• اگست
2010
عبدالرشید عراقی
اہل حدیث جماعت میں یہ خبر بڑے رنج و غم سے سنی جائے گی کہ برصغیر کے نامور عالم دین اور واعظ ومبلغ حضرت مولانا عبدالمجید خادم سوہدرویؒ کے پوتے حکیم مولوی محمد ادریس فاروقی ۵؍جون ۲۰۱۰ء کو ۶۶ برس کی عمر میں حرکت قلب بند ہوجانے سے لاہور میں انتقال کرگئے۔ إنا ﷲ وإنا الیہ راجعون
  • اپریل
1992
عبدالرشید عراقی
محدثین کے گروہ میں امام محمد بن اسماعیل بخاری کو جو خاص مقام حاصل ہے ا س سے کون واقف نہیں ہے؟امام بخاری ؒ وہ شخص ہیں جنھوں نے اپنی ساری زندگی خدمت حدیث میں صرف کردی ہے۔ اور اس میں جس قدر ان کو کامیابی ہوئی اس سے ہر وہ شخص جو تاریخ سے معمولی سی واقفیت رکھتا ہے۔وہ اس کو بخوبی جانتا ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ وہ امام المحدثین اور"امیر المومنین فی الحدیث" کے لقب سے ملقب ہوئے اور ان کی پرکھی ہوئی حدیثوں اور اور جانچے ہوئے راویوں پر کمال وثوق کیا گیا اور ان کی مشہور کتاب الجامع الصحیح بخاری کو "اصح الکتب بعد کتاب اللہ"کاخطاب  دیاگیا۔
  • مارچ
1990
عبدالرشید عراقی
544ہجری اور 606ہجری
اُن کی علمی خدمات

( ابن اثیر کے نام سے دو بھائیوں نے شہرت پائی! ایک مجدد الدین مبارک صاحب النہایہ فی غریب الحدیث والآثر (م606ہجری) دوسرے عزالدین ساحب اسدالغابہ (م630ھ) اس مقالہ میں مجد الدین ابن اثیرؒ کے حالات اور علمی خدمات کا تذکرہ پیش خدمت ہے۔(عراقی)
  • جولائی
1990
عبدالرشید عراقی
امام ابن العربیؒ کا شمار اُندلس کے ممتاز محدثین کرام میں ہو تا ہے ان کی بدولت اُندلس میں احادیث و اسناد کے علم کو بڑا فروغ حاصل ہوا ۔امام ابن العربیؒ تقات واثبات میں مشہور تھے ۔ارباب سیر نے ان کے حفظ و جبط ،ذکاوت و ذہانت کا اعتراف کیا ہے ۔اور حدیث میں ان کو متبحر عالم تسلیم کیا ہے ۔ امام ابن العربی ؒ علوم اسلامیہ میں مہارت نامہ رکھتے تھے ۔تفسیر القرآن ،حدیث اصول حدیث،فقہ اصول فقہ ،تاریخ ادب وبلاغت ،صرف و نحواور علم کلام میں ماہر تھے ۔علامہ شمس الدین ذہبیؒ (م748ھ)لکھتے ہیں ۔
  • نومبر
1989
عبدالرشید عراقی
امام ابو الحسن دارقطنیؒ کا شمار ممتا ز محدثین کرام میں ہوتا ہے۔آپ ایک بلند پایہ محدث،متجرعالم اورجُملہ علوم اسلامیہ میں کامل دستگاہ رکھتے تھے۔امام دارقطنیؒ کی شہرت،حدیث میں بدرجہ اتم کمال حاصل کرنے سے ہوئی۔ائمہ فن اور نامور محدثین کرام نے اُن کے عظیم المرتبت اور صاحب کمال ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

علامہ خطیب بغدادی (م463ھ) لکھتے ہیں ،کہ:
  • جنوری
1990
عبدالرشید عراقی
امام ابو القاسم طبرانیؒ ایک بلند پایہ محدث علم و فضل کے جامع حفظ و ضبط ثقاہت واتقان میں بلند مرتبہ تھے ان کے معاصر علمائے کرام اور ارباب کمال محدثین نے ان کے حفظ وضبط اور ثقاہت کا اعتراف کیا ہے اور ان کے صدق و ثقات پر علمائے فن کا اتفاق ہے ۔علامہ شمس الدین ذہبیؒ (م748ھ) فر ما تے ہیں ۔کہ)

"امام ابو القاسم طبرانی ؒ ضبط و ثقاہت اورصدق وامانت کے ساتھ بڑے عظیم رتبہ اور شان کے محدث تھے
  • اگست
1989
عبدالرشید عراقی
امام ابو محمد عبداللہ کا شمارممتاز محدثین کرام میں ہوتا ہے۔قدرت نے ان کو غیر معمولی حفظ وضبط کا ملکہ عطا کیا تھا۔ارباب سیر اورائمہ حق نے اُن کی جلالت ۔قدر۔اورعظمت کا اعتراف کیا ہے۔امام ابو بکر خطیب بغدادی (م643ھ) لکھتے ہیں کہ:
"امام  دارمی ؒ ان علمائے اعلام اور حفاظ حدیث میں سے ایک تھے جو احادیث کے حفظ وجمع کے لئے مشہور تھے۔"[1]
امام دارمی ؒ کی ثقاہت وعدالت کے بھی علمائے فن اور ارباب کمال معترف ہیں۔حافظ ابن حجرؒ (م852ھ) نے تہذیب التہذیب میں امام ابو حاتم رازی ؒ (م264ھ) کا یہ قول نقل کیا ہے کہ "دارمی ؒ سب سے زیادہ ثقہ وثابت تھے۔"[2]
امام دارمیؒ احادیث کی معرفت وتمیز میں بھی بہت مشہور تھے۔روایت کی طرح درایت میں بھی اُن کا مقام بہت بلند تھا۔ ر وایت اوردرایت میں اُن کی واقفیت غیر معمولی اور نظر بڑی وسیع اور گہری تھی۔
  • اپریل
1985
عبدالرشید عراقی
امام ابو نعیم اصفہانی ؒ جن کا نام احمد بن عبد اللہ تھا ان کا شمار ممتاز محدثین کرام میں ہوتا ہے تفسیر حدیث ،فقہ اور جملہ علوماسلامیہ مہارت تامہ رکھتے تھے حدیث اور متعلقات حدیث کے علوم میں ان کو کمال کا درجہ حاصل تھا حدیث کی جمع روایت اور معرفت و روایت میں شرت وامتیاز رکھتے تھے علوئے اسناد حفظ حدیث اور جملہ فنون حدیث میں تبحر کے لحاظ سے پوری دنیا میں ممتاز تھے ۔
  • مئی
1990
عبدالرشید عراقی
تابعین کے فیض  تربیت سے جولوگ بہر ور  ہوئے۔اوراُن کے بعد علوم دینیہ کی ترقی وترویج میں ایک اہم کردار ادا کیا،اُن میں اسحاق بن راھویہ ؒ کا شمار صف اول میں ہوتا ہے۔آپ علمائے اسلام میں سے تھے۔اہل علم اورآپ کے معاصرین نے آپ کے علم وفضل کا اعتراف کیا ہے۔امام اسحاق بن راھویہؒ نہ صرف علم وحدیث میں بلند مقام کے حامل تھے۔بلکہ دوسرے علوم اسلامیہ یعنی تفسیر ،فقہ،اصول فقہ، ادب ولغت،تاریخ وانساب اور صرف ونحو میں بھی ید طولیٰ رکھتے تھے۔
امام خطیب بغدادی ؒ(م463ھ) لکھتے ہیں کہ:
"امام اسحاق بن راھویہؒ حدیث وفقہ کے جامع تھے۔ جب وہ قرآن کی تفسیر بیان کرتے تھے تو اس میں بھی سند کاتذکرہ کرتے تھے۔[1]
حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ(م852ھ) نے تہذیب التہذیب میں امام ابو حاتم رازی ؒ (م264ھ) کا یہ قول نقل کیا ہے کہ:
"حدیث کے سلسلہ میں روایت اور الفاظ کا یاد کرنا تفسیر کے مقابلہ میں آسان ہے۔ابن راہویہ ؒ میں یہ کمال ہے کہ وہ تفسیر کے سلسلہ سند کو بھی یاد کرلیتے تھے۔[2]
  • ستمبر
1982
عبدالرشید عراقی
جامع صحیح کامقصد ومقصود اعظم : 
                عام نظروں میں امام بخاری ﷫ صرف محدث ہیں اورمحدثین کےمتعلق یہ سمجھ لیاگیا ہےکہ یہ بیچارے صرف جامع ہیں ۔فقہ واستدلال سےان کاکوئی لگاؤ نہیں بلکہ حدیث کا جامع ہونا کچھ ایساعیب سمجھا جاتاہےکہ اس کےساتھ فقہ واستدلال کی خوبیاں بالکل جمع نہیں ہوپاتیں ۔(علوم حدیث میں کم مائیگی کوچھپانے کےلیے یہ کتنی اچھوتی توجیہ ہے؟) یہی وجہ ہےکہ ان لوگوں نےمحدثین کرام کےعطاراورفقہائے کرام کوطبیب (جانچ پڑتال کرنےوالے) کہہ کر اپنی کمزوریوں کوچھپانے کی ناکام کوشش کی ہے۔ان سب لوگوں کےلیے صحیح بخاری کامطالعہ بہترین جواب ہے۔
  • اگست
1982
عبدالرشید عراقی
تصانیف

امام صاحب کی تصانیف حسب ذیل ہیں:

1۔التاریخ الکبیر2۔التاریخ الاوسط3۔ التاریخ الصغیر4۔ الجماع الکبیر5۔خلق افعال العباد6۔ کتاب الضعفاء الصغیر7۔المسند الکبیر8۔التفسیر الکبیر9۔کتاب الہبہ
  • اکتوبر
1992
عبدالرشید عراقی
امام اسحاق بن راہویہ:امام اسحاق بن راہویہ کا شمار ان اساطین امت میں ہوتا ہے جنھوں نے دینی علوم خصوصاً تفسیر حدیث کی بے بہا خدمات سر انجام دیں۔آپ کے اساتذہ میں امام عبداللہ بن مبارک (م181ھ) امام وکیع بن الجراح اور امام یحییٰ بن آدم کے نام ملتے ہیں۔امام اسحاق بن راہویہ کو ابتداء ہی سے علم حدیث سے شغف تھا۔لیکن اس کے ساتھ ان کو تفسیر وفقہ میں دسترس تھی۔
  • جنوری
1992
عبدالرشید عراقی
دوسری صدی ہجری میں جن ممتاز تبع تابعین نے توحید وسنت کے اشاعت وترویج اور شرک بدعت کی تردید ویبخ کنی میں کارہائے نمایاں سر انجام دیئے۔ان میں امام وکیع بن الجراح ؒ (196ھ) کا نام بھی آتا ہے۔امام وکیع بن الجراحؒ کی تصانیف کے سلسلہ میں ارباب سیر اورتذکرہ نگاروں نے خاموشی اختیار کی ہے لیکن ان کے علم وفضل،عدالت وثقاہت ،ذہانت وفطانت اور زہدوورع کا اعتراف کیا ہے۔امام وکیع بن الجراح ؒ کے علوئے مرتبت اور جلالت شان کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے
  • جون
1989
عبدالرشید عراقی
631ہجری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔676ہجری

امام یحییٰ بن شرف نووی ؒ کا شمار بلند پایہ محدثین کرام میں ہوتا ہے۔ائمہ فن اور تذکرہ نگاروں نے ان کے حنظ وضبط اور عدالت وثقاہت کا اعتراف کیا ہے۔علم حدیث اور اس کے متعلقات سے انہیں غیر معمولی شغف تھا۔اوران کاشمار ممتاز (لفظ مٹا ہوا ہے) حدیث میں ہوتا ہے۔
  • اکتوبر
1990
عبدالرشید عراقی
دوسری صدی ہجری کے اوائل میں جن تبع تابعین نے علم وعمل کی قندیلیں روشن کیں۔ان میں ایک امام یزید بن ہارون اسلمی ؒ بھی تھے۔ جو جملہ علوم اسلامیہ یعنی تفسیر،حدیث ،فقہ،اصول فقہ وغیرہ میں مہارت تامہ رکھنے کے ساتھ سیرت کردار کردار کے اعلیٰ مرتبے پر فائز تھے ان کے جلالت قدر حفظ وضبط عدالت وثقاہت ذکاوت وفطانت ،زہد وورع ،بے نفسی،خشیت الٰہی تبحر علمی کا اندازہ ان کے اساتذہ وتلامذہ کی فہرست سے لگایا جاسکتاہے۔
اساتذہ:
تابعین کرام میں امام یزید بن ہارون اسلمی ؒ کے اساتذہ میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ (م93ہجری) کے تلمیذ رشید حضرت یحییٰ بن سعید ؒ(م143ھ) اورحضرت سلیمان بن طرخاںؒ تیمی(م143ھ) شامل ہیں۔
امام یحیٰ بن سعید ؒ (م143ھ) علمی اعتبار سے اپنے دور کے ممتاز ترین تابعین میں تھے۔ ان کی جلالت علمی پر تمام ائمہ کا اتفاق ہے۔امام نوویؒ (م676ھ) لکھتے ہیں کہ ان کی توثیق جلالت اور امامت پر سب کا اجماع ہے۔ حافظ شمس الدین ذہبی ؒ (م847ھ) نے ان کو امام اورشیخ الاسلام کے القاب سے یاد کیا ہے۔
  • اپریل
2010
عبدالرشید عراقی
پروفیسر رشیداحمد صدیقی اپنی کتاب 'گنج ہائے گراں مایہ' میں لکھتے ہیں کہ ''موت سے کسی کو مفر نہیں، لیکن جو لوگ ملی مقاصد کی تائید وحصول میں تادمِ آخر کام کرتے رہتے ہیں، وہ کتنی ہی طویل عمر کیوں نہ پائیں، ان کی وفات قبل از وقت اور تکلیف دہ محسوس ہوتی ہے۔''

شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانبازؒ پر یہ جملہ مکمل طور پر صادق آتاہے جو ۱۳؍ دسمبر۲۰۰۸ء مطابق ۱۴؍ذی الحجہ ۱۴۲۹ھ بروز ہفتہ رات آٹھ بجے سیالکوٹ میں اس دنیاے فانی سے رحلت فرماگئے۔ إنا ﷲ وإنا الیه راجعون!
  • فروری
1984
عبدالرشید عراقی
شیخ نورالحق دہلوی رحمۃ اللہ علیہ (1073ھ)

حضرت شیخ نورالحق حضرت شیخ عبدالحق کے صاجزادے تھے۔ آپ 983ھ میں پیدا ہوئے۔ آپ نے مکمل تعلیم اپنے نامور باپ سے حاصل کی۔ تکمیلِ تعلیم کے بعد آپ کو عہدہ قضاء پیش کیا گیا جس کو آپ نے قبول کر لیا اور آپ نے یہ کام بخیر و خوبی سر انجام دیا۔ مگر اس عہدۃ جلیلہ پر زیادہ عرصہ تک متمکن نہ رہے۔
  • اپریل
1983
عبدالرشید عراقی
برصغیر پاک و ہند میں علمائے اہل حدیث نے اسلام کی سربلندی ، اشاعت ، توحید و سنت نبوی ﷺ کےلیے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے او رعلمائے اہلحدیث نے مسلک صحیحہ کی اشاعت و ترویج میں جو فارمولا پیش کیا اس سے کسی بھی پڑھے لکھے انسان نے انکار نہیں کیا او ربمصداق اس شعر کےآزاد رَو ہوں اور میرا مسلک ہے صلح کل ہرگز کبھی کسی سے عداوت نہیں مجھے !
  • اکتوبر
  • نومبر
1985
عبدالرشید عراقی
مولانا غلام نبی الربانی کے فرزند ارجمند مولانا حافظ عبد المنان محدث وزیر آبادی م 1334ھ کے داماد اور جماعت اہلحدیث کے مشہور عالم ، واعظ ، خطیب اور صحافی مولانا عبد المجید خادم سوہدروی  م 1379ھ کے والد ماجد تھے ۔
ابتدائی کتابیں اپنے والد مولانا غلام نبی الربانی م 1348ھ سے پڑھیں ۔ اس کے بعد صحاح ستہ بشمول موطا امام مالک ، مشکوۃ المصابیح استاذ پنجاب مولانا حافظ عبد المنان صاحب محدث وزیر آبادی سے پڑھیں ۔
وزیر آباد میں تکمیل کے بعد حضرت شیخ الکل میاں سید محمد نذیر حسین صاحب محدث دہلوی م 1330 ھ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حدیث میں سند حاصل کی ۔ دہلی میں تکمیل تعلیم کے بعد مولانا شمس الحق ڈیانوی عظیم آبادی صاحب عون المعبود فی شرح سنن ابی داؤد م 1329ھ اور علامہ حسین عرب یمانی م 1327 ھ سے سند و اجازہ حاصل کیا ۔
  • اکتوبر
1996
عبدالرشید عراقی
برصغیر پاک و ہند میں خاندان ولی اللہی (حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی (م 1176ھ) نے قرآن و حدیث کی نشر و اشاعت میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔ اور ان کی خدمات کا علمی شہرہ ہند اور بیرون ہند پہنچا۔ جیسا کہ ان کی تصانیف سے ان کی علمی خدمات اور ان کی سعی و کوشش کا اندازہ ہوتا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کے انتقال کے بعد ان کے چاروں صاجزادگان عالی مقام حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (م 1239ھ)، مولانا شاہ عبدالقادر دہلوی (م 1243ھ)، مولانا شاہ رفیع الدین دہلوی (م 1249ھ) اور مولانا شاہ عبدالغنی دہلوی (م 1227ھ) نے اپنے والد بزرگوار کے مشن کو جاری رکھا۔
ان کے بعد حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کے پوتے اور مولانا شاہ عبدالغنی کے صاجزاہ مولانا شاہ اسماعیل شہید دہلوی (ش 1246ھ) نے تجدیدی و علمی کارناموں میں انقلاب عظیم برپا کر دیا۔ آپ کی کتاب "تقویۃ الایمان" نے لاکھوں بندگان الہٰ کو کتاب و سنت کا گرویدہ بنا دیا۔ اور اس کتاب کی مقبولیت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ یہ کتاب اب تک لاکھوں کی تعداد میں زیور طبع سے آراستہ ہوئی۔
حضرت شاہ اسماعیل شہید کے بعد محی السنۃ مولانا سید نواب صدیق حسن خاں (م 1307ھ) کے قلم اور شیخ الکل مولانا سید محمد نذیر حسین دہلوی (م 1320ھ) کی تدریس نے مسلمانان ہند کو بڑا فیض پہنچایا۔ علامہ سید سلیمان ندوی (م 1373ھ) تراجم علمائے حدیث ہند مؤلفہ ابویحییٰ امام خان نوشہروی (م 1386ھ) کے مقدمہ میں لکھتے ہیں کہ
"بھوپال ایک زمانہ تک علمائے اہل حدیث کا مرکز رہا۔ قنوج، سہوان اور اعظم گڑھ کے بہت سے نامور اہل علم اس ادارہ میں کام کر رہے تھے۔ شیخ حسین یمنی (م 1327ھ) ان سب کے سرخیل تھے اور دہلی میں میاں نذیر حسین دہلوی کی مسند درس بچھی ہوئی تھی اور جوق در جوق طالبان حدیث مشرق و مغرب  سے ان کی درسگاہ کا رخ کر رہے تھے۔"
  • اکتوبر
1984
عبدالرشید عراقی
اشاعتِ حدیث میں تلامذہ سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی مساعی:

حضرت میاں نذیر حسین صاحب مرحوم و مغفور کے جن تلامذہ نے اشاعتِ حدیث میں گرانقدر علمی خدمات انجام دی ہیں، ان کا مختصر تذکرہ پیش خدمت ہے:

مولانا سید امیر حسن رحمۃ اللہ علیہ (م 1291ھ)
  • جنوری
1985
عبدالرشید عراقی
حضرت الامام السید مولانا عبدالجبار غزنوی رحمۃ اللہ علیہ (م 1331ھ)

1268ھ میں غزنوی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے بھائی مولانا محمد بن عبداللہ غزنوی رحمۃ اللہ علیہ (م 1293ھ) اور مولانا احمد بن عبداللہ غزنوی رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کی۔ اس کے بعد دہلی تشریف لے گئے اور شیخ الکل حضرت مولانا سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ (م 1320ھ) سے حدیث کی سند حاصل کی۔
  • مارچ
  • اپریل
1988
عبدالرشید عراقی
مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی رحمۃ اللہ علیہ (م سئہ 1375ھ)

مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی رحمۃ اللہ علیہ کا شمار اہل حدیث کے اکابرین میں ہوتا ہے۔ مشہور مناظر، شعلہ نوا خطیب، مفسرِ قرآن، علم و فضل اور زہد و تقویٰ میں اعلیٰ نمونہ تھے۔
  • نومبر
1983
عبدالرشید عراقی
خدمت حدیث میں حضرت شاہ صاحب کی گرانقدر علمی خدمات ہیں اور آپ نے اس سلسلہ میں جو کارہائے نمایاں سرانجام دیے، بعد کے علمائے کرام نے آپ کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور آپ کی علمی خدمات کا اعتراف کیا ہے۔مولانا سید عبدالحئ (م1341ھ) لکھتے ہیں:''شیخ اجلّ، محدث کامل، حکیم الاسلام اور فن حدیث کے زعیم حضرت شاہ ولی اللہ فاروقی دہلوی بن شاہ عبدالرحیم (م1176ھ) کی ذات گرامی سامنے آتی
  • جولائی
1984
عبدالرشید عراقی
والا جاہ محی السنۃ مولانا السید نواب صدیق حسن خاں قنوجی رئیس بھوپال(م1307ہجریہ)

مولانا سید نواب صدیق حسن خان 19 جمادی الاول سن 1248ہجری کو بانس بریلی میں پیدا ہوئے۔آپ کا تعلق حسینی سادات سے ہے اور آپ کانسب 33 واسطوں سے جنا ب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا ہے۔ آپ کے والد کا نام سید اولادحسن (م1253ہجری) ہے جو اپنے وقت کے ممتاز اورجید عالم۔
  • مئی
1985
عبدالرشید عراقی
مولانا محمد سعید بنارسی (م1332ہجری)
کنجاہ ضلع گجرات (پنجاب) مولد ومسکن ہے۔پیدائشی سکھ گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔مولاناشیخ عبیداللہ صاحب  تحفۃ الہند کی تبلیغ سے مشرف بااسلام ہوئے اورسیدھے دیو بند پہنچے۔یہاں علوم متعارفہ میں تحصیل کی اور بعدہ تحصیل حدیث شروع کی۔جس کی وجہ سے دیو بند سے جواب ہوگیا۔ادھرحضرت شیخ الکل حضرت میاں سید نزیر حسین صاحب محدث دہلوی ؒ کا فیضان جاری تھا۔سیدھے دہلی پہنچے۔تفسیر وحدیث پڑھی اورسند حاصل کی۔اسی زمانہ میں آپ کے والد نے حضر ت شیخ الکل کو ایک خط لکھا کہ:
"میں نے اپنے لڑکے کو ناز ونعمت سے پالا ہے۔اس کو نظر عنایت سے رکھئے گا۔"[1]
حضرت میاں صاحب اس خط کو پڑھ کر آبدیدہ ہوگئے۔
فقہ کی تعلیم مولانا عبداللہ غاذی پوری ؒ(م1337ہجری) سے حاصل کی۔
تکمیل تعلیم کے بعد مدرسہ احمدیہ آگرہ میں مولانا حافظ محمد ابراہیم آروی م1319ہجری کے اصرار پر تدریس فرمائی مگر کچھ عرصہ بعد مدرسہ احمدیہ سے  مستعفی ہوکر بنارس چلے آئے۔اور یہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔1297ہجری میں مدرسہ سعیدیہ کی بنیاد رکھی جس میں مدتوں پڑھاتے رہے۔آپ سے بے شمار اصحاب نے استفادہ کیا ،جن میں سے بعض مسند تدریس کےوارث بھی بنے۔[2]
  • جولائی
1983
عبدالرشید عراقی
حضرت شیخ محمد طاہر پٹنی کے بعد علم حدیث کی نشرواشاعت کےسلسلہ میں شیخ عبدالحق بن سیف الدین بخاری کا نام آتاہے۔حضرت شیخ عبدالحق 958ھ (بمطابق 1551ء )کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد شیخ سیف الدین سے حاصل کی، اس کے بعد مختلف اساتذہ کرام سے اکتساب فیض کیا۔ 22 سال کی عمر میں تکمیل تعلیم کے بعد حرمین شریفین کے لیے روانہ ہوئے۔ راستہ میں احمد آباد میں شیخ وجیہ الدین علوی گجراتی (م998ھ) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کی صحبت سے فیض حاصل کیا۔
  • مئی
1986
عبدالرشید عراقی
آپ کا سن ولادت 1850ء؍1267ھ ہے۔ابتدائی تعلیم اپنے والد مولانا مسیح الزمان(م1295ھ) او ربرادر بزرگ مولانا بدیع الزمان(م1312ھ) سے حاصل کی۔ 15 سال کی عمر میں درس نظامی سے لے کر انتہائی عربی علوم و معقول میں تکمیل کرکے فارغ التحصیل ہوگئے۔اساتذہ فنون:مولانا مفتی عنایت احمد(مصنف علم الصیغہ) مولانا سلامت اللہ کانپوری تلمیذ مولانا شاہ عبدالعزیز دہلوی، مولانا محمد بشیر الدین قنوجی(م1273ھ)
  • اپریل
1987
عبدالرشید عراقی
مولانا عبدالتّواب ملتان (م1366ھ) 1288ھ میں ملتان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد مولانا قمر الدین ملتانی سے حاصل کی۔اس کے بعد دہلی جاکر شیخ الکل مولانا سید محمدنذیر حسین محدث دہلوی (م1320ھ) سے حدیث کی سند لی۔تکمیل تعلیم کے بعد ملتان میں درس و تدریس شروع کی اور کتابوں کی خرید و فروخت اور اشاعت کا کاروبار شروع کیا۔ بیرون ملک سے کتب حدیث منگوا کر مستحق علماء میں مفت تقسیم کرنا آپ کا
  • جنوری
1999
عبدالرشید عراقی
ولادت: حافظ شمس الدین ابو عبداللہ بن احمد بن عبدالہادی ابن قدامہ مقدسی حنبلی 714ھ میں پیدا ہوئے۔ (1)
اساتذہ و تلامذہ: حافظ ابن عبدالہادی نے اپنے دور کے نامور اساتذہ دن سے جملہ علوم اسلامیہ کی تحصیل کی۔ اور تمام علوم میں کمال پیدا کیا۔ آپ نے حافظ ابوالحجاج یوسف بن عبدالرحمین مزی رحمۃ اللہ علیہ (م 742ھ) سے تحصیل حدیث کی۔ اور دو سال تک آپ حافظ مزری کی خدمت میں رہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خاص طور پر فن حدیث و رجال میں اقران پر فائق تر ہو گئے۔ اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ علل و رجال میں حافظ شمس الدین ذہبی رحمۃ اللہ علیہ (م 748ھ) اور آپ کے استاد حافظ مزی آپ سے استفادہ کیا کرتے تھے۔ (2)
  • ستمبر
1983
عبدالرشید عراقی
شیخ نور الدین احمد آبادی : (م1155ھ)
آپ کا نام محمد صالح ہے۔ 1064ھ میں احمد آباد گجرات میں پیدا ہوئے۔ممتاز علمائے وقت سے تحصیل تعلیم کے بعد حرمین شریفین کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ آپ صاحب تصانیف کثیرہ ہیں۔حدیث کی خدمت اور نشرواشاعت میں آپ کی گرانقدر خدمات ہیں۔نور القاری کے نام سے بخاری شریف کی شرح لکھی ۔11155ھ میں 91 سال کی عمر میں آپ نے وفات پائی۔2
  • فروری
1989
عبدالرشید عراقی
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی کدمتِ حدیث تاریخِ اسلام کا ایک دخشندہ باب ہے۔ آپ نے جس دور میں جنم لیا، اس وقت برصغیر تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ تاہم آپ کی سعی و کوشش سے برصغیر میں روشنی کے آثار پیدا ہوئے۔
علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ (م 1373ھ) لکھتے ہیں:
"ہندوستان کی یہ کیفیت تھی، جب اسلام کا وہ دختر تاباں نمودار ہوا جس کو دنیا شاہ ولی اللہ دہلوی کے نام سے جانتی ہے۔ مغلیہ سلطنت کا آفتاب لبِ بام تھا۔ مسلمانوں میں رسوم و بدعات کا زور تھا۔ جھوٹے فقراء اور مشاءخ جا بجا اپنے بزرگوں کی خانقاہوں میں مسندیں بچھائے اور اپنے بزرگوں کے مزاروں پر چراغ جلائے بیٹھے تھے۔ مدرسوں کا گوشہ گوشہ منطق و حکمت کے ہنگاموں سے پُر شور تھا۔ فقہ و فتاویٰ کی لفظی پرستش ہر مفتی کے پیش نظر تھی۔ مسائل فقہ میں تحقیق و تدقیق سب سے بڑا جرم تھا۔ عوام تو عوام، خواص تک قرآن پاک کے معانی و مطالب اور احادیث کے احکام و ارشادات اور فقہ کے اسرار و مصالح سے بے خبر تھے۔ شاہ صاحب کا وجود اس عہد میں اہل ہند کے لئے موہبت عظمیٰ اور عطیہ کبریٰ تھا۔
  • اپریل
1980
عبدالرشید عراقی
قوموں کا عروج و زوال ، انحطاط و ارتقاء اور زندگی  کا دارومدار ان کی اپنی  تاریخ  پر منحصر ہے ۔ زندہ قومیں ہمیشہ اپنی تاریخ کے آہم و روش  ادوار پر گہر  رکھتی ہیں جو قوم اپنی تاریخ  کو بھلا  دتی ہے ۔ یقینا  وہ ایک دن زوال پذیر ہو جاتی ہے ۔
تاریخ اصل مین افراد کی حیات و ممات کے علاوہ تمدنی ، معاشی ، معاشرتی ، سیاسی مذہبی و اخلاقی اور دماغی کارناموں کا مرقع ہوتی ہے ۔ سوانح و تذکرے تاریخ ، ہی کا حصہ ہیں ۔ جن میں فرد کے خصوصی  کانامے ،مذہبی و اقتصادی اصلاحات کے ساتھ ساتہ ان تمام افکار رو عوامل کیاسیر حاصل تذکرہ موجود ہوتا ہے ۔ جس کے ذریعہ فرد عوام کی  نگاہوں میں غیر معمولی مقبولیت و جاذبیت کا حامل ہوتا ہے ۔
سوانح  و تذکروں کی ترتیب کا دوسرا اہم مقصد یہ ہوتا ہے کہ فرد کے اہم کا رناموں  کی انجام دہی ملی و مذہبی عظیم  اصلاحی پہلوؤں کی طرف خیالات و افکار کا میلان فطری  و جبلی صلاحیتوں کی نشوونما اور کار ز ارحیات کے نشیب  و فراز کی واضح تصویر کو قارئین  کے سامنے لایا جائے ۔ نئی نسلیں  ماضی میں اپنے اسلاف کے حیات آفرین کارناموں سے واقفیت کے بعد ہی مستقبل کے لیے ٹھوس اور پائیدار لائحہ عمل معین کرتی ہیں ۔ اس میدان میں جب ہماری نظریں کسی مشہور و معروف شخصیت  کی تاریخ  سے مزین صحفہ پر پڑتی ہیں تو اچانک ایک ہمہ گیر شخصیت سامنے آجاتی ہے ۔ یا کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جس قوم کی  سطح ذہن پر آجاتی ہیں۔ اسی طرح ملتوں اور جماعتوں کی تاریخ کا حالہے ۔
  • اپریل
1992
عبدالرشید عراقی
مولانا عبدالجبار 1897ء/1314ھ ضلع جے پور راجپوتانہ (ہند) میں پیدا ہوئے۔
ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں حافظ اللہ بخش سے حاصل کی۔اس کے بعد دہلی کا رخ کیا یہاں آپ نے کئی سال رہ کر عربی اور دینی علوم میں تکمیل کی۔
آپ کے اساتذہ کرام یہ ہیں:۔
مولانا عبدالوہاب دہلوی جھنگوی۔مولانا عبدالوہاب دہلوی،مولانا احمداللہ دہلوی،مولانا حافظ عبدالرحمان پنجابی شاہ پوری،برادر مولانا فقیر اللہ مدراسی ،مولانا عبدالرحمٰن ولایتی، مولانا ابو سعید شرف الدین دھلوی۔مولانا عبداللہ امرتسری روپڑی۔مولانا عبدالقادر لکھنوی۔مولانا عطاء اللہ لکھنوی۔اور مولاناعبدالعلی عبدالرحمان محدث مبارک پوری  صاحب"تحفۃ الاحوذی" فی شرح جامع الترمذی (م1353ھ) 
1917ء میں آپ درس نظامی کی تکمیل سے فارغ ہوگئے۔
  • اگست
  • ستمبر
2002
عبدالرشید عراقی
قرآن مجید اگرچہ ایک واضح او رکھلی ہوئی کتاب ہے، اس میں کسی قسم کا غموض و ا خفا نہیں ہے۔ لیکن اس میں اسلام کی تعلیمات کی پوری تفصیل اور تمام جزئیات کا اِحاطہ نہیں ہوسکتا تھا۔ اس لئے بہت سے احکام مجمل یا کلیات کی شکل میں ہیں۔ جن کی وضاحت و تشریح اور کلیات سے جزئیات کی تصریح رسول اللہ ﷺ نے اپنے قول و عمل سے فرمائی۔
  • جولائی
1998
عبدالرشید عراقی
عمرہادر کعبہ بت خانہ می نالہ حیات
تاز بزم عشق تک دانائے راز آیدبرون
علامہ سید سلیمان ندوی علم کا بحرذخارتھےاور ان کی ذات میں اللہ تعالی ٰ نےبیک وقت گونا گوں اوصاف جمع کردیئے تھے۔وہ اپنے دور کےاردو زبان کےسب سےبڑے ادیت اورمصنف تھے۔انہوں نے مختلف موضوعات پرقلم اٹھایا اورمتعدد ضخیم کتابیں ترتیب دیں اورملک سےخراج تحسین حاصل کیا ۔ان کی تصانیف میں سیرۃ النبیﷺ،سیرۃ عائشہ ؓ ، مقام ، تاریج ارض القرآن، نقوش سلیمان اورحیات شبلی بہت مشہور ومعروف ہیں ۔ ان کےعلاوہ آپ نےسینگڑوں علی ، دینی اورمذہبی ،تاریخی وتنقیدی اورتحقیقی ، ادبی وسیاسی مضامین الندوۃ لکھنؤ ، الہلال کلکتہ اورمعارف اعظم گڑھ میں لکھے۔اورآپ کےکئی مقامات اتنے طویل تھےکہ ان کی زندگی میں کتابی صورت میں ہوئے ۔
  • جنوری
1994
عبدالرشید عراقی
آسمان تیری لحد پہ شبنم فشانی کرے

