اصلی کمی : دنیا میں کمی مخلص کارکنوں اور اچھی تحریکوں کی نہیں ہے۔چپہ چپہ پرآپ کو ملیں گی اور ہر سر اس کا سودائی نظر آئے گا۔ ہاں کمی اگر ہے تو ''کار خیر'' شروع کرکے اس کو نباہ دینے کی ہے۔لوگ عموماً بڑی گرمجوشی ،ولولہ آتشیں اور بے قابو جذبہ نیک کے ساتھ طوفان بن کر ابھرتے ہیں مگر ہمارے دیکھتے دیکھتے ، وہ ابھر کر جھاگ کی طرح بیٹھ بھی جاتے ہیں۔
عزیز زبیدی
1979
  • نومبر
  • دسمبر
قرآن مجىد كى سورتوں کے ناموں كو اکثر لوگ جانتے ہیں مگر کچھ ایسی آیات بھی ہیں جن کے مفسرین نے نام رکھے ہیں اور وہ تفسیر کرتے ہوئے ان کے باقاعدہ نام لیتے ہیں۔ اور آىات كے نام ركھے بھى جاسكتے ہىں جىسا كہ بعض آیات کے نام نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام ﷢ سے بھی ثابت ہیں۔عربى تفاسىر كے مطالعے كے دوران مىں ان آىات كا نام لىا جاتا ہے مگر ان كا علم نہ ہونے كى وجہ سے فہم مىں خلا رہ جاتا ہے۔ اسی ضرورت کے تحت وہ آیات پیش کی جاتی ہیں جن کے نام مفسرین کے ہاں متداول ہیں اور ساتھ ہی ان آیات کے سببِ نزول ،مختصر احکام اور نکات درج کیے جاتے ہیں۔ ان آیات کی ترتیب وہی رکھی گئی ہے جو قرآنِ مجید کی ہے۔
محمد نعمان فاروقی
2015
  • جولائی
  • اگست
''اجی، چھوڑیئے، احادیث کو۔ ان میں اختلافات ہیں، لہٰذا وہ اسلامی آئین کے لئے بنیاد اور مسائل حیات کے لئے دلیل و سند کیوں کر ہوسکتی ہیں۔''
یہ ہیں وہ الفاظ، جو اکثر و بیشتر منکرین حدیث کی زبان پر جاری و ساری رہتے ہیں، لیکن جب اس کے جواب میں یہ کہا جاتا ہے کہ ایسا اختلاف تعبیر قرآن میں بھی ممکن ہے... تو یہ جواب ، ان کے لئے، سانپ کے منہ میں چھچھوندر والا معاملہ پیدا کردیتا ہے،
محمد دین قاسمی
2002
  • اگست
  • ستمبر
﴿فَما أوتيتُم مِن شَىءٍ فَمَتـٰعُ الحَيوٰةِ الدُّنيا ۖ وَما عِندَ اللَّـهِ خَيرٌ‌ وَأَبقىٰ لِلَّذينَ ءامَنوا وَعَلىٰ رَ‌بِّهِم يَتَوَكَّلونَ ﴿٣٦﴾ وَالَّذينَ يَجتَنِبونَ كَبـٰئِرَ‌ الإِثمِ وَالفَوٰحِشَ وَإِذا ما غَضِبوا هُم يَغفِر‌ونَ ﴿٣٧﴾ وَالَّذينَ استَجابوا لِرَ‌بِّهِم وَأَقامُوا الصَّلوٰةَ وَأَمرُ‌هُم شور‌ىٰ بَينَهُم وَمِمّا رَ‌زَقنـٰهُم يُنفِقونَ ﴿٣٨﴾ وَالَّذينَ إِذا أَصابَهُمُ البَغىُ هُم يَنتَصِر‌ونَ ﴿٣٩﴾...سورة الشورى

"غرض جو کچھ بھی تم کو دیا گیا ہے (وہ تو) دنیا کی زندگی کا (صرف چند روزہ) ساز و سامان ہے اور جو کچھ خدا کے ہاں ہے وہ بہتر (بھی) ہے
عزیز زبیدی
1977
  • جنوری
نام ونسب:

