چمنستانِ رسالت كا يہ بلبل تقريباً ستاسى سال قبل، یعنى 1918ء ميں اس دنيا ميں تشريف لايا اور تقريباً پینسٹھ سال تك مختلف گلستانوں ميں چہچہاتا رہا اور وما جعلنا لبشر من قبلك الخُلد كے ازلى قانون كے تحت 6/اگست 2005ء ميں ہميشہ كے لئے خاموش ہوگيا- آپ كو اللہ تبارك و تعالىٰ نے لحن داوٴدى عطا فرمايا تها اور جب آپ اپنى رسیلى اور سُريلى آواز سے قرآن كى آيات اور حضرت رسالت مآب كى مدح ميں اشعار پڑهتے تو لاكهوں سامعين وجد ميں آكر جهومنے لگتے-
عبدالجبار سلفی
2005
  • اگست
اہل حدیث جماعت میں یہ خبر بڑے رنج و غم سے سنی جائے گی کہ برصغیر کے نامور عالم دین اور واعظ ومبلغ حضرت مولانا عبدالمجید خادم سوہدرویؒ کے پوتے حکیم مولوی محمد ادریس فاروقی ۵؍جون ۲۰۱۰ء کو ۶۶ برس کی عمر میں حرکت قلب بند ہوجانے سے لاہور میں انتقال کرگئے۔ إنا ﷲ وإنا الیہ راجعون
عبدالرشید عراقی
2010
  • اگست
اسے ذہنی مرعوبیت کہیے ، احساس کمتری سمجھیئے یافیشن کانام دے لیجے ------
بہرحال ہمارے ہاں یہ روِش ایک عرصے سےچل نکلی ہےکہ کوئی مسئلہ ہو،اصطلاح ہو، یاکوئی حوالہ اورجملہ ، جو مغرب سےہمارے ہاں پہنچے،ہم اسےفوراً حرزِ جاں اوروِردِزبان بنالیتے ہیں ۔ اور یوں محسوس کرتے ہیں کہ گویا یہ ایک الہام ہے، جسےنقل کرنا، جس کی پیروی کرنا اورجسے عام کرنا ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔۔۔۔
اس کےباوجود ہم سینہ پھلا کر کہتےہیں کہ ہم آزادہیں ! 47ء کےبعد صرف ہمارے حکمران بدلے ہیں ،اذہان میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ،----
خورشید احمد
1998
  • اکتوبر
۱۴؍ اپریل کی صبح تقریباً تین بجے دین و ملت کا ایک شاہ بلوط اس دارِ فانی سے ٹوٹ کر اس عالم فنا میں غائب ہو گیا جہاں سے واپس کوئی نہیں آتا۔صبح کو جب اہل لاہور کی آنکھ کھلی تو وہ عالم اسلام کی نامور شخصیت ڈاکٹر اسرار احمد کے انتقال کی خبر سن کر دلی صدمہ سے دو چار ہو ئے۔ شہر لاہور جو اپنے دامن میں علما و فضلا کی موجودگی پر ہمیشہ نازاں رہا ہے،
عطاء اللہ صدیقی
2010
  • مئی
3؍ستمبر 2011ءبروز ہفتہ سہ پہر 4بج کر 40منٹ پر میرےموبائل فون کی گھنٹی بجی فون اٹھایاتوآواز آئی:''السلام علیکم ڈاکٹر صاحب!میں عطاءاللہ صدیقی بول رہاہوں۔کیسےمزاج ہیں آپ کے؟میری جانب سےآپ کوبہت بہت عید مبارک ہو۔اگر آپ گھر پرہوں تومیں آپ سےملنا چاہتا ہوں۔دراصل میری بیٹی کی طبیعت ابھی تک خراب ہےاور میں علاج کےسلسلہ میں آپ سےمشورہ کرناچاہتاہوں''
ڈاکٹر عمران وحید
2011
  • اکتوبر
دنیا میں حافظِ قرآن تو بہت ہیں لیکن حافظِ نماز بہت کم دیکھنے میں آئے ہیں۔ ان میں سے ایک حضرت مولانا عبد اللہ صاحب کلسویؒ بھی تھے، جو ۱۱ جنوری ۱۹۷۱؁ بروز پیر کی صبح سے چند گھنٹے پہلے ہمیں ہمیشہ کے لئے داغ مفارقت دے گئے۔ انا لله وانا الیه رٰجعون۔

