• مارچ
  • اپریل
1978
عبد الحفیظ منیر بھٹوی
کچے پکے سیاست دانوں او رکچھ مذہبی رہنما بھی اپنے بیانات میں اس بات کا برملا اظہار کرنے میں کوئی باک محسوس نہیں کرتے کہ فی الحال اسلامی تعزیرات کو نافذ نہ کیا جائے۔ عبوری حکومت نےجب کوڑوں کی سزا کا آغاز کیاتو ملک میں ایک شور برپا ہوگیا۔ایک دہائی اور پکار تھی ۔ غریب مارے گئے! سرمایہ دار بچ گئے جب تک معاشرے کے حالات سازگار نہیں ہوجاتے، ملک سے غربت کاخاتمہ نہیں ہوجاتا۔
  • اپریل
1977
عبد الحفیظ منیر بھٹوی
دنیا میں بہت سی اقوام پائی جاتی ہیں ان کے اپنے اپنے قواعد و ضوابط بھی ہیں اور بہت سے مذاہب ہیں جن کے اپنے اپنے اصول ہیں ان میں ایک اسلام بھی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ باقی تمام مذاہب دنیا سے یکے بعد دیگر نیست و نابود ہوتے جارہے ہیں اور ان کی جگہ دوسرے مذاہب جنم لے رہے ہیں؟ لیکن ایک اسلام ہے کہ 14 سو سال قبل سے لے کر آج تک جوں کا توں موجود ہے یہ کیوں؟ اس لیے کہ اس کے اصول ابدی ہیں جو کہ ہر زمانے میں موجود رہتے ہیں۔
  • جولائی
  • اگست
1975
عبد الحفیظ منیر بھٹوی
6۔ حضرت سعد

نسب: ابواسحاق سعد بن ابی وقاص مالک بن اہیب بن عبدمناف بن مرہ القرشی الازہری۔

چھ آدمیوں کے بعد آپ ایمان لائے۔ آپ بھی عشرہ مبشرہ کی صف میں شامل ہیں۔ آپ ہی وہ پہلے آدمی ہیں جنہوں نے اسلام کے راستے میں تیرچلایا جس کے نتیجہ میں حضور کی دعا کے مستحق ٹھہرے۔ آپ نے دعا کی: اللھم سددہ واجب دعوتہ یعنی اے باری تعالیٰ اس کوصراط مستقیم پر قائم رکھ اور اسے مستجاب الدعوات بنا۔ اسی دعاکاثمرہ اللہ نے فتح قادسیہ اور فتح مدائن کی صورت میں دیا۔
  • نومبر
  • دسمبر
1975
عبد الحفیظ منیر بھٹوی
(قسط 3)

24۔ فضالہ بن عبید

نسب: ابومحمد فضالہ بن عبید بن نافذ بن قیس الانصاری الاوسی۔
  • مئی
  • جون
1975
عبد الحفیظ منیر بھٹوی
قرآنِ کریم وہ ابدی ہدایت ہے جو انسان کو بامقصد زندگی گزارنے کا شعور اور زندگی کے تمام شعبوں کے لئے مکمل رہنمائی دیتی ہے۔ اس کا بہت بڑا امتیاز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے پوری نوعِ انسانی کے لئے مکمل اور آخری ضابطۂ حیات بنا کر تا قیامت اس کی حفاظت کا ذمہ بھی خود اُٹھایا ہے۔ اس سے قبل آسمانی ہدایات جس طرح زمان و مکان کی قیود سے محدود ہوتی تھیں اسی طرح ان کی حفاظت بھی مخصوص اشخاص کے سپرد ہوتی تھی جیسا کہ ''بما استحفظوا من کتاب اللہ'' سے واضح ہے۔