امام ابن جریرؒ کا مکمل نام ابوجعفر محمد بن جریر بن یزید ابن کثیر غالب طبری ہے۔

جائے پیدائش:
ثنااللہ مدنی
1990
  • فروری
﴿وَإِذ قالَ رَ‌بُّكَ لِلمَلـٰئِكَةِ إِنّى جاعِلٌ فِى الأَر‌ضِ خَليفَةً قالوا أَتَجعَلُ فيها مَن يُفسِدُ فيها وَيَسفِكُ الدِّماءَ وَنَحنُ نُسَبِّحُ بِحَمدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قالَ إِنّى أَعلَمُ ما لا تَعلَمونَ ﴿٣٠﴾... سورةالبقرة

"اور وہ وقت یاد کیجئے جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں ۔انھوں نے کہا کیا تو اس میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت وخون کرتا پھرے اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تسبیح وتقدیس کرتے رہتے ہیں۔اللہ نے فرمایا،میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ۔"
صدیق حسن خان
1989
  • جنوری
تذکیر قصص القرآن:

(ف) قرآن مجید میں مخلوقات کے عجائب کا علم ،ملکوت ارض وسماوات کا علم،اس چیز کا علم جو آسمان وتحت الثریٰ میں ہے۔خلق کے آغاذ کا علم،مشاہیرانبیاءؑ ورسلؑ اور ملائکہ کا نام اور گزشتہ امتوں کے احوال کا ذکر موجود ہے۔مثلا ً حضرت آدمؑ کاابلیس کے ساتھ جنت سے نکلنا،اولاد کا نام عبدالحارث رکھنا،حضرت ادریسؑ کا آسمان پر اٹھایا جانا۔نوح ؑ کی قوم کا غرق ہونا۔
صدیق حسن خان
1989
  • اگست
  • ستمبر
مادّیت کے اس دو رمیں انسان کے وجود پرمادّی حوالے سے بہت کچھ لکھا جارہا ہے لیکن 'انسان' پر روحانی پہلو سے توجہ نہیں دی جارہی، نہ اس ضمن میں وحی الٰہی سے فائدہ اُٹھایا جارہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج کا انسان مادّی طور پر کسی حد تک مطمئن ہوجانے کے باوجود روحانی حوالے سے بہت کھوکھلا اور تشنہ ہے۔
عبداللہ بن محمد المعتاز
2001
  • ستمبر
انبیاء علیہم السلام کی شہادت یا دشمن کے ہاتھوں قتل کے بارے میں علماء میں دو مختلف آراء مشہور ہیں:
1۔ دشمن کے ہاتھوں رسول کا قتل ناممکن ہے۔
2۔ دشمن کے ہاتھوں نبی یا رسول کا قتل ممکن ہے۔
جیسا کہ متعدد قرآنی آیات سے ظاہر ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ مسئلہ ہذا کچھ وضاحت ک متقاضی ہے۔
اولا لفظ قتل کی تعریف ملاحظہ فرمائیں:
قتل کے حقیقی معنی ہیں (موت فطری کے علاوہ کسی اور طریقے سے) روح کو جسم سے جدا کر دینا خواہ ذبح کی صورت میں ہو یا کسی اور طریقے سے۔
اب تفصیل اس اجمال کی ہوں کہ رُسُلُ اللہ دو طبقوں میں منقسم ہے۔
ایک وہ جن کو دشمنوں کے ساتھ جنگ کا حکم دیا گیا تھا۔ دوسرے وہ جو محج مبلغ تھے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لڑائی کے مامور نہ تھے۔
حافظ ثناء اللہ مدنی
1989
  • جنوری
قرآنِ کریم کی آیت﴿وَظَلَّلنا عَلَيكُمُ الغَمامَ﴾ کی تفسیر ان دنوں بعض مفسرین نے اس طرز پر کی ہے جو تفسیرسلف کے مخالف ہے۔چنا نچہ ایک نامور مفسرآیت ِکریمہ ﴿وَظَلَّلنا عَلَيكُمُ الغَمامَ...٥٧ ﴾... سورة البقرة" کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
«فی واد التيه أی أرسلنا السماء عليکم مدرارا لأن بني إسرائيل أقاموا فی واد التيه أربعين سنة فکيف يکون المراد الظل المعروف فافهم لقوله تعالی» ﴿إِنَّها مُحَرَّ‌مَةٌ عَلَيهِم ۛ أَر‌بَعينَ سَنَةً...٢٦ ﴾... سورة المائدة
عبداللہ روپڑی
2002
  • اپریل
آیت نمبر :125، "اور وہ وقت یاد کیجئے جب ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے جمع ہو نے اور جائے امن مقرر کیا اور حکم دیا کہ جس مقام پر ابراہیم علیہ السلام کھڑے ہوئے تھے اس کو نماز کی جگہ بنا لو ۔۔۔۔
صدیق حسن خان
1995
  • جنوری
مسائل آمین:

