• فروری
2001
شیخ صالح العثیمین
اللہ تعالی کی حمد وثنا کے بعد، شریعت ِالٰہیہ کی خوبیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس میں عدل کا لحاظ رکھا گیا ہے تاکہ ہر صاحب ِحق کو کسی کمی بیشی کے بغیر اس کا حق دیا جائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے عدل، احسان اور قریبی رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا۔ عدل کے ساتھ ہی رسول بھیجے اور کتابیں نازل کیں اور عدل سے ہی دنیا و آخرت کے اُمور قائم ہیں۔
  • جولائی
1995
شیخ صالح العثیمین
آج کے پرفتن دور میں اپنی حفاظت کے لیے ہمیں اللہ سے دعا گو ہو نا چاہیےاور اس اللہ کی پناہ میں آنا چا ہیےجو ان تمام فتنوں سے بالا تر ہے جو دین کے لیے مہلک ہیں جو عقل کو شل کر دیتے اور جسم و جا ن کو تباہ کر دیتے ہیں اور ہر خیر کے دشمن ہیں ایسے سب فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگنی چا ہئے کیوں کہ فتنوں  سے کسی خیر کی توقع  نہیں کی جا سکتی ۔نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کا معمول بھی یہ تھا کہ آپ فتنوں سے پناہ مانگا کرتے اور لوگوں کو ان سے خبر دار کرتے تھے۔
یہی وجہ  ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  نے الصحیح میں باب الفتن کا آغاز اس آیت کریمہ سے کیا ہے کہ "اس فتنہ سے ڈر جا ؤ جو صرف ظالموں پر نہیں آئےگا ۔" 
اسی  طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  فتن سے بچانے کا رویہ اپناتے کیونکہ فتنے جس وقت وقوع پذیر ہو تے ہیں تو صرف ظا لموں پر نہیں بلکہ دوسروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں ۔ان کی پکڑ سے کو ئی محفوظ نہیں رہتا ۔چنانچہ ہمیں چا ہیے کہ ہم بھی ان سے محفوظ رہنے کی تدبیر کریں ۔ہر ایسی چیز سے پرہیز کریں جو ہمیں فتنہ سے قریب  کر دے ۔حدیث میں آتا ہے کہ قرب قیامت فتنوں کی کثرت ہوجا ئے گی۔
  • ستمبر
2012
شیخ صالح العثیمین
موجودہ دور مغربی فکر وفلسفہ اور مادی نظاموں کے غلبے کا دور ہے۔ مغرب کی موجودہ فکر نے اِنسانیت پر صرف اپنے گہرے اَثرات ہی نہیں مرتب کیے بلکہ حیاتِ انسانی کو اپنے مطلوبہ سانچوں کے مطابق ڈھالا بھی ہے جس کی وجہ سے اَقدار و روایات کا مضبوط نظام تہہ وبالا ہو کر رہ گیا ہے۔ اِنسانیت بڑی سخت معنوی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے۔ ان کٹھن اور تلخ حالات نے سب سے زیادہ مسائل ہمارے مسلم نوجوانوں کے لئے پیدا کئے ہیں