
افسوس ہے کہ ۲؍ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو اُردن میں علم و تحقیق کا وہ آفتاب غروب ہوگیا، جس سے پورا عالم اسلام روشنی حاصل کر رہا تھا، یعنی شیخ الاسلام والمسلمین محمدناصر الدین الالبانی رہگرائے عالم بقا ہوگئے۔ انا للہ وانا الیه راجعون!
شیخ البانی اپنے وقت کے عظیم محقق، محدث اور داعی ٔ کبیر تھے، انہوں نے بیک وقت کئی محاذوں پر اتنے عظیم کارنامے سرانجام دیئے ہیں
  • نومبر
2004
صلاح الدین یوسف
اسلام سے قبل عورت کی جو حالت تھی، محتاجِ وضاحت نہیں۔ اہل علم اس سے پوری طرح باخبر ہیں۔ اسلام نے اسے قعر مذلت سے نکالا اور عزت و احترام کے مقام پر فائز کیا۔ وہ وراثت سے محروم تھی، اسے وراثت میں حصے دار بنایا۔نکاح و طلاق میں اس کی پسندیدگی وناپسندیدگی کا قطعاً کوئی دخل نہ تھا، اسلام نے نکاح و طلاق میں اسے خاص حقوق عطا کئے۔ اسی طرح اسے تمام وہ تمدنی و معاشرتی حقوق عطا کئے جو مردوں کو حاصل تھے۔
  • جنوری
1999
صلاح الدین یوسف
قنوت نازلہ اور پرخلوص دعاؤں کی ضرورت
عالمِ اسلام ایک عرصے سے جس ابتلاء و آزمائش سے دوچار ہے، درد مند، حلقے اس پر سراپا اضطراب ہیں لیکن صورت حال کی پیچیدگی اور مسائل کی سنگینی کچھ اس نوعیت کی ہے کہ کوئی سرا ہاتھ نہیں آتا۔
یہ مسائل دو قسم کے ہیں۔ ایک عالمِ اسلام کے اندرونی اور باہمی مسائل و تعلقات۔دوسرے جارح استعماری طاقتوں کے پیداکردہ مسائل و مشکلات۔
اول الذکر میں ہر مسلمان ملک میں اندرون ملک اسلامی اور غیر اسلامی طاقتوں کی کش مکش اور ان کے درمیان محاذ آرائی اور کئی اسلامی ممالک کا آپس میں باہمی تصادم ہے۔
ثانی الذکر میں سرفہرست کشمیر کا مسئلہ ہے، جہاں کئی سالوں سے بھارتی فوجوں نے کشمیری مسلمانوں کا جینا حرام کر رکھا ہے اور ان پر طرح طرح سے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ دوسرا بیت المقدس کا مسئلہ ہے جو ایک عرصے سے اسرائیل کے غلبہ و تسلط میں ہے اور اسرائیل نے اسے اپنا دارالحکومت قرار دے رکھا ہے اور اس کی ڈھٹائی اور دیدہ دلیری کا یہ حال ہے کہ وہ جب چاہتا ہے کسی بھی عرب علاقے پر چڑھ دوڑتا ہے۔
  • جون
2013
صلاح الدین یوسف
پاکستان میں حکومت کے مجوزہ نکاح فارم کی ایک شق میں یہ درج ہوتا ہے کہ خاوند نے بیوی کو طلاق کا حق تفویض کیا ہے یا نہیں؟... اکثر لوگ تو اس شق کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور اثبات یا نفی (ہاں یا نہیں) میں کچھ نہیں لکھتے۔ لیکن بعض لوگ اس پر اصرار کرتے ہیں کہ نکاح کے موقعے پر تفویض طلاق کے اس حق کو تسلیم کیا جائے اور وہ اس شرط کو لکھواتے یعنی منواتے ہیں کہ عورت کو طلاق کا حق تفویض کر دیا ہے۔
  • ستمبر
2013
صلاح الدین یوسف
خلع کے بارے میں ایک ضروری وضاحت

گذشتہ شمارہ محدث (نمبر361) میں میرا سابقہ مضمون پڑھ کر کسی کے ذہن میں یہ اشکال آسکتا ہے کہ علماے احناف تو خلع کا ذکر بھی کرتے ہیں او راس کا اثبات بھی، پھر ان کی بابت یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ وہ خلع کا انکار کرتے ہیں؟
  • جولائی
1983
صلاح الدین یوسف
یہ کہنا کہ ''اللہ تعالیٰ کو فاعل حقیقی مانتے ہوئے کسی کو مدد کے لیے پکارا جائے، تو یہ شرک نہیں۔'' تو عرض ہے کہ اس صورت میں ماننا پڑے گا کہ دنیا میں شرک کا وجود کبھی رہا ہی نہیں ہے۔ اور قرآن کریم میں (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ نے خوامخواہ لوگوں کومشرک قرار دیا ہے۔قرآن مجید میں بڑی وضاحت کے ساتھ بار بار یہ بات بیان کی گئی ہے کہ عرب کے مشرکین جو دعوت توحید کے مخاطب اوّل تھے ، وہ یہ مانتے تھے کہ زمین
  • جون
2005
صلاح الدین یوسف
پچهلے دِنوں نيويارك،امريكہ ميں چند مغرب زدہ خواتين و حضرات نے ايك چرچ ميں جمع ہوكر ايك عورت كى امامت ميں نمازپڑهى- ظاہر بات ہے كہ يہ حركت اسلامى تعليمات كے بهى يكسر خلاف تهى اور چودہ سو سالہ مسلمات ِ اسلاميہ سے انحراف بهى- جس پربجا طور پر عالم اسلام ميں اضطراب و تشويش كى لہر دوڑ گئى اور اسے مغربى استعمار كى ايك سازش سمجھا گيا اور اس حركت كا ارتكاب واہتمام كرنے والوں كو ان كا كارندہ قرار ديا گياكيونكہ ہدايت كار (ڈائريكٹر) تو وہى تهے، اور يہ 'نمازيانِ استعمار' تو صرف اداكار تهے-
  • نومبر
1998
صلاح الدین یوسف
10اکتوبر1998ءکو قومی اسمبلی نے آئین میں 15ویں ترمیم کا بل،دو تہائی اکثریت سے منظور کر دیا ہے۔یہ وہی شریعت بل ہے جو28اگست کو اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا اور جس پر اب تک بحث ونظر اور نقد واعتراض کا سلسلہ جاری ہے۔اس بل میں آئین کی239ویں شق میں ترمیم کرنا بھی شامل تھا،جس پر سب سے زیادہ یہ اعتراض کیا جا رہا تھا کہ اس سے سینٹ کی اہمیت ختم ہو جائے گی۔حکومت نے اس بل سے اس ترمیم کو حذف کردیا ہے۔اس اعتبار سے سیاسی جماعتوں کا جو سب سے بڑا اعتراض تھا،اسے ختم کردیا گیا ہے،حکومت کا یہ اقدام قابل ستائش ہےکہ اس نے اپنی بات پر اصرار نہیں کیا،حالانکہ وہ اپنے اس موقف پر بہت زور دے رہی تھی،لیکن اس کے باوجود اس نے اپنے موقف سے ہٹ کر معترضین کا ایک بڑا اعتراض دور کردیا ہے۔
لیکن دینی واسلامی جماعتوں کی طرف سے ایک بات یہ کہی جا رہی تھی کہ اس بل میں ایسے الفاظ کا اضافہ ضرور کیا جائے،جس سے قرآن وسنت کی بالادستی یقینی ہو جائے اور ہمارے آئین کا وہ تضاد دور ہو جائے،جو اسلامی نظام کے نفاذ سے بچنے کے لیے عمداًاس میں رکھا گیا ہے تاکہ حکمران آئین کی بعض خوش نماشقوں سے عوام کو بھی بہلاتے رہیں اور دوسری شقوں کی رو سے وہ نفاذ اسلام کے لیے عملی اقدامات سے پہلو تہی بھی کرتے رہیں۔ہمیں شدید خطرہ ہےکہ جب تک آئین کے اس تضاد کو دور نہیں کیا جائے گا،موجودہ شریعت بل کے پاس کر لینے سے بھی کچھ نہیں ہوگااور حکومت بدستور نفاذ شریعت سے گریزاں رہے گی،
  • جولائی
1995
صلاح الدین یوسف
گزشتہ شمارہ میں ہم نے مدارس دینیہ عربیہ کے اغراض ومقاصد،ان کے تاریخی پس منظر اور ان کی خدمات  پرمختصرا روشنی ڈالی تھی،جس سے ان کے بارے میں پائی جانے و الی یا پھیلائی جانے و الی بعض غلط فہیموں کا بھی ازالہ ہوجاتاہے۔بشرط یہ کہ کوئی چشم بصیرت سے اسے پڑھے اور دل بینا سے اسے سمجھے۔ورنہ۔ع۔
گر نہ بیند بروز شپرہ چشم
چشمہ¿ آفتاب را چہ گناہ
تاہم اتمام حجت کے نقطہ نظر سے زیر نظر سطور میں بطور خاص ان اعتراضات اورغلط  فہمیوں کےبارے میں ضروری گزارشات پیش کیاجاتی ہیں جو ان پرکئے جاتے ہیں اور پھیلائے جاتے ہیں:
مدارس دینیہ کےنصاب میں تبدیلی کا مسئلہ:۔
ان میں سب سے اہم مسئلہ نصاب تعلیم کا ہے۔اس پر گفتگو کرنے و الے اپنےاور بیگانے دوست اور دشمن دونوں قسم کے لوگ ہیں۔بعض لوگ بڑے اخلاص سے دینی مدارس کے نصاب میں تبدیلی کا مشورہ دیتے اور اس میں تبدیلی کی خواہش رکھتے ہیں۔لیکن ہم عرض کریں گے کہ نصاب میں بنیادی تبدیلی کے پیچھے چاہے کتنے ہی مخلصانہ جذبات ہوں تاہم وہ دینی مدارس کے اصل مقاصد سے (جس کی وضاحت گزشتہ مضمون میں کی جاچکی ہے) مناسبت نہیں رکھتی۔بلکہ وہ ان کے نصاب میں تبدیلی کی دو صورتیں ہیں:۔
  • فروری
2002
صلاح الدین یوسف
سوویت یونین کے بکھر جانے اوررُوس کے بحیثیت ِسپر طاقت زوال کے بعد،امریکہ واحد سپر طاقت رہ گیا ہے۔ جس سے اس کی رُعونت میں اضافہ اور پوری دنیا کو اپنی ماتحتی میں کرنے کا جذبہ توانا، بالخصوص عالم اسلام میں اپنے اثر و نفوذ اوراپنی تہذیب وتمدن کے پھیلانے میں خوب سر گرم ہے۔ نیو ورلڈ آرڈر (نیا عالمی نظام) اس کے اِسی جذبے کا مظہر اور عکاس ہے۔
  • مارچ
1999
صلاح الدین یوسف
عیدالاضحیٰ کی آمد آمد ہے اور رؤیتِ ہلال کے بارے میں بحثوں کا سلسلہ پھر سے جاری ہے۔ سرحد کے لوگ اگر اپنی رؤیت کے اعتبار سے دینی تہوار منانے پر مصر ہیں تو دوسری طرف وحدتِ امت کے تقاضے کے طور پر تمام عالم اسلام میں ایک ہی دن مذہبی تہوار بالخصوص عیدیں منانے کا مطالبہ بھی سنائی دے رہا ہے۔ یوں تو صدیوں سے مسلمان رؤیت ہلال پر مبنی اپنی مستقل تقویم Calender پر عمل کرتے آ رہے ہیں، اسی طرح مخصوص تہواروں کے حوالے سے بھی امت مسلمہ کا ایک واضح موقف ہے۔ چنانچہ دیگر اسلامی ممالک میں بھی یہ مسئلہ کچھ اس طرح سے موضوع بحث نہیں جس طرح وطن عزیز میں اس پر گرما گرم بحث ہوتی ہے جس کی کچھ مخصوص علاقائی وجوہات بھی ہیں چنانچہ ضروری ہے کہ اس مسئلے کا پاکستان کے مخصوص پس منظر میں جائزہ قارئین کے سامنے پیش کیا جائے، تاکہ شرعی دلائل اور موقف کے متعلق کسی شک و شبہ کا امکان نہ رہے، اس کے باجود دینی تقاضوں اور حکمتوں سے بے خبر اپنی بانسری الگ بجانے والوں کو کوئی روک نہیں سکتا کہ وہ جو جی میں آئے، کہتے پھریں ۔۔۔
  • جون
1999
صلاح الدین یوسف

(وزارتِ مذہبی امور کی نئی تجاویز کا ایک جائزہ)

ایک عرصے سے پاکستان میں رویتِ ہلال کا مسئلہ زیر بحث ہے۔ آئے دن اس سلسلے میں نئی تجاویز سامنے آتی ہیں اور بحث کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ ایک شرعی مسئلہ ہے اور اس کے لئے جو ضروری باتیں تھیں، وہ شریعت نے ہمیں بتا دی ہیں۔ مثلا یہ کہ:
(1)ہلال کا دیکھا جانا ضروری ہے، یعنی اس کے لیے رؤیتِ بصری ضروری ہے، محض سائنسی آلات سے اس کے وجود و عدمِ وجود کا علم کافی نہیں۔