( 7جنوری 1994ءتقریبا 11بجے صبح حافظ ثناءاللہ مدنی صاحب شیخ الحدیث "جامعہ لاہور اسلامیہ"(المعروف جامعہ رحمانیہ) نے یہ اندوہناک خبر دی کہ مولانا عبیداللہ رحمانی مبارکپوری وفات پاگئے ہیں اور انہوں نے اپنی مسجد میں غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی ہے۔انا للہ واناالیہ راجعون
  • مارچ
2002
عبدالرشید عراقی
جن لوگوں نے دنیا میں علمی، دینی، ملی اور سیاسی کارنامے انجام دیئے۔ ان کا نام تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لئے رقم ہوجاتا ہے اور ان کی یاد دلوں سے محو نہیں ہوتی اور جب ایسے لوگ دنیا سے رِحلت کرجاتے ہیں تو لوگ ان کی یاد میں آنسو بہاتے ہیں اوران کے کارناموں کو مجلسوں اور محفلوں میں بیان کرتے اور انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں مشہور ادیب اور صاحب ِقلم جناب نعیم صدیقی لکھتے ہیں:
  • جنوری
1998
عبدالرشید عراقی
برصغیر کے علمائے حدیث میں شیخ محمد بن طاہر پٹنی کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ آپ ایک بلند پایہ محدث تھے۔ حدیث میں وہ بالخصوص بہت ممتاز اور بلند مرتبہ تھے اور اس فن کے امام تھے۔ جس علاقہ (گجرات) سے ان کا تعلق تھا وہاں ان کے درجہ کا کوئی اور محدث نہیں گزرا۔ ان کے فضل و کمال کے تمام لوگ معترف تھے۔ اس لئے کہ انہوں نے حدیث میں بے نظیر کمال حاصل کیا اور اپنی زندگی اس فن کی خدمت میں بسر کر دی۔ ان کا شمار برصغیر کے ممتاز محدثین کرام میں ہوتا ہے اور ان کو رئیس المحدثین کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ علم حدیث میں ان کے فضل و کمال کا شہرہ صرف ہندوستان ہی میں نہ تھا، بلکہ عالم اسلام میں بھی ان کے علم و فضل اور حدیث کے کمال و امتیاز کا شہرہ تھا۔ (1)
  • جولائی
1996
عبدالرشید عراقی
انگریزی اقتدار کی آخری نصف صدی برصغیر کی مذہبی دنیا بہت ہنگامہ خیز گزری ہے۔اس دور میں برصغیر میں مناظروں کا بہت زور تھا۔علمائے اہل حدیث نے سینکڑوں تقریری اور تحریری مناظرے کئے،علمائے اہل حدیث میں مولانا ابو الوفاثناءاللہ امرتسری،مولانا ابوالقاسم بنارسی،مولانا محمد ابراہیم میری سیالکوٹی،مولانا عبدالعزیز رحیم آبادی،مولانا محمد بشیر سہسوانی اور مولانا محمد جونا گڑھی نے بے شمار تقریری تحریری مناظرے قادیانیوں،آریوں،مقلدین احناف،منکرین حدیث،عیسائیوں اور شیعوں سے کئے۔ذیل میں چند مشہور تحریری مناظروں کا مختصر تعارف پیش خدمت ہے:
مولانا عبدالحئی بڈہانوی:۔
مولانا شاہ عبدالئی بڈہانوی مولانا شاہد عبدالقادر دہلوی اور مولانا شاہ عبدالعزیز دہلوی کے شاگرد تھے اور مولانا شاہ محمد اسماعیل شہید دہلوی کے ہم درس تھے۔مولانا عبدالئی علوم اسلامیہ کے متبحر عالم تھے۔علامہ محسن بن یحییٰ بہاری فرماتے ہیں۔مولانا شاہ عبدالحئی حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی کے خلفاء   میں سے تھے،جملہ علوم الاسلامیہ بالخصوص فقہ میں ان کو کمال حاصل تھا۔8شعبان 1243ھ علاقہ سوات  بنیر  میں شہادت سے سرفراز ہوئے۔
مناظرہ:۔
یہ رسالہ اس مناظرہ کی رواداد ہے۔جو مولانا عبدالحئی بڈہانوی اورمولانا رشید الدین کشمیری کے  مابین"شرک وبدعت" کے موضوع پر ہوا تھا۔
مولانا سید عبدالجبار سہسوانی:۔
مولانا سید عبدالباری 1226ھ میں پیدا ہوئے،مولانا سید امیرحسن سہسوانی سے جملہ  علوم اسلامیہ کی تعلیم حاصل کی اور حدیث کی سند شیخ الکل مولانا سید محمد نزیر حسین  دہلوی سے حاصل کی۔فن مناظرہ میں ان کو ید طولیٰ حاصل تھا۔عیسائیوں اور آریوں سے آپ کے بہت مناظرے ہوئے۔ادیان باطلہ میں انہیں کمال حاصل تھا۔سرسید احمد خاں اور مولانا سید نواب صدیق حسن خاں آپ کے علم وفضل کے معترف تھے۔9ذی الحجہ 1303ھ،8 ستمبر 1886ء کو آپ نے انتقال کیا۔
فتح المبین علی اعداء الدین:۔
یہ کتاب اس مناظرہ کی روداد ہ جو مولانا سید عبدالباری سہسوانی اور ایک  عیسائی پادری کے مابین ہواتھا۔عنوان مناظرہ مسئلہ توحید وتثلیث تھا۔
  • اپریل
1999
عبدالرشید عراقی
(فروری کے شمارے سے آگے) دوسری قسط
مولانا قاضی محمد سلیمان منصور پوری رحمۃ اللہ علیہ
(12) غایۃ المرام 1891ء : صفحات 144
یہ کتاب مرزا غلام احمد قادیانی کے رسالہ جات "فتح العلام" اور "توضیح المرام" کے جواب میں ہے۔ اس میں رفع عیسیٰ علیہ السلام، آپ کا نزول، اور قانونِ قدرت وغیرہ پر قرآن و حدیث کی روشنی میں بحث کی گئی ہے۔
(13) تائید الاسلام، 1898ء: صفحات 150
یہ غایۃ المرام کا دوسرا حصہ ہے۔ اس میں پہلے مرزا قادیانی کے عقائد پر بحث کی ہے اور بعد میں مرزا قادیانی کی کتاب ازالة الاوهام کے بعض مباحث جیسے مسیح موعود، الہام و مکاشفہ وغیرہ کا جواب دیا گیا ہے۔
(14) مرزا صاحب اور نبوت: صفحات 8
اس رسالہ میں مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کی تردید کی گئی ہے۔
  • فروری
1999
عبدالرشید عراقی
قادیانی تحریک سلطنت برطانیہ کی پیداوار ہے اور انگریزوں نے سلام اور اس کے بنیادی اصول و احکام کو مٹانے کے لیے مرزاغلام احمد قادیانی کا انتخاب کیا جو ڈپٹی کمشز سیا لکوٹ کی کچہری میں ایک معمولی تنخواہ پر ملازم تھا اور اس نے سیالکوٹ میں 1864ءتا1868ءملازمت کی۔مشہور صحافی آغا شورش کاشمیری لکھتے ہیں کہ:"اس نے ملازمت کے دوران سیالکوٹ میں پادری مسٹر ٹیلرایک اے سے رابطہ پیدا کیا۔ وہ اس کے پاس عموماً آتا۔ اور دونوں اندر خانہ بات چیت کرتے۔ ٹیلر نے وطن جانے سے پہلے اس سے تخلیہ میں کئی ایک ملاقاتیں کیں۔ پھر اپنے ہم وطن ڈپٹی کمشز کے ہاں گیا اس سے کچھ کہا اور انگلستان چلا گیا ۔ ادھر مرزاغلام احمد قادیانی (؟)دے کر قادیان آگئے اس کے تھوڑے عرصہ بعد مذکورہ فرد ہندو ستان پہنچا ۔ اور ضروری رپورٹیں مرتب کیں۔ ان رپورٹوں کے فوراً بعد مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنا سلسلہ شروع کردیا"(تحریک ختم نبوت ص21)
  • فروری
2000
عبدالرشید عراقی
بلا شن و شبہ موت بر حق ہے اور موت کا ایک وقت مقرر ہے اور تمام لوگوں کومرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔"ہرجان موت چکھنے والی ہے" لیکن اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے اور اللہ کی طرف بلانے والے داعی کی موت عام آدمی سے مختلف ہوتی ہے۔ عالم کی موت مصیبت اور غمناک ہوتی ہے۔ عالم کی موت اسلام میں ایسارخنہ اور دراڑ پیدا کر دیتی ہے۔ جو بآسانی پر نہیں کی جاسکتی ۔اللہ نے فرمایا :
﴿أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا... ﴿٤١﴾...الرعد
"کیا انھوں نے نے دیکھا اور جانا نہیں کہ ہم زمین کی طرف آتے (نظر کرتے)ہیں اور اس کے اطراف و جوانب سے اسے کم کرتے ہیں۔کہا گیا ہے کہ زمین کو اطراف سے کم کرنے سے مراد "علماء حق کی موت "ہے۔اور بخاری و مسلم  رحمۃ اللہ علیہ  نے عبد اللہ بن عمرو بن عاص  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی حدیث روایت کی ہے جس میں ہے کہ میں نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے سنا فرماتے ہیں ۔"یقیناً اللہ تعالیٰ علم کو بندوں کے سینوں سے نہیں کھینچےگا لیکن علم کو علماء کو فوت کرنے کے ساتھ قبض فرمائے گا۔"
  • اکتوبر
1994
عبدالرشید عراقی
ماضی میں علمائے اہل حدیث نے برصغیر پاک وہند میں دین اسلام کی نشر واشاعت ،کتاب وسنت کی نصرت وحمایت اور شرک وبدعت کی تردید وتوبیخ اور ادیان باطلہ کے خلاف جو علمی کارنامے سرانجام دئیے،وہ ہماری تاریخ اہل حدیث کاایک روشن باب ہے۔
قیام پاکستان سے پہلے ہندوستان میں عیسائی قادیانی آریہ اور منکرین حدیث ایسے گروہ تھے جنہوں نے اسلام کے خلا ف ایک محاذ قائم کیا ہوا تھا ۔علمائے اہلحدیث نے ان کے خلا ف ہر محاذ پر مقابلہ کیا ان سے منا ظرے بھی کئے اور ان کے خلا ف کتابیں بھی لکھیں ۔دوسری طرف علمائے اہلحدیث نے علمی و دینی اور تحقیقی خدمات بھی سر انجا م دیں ۔قرآن مجید کے تراجم بھی کئے اور تفاسیر بھی لکھیں ۔حدیث کی عربی اور اردومیں شرحیں لکھیں فقہ عقائد ،تاریخ اور سیرت نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم   پر متعدد کتابیں تصنیف کیں ۔اس کے علاوہ علمائے اہلحدیث نے اپنے مدارس قائم کر کے کتاب و سنت کی نشرواشاعت میں ایک مثالی کا ر نامہ سر انجام دیا اور پورے برصغیر میں پھیل کرکتاب و سنت کی اشاعت اور شرک و بدعت کی تردید کی۔
  • اکتوبر
1989
عبدالرشید عراقی
حدیث کی صیانت و حفاظت اور اُس کی ترقی وتر ویج اور اشاعت میں برصغیر پاک و ہند میں علمائے اہلحدیث نے جو گراں قدر علمی خدمات سر انجام دی ہیں وہ تاریخ اہلحدیث میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں فسیح الکل حضرت مولیٰنا سید محمد نذیر حسین محدث دہلویؒ (م1320ء)نے دہلی میں اور علامہ حسین بن محسن القاری یمانی (م1327ء)نے بھوپال میں حدیث کی نشرواشاعت میں جو نمایاں کردار ادا کیا ہے اس کی مثال برصغیر پاک وہند میں مشکل ہی سے ملے گی
  • فروری
  • مارچ
1995
عبدالرشید عراقی
چودھویں صدی کی ممتاز ترین شخصیتوں پر اگر نظر ڈالی جائے تو اس میں ایک اہم اور ممتاز شخصیت مولانا ابو القاسم سیف بنارسی کی نظر آتی ہے۔آپ ایک بلند پایہ عالم،مناظر،محقق،مبلغ اور مصنف تھے۔آپ نے پورے برصغیر(پاک وہند) میں اپنے علمی تبحر سے شہر ت حاصل کی۔آپ ایک کامیاب مقرر اور مبلغ تھے۔ہرحلقہ ادب میں آپ کا نام عزت واحترام سے لیا جاتا تھا۔ان کے علم وفضل کا اعتراف مسلمان علمائے کرام تو کرتے ہی تھے۔مگر غیر مسلم اسکالر اور دانشور بھی ان کی علمیت وقابلیت کا اعتراف کرتے تھے۔تقریر وخطابت اور مناظرہ میں آپ کو خداداد ملکہ حاصل تھا۔پیچیدہ  سے پیچیدہ مسائل کا حل نہایت زود فہم اورآسان طریقہ پر نکال لیتے تھے۔علوم عقلیہ ونقلیہ اور جملہ علوم اسلامیہ میں کافی دسترس تھی۔
تاریخ اہل حدیث کا ایک معتمد بہ حصہ آپ کی ملی وعلمی خدمات کارہین منت ہے۔آپ کی خدمات امت مسلمہ میں منفرد وممیز ہیں۔آپ ا پنے وقت کے کامیاب مصلح،برجستہ وقادر الکلام مناظر ہونے کے علاوہ قوم وملت کے ہمدرد خادم،مخلص ومتہم بالشان اوصاف حمیدہ کے مالک اور سچے مسلمان تھے۔نیک طبیعت اور نیک کردار تھے۔
  • جولائی
2000
عبدالرشید عراقی
مولانا عبدالرحمٰن مبارکپوری بن مولانا حافظ عبدالرحیم مبارکپوری محدث جید عالم فقیہ اور مفتی تھے علم حدیث میں تبحر و امامت کا درجہ رکھتے تھے ۔روایت کے ساتھ روایت کے ماہر اور جملہ علوم آلیہ و عالیہ میں یگانہ روزگارتھے قوت حافظہ بھی خداداد تھی حدیث اور متعلقات حدیث پر ان کی نظر وسیع تھی۔مولانا سید عبد الحی حسنی (م1341ھ)لکھتے ہیں ۔
كان ﻣﺘﻀﻠﱢﻌﺎً ﻓﻲ ﻋﻠﻮم اﻟﺤﺪﻳﺚ. ،. ﻣﺘﻤﻴﱢﺰاً. ﺑﻤﻌﺮﻓﺔ أﻧﻮاﻋﻪ وﻋﻠﻠﻪ. ،. وﻛﺎن ﻟﻪ ﻛﻌﺐ ﻋﺎل ﻓﻲ ﻣﻌﺮﻓﺔ أﺳﻤﺎء اﻟﺮﺟﺎل. فن جرح وتعدیل وطبقات المحدثين وتخرج الاحاديث(1)
"علم حدیث میں تبحر علمی کا درجہ رکھتے تھے اور معرفت حدیث انواع حدیث وعلل میں ان کی نظروسیع تھی اسماء الرجال اور جرح و تعدیل طبقات محدثین اور تخریج احادیث  میں ان کو کمال حاصل تھا۔
مولانا براہ راست عامل بالحدیث تھے صفات باری تعالیٰ کے سلسلے میں ماوردبہ الکتاب والسنۃ پر ایمان رکھتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو علم و عمل سے بھر پورنواز اتھا ۔مدت ذہین ذکاوت طبع اور کثرت مطالعہ کے اوصاف و کمالات نے آپ کو جامع شخصیت بنا دیا تھا (2)صاحب نزہۃ الخواطر نے ان کو علمائے ربانیین میں شمار کیا ہے(3)مولانا ابو یحییٰ امام خان نو شہروی (1966ء)لکھتے ہیں کہ۔
  • جنوری
1982
عبدالرشید عراقی
اس دور میں جو سورتیں نازل ہوئین ان کی تفصیل آپ پڑح چکے ہیں۔ ان میں سے بعض اہم سورتوں کے احکامات کی تفصیل درج ذیل ہے:
احکام سورۃ النور:
سورہ نور میں صریح اور غیر مبہم الفاظ میں جو احکامات ہیں، یہ ہیں:
1۔ حدِ زنا سو کوڑے مارنا 2۔ زانی اور زانیہ مشرک اور مشرکہ کے نکاح کا حکم 3۔ قذف اور حدِ قذف 4۔ لعان کا حکم 5۔ بلا تحقیق بات کہنے کا حکم 6۔ محصنہ عورتوں کو تہمت لگانا 8۔ احکاماتِ پردہ 9۔ احکاماتِ شرم و حیا 10۔ محرموں کا تذکرہ 11۔ زنا اور اجرتِ زنا 12۔ غلام اور باندیوں کا نکاح 13۔ مکاتب بنانے کا حکم 14۔ مساجد اللہ کا اکرام 15۔ اوقاتِ تنہائی کے احکامات 16۔ اقارب اور ان کے ساتھ معاشرت 17۔ سلام کا طریقہ 18۔ آدابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
احکام سورہ مائدۃ:
اس سورۃ میں اسلامی شریعت کے بیشتر احکامات موجود ہیں جن کی تفصیل یہ ہے:
1۔ تمام قسم کے عقود اور معاملات پورا کرنا۔
2۔ حالتِ احرام اور حرم کے شکار کی حرمت۔
3۔ شعائراللہ کی حرمت
4۔ ہدی کے جانور اور حاجیوں کا اکرام
  • دسمبر
1981
عبدالرشید عراقی
مکی سورتوں کا دورِ آخر 12 نبوی تا 13 نبوی