یہ حقیقت ہے کہ ایسے عالم باعمل کے اُٹھ جانے سے جو خلا پیدا ہو چکا ہے وہ مشکل سے ہی پورا ہو گا۔ چند ہی سالوں میں ہم سے علم و عمل کے بیش بہا موتی،
عبدالسلام فتح پوری
0
کبھی کبھی لفظ بہت چھوٹےہوجاتےہیں اورکہنےوالےکی بات اوردکھ بہت زیادہ۔دل چاہتاہےکہ ان کاتذکرہ نوکِ قلم سےنہیں بلکہ خون دل سےکیاجائےاورسچی بات تویہ ہےکہ پھربھی حق ادانہیں ہوگا۔محمد عطاءاللہ صدیقی رحلت فرماگئے۔إنالله وإناإليه راجعون
دل شدت غم سےپھٹاجارہاہےاور ان کی ناگہانی موت کایقین کرنامشکل۔
روبینہ شاہین
2011
  • اکتوبر
راقم الحروف کا محترم جناب ڈاکٹر اسرار احمد سے پہلا شعوری تعارف گریجویشن کے دوران ۱۹۹۸ء میں ہوا۔ اور اس کا ذریعہ، شرک پر ان کی چھ عدد آڈیو کیسٹس بنیں۔ توحید و شرک کے موضوع پر ان کا یہ خطاب اس قدر جامع مانع تھا کہ اس نے ڈاکٹر صاحب ؒ سے ایک تعلق قائم کردیا۔ اس کے بعداپنے گاؤں پنڈی گھیپ، ضلع اٹک میں ہی ڈاکٹر صاحب کی قائم کردہ تنظیم اسلامی کی چھوٹی سی لائبریری سے رابطہ قائم ہوا
محمد زبیر
2010
  • مئی
پروفیسر رشیداحمد صدیقی اپنی کتاب 'گنج ہائے گراں مایہ' میں لکھتے ہیں کہ ''موت سے کسی کو مفر نہیں، لیکن جو لوگ ملی مقاصد کی تائید وحصول میں تادمِ آخر کام کرتے رہتے ہیں، وہ کتنی ہی طویل عمر کیوں نہ پائیں، ان کی وفات قبل از وقت اور تکلیف دہ محسوس ہوتی ہے۔''

شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانبازؒ پر یہ جملہ مکمل طور پر صادق آتاہے جو ۱۳؍ دسمبر۲۰۰۸ء مطابق ۱۴؍ذی الحجہ ۱۴۲۹ھ بروز ہفتہ رات آٹھ بجے سیالکوٹ میں اس دنیاے فانی سے رحلت فرماگئے۔ إنا ﷲ وإنا الیه راجعون!
عبدالرشید عراقی
2010
  • اپریل
إِنّا لِلَّهِ وَإِنّا إِلَيهِ ر‌ٰ‌جِعونَ

قلعہ میاں سنگھ کے مشہور اہل حدیث خاندان کے چشم وچراغ حکیم عبدالقیوم صاحب چند ماہ پہلے 23اگست 1990ء کو اس جہان فانی سے رخصت ہوگئے۔

تعلیم:
حکیم خلیل الرحمن
1992
  • جنوری
بابائے تبلیغ حضرت مولانا محمد عبداللہ گورداس پوری﷫ برصغیر پاک و ہند کے نامور عالم دین تھے۔ اُنہوں نے دعوت و تبلیغ کے میدان میں اپنی واعظانہ صلاحیتوں، بلند آہنگ خطابت اور حکیمانہ اسلوب تبلیغ سے لوگوں کو توحید و سنت کا عامل بنایا اور انہیں'صراط مستقیم' دکھا کر نیک نام ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے مولانا محمدعبداللہ صاحب کو علم و عمل کا حظ ِوافر عطا کیا اور بے پناہ اوصاف و کمالات سے نوازا تھا۔
محمد رمضان سلفی
2012
  • ستمبر
چند ہی ماہ قبل میرے حقیقی بڑے بھائی محمد سلیمان کیلانی مورخہ 2 نومبر 1988ء کو ہمیں داغِ مفارقت دے گئے، یہ صدمہ ابھی بھولا بھی نہ تھا کہ مورخہ 17 فروری سئہ 1989ء بمطابق 10 رجب المرجب سئہ 1409ھ میں میرے حقیقی چچا جناب حافظ عبدالحئی صاحب ولد مولوی امام الدین صاحب کیلانی بھی بعمر 96 سال قمری بمقام کوٹ چاندی عالم جاودانی کو سدھار گئے ﴿إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ﴿١٥٦﴾...البقرة" اللہ تعالیٰ آپ کی خطاؤں سے در گزر فرمائے، اعمالِ صالحہ کو قبول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں بلند درجات پر فائز فرمائے آمین۔
ابتدائی تعلیم
آپ 13 رجب المرجب 1313ھ بمطابق یکم نومبر سئہ 1895ء کو بمقام حضرت کیلیانوالہ (ضلع گوجرانوالہ) پیداہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والدِ بزرگوار مولوی امام الدین صاحب سے حاصل کی، مولوی امام الدین صاحب (یعنی میرے دادا مرحوم) ایک جید اور معروف عالمِ دین تھے۔ جنہوں نے مدرسہ غزنویہ امرتسر سے اکتسابِ علم کیا تھا۔ علم النحو اور عربی زبان میں آپ کی مہارت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ سب سے پہلے بخاری شریف پر اعراب آپ ہی نے لگائے تھے۔ عالم دین ہونے کے علاوہ آپ اعلیٰ درجہ کے خوشنویس بھی تھے۔ تیسیر الباری (شرح صحیح بخاری) جو علمائے غزنویہ کے زیر اہتمام تحت السطور ترجمہ اور حواشی کے ساتھ تیس پاروں کی شکل میں شائع ہوئی۔ اس کا متن آپ نے، اور ترجمہ اور حاشیہ آپ کے بھائی محمد الدین نے کتابت کیا تھا۔ اگرچہ آپ اردو عربی ہر دو رسم الخط کے ماہر تھے تاہم زیادہ تر شغف عربی کی کتابت سے ہی تھا
عبدالرحمن کیلانی
1989
  • اپریل
ابا جان کے شجرہ میں اتنا حصہ تو معروف ہے:عبدالغفار حسن بن عبدالستار حسن بن عبدالجبار عمرپوری بن منشی بدرالدین بن محمد واصلمورّثِ اعلیٰ کے بارے میں بتایا جاتاہے کہ شیخ حِبّان نامی ایک شخص جن کا تعلق مصر سے تھا، ہندوستان آکر آباد ہوگئے،
صہیب حسن
2007
  • مئی
حاجی ظہورالٰہی کےبارے میں یہ مضمون اُن کی وفات کے فوراً بعد 18 سال قبل،جون 1995ء میں تحریر کیا گیا تھا۔ اس عرصے میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں، بہت سے اضافے ناگزیر ہوگئے ہیں، بہت سی نئی معلومات سامنے آئی ہیں، کچھ پہلو مزید وضاحت طلب ہوگئے ہیں، جن توقعات کا اظہار کیا گیا تھا، کچھ پوری اور کچھ نقش برآب ثابت ہوئی ہیں۔ چنانچہ اس مضمون کے آخر میں استدراک کے طور پر مزید معلومات اور تأثرات کا اظہار کیا گیا ہے
صلاح الدین یوسف
2013
  • ستمبر
۴؍ اپریل ۲۰۱۰ء بروزاتوار بوقت۹ بجے صبح شیخ التفسیر حافظ محمد حسین امرتسری روپڑیؒ کے بڑے بیٹے حافظ عبد اللہ حسین روپڑیؒ ۷۷ برس کی عمر میں کراچی میں انتقال کر گئے جن کی نمازِ جنازہ ان کے بہنوئی پروفیسر حافظ ثناء اللہ خاں نے روپڑی خاندان کے زیر اہتمام ڈیفنس کالونی، کراچی کی جامع مسجد عمر بن عبدالعزیز میں اسی روز بعد نمازِ مغرب پڑھائی اور اُنہیں نئی تعمیر کردہ کالونی 'گلشن معمار' میں ۱۰بجے رات سپردِ خاک کر دیا گیا۔
حسین ازہر
2010
  • مئی
حافظ نذراحمد اگست1919ءمیں جب پہلی جنگ عظیم کےشعلےبجھ چکےتھےالحاج ضمیراحمد کےہاں ' نگینہ ضلع بجنور' یو پی بھارت میں پیداہوئے۔علاقہ کےمعروف اورجید حافظ اوراپنےحقیقی ماموں نیازاحمد سےحفظِ قرآن اوربرصغیر کےچوٹی کےپانچ قراءمیں سےقاری محمد سلیمان سےتجوید پڑھنےکی سعادت حاصل کی۔1935ءمیں لاہور میں نقل مکانی ہوئی اوراس طرح یہ نگینہ لاہور میں فٹ ہوگیا۔
شیخ مزمل احسن
2011
  • اکتوبر
حضرت شاہ فیصل رحمۃ اللہ علیہ شہید ہو گئے

...........اِنَّا لِلہِ وَاِنَّا اِلَیْهِ رَاجِعُوْنَ

۲۵؍ مارچ پاسبانِ حرم اور سعودی عرب کے فرمانروا شاہ فیصل بن عبد العزیز ایک قاتلانہ حملہ میں شہید ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
عبدالرحمن عاجز
1975
  • مارچ
  • اپریل
حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں علامہ اقبالؒ کا یہ مصرعہ تو مشہور ہے، مگر بہت کم لوگ واقف ہوں گے کہ علامہ اقبالؒ نے یہ مصرعہ کس واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے؟