سورۃ فاتحہ پڑھنے کے بعد آمین کہنا مشروع ومستحب ہے۔آمین کے معنیٰ ہیں"اے اللہ ہم سے قبول کر" اس دعا کو منزل مقصودتک پہنچا۔وائل بن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب"ولاالضالین" کہا،تو میں نے سُنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے "آمین کہی۔اور آواز لمبی کی۔
صدیق حسن خان
1990
  • فروری
﴿الَّذينَ يُؤمِنونَ بِالغَيبِ﴾

"ترجمہ:۔جو غیب پرایمان لاتے ہیں۔

یہ متقین کی صفت ہے کہ وہ غیب کی بات پر ایمان لاتے ہیں ایمان کہتے ہیں تصدیق کو یعنی دل سے کسی بات کو سچ اور برحق ماننا۔کسی نے کہا یہاں ایمان کے معنیٰ ڈر ہیں۔ابن جریرؒ نے کہا اولیٰ یہ ہے۔کہ وہ لوگ ایمان بالغیب کےساتھ قول،اعتقاد اور عمل سے متصف ہیں۔
صدیق حسن خان
1990
  • مارچ
ترجمہ: یہ (اپنے پندارمیں ) اللہ کو اور مومنوں کو چکما دیتے ہیں ۔

"خداع" کا لغوی معنی فساد ہے مطلب یہ ہوا مفسدوں کا ساکا م کرتے ہیں اگرچہ اللہ پر کسی کا فساد مخفی نہیں رہتا ۔

﴿ وَما يَخدَعونَ إِلّا أَنفُسَهُم وَما يَشعُر‌ونَ ﴿٩﴾... سورةالبقرة
محمد اسرائیل فاروقی
1985
  • اپریل
اللہ کے بغیر دنیا میں کو ئی ما لک و مختار نہیں جو غیر اللہ کو مالک کہتے ہیں یہ کہنا مجازاًہے ۔یہ مجاز قرآن پاک میں بھی آیا ہے ۔

﴿إِنَّ اللَّهَ قَد بَعَثَ لَكُم طالوتَ مَلِكًا... ﴿٢٤٧﴾... سورةالبقرة

"اللہ نے تم پر طالو ت کو بادشاہ مقرر فر ما یا ہے ۔
صدیق حسن خان
1990
  • جنوری
مجھ ہی سے ڈرو:۔

"مجھ ہی سے ڈرو" یہ حکم اس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے کیے گئے عہد کو توڑ دو گے تو وہ تمھیں سخت سزا دے گا۔ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ان سزاؤں سے مراد وہ تمام آفات اور مصائب ہیں جو عہد شکنی کے جرم میں ان کےآباؤاجداد پر نازل ہوئیں ان میں صورتوں کامسخ(بگاڑ) ہونا بھی شامل ہے۔"
صدیق حسن خان
1992
  • اکتوبر
﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَقولوا ر‌ٰ‌عِنا وَقولُوا انظُر‌نا وَاسمَعوا وَلِلكـٰفِر‌ينَ عَذابٌ أَليمٌ ﴿١٠٤﴾ ما يَوَدُّ الَّذينَ كَفَر‌وا مِن أَهلِ الكِتـٰبِ وَلَا المُشرِ‌كينَ أَن يُنَزَّلَ عَلَيكُم مِن خَيرٍ‌ مِن رَ‌بِّكُم وَاللَّهُ يَختَصُّ بِرَ‌حمَتِهِ مَن يَشاءُ وَاللَّهُ ذُو الفَضلِ العَظيمِ ﴿١٠٥﴾... سورة البقرة

ترجمہ:۔اے ایمان لانے والو! گفتگو کے دوران رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو" رَاعِنَا " نہ کہا کرو بلکہ" انظُرْنَا "کہاکرو اور خوب یاد رکھو اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔"
چودھری عبدالحفیظ
1994
  • جنوری
﴿وَإِذ أَخَذنا ميثـٰقَكُم لا تَسفِكونَ دِماءَكُم وَلا تُخرِ‌جونَ أَنفُسَكُم مِن دِيـٰرِ‌كُم ثُمَّ أَقرَ‌ر‌تُم وَأَنتُم تَشهَدونَ ﴿٨٤﴾... سورة البقرة

