• اگست
2005
عبدالجبار سلفی
چمنستانِ رسالت كا يہ بلبل تقريباً ستاسى سال قبل، یعنى 1918ء ميں اس دنيا ميں تشريف لايا اور تقريباً پینسٹھ سال تك مختلف گلستانوں ميں چہچہاتا رہا اور وما جعلنا لبشر من قبلك الخُلد كے ازلى قانون كے تحت 6/اگست 2005ء ميں ہميشہ كے لئے خاموش ہوگيا- آپ كو اللہ تبارك و تعالىٰ نے لحن داوٴدى عطا فرمايا تها اور جب آپ اپنى رسیلى اور سُريلى آواز سے قرآن كى آيات اور حضرت رسالت مآب كى مدح ميں اشعار پڑهتے تو لاكهوں سامعين وجد ميں آكر جهومنے لگتے-
  • مارچ
2005
عبدالجبار سلفی
أہل السنةكى خو شى بختى ہے كہ وہ اہل بيت كرام سے دلى محبت و عقيدت ركهتے ہيں اور ان كا كماحقہ احترام كرتے ہيں- وہ نہ تو رافضيوں كى طرح انہيں حد سے بڑهاتے ہيں اور نہ ہى ناصبيوں كى طرح ان كا مرتبہ و مقام گهٹاتے ہيں- ان كا اس بات پر اتفاق ہے كہ اہل بيت سے محبت ركهنا فرض ہے اور كسى طرح كے قول و فعل سے انہيں ايذا دينا حرام ہے۔
  • اگست
2014
عبدالجبار سلفی
قارئین کرام! ہماری اسلامی تاریخ بیدار مغز اور روشن ضمیر خلفا،اُمرا، فقہا وصلحا کے ایمان آفریں تذکروں سے معمور ہے۔ لیکن عبیدیوں، قرامطیوں نے جو بااتفاقِ اہل علم یہودی اور مجوسی النسل تھے، اپنے بنی فاطمہ علیہا صلوات اللّٰہ وسلامہ کی اولاد ہونے کا جھوٹا پروپیگنڈا کروا کر مغربِ اقصیٰ کی مسلم مملکتوں پر قبضہ کر لیا اور پھر اپنے بڑوں کی خیبر اور قادسیہ میں شکستوں کا بدلہ چکانے کے لیے اہل السنّہ مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑ دیےاور پھر اپنی سیاہ ترین کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کے لیے
  • مارچ
2006
عبدالجبار سلفی
دنیا میں محبت کی بہت سی وجوہات ہیں، مثلاً ہم وطن ہونا، ہم جماعت ہونا، ہم پیشہ ہونا اورہم قوم ہونا وغیرہ وغیرہ، لیکن ان وجوہات کی بنا پر کسی سے محبت کرنا، فرض ہے نہ واجب ! جبکہ ایمان کی وجہ سے مؤمن بھائیوں اور بہنوں سے محبت کرنا فرض ہے۔ قرآنِ کریم میں ہے:
وَٱلْمُؤْمِنُونَ وَٱلْمُؤْمِنَـٰتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَآءُ بَعْضٍ ۚ يَأْمُرُ‌ونَ بِٱلْمَعْرُ‌وفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ‌ وَيُقِيمُونَ ٱلصَّلَو‌ٰةَ وَيُؤْتُونَ ٱلزَّكَو‌ٰةَ وَيُطِيعُونَ ٱللَّهَ وَرَ‌سُولَهُ...﴿٧١﴾...سورۃ التوبہ
''اور مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں باہم ایک دوسرے کے غمگسار اور ہمدرد ہیں، وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں، اور نمازقائم کرتے ہیں اور زکوٰة ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔''
  • اپریل
2006
عبدالجبار سلفی
سب تعریفیں اللہ ربّ العزت کے لئے اور لاکھوں درود و سلام سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی آل و اصحاب پر ... ڈنمارک میں ہونے والے اُن واقعات کو کسی طرح بھی قبول نہیں کیا جاسکتا جن میں اہانت ِرسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارتکاب کیا گیا اور ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کو نشانہ بنایاگیا ہے۔
  • جولائی
2000
عبدالجبار سلفی
میرے سامنے ایک تحریر ہے جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام   کے والد کانام آزر کے بجائے تارح ثابت کرنے اور انہیں مسلمان باور کرانے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔جب کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام   کے باپ کانام آزر ہی تھا۔سورہ انعام میں ہے:
"وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ آزَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا آلِهَةً ۖ"
"جب ابراہیم علیہ السلام   نے اپنے باپ آزر سے کہا کہ کیا تو بتوں کو دیوتا بناتا ہے؟"(آیت 74)
عربی زبان میں باپ کے لئے اب اور چچا کے لئے عم کا لفظ بولا جاتاہے۔اورحقیقت کو اس وقت تک مجاز پر اولیت حاصل ہے جب تک حقیقی مراد لینے میں کوئی امر مانع نہ ہو۔مثلاً اگر کسی صحیح دلیل سے ثابت ہوتا کہ نبی کابیٹا یاباپ گمراہ نہیں ہوسکتا تو اس لفظ کی تاویل کی جاسکتی تھی لیکن چونکہ ایسی کوئی دلیل نہیں لہذا اس حقیقت پر ایمان رکھنا چاہیے کہ اب سےمراد باپ ہی ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام   اپنی تبلیغ میں اپنی باپ کےلیے بار بار یاابت کالفظ استعمال کرتے ہیں
  • جنوری
2012
عبدالجبار سلفی

اکل حلال، صدقِ مقال، زہدو وَرع، علم و عمل، عبادت و رِیاضت، رُشد و ہدایت، ظاہری اور باطنی اعتبار سے حسین و جمیل اور خوبصورت و خوب سیرت 'گلستانِ لکھویہ' کا تعارف تحصیل حاصل ہے جن کا سلسلۂ نسب محمد بن حنفیہ کے توسط سے سیدنا علی سے جاملتا ہے۔اس خاندان کے برصغیر میں اوّلین بزرگ حافظ محمد امین تھے جو بابا ڈھنگ شاہ کے عرف سے مشہور و معروف بزرگ تھے۔

  • دسمبر
2000
عبدالجبار سلفی
(جس سے بے اعتنائی برتنے پر،اُمت باہمی خلفشار کا شکار ہے!)

حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  بن جبل،حسن وجمال،بذل وعطاء ،جودوسخا ،مہرووفا،احسان ومروت ،شجاعت وفتوت جیسے اوصاف میں یگانہ روگار تھے۔سخی اتنے کہ سائل کو خالی نہ جانے دیتے اگر چہ قرض ہی کیوں نہ لینا پڑے،کثرت سخاوت کے باعث آپ مقروض ہوگئے۔قرض خواہوں کے شدید تقاضوں پر حضرت  رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان کا مکان اوراثاثہ نیلام کرکے ان کاقرض ادا کیا۔چنانچہ حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اس حال میں اُٹھے کہ تن کے کپڑوں کے سواکوئی چیز نہ بچی!!
آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  ان کے حال پر شدید دل گرفتہ اور رنجیدہ ہوئے اور ان کو یمن کا گورنر مقرر کردیا اور ہدیہ قبول کرنے کی خصوصی اجازت مرحمت فرمائی اور ان کو ایسی نصیحتیں کیں جو تمام امت کےسربرآوردہ لوگوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم  ،حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کو زندگی کی آخری وصیتیں کررہے تھے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے  فرمایا:
"اے معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! تو اہل کتاب کے ہاں جا رہا ہے اور وہ تجھے جنت کی چابیوں کے متعلق پوچھیں گے تو انہیں بتانا کہ لاالٰہ الا اللہ جنت کی چابی ہے۔یہ ایسا بابرکت اور پرتاثیر کلام ہے جو ہر چیز کو چیرتا ہوا عرش الٰہی پر پہنچتا ہے اور کوئی چیز اس کے سامنے رکاوٹ نہیں بنتی۔جو کوئی انسان کو شرک سے بچا کر لے آئے گا یہ روز قیامت اس کے سبب گناہوں پر بھاری ہوجائے گا۔"
  • مارچ
2012
عبدالجبار سلفی
عادات وشمائل
26 فروری 2012ء کومحبانِ علم وفضل پر خصوصاً اور جماعتِ اہل حدیث پر عموماً یہ خبر بجلی کی طرح گری کہ اُستاذ العلماء حافظ عبدالمنان محدث نور پوری عالم فانی سے رخصت ہوگئے ہیں۔
  • اپریل
2014
عبدالجبار سلفی
پر ائمہ اَعلام کا خراجِ تحسین

حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں کوئی جماعت یا کوئی فرد بشر ایسا نہ ہو گا جسے تمام لوگوں نے اچھا کہا یا سمجھا ہو، لیکن دیکھنا چاہیے کہ کسی جماعت یا فرد کو اچھا یا برا کہنے یا سمجھنے والوں کا اپنا وزن اور قد کاٹھ کیا ہے ۔کیونکہ بہت سے ایسے ناقدین بھی ہیں جو اللّٰہ تعالیٰ اور اہل اللّٰہ کے ہاں مچھر کے پر کے برابر بھی وزن نہیں رکھتے
  • جنوری
2013
عبدالجبار سلفی
طاہر القادری کس مقصد کے حصول کے لئے واپس آئے ہیں...؟ وہ معاشرے میں کیا تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں...؟ کینیڈا سے وہ کس کا ایجنڈا پورا کرنے آرہے ہیں...؟ طاہر القادری کونسا انقلاب لانا چاہتے ہیں...؟ ان تمام اُمور کو مروّجہ سیاسی معیارات پر پرکھنے کے بجائے ہم طاہر القادری کے عقائد ونظریات کی ایک جھلک ذیل میں پیش کررہے ہیں جس سے یہ تمام اُمور خود بخود واضح ہوجائیں گے:
  • دسمبر
2013
عبدالجبار سلفی
طب کا علم، حیوانی جسم کی ترکیب اور اس کے اعضا کی کارکردگی کے متعلق دقیق بحث کرتا ہے۔ وہ اپنی تحقیق کی ابتدا حیوانی جسم کی ترکیب کے دقیق ترین اکائی (خلیہ) سے کرتا ہے اور پھر مشترک کارکردگی والے خلیوں کے مجموعے پر دادِ تحقیق دیتا ہے اور پھر دل ، دماغ، جگر، گردہ جیسے اعضاے رئیسہ کی کاکردگی پر حیرت انگیز انکشافات کرتا ہے، پھر وہ نظامِ انہضام میں مشترک کردار ادا کرنے والے اعضاے حیوانی پر ریسرچ کرتا ہے اور ہر ایک کا الگ الگ کردار بیان کرتا ہے ۔
  • مئی
2009
عبدالجبار سلفی