نمبر شمار سورت سنِ نزول تقریبا خلاصہ اور مرکزی موضوع

ا یس 12 تا 13 نبوی قسم کھا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی تصدیق، قرآنِ پاک کے نزول کی غرض و غایت، کفار کو ظلم و ستم سے ڈرانا، اس بارے میں کفار کو بار بار ڈرایا گیا، توحید الہی، انسانی کمالات کا ذکر اور بعض انبیاء علیھم السلام کے حالات، دعوت کو زور دار طور پر پیش کیا گیا ہے۔
  • نومبر
1981
عبدالرشید عراقی
زیرِ نظر مقالہ میں نزولِ قرآن مجید کی ترتیب بیان کی گئی ہے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ قرآنِ مجید کی بعض سورتوں کے تعارف اور ان کے نزول کے پسِ منظر پر روشنی ڈالی گئی ہے۔مقالہ کے شروع میں دورِ جاہلیت کے لوگوں کے اخلاق و عقائد کا بیان ہے تاکہ قرآنِ مجید کے بتدریج نزول کی حکمت سمجھ میں آسکے اور آخر میں قرآن مجید کی تمام سورتوں کی ترتیبِ نزول، جدول کی صورت میں پیش کی گئی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ
  • اکتوبر
1998
عبدالرشید عراقی
مُحی مجّدد علوم ِ عربیہ و دینیہ ترجمان القرآن و الحدیث مولانا سید نواب محمد صدیق حسن خاں کا شمار ممتاز علمائے حدیث میں ہوتا ہے آپ علوم اسلامی و نحو میں ان کو یگانہ دستری حا صل تھی ۔علاوہ ازیں عربی ،فارس اور اردوتینوں زبانوں میں یکساں قدرت رکھتے تھے۔مولانہ سید نواب صدیق حسن خاں ۱۹ جمادی الاولیٰ کو بانس بریلی میں پیدا ہوئے،جہاں آپ کا ننھیال تھا ۔آپ کا سلسلہ نسب ۳۳ واسطوں سے آنحضرت ﷺ تک پہنچتاہے۔(۱)آپ کا تعلق ہندوستان کے قدیم شہر قنو ج سے تھا ۔
  • مئی
2002
عبدالرشید عراقی
عموماً دونظام ہائے تعلیم کو مسلمانانِ برصغیر کے تعلیمی رجحانات کی بنیاد بنایا جاتا ہے، ایک مدرسہ علی گڑھ اور دوسرا دار العلوم دیوبند۔ انہی کے حوالے سے آگے تعلیمی اور فکری ارتقا کی بحث کی جاتی ہے اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ دینی مدارس اور سکول وکالج کا یہی نقطہ آغاز تھا۔ جبکہ تاریخی طور پر یہ بات درست نہیں،