"اورجب ہم نے تم سے عہد لیا کہ آپس میں کشت وخون نہ کرنا اور اپنے آ آپ کو اپنے وطن سے نہ نکالنا پھر تم نے اس کا اقرار بھی کرلیا اور تم اس پر گواہ ہو۔"

﴿ثُمَّ أَنتُم هـٰؤُلاءِ تَقتُلونَ أَنفُسَكُم وَتُخرِ‌جونَ فَر‌يقًا مِنكُم مِن دِيـٰرِ‌هِم تَظـٰهَر‌ونَ عَلَيهِم بِالإِثمِ وَالعُدو‌ٰنِ وَإِن يَأتوكُم أُسـٰر‌ىٰ تُفـٰدوهُم وَهُوَ مُحَرَّ‌مٌ عَلَيكُم إِخر‌اجُهُم أَفَتُؤمِنونَ بِبَعضِ الكِتـٰبِ وَتَكفُر‌ونَ بِبَعضٍ فَما جَزاءُ مَن يَفعَلُ ذ‌ٰلِكَ مِنكُم إِلّا خِزىٌ فِى الحَيو‌ٰةِ الدُّنيا وَيَومَ القِيـٰمَةِ يُرَ‌دّونَ إِلىٰ أَشَدِّ العَذابِ وَمَا اللَّهُ بِغـٰفِلٍ عَمّا تَعمَلونَ ﴿٨٥﴾... سورة البقرة
صدیق حسن خان
1993
  • اگست
«بِسمِ اللَّهِ الرَّ‌حمـٰنِ الرَّ‌حيمِ.الحَمدُ لِلَّهِ رَ‌بِّ العـٰلَمينَ.الرَّ‌حمـٰنِ الرَّ‌حيمِ.مـٰلِكِ يَومِ الدّينِ.إِيّاكَ نَعبُدُ وَإِيّاكَ نَستَعينُ. والصلوة والسلام على عبده ورسوله محمد سيد المرسلين وخاتم النبيين وعلى اله واصحابه ومن تبعهم بالاحان اجمعين اكتعين ابصعين»

ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اپنے پروردیگار اور اپنے معبود کو پہچانے اس کی صفتوں کو جانے اس کے احکام معلوم کرے۔
صدیق حسن خان
1989
  • جون
﴿وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ لَوْلَا يُكَلِّمُنَا اللَّـهُ أَوْ تَأْتِينَا آيَةٌ ۗ كَذَٰلِكَ قَالَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِم مِّثْلَ قَوْلِهِمْ ۘ تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ ۗ قَدْ بَيَّنَّا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ ﴿١١٨﴾...البقرة
"اور جولوگ کچھ نہیں جانتے(مشرکین) وہ کہتے ہیں کہ اللہ ہم سے گفتگو کیوں نہیں کرتا یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی۔اس طرح ان سے پہلے لوگ بھی انہی کی سی باتیں کیا کرتے تھے۔ان لوگوں کے  دل آپس میں ملتے جلتے ہیں،جولوگ صاحب یقین ہیں ان کے لئے ہم نے نشانیاں بیان کردی ہیں۔"
تشریح:۔
یہاں پہلے لوگوں سے مراد یہودی ہیں،وہ لوگ بھی اپنے نبی  علیہ السلام  سے یہی کہتے تھے جو مشرکین مکہ کہہ رہے ہیں۔ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے  فرمایا:رافع بن حرملہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  سے کہا:اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !اگر آپ اللہ کے رسول ہیں جیسا کہ آپ کہتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  اللہ سے کہیں کہ وہ ہم سے باتیں کرے،ہم اس کی گفتگو کو سُنیں اس پر آیت نازل ہوئی۔
صدیق حسن خان
1994
  • اکتوبر
آیت نمبر۔137،138۔
﴿فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنتُم بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوا ۖ وَّإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ ۖ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّـهُ ۚ وَهُوَالسَّمِيعُ الْعَلِيمُ ﴾﴿صِبْغَةَ اللَّـهِ ۖ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّـهِ صِبْغَةً ۖ وَنَحْنُ لَهُ عَابِدُونَ﴾...البقرة
" اگر وه تم جیسا ایمان لائیں تو ہدایت پائیں، اور اگر منھ موڑیں تو وه صریح اختلاف میں ہیں، اللہ تعالی ان سے عنقریب آپ کی کفایت کرے گا اور وه خوب سننے اور جاننے والا ہے(137) اللہ کا رنگ اختیار کرو اور اللہ تعالیٰ سے اچھا رنگ کس کا ہوگا؟ ہم تو اسی کی عبادت کرنے والے ہیں”
صدیق حسن خان
1995
  • جولائی
مرفوعاً یوں  آیا ہے کہ"وہ پھول کر گھر کے برابر ہوجاتاہے۔؟بسم اللہ کہنے سے ایک مکھی کی مانند چھوٹا ہوجاتا ہے یہ تاثیر بسم اللہ کی برکت ہے۔
ابن کثیر ؒ کہتے ہیں "اسی لئے ہر کام اور ہر بات سے پہلے بسم اللہ کہنا مستحب ہے جیسے کتاب کے دیباچے سے پہلے ،بیت الخلاء میں داخل ہونے سے پہلے اوروضو سے پہلے،بعض علماء کے نزدیک وضو سے پہلے "بسم اللہ " کہنا واجب ہے۔اسی طرح ذبحہ کے وقت کھانے سے پہلے ،جماع سے پہلے بسم اللہ کہنا مستحب یاواجب ہے۔اس باب میں بہت سی حدیثیں آئی ہیں۔
حدیث ابو ہریرۃ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  میں مرفوعاًآیا ہے۔اللہ کے نناوے نام  ہیں،جس نے انھیں یاد کرلیا وہ جنت میں جائےگا۔(بخاری ومسلم)
صدیق حسن خان
1989
  • دسمبر
﴿ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَىٰ فَمَا رَبِحَت تِّجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ ﴿١٦﴾...البقرة
ترجمہ:۔یہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی خریدی تو نہ تو  ان کی  تجارت ہی نے کچھ نفع دیا اور نہ وہ ہدایت یاب ہی ہوئے۔"
صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کی ایک جماعت نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ گمراہی لے لی۔اور ہدایت چھوڑ دی۔ابن عباس  رضی اللہ  تعالیٰ عنہ  نے فرمایا ایمان دے کر  کفر خرید لیا۔مجاہد ؒ نے فرمایا ایمان لانے کے بعد کافر ہوئے ،قتادہ  رضی اللہ  تعالیٰ عنہ  نے فرمایا۔انہوں نے گمراہی کو ہدایت پر ترجیح دی۔جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔
ترجمہ"۔اور جو ثمود تھے ان کوہم نے سیدھا  رستہ دکھایا تھا مگر  انہوں نے ہدایت کے مقابلے میں اندھا رہنا پسند کیا۔
صدیق حسن خان
1990
  • مئی
ابن کثیرؒ کہتے ہیں ۔یہ آیت تو حید باری تعا لیٰ پر دلیل ہے کہ اُس کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں کرنا چاہیے ۔صرف اُس کی عبادت لازم ہے مفسریننے اس آیت سے باری تعا لیٰ کے وجود پر استدلال کیا ہے جس طرح یہ آیت وجود باری تعا لیٰ پر دال ہے ۔اُسی طرح یہ آیت تو حید عبادت پر بھی بطریق اَولیٰ دلیل ہے کیونکہ جو آدمیان موجود ات سفلیہ اور عُلویہ اور لوگوں کی صورتوں اور رنگوں طبائع اور منافع کے اختلاف میں غور کرے گا تو اُسے پتہ چلے گا ان منافع کو کس عمدہ طریقے سے اس مقام اور منصب پر رکھا گیا ہے تو ضروری طور پر وہ ان سب کے خالق کی قدرت و حکمت علم و اتفاق اور عظمت و شان کو جان لے گا ۔
صدیق حسن خان
1990
  • جولائی
جن یا فرشتہ؟؟؟
جہاں یہ فرمایا:۔﴿كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِ... ﴿٥٠﴾...الكهف
ترجمہ:۔ "وہ جنات میں سے تھا اپنے رب کی حکم عدولی کا مرتکب ہوا۔"
چنانچہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔ابلیس کا اس حکم عدولی سے پہلے فرشتے میں شمار ہوتا تھا۔"عزازیل" نام تھا۔زمین پر رہتا تھا اور نہ صرف سب سے زیادہ علم رکھتا تھا۔بلکہ سب سے زیادہ عابد بھی تھا۔انہیں خوبیوں کے گھمