• نومبر
1987
محمد صدیق
سیف اللہ خالد ریلوے روڈ بھکر سے لکھتے ہیں:

"مندرجہ ذیل سوال درپیش ہے، جواب قرآن و سنت کی روشنی میں دیا جائے، زید نے اپنے ترکہ میں نقد دو لاکھ روپیہ چھوڑا ہے۔ جبکہ پس ماندگان میں اس کی ایک بیوی، چار لڑکے اور پانچ لڑکیاں ہیں۔ ہر ایک کے حصہ میں کتنی کتنی رقم آئے گی؟"
  • مارچ
1980
محمد صدیق
قبر میں رسول اللہ ﷺ کی بابت میت سے سوال کیا جاتا ہے کیا اس وقت  آپ کا وجود مبارک میات کے سامنے ہوتا ہے ؟ یا  صرف اوصاف پر کفایت ہوتی ہے ؟
شعبان 1354 ہجری کی بات ہےکہ اے ۔ای پٹیل از جوہانسبرگ افریقہ نے حضرت محدث روپڑی کی خدمت میں ایک استفتاء بھیجا کہ قبر میں منکر نکیر میت سے پوچھتے ہیں ’’ما هذا الرجل الذي بعث فيكم ‘‘
یعنی یہ شخص جو تم میں مبعوث ہوا ہے وہ کیا ہے ؟ فيقول محمد ﷺ  حدیث مذکورہ سے معلوم  ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ وجود مبارک  میت کے سامنے ہوتا ہے جس کی وجہ سے کہا جاتا ہے ’’ ماہذا الرجل الذی بعث فیکم ‘‘ کیونکہ لفظ ہذا ‘‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول الہل ﷺ وہاں موجود ہوتے ہیں ۔ اگر لفظ ہذا  کا دوسرا کوئی معنی ہے ،مع دلیل و حوالہ بیان کیجیے ۔
یہ سوال انہوں نے اپنے ایک عالم سے کیا ۔ انہوں نے جو جواب دیاوہ حسب ذیل ہے ۔
جواب ۔1: لفظ ہذا اس مذکور موجود شے کی طرف اشارہ کرنے کےلیے موضوع ہے جو قریب ہو عام اس سے مذکر حقیقی ہو حکمی اور موجود خارجی ہو یا ذہنی ۔
  • اپریل
1980
محمد صدیق
اس کے علاوہ آپ کا حاضر فی الذہن ہونا ان لوگوں کی نسبت تو درست ہو سکتا ہے جنھوں نے  آپ کو دیکھا ہے کیونہ ان کےذہن میں آپ کی خاص صورت و شکل حاضر ہو سکتی ہے ۔ لیکن جنھوں نےآپ کو نہیں دیکھا  ان کے ذہن میں تو آپ کی صفات ہیں جو کلیات ہیں جن میں تعین اور تشخص نہیں تو پھر آپ بعینہ حاضر کس طرح ہوئے اور جب آپ بعینہ حاضر نہ ہوئے اور صرف آپ کی صفات ہوئیں ۔ جو کلیات  ہیں تو ان کے نزدیک بھی حاضر فی الذہن ہذا کاحقیقی معنی نہ ہو ا اس سے بھی معلوم ہو اکہ عنی  کا خیال  درست ہے اور اگر بالفرض مان لیا جائے کہ حاضر فی الذہن ہذاکا حقیقی معنی ہو گا۔ پس اس صورت میں عنی  اورحافظ ابن حجر  برابر ہوں گے کیونکہ لفظ جب دو معنوں کے درمیان مشترک ہو تو بغیر دلیل کےکسی کو نہیں لے سکتے نہ حافظ ابن حجر کا مذہب ثابت ہوا نہ عینی کا ۔ ہاں عنی کے مذہب کو اایک اور طرح سے ترجیح ہو سکتی ہے وہ یکہ حاضر فی الذہن کو ہذا کا حقیقی معنیٰ ماننے کی صورت میں لازم آتا ہے کہ ہذا دومعنوں میں مشترک ہوا اور اگر حاضر فی الذہن کو مجازی معنیٰ قرار دیں تو اس صورت میں ہذا حقیقت مجاز ہوگا اور عربیت کا یہ قاعدہ ہےکہ جب ایک  لفظ اشتراک اور حقیقت مجاز کے درمیان دائر ہو تو حقیقت مجاز کی کثرت ہے ۔ پس کثرت پر حمل ہو گا ۔ اس بنا پر بھی عینی کے مذہب کو ترجیح ہوئی اور رسو ل اللہ ﷺ کا مثکوف ہونا ہی غالب رہا ۔
  • جون
1980
محمد صدیق
او رایک حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لا تصدقوا اھل الکتاب ولا تکذبوھم (مشکوٰة باب الاعتصام) اہل کتاب کوئی بات سنائیں تو ان کو سچا کہو اورنہ جھوٹا۔ اس حدیث سے معلوم ہواکہ جو شے ہم سے غائب ہے اس کا وجود اور عدم اعتقاد کے لحاظ سے برابر ہے یعنی محتمل ہے ہو یا نہ ہو۔ جب دونوں طرف برابر ہوئے تو بتلائیے۔ آپ نے آج تک کون سی دلیل پیش کی ہے۔ جہاں تک ہم نے آپ کے تعاقبات پر نظر کی ہے۔ صفر ہی پایا۔ آپ کوئی صریح حدیث پیش کریں یا کسی سلف کا قول پیش کریں تو کچھ آپ کے تعاقب کی قدر بھی ہو۔ ورنہ ویسے ورق سیاہ کرنے سے کیا فائدہ؟