قارئین کرام! ہر زمانے میں کچ لوگ ایسے پیدا ہوتے رہے ہیں جنہو نے دینِ اسلام کی خاطر سختیاں برداشت کیں،
چودھری عبدالحفیظ
1971
  • مئی
منکیرہ میں رہائش :حج سے واپس آکر کچھ عرصہ چک نمبر 157 نزد صادق آباد قیام رکھا، وہاں سے تحصیل بھکر ضلع میانوالی کے مشہور شہر منکیرہ (حال تحصیل منکیرہ ضلع بھکر) میں رہائش پذیر کرلی او راپنی زندگی کے بقیہ دن یہیں پورے کئے۔مختلف تحریکوں میں آپ کا کردار:آپ ابتداء ہی سے متحرک قسم کے آدمی تھے۔ دہلی میں زمانہ تعلیم کے دوران آپ نے ایک انجمن بنا م''انجمن طلبائے اہل حدیث صوبہ پنجاب مدارس عربیہ
سعید مجتبیٰ سعیدی
1987
  • فروری
شاہراہِ زندگی کی منازل طے کرنے کے بعد موت کے پل کو عبور کرکے دارِعقبیٰ میں قدم رکھنا ہر ذی روح کے لئے اللہ تعالیٰ کا مقررہ کردہ اٹل قانون ہے جس کے تحت لاکھوں انسان دارِفانی میں آنکھ کھولتے اور ہزاروں لوگ کچھ اس انداز سے رخت ِسفر باندھتے ہیں کہ کسی کوخبر تک نہیں ہوتی۔ مگر کچھ لوگ اپنے سیرت و کردار ، حسن اخلاق اور علمی کارناموں کی حسین یادیں کتابِ زمانہ کے اوراق میں بکھیر جاتے ہیں
عبدالشکور ظہیر
2001
  • مئی

اکل حلال، صدقِ مقال، زہدو وَرع، علم و عمل، عبادت و رِیاضت، رُشد و ہدایت، ظاہری اور باطنی اعتبار سے حسین و جمیل اور خوبصورت و خوب سیرت 'گلستانِ لکھویہ' کا تعارف تحصیل حاصل ہے جن کا سلسلۂ نسب محمد بن حنفیہ کے توسط سے سیدنا علی سے جاملتا ہے۔اس خاندان کے برصغیر میں اوّلین بزرگ حافظ محمد امین تھے جو بابا ڈھنگ شاہ کے عرف سے مشہور و معروف بزرگ تھے۔

عبدالجبار سلفی
2012
  • جنوری
وفات حسرت آیات

مؤرخہ ۱۹ جنوری ۱۹۷۱؁ بروز منگل گوجرانوالہ سے یہ اندوہناک اطلاع ملی کہ جماعتِ اہل حدیث کے بزرگ، علمائے حدیث کے رفیق کار اور دین و عمل کے شیدائی آج صبح سات بجے انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیه راجعون۔
ادارہ
1971
  • جنوری
  • فروری
پورا نام : شاہ محمد اسماعیل

والد کا نام : شاہ عبدالغنی

مقام پیدائش : دھلی
اسعد گیلانی
1979
  • ستمبر
  • اکتوبر
شیخ احمد بارہویں صدی کے آغاز میں یمن میں پیدا ہوئے اور معروف ہم عصر علماء سے استفادہ کیا۔ ان کے اساتذہ میں محسن نخعی، بہاء الدین آملی، علی زبیری اور ابراہیم صنعائی جیسے لوگ شامل ہیں۔

اوائل عمر سے سیر و سیاحت کا شوق تھا، بارہویں صدی کے اواخر یا تیرہویں صدی کے آغاز میں برصغیر ہندوستان میں آئے۔
اختر راہی
1973
  • جولائی
  • اگست
(1)    شیخ صالح بن عبدالعزیز آلِ شیخ (وزیر اوقاف و مذہبی اُمور، سعودی عرب)
’’اللہ کے فیصلے اور اس کی تقدیر پر ہم راضی ہیں اور ’’انا لله وانا الیه راجعون‘‘کہتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ علامہ شیخ محمد ناصر الدین البانی کی وفات ایک المناک واقعہ ہے، کیونکہ وہ امت کے ان علماء و محدثین میں سے تھے کہ جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی حفاظت فرمائی اور سنت ِرسول ؐ کی نشرواشاعت کی‘‘
محمد اسحٰق زاہد
1999
  • نومبر