(2) ایک جماعت کا دیکھنا ضروری نہیں، ایک یا دو یا چند افراد کا دیکھ لینا کافی ہے، اگر دیکھنے کی گواہی دینے والے معتبر ہوں تو ان کی رؤیت پورے ملک کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔
(3) عیدیں یا رمضان یا حج، جن کی بنیاد رؤیتِ ہلال پر ہے، ان کی حیثیت ملکی تہواروں یا جشنوں کی نہیں ہے، بلکہ دراصل یہ سب ملت اسلامیہ کے شعائر ہونے کے ناطے عبادات میں شامل ہیں۔ اس لیے ان میں وحدت (یعنی پورے عالم اسلام میں ایک ہی دن اِن کا آغاز ہو) مطلوب نہیں ہے، بلکہ ان میں اصل چیز اخلاص اور خشوع و خضوع ہے۔ اور اس کے لیے ہر جگہ علاقائی اجتماعات کافی ہیں جو مسلمانوں کی شان و شوکت کا مظہر ہوں، عالمی وحدت قطعا ضروری نہیں (جیسا کہ ہم محدث، مارچ 99ء کے "فکرونظر" میں اس نکتے کی وضاحت کر چکے ہیں)

  • جنوری
1992
صلاح الدین یوسف
جون 1989ءمیں وفاقی شرعی عدالت کے لاہور سیشن میں تقریباً دو ہفتے مسئلہ شہادت نسواں پر بحث جاری رہی،درخواست گزاروں کامؤقف یہ تھاکہ حدود آرڈیننس میں حدود کے معاملات میں عورت کی گواہی کو جو ناقابل قبول قرار دیا گیا ہے۔وہ صحیح نہیں ہے۔اس معاملے میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہوناچاہیے۔
  • اگست
2001
صلاح الدین یوسف
مولانا امین احسن اصلاحی، جن کا انتقال ۱۴/دسمبر ۱۹۹۷ء کو لاہور میں ہوا، اپنے دور کے اُن چند سربرآوردہ اہل علم واہل قلم میں سے تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے ذہانت وفطانت سے حصہ وافر عطا فرمایا ہوتا ہے۔ ان کی وفات کے بعدمتعدد حضرات نے ان کی علمی و دینی خدمات بالخصوص تفسیری خدمات اور ان کے علم وفضل پر روشنی ڈالی ہے اورانہیں اپنے وقت کا عظیم مفسر اِسلامی دانش ور اوربلند پایہ محقق باور کرایا ہے۔
  • جولائی
1996
صلاح الدین یوسف
مو لا نا عبد الرحمٰن کیلا نی رحمہ اللہ تعا لیٰ (وسن پورہ لا ہو ر ۔۔۔جن کا انتقال 18دسمبر 1995ء مطا بق 25رجب 1416ھ کو ہوا ۔۔۔۔جما عت اہلحدیث کے ان علماء میں سے ایک ممتاز عالم اور صاحب قلم بزرگ تھے جنہوں نے نام و نمود کی خواہش کے بغیر نہا یت خا مو شی سے ٹھوس دینی اور علمی خدمات سر انجا م دیں ۔ مو لا نا مر حوم کا تعلق اس کیلا نی خا ندان سے ہے جو ہمیشہ کتا بت میں معروف ہو نے کے علاوہ دینی و علمی روایات کا بھی حا مل چلا آرہا ہے زیر نظر تحریر میں اختصار کے ساتھ انہی دو مو ضو عات پر روشنی ڈا لی گئی ہے پہلے حصہ میں تو کیلا نی خا ندان کا تعارف پس منظر اور ان کی دینی خدما ت کا تذکرہ ہے جبکہ دوسرے حصہ میں مو لا نا عبد الرحمٰن کیلا نی کی بیش قیمت تصانیف پر تبصرہ کیا گیا ہے ۔
خاندانی تعارف و پس منظر :۔
