• فروری
2011
اوریا مقبول جان
اس ملک کے تھانوں میں روزانہ ایسی ہزاروں ایف آئی آر درج ہوتی ہیں جن میں مقتول کے ورثا کتنے بے گنا ہوں کانام درج کرواتے ہیں، اُنہیں قتل میں ملوث کرتے ہیں، ان کے خلاف موقع کے جھوٹے گواہ بنائے جاتے ہیں ۔ ملک کے مہنگے ترین وکیلوں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں ۔ ہو سکتا ہے ، ان میں ایسے وکیل بھی شامل ہوں جو انسانی حقوق کے علمبردار بھی ہوں ۔
  • فروری
2020
اوریا مقبول جان
شاید چند برسوں بعد کوئی اس قافلے کے لٹنے کا ماتم کرنے والا بھی میسر نہ ہو۔آج یہ داستان رقم کر دو، مرتب کردو کہ شاید گردآلود الماریوں میں موجود بوسیدہ کتابوں سے آج سے کئی سال بعد کسی کو اس تہذیب کے لٹنے اور برباد ہونے کا سراغ مل جائے۔ تہذیبیں آہستہ آہستہ اُجڑتی ہیں اور لوگ نئی تہذیب کو بھی آہستہ آہستہ اوڑھتے ہیں۔ لیکن اگر کسی منصوبہ بندی سے تبدیلی لائی جا رہی ہو تو اس کی رفتار بہت تیز ہوتی ہے اور دوسری بات یہ کہ تبدیلی لانے والے گذشتہ تہذیب کے نشان تک بھی مٹا دیتے ہیں۔
  • اکتوبر
2010
اوریا مقبول جان
ایک اور فردِ جرم اس قوم پر عائد ہوگئی۔ ظلم پر خاموشی او ربے حسی کی ایک اور ایف آئی آر قضا و قدر کے پہرے داروں اور تحریر نویسوں نے درج کرلی۔ کسی کو احساس تک نہیں کہ یہ 'فردِ جرم' سزا کے لئے نہ کسی جیوری کی محتاج ہے اورنہ استغاثہ اور صفائی کے وکیلوں کی۔ وہاں حلف اُٹھا کر جھوٹ نہیں بولا جاسکتا۔ اُس عدالت کا دستور ہی نرالا ہے۔ ہم زبان گنگ کردیں گے اور تمہارے ہاتھ اور پاں تمہارے خلاف گواہی دیں گے۔