حافظ ابن حجر او رعلامہ عینی : کیا حافظ  ابن حجر وغیرہ کے محض خیال سے علامہ عینی وغیرہ چپ ہوسکتے ہیں ۔خاص کر جب علامہ عینی وغیرہ کے ہاتھ میں حدیث کا لفظ صریح ھذا ہو جس کا حقیقی معنی محسوس ۔ مبصر منکر ہے۔ تو ایسی صورت میں حافظ ابن حجر وغیرہ کے قول کی کیا وقعت رہ جاتی ہے اور علامہ عینی وغیرہ پر اس کا کیا اثر پڑ سکتا ہے۔ اسکے علاوہ فرضی طور پر تسلیم کرلیاجائے کہ عدم اصل ہے تو بھی علامہ عینی کا پلڑا بھاری رہتا ہے کیونکہ ایسے بے دلیل اصل کو دلیل کے مقابلہ میں ترک کردیا جاتاہے او ریہاں ھذا کا لفظ دلیل موجود ہے ہاں اس سے کسی کو انکار نہیں کہ ھذا کبھی غیرمحسوس یا غیر حاضر میں بھی  استعمال ہوتا ہے مگر چونکہ یہ حقیقی معنی نہیں بلکہ مجازی ہے او رحقیقی معنی مجازی پر مقدم ہے اسلیے ترجیح مکشوف ہونے کو ہے۔
  • فروری
1987
محمد صدیق
چاند نظر نہ آنے کی وجہ سے یہ فیصلہ نہیں کیاجاسکتا کہ شعبان کی تیسویں تاریخ ہے یانہیں؟ بعض لوگ احتیاط کے طور پر شکی روزہ رکھتے ہیں۔جس کی شریعت اجازت نہیں دیتی۔ حضرت عمارؓ نے فرمایا:''من صام الیوم شک فیہ فقد عصٰی ابا القاسم''کہ '' جس شخص نے شکی دن کا روزہ رکھا، اس نے ابوالقاسم ؐ کی نافرمانی کی ہے۔''شہراعید لاینقصان:یہ حدیث کے الفاظ ہیں۔
  • جنوری
1987
محمد صدیق
'' درج ذیل مقالہ حضر ت مولانا ابوالسلام محمد صدیق جامعہ علمیہ سرگودھا نے ، جمعیت اہلحدیث کورٹ روڈ کراچی کے زیراہتمامایک مجلس مذاکرہ (منعقدہ 17نومبرتا 20نومبر 1968ء) میں پڑھا، جسے افادہ عام کے لیے محدث میں شائع کیا جارہا ہے۔ (ادارہ) الحمدللہ وکفیٰ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ اما بعد !''يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْأَهِلَّةِ ۖ قُلْ هِىَ مَوَ‌ٰقِيتُ لِلنَّاسِ وَٱلْحَجِّ...﴿١٨٩﴾...سورۃ البقرۃ''
  • نومبر
2001
محمد صدیق
رؤیت ِہلال کا مسئلہ ان چند مسائل میں سے ہے جن سے عامة المسلمین اکثر متاثر ہوتے ہیں اور علم نہ ہونے کی بنا پر اہل علم کے متعلق مختلف شبہات بھی پیدا کرتے رہتے ہیں۔رؤیت ِہلال کا مسئلہ جہاں رؤیت یا شہادت سے تعلق رکھتا ہے، وہاں اس مسئلہ کا 'قضا' سے بھی گہرا تعلق ہے جوشہادتیں وصول کرکے ان کے معتبر ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرتی ہے۔
  • مئی
1986
محمد صدیق
'' کہتے ہیں کہ انسان کی سعادت و شقاوت کا دارومدار انجام پر ہوتا ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی اپنی ابتدائی علمی زندگی میں ذہین ہونے کی وجہ سے اچھی شہرت کے حامل رہے ہیں۔اسی بناء پر ''تدبر قرآن'' میں انکار حدیث کی نیو کو عام علماء نے نظر انداز بھی کیا۔ لیکن اپنی اس تفسیر کی تکمیل کے بعد وہ جس طرح نہ صرف سنت و حدیث کی جڑوں پر کلہاڑے چلا رہے ہیں، بلکہ اس کے لیے چن چن کر چند شاگردوں کو تربیت بھی دے
  • مئی
  • جون
1982
محمد صدیق
مکرمی مولانا محمد عطاءاللہ صاحب حنیف زید مجدکم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

مورخہ 16 اپریل سئہ 1982 کا پرچہ "الاعتصام" زیرِ نظر ہے۔ اس میں احکام و مسائل کے عنوان کے تحت سوال نمبر2 ہے۔ اس کے الفاظ حسب ذیل ہیں۔

اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنی جائیداد اپنے ورثاء میں تقسیم کر دے تو شرعا یہ جائز یا نہیں؟
  • اگست
1983
محمد صدیق
قارئین کرام کو یاد ہوگا ، پچھلے دنوں جب قانون شہادت کامسّودہ مجلس شوریٰ میں زیربحث تھا، چندمغرب زدہ خواتین نے مسئلہ شہادت کے بعض پہلوؤں کو ''مرد و زن کی مساوات'' کے منافی قرار دیتے ہوئے ملک میں ایک طوفان کھڑا کردیا تھا۔سیاستدانوں کی شہ پر تو یہ ہوا ہی تھا، لیکن جس طرح مغربیت کے ہمنوا ، اخبارات و جرائد میں اس علمی مسئلہ پر بے بنیاد خیال آرائیاں کرتے رہے، ان کی بناء پر بعض دین پسند ذہن بھی ان