ان کے بزرگوں میں حا جی محمد عارف سب سے پہلے کیلیانوالہ میں آکر مقیم ہو ئے ان کے بیٹوں میں امام الدین اور محمد الدین تھے جن سے ان کا سلسلہ نسب پھیلا ایک اور بیٹے سلطا ن احمد بھی تھے مو لا نا عبد الرحٰمن  کیلا نی رحمۃ اللہ علیہ   کے جدا امجد امام الدین تھے جو مدرسہ غزنویہ امرتسر کے فیض یا فتہ تھے ۔ ان کے آگے تین بیٹے تھے ۔نور الٰہی،عبد الحی اور عبد الواحد ،مو لا نا امام الدین کے بڑے بیٹے نو رالٰہی  اور ان کی اولا د مولوی نور الٰہی صاحب سے جو بہت عمدہ کا تب تھے اور خوش نویسی ہی ان کا ذریعہ معاش تھا چار بیٹے ہوئے ۔محمد سلیمان محمد ادریس ،عبد الرحمٰن اور عبد الغفور اور یہ چاروں بھا ئی ماشاء اللہ اپنے آبائی پیشے کتابت کے علاوہ علم و فضل میں بھی ممتاز رہے ۔یہ سب کیلیانوالہ کی نسبت سے جوان کے آباؤ واجداد کا کئی پشتوں سے مسکن تھا کیلا نی کہلاتے ہیں ۔
  • جون
2007
صلاح الدین یوسف
مولانا صفی الرحمن مبارکپوری رحمة اللہ علیہ کی جدائی کا غم ابھی تازہ ہی تھا، جن کا انتقال دو روز قبل یکم دسمبر2006ء کو ہوا کہ 3 دسمبر 2006ء بروز اتوار قاری عبدالخالق رحمانی (کراچی)کی وفات حسرت آیات کی خبر صاعقہ بن کر گری اور امن و سکون کے خرمن کو خاکستر کرگئی۔ اناﷲ وانا الیہ راجعون!
  • اکتوبر
2010
صلاح الدین یوسف
مولانا مرحوم کی زیارت اور ملاقات کی شدید خواہش تھی، لیکن پاک و ہند کی غیر انسانی حکومتوں اور ان کی سیاسی آویزشوں نے آنے جانے کی راہ میں جو غیر ضروری رکاوٹیں کھڑی کررکھی ہیں، قربِ مکانی کے باوجود اُنہوں نے مشکلات کے ہما لیے کھڑے کردیئے ہیں جنہیں عبور کرنااہلِ علم کے لئے کارے دارد ہے۔
  • جولائی
2012
صلاح الدین یوسف
عزیز گرامی قدر ڈاکٹر حافظ حسن مدنی سلّمك الله تعالىٰ وعافاك
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ !
ماہنامہ 'محدث' شمارہ مئی 2012ء میں آپ کا تحریر کردہ گرامی قدر اداریہ بعنوان ''مسئلہ تکفیر و خروج اور علما کی ذمے داری'' نظر نواز ہوا۔
  • نومبر
1998
صلاح الدین یوسف
اہل علم وفکر اور ارباب دانش وتاریخ کے اجتماع میں یہ بات محتاج وضاحت نہیں کہ پاکستان کے قیام میں دیگر عوامل واسباب کیساتھ سب سے بڑاعامل اورعظیم سبب دوقومی نظریہ تھا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ برصغیر ہند میں دو بڑی قومیں آباد ہیں ایک ہندو اور دوسری مسلم۔ان دونوں کی تہذیب وثقافت،انکی تاریخ اور تمدن اور انکا مذہب ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہے۔ہندوستان سے انگریزی استعمار کے جانے کے بعد یہاں جو حکومت قائم ہوگی،اس میں مسلمانوں کو نمازیں،پڑھنے،روزےرکھنے اور دیگر عبادات کی ادائیگی کی تو یقیناً اجازت ہوگی۔لیکن مسلمانوں کا جو نظریہ زندگی ہے،جو زندگی کے ہر شعبے کو محیط ہے،اس میں امور سیاست وجہاں بانی ہے،اقتصادومعیشت ہے،تہذیب وثقافت ہے،اخلاق وتجارت ہے،بین الاقوامی قواعد وضوابط ہیں،صلح وجنگ کے معیار اور پیمانے ہیں،حرب وضرب کے اصول ہیں۔غرض زندگی کے ہر معاملے میں اسلام اپنے مخصوص عقائد ونظریات کی روشنی میں انکی صورت گری کرتا اور مخصوص ہدایات دیتا ہے۔مسلمان ہندوستان کی قومی حکومت میں اپنے اس نظریہ حیات کو بروئے کار نہیں لاسکیں گے،وہ سیاست وجہاں بانی کے اصولوں کو اپناسکیں گے نہ اقتصاد ومعیشت کے ضابطوں کو۔وہ اپنی تہذیب وثقافت کو نافذ کر سکیں گے نہ اپنی تجارت اور کاروبار کے اصولوں کو۔وہ بین الاقوامی ضوابط میں اپنی اسلامی روح کی کارفرمائی دیکھ سکیں گے نہ داخلی معاملات میں اسکی کوئی جھلک انکو نظر آئے گی۔