امیر المؤمنین عبد الملک بن مروان قریشی اُموی نے شعراء و اُدبا کے اعزاز میں دی جانے والی دعوتِ عام میں سرد و شیریں مشروبات، لذیذ ترین ماکولات اور رس بھرے تازہ ثمرات اتنی وافر مقدار میں مہیا کئے کہ دربارِ خلافت کے مہمانوں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ ان میں علماء بھی تھے اور اُمرا بھی، شعرا بھی تھے اور ادبا بھی، مہذب شہری بھی تھے اور گنوار دیہاتی بھی۔
  • دسمبر
2014
عبدالجبار سلفی
اگر اسلام اور مسلمانوں کے ضعف اور اضمحلال کی تشخیص کے لیے اہل علم ودانش کا نمائندہ بورڈ بیٹھے تو وہ اس نتیجے پر پہنچے گا کہ اسلام اور مسلمانوں کے ضعف و اضمحلال کا سبب 'نفاق' کا کینسر ہے ، جو روز بروز اسے کمزور سے کمزور تر کرتا جا رہا ہے۔
  • مارچ
2000
عبدالجبار سلفی
سُلطان المناظرین مولانا حافظ عبد القادر روپڑی کی وفات پر اگرچہ پورے عالم اسلام سے ٹیلی فون،تاروں اور خطوط کے ذریعے روپڑی خاندان کی علمی شخصیت حافظ عبد الرحمن مدنی اور مرحوم کے صاحبزادے جناب عارف سلمان روپڑی کے نام تعزیت کا اظہار کیاگیااو ریہ سلسلہ ملاقاتوں کی صورت تاحال جاری ہے ۔
  • مئی
2000
عبدالجبار سلفی
"ایک بہتی ہوئی بڑی نہر کے کنارے میں چھوٹا سا شگاف پڑجائے تو اسے فوراً ہی مٹھی بھر مٹی سے بند کردینا عین دانش مندی ہے۔اگر اس موقع پر سستی یالا اُبالی پن کامظاہرہ ہوجائے تو وہ شگاف چند گھنٹوں بعدبڑا اور گہرا ہوجائےگا اور نہر  کے کنارے کو تیزی سے بہالے جائےگا اور آن کی آن میں بستیاں غرقاب ہوجائیں گی"
اس مثال کی روشنی میں آپ بخوبی سمجھ جائیں گے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم   نے کمال مہربانی سے نہ صرف یہ کہ امت مسلمہ کو مہلک اعمال سے روکابلکہ ان راستوں کو بھی بند کردیا جو ہلاکت گاہوں کی طرف لے جاتے ہیں۔ارشادنبوی صلی اللہ علیہ وسلم   ہے:
ما تركت شيئاً يقربكم إلى الله إلا وأمرتكم به، وما تركت شيئاً يبعدكم عن الله ويقربكم إلى النار إلا وقد نهيتكم عنه(مشکوٰۃ)
"میں نے ایسی کوئی چیز نہیں چھوڑی جو تمھیں اللہ کے قریب کرتی ہو مگر میں تمہیں بتا چلا ہوں اور کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جو تمھیں جہنم کے قریب کرتی ہواور اللہ سے دور کرتی ہو مگر تمھیں اس سے روک چلاہوں۔"
  • اکتوبر
2008
عبدالجبار سلفی
عالم اسلام کے عام مؤرخین اور خصوصاً حاقدینِ بنی اُمیہ نے اپنی مؤلفات میں مرویاتِ محمد بن اسحق اور مسندامام احمد کی ایک روایت کی بنیادپرحضرت ہندؓ بنت ِعتبہ قرشیہ کے متعلق بیان کیا ہے کہ اس نے جنگ ِاُحد میں حضرت حمزہؓ بن عبدالمطلب کا پیٹ چاک کرکے اُن کا جگر چبا ڈالا تھا بلکہ اسے نگلنے کی کوشش بھی کی تھی
  • اکتوبر
2004
جسٹس صالح عبداللہ
تیسرامبحث : دلالة الثناء
آپ نے اپنے گھر اور خاندان کے افراد، بلکہ اپنے گاؤں کے لوگوں کے ساتھ پردیس میں زندگی بسر کی ہے یااپنے احباب کے ساتھ کسی فوجی چھائونی میں دن گزارے ہیں یا اپنے ان ساتھیوں جن سے آ پ کا عقیدہ کا رشتہ استوار ہے،کے ساتھ فقر و فاقہ اور ظلم و ستم کے سائے میں وقت گزارا ہے تو آپ خود ہی بتائیے
  • ستمبر
2004
جسٹس صالح عبداللہ