نتیجتاً ان کا مذہب اور انکا دین چند رسوم وعبادات تک محدود ہو کر رہ جائے گا،جب کہ اللہ نے اس دین اسلام کو پوری انسانیت کی ہدایت ورہنمائی کیلئے نازل کیا ہے بلکہ اسکی نجات اور ابدی سعادت کو صرف اور صرف اسی کیساتھ وابستہ کردیا ہے﴿إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّـهِ الْإِسْلَامُ ۗ ... ١٩﴾...آل عمران (1)"دین اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے۔"
﴿وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ ﴿٨٥﴾... آل عمران (2)"جو اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرتاہے وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیاجائے گا،اور وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا۔"
  • نومبر
1992
صلاح الدین یوسف
بسلسلہ اسلامی ریاست میں تعبیر شریعت کا ا ختیار

آج کل بہت سے سیکولر اہل قلم جن میں علامہ اقبالؒ کے فرزند جاویداقبال ؒبھی شامل ہیں ۔فکر اقبال ؒ کے حوالے سے ایک شرعی اصطلاح ۔اجتہاد ۔کے بارے میں ایسی باتیں کہہ اور پھیلا رہے ہیں کہ جن سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ گمراہ اور صراط مستقیم سے انحراف پر مبنی ہیں ۔
  • مئی
1999
صلاح الدین یوسف
سوال:قرآن کریم کی آیت ہے:

﴿وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلَىٰ رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا ﴿٧١﴾ ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوا وَّنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا﴾ (سورہ مریم:71۔72)

"تم میں سے ہر ایک وہاں ضرور وارد ہونے والاہے، یہ تیرے پروردگار کے ذمے قطعی، فیصل شده امر ہے (71) پھر ہم پرہیزگاروں کو تو بچالیں گے اور نافرمانوں کو اسی میں گھٹنوں کے بل گرا ہوا چھوڑ دیں گے"

صاحب"تدبر قرآن" نے اس کی تفسیر میں کہاہے کہ مِّنكُمْ میں خطاب صرف کافروں سے ہے۔اس کامخاطب تمام انسانوں کو قراردینا،چاہے وہ مومن ہو یاکافر؟مفسرین کی غلطی ہے اور یہ قرآن کریم کی دوسری آیات کے بھی خلاف ہے۔جس میں کہا گیا ہے کہ اہل ایمان جہنم سے دور رکھے جائیں گے۔
  • اپریل
1999
صلاح الدین یوسف
٭ سوال: گذشتہ دنوں لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج صاحب نے یتیم پوتے کی وراثت کے بارے میں مختلف ریکارکس دئے ہیں ۔۔ ازراہِ کرم اس ضمن میں صحیح شرعی رائے بتلائیے، تفصیلی دلائل بھی ذکر فرما سکیں تو میں بہت شکر گزار ہوں گا ۔۔ جزاکم اللہ (سمیع الرحمٰن، لاہور)
جواب: اس بارے میں شرعی دلائل یوں ہیں ۔۔ قرآن کریم میں ہے:
﴿لِلرِّجالِ نَصيبٌ مِمّا تَرَكَ الوٰلِدانِ وَالأَقرَبونَ وَلِلنِّساءِ نَصيبٌ مِمّا تَرَكَ الوٰلِدانِ وَالأَقرَبونَ مِمّا قَلَّ مِنهُ أَو كَثُرَ... ﴿٧﴾...النساء
"ماں باپ اور عزیز و اقارب کے ترکہ میں مردوں کا حصہ بھی ہے اور عورتوں کا بھی۔ (جو مال ماں باپ اور اقارب چھوڑ مریں) خواہ وہ مال کم ہو یا زیادہ (اُس میں) حصہ مقرر کیا ہوا ہے۔"