شیعہ سنی منافرت وطن عزیز میں کئی سالوں سے زوروں پر ہے۔ مختلف اندرونی وبیرونی عوامل اس کو ہوا دے کر اپنے نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ گذشتہ دنوں اسی منافرت کو ہوا دے کر عراق میں امریکی جارحیت کے لئے وجہ ِجواز فراہم کرنے کی بھی کوششیں ہوئیں، جس میں انہیں کامیابی نہ مل سکی۔ غیرمسلموں کا ہمیشہ سے یہی ہتھیار رہا ہے کہ مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر اپنے مقاصد حاصل کئے جائیں۔
  • اگست
2000
علامہ یوسف قرضاوی
اجتہاد انسانی زندگی میں پیش آمدہ مسائل کے بارے میں الہامی رہنمائی کے لیے اس انتہائی ذہنی کدو کاوش کا نام ہے جس کا مدار تو کتاب وسنت ہی ہوتے ہیں لیکن مجتہد کو اس بارے میں کتاب و سنت کی واضح صریح نصوص نہ ملنے پر کتاب و سنت کی وسعتوں اور گہرائیوں میں اترنا پڑتا ہے ۔اگر غور و فکر کی گیرائی اور گہرائی شریعت کی مہیا کردہ رہنمائی کی تلاش کے لیے نہ ہوتو اسے اجتہاد کی بجائے تدبیرکہتے ہیں پھر اگر چہ نبی کو بھی نت نئے پیش آمدہ بہت سے مسائل میں اللہ کی رضا معلوم کرنے کے لیے ایسی ذہنی تگ و تازسے ضرور واسطہ پڑتا ہے لیکن چونکہ اللہ عاصم اور نبی معصوم ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے نبی کو استصواب کے ذریعے ایسی اجتہادی غلطی پر قائم رہنے سے بھی تحفظ فرمادیا ہے۔ اس لیے اصطلاح شرح میں نبی کا اجتہاد سنت و حدیث ہی کہلاتا ہے جو انسانی کا وش اجتہاد و فقہ کی بجائے شریعت کا حصہ ہے۔
چونکہ غیر نبی کے لیے اجتہاد میں انسانی تگ و تاز کایہ پہلو صحت و خطا کے احتمال سے خالی نہیں ہو سکتا اور بسا اوقات وہ الہامی ہدایت کے بجائے صرف دنیاوی تدبیر کے زمرے میں داخل ہو جاتا ہے۔اس لیے علمائے دین اس کے بارے میں بڑے محتاط ہیں اور وہ نہ تو ہرایرےغیرے کو اجتہاد کی اجازت دیتے ہیں اور نہ ہی اس بارے سابقہ ذخیرہ فقہ سے ناآشنائی کو برادشت کرتے ہیں اسی بنا پر جدید دانشور طبقہ انہیں قدامت پرستی کا طعن دیتا ہے حالانکہ۔ ع۔ ز۔ تقلید عالمان کم نظر اقتداء بررفتگان محفوظ تر، تاہم اس بارے میں اسلامی معاشرے میں موجود تقلید والحاد کے دوانتہائی رویوں سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ۔اسی افراط و تفریط کا کا جائزہ اس مکالمہ میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔(محدث)
  • مئی
2002
امام ابن تیمیہ
حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ طیبہ آپ کی نبوت کی واضح دلیل ہے۔ آپ کے اخلاقِ جمیلہ اور اقوال و افعالِ حمیدہ اور آپ کی روشن شریعت بھی آپ کی نبوت کے دلائل میں سے ہے، آپ کی اُمت،اس کا علم اور اس کا دین سب آپ کی نبوت و رسالت کے براہین ہیں اور آپ کی امت کے صلحاء کرام کی کرامات بھی آپ کی صداقت کے دلائل سے ہیں
  • اپریل
2000
امام ابن تیمیہ
تمہید: اللہ ربّ العزت نے جب سے زمین وآسمان پیدا فرمائے ہیں ، مہینوںکی تعدادبارہ مقرر کی ہے یعنی محرم،صفر ،ربیع الاول ، ربیع الثانی ، جمادیٰ الاولیٰ ، جمادیٰ الثانیہ ،رجب ، شعبان ، رمضان ، شوال ، ذوالقعدہ ، ذوالحجہ … ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں : محرم، رجب ،ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور ان میں سے محرم الحرام کی نسبت اپنی طرف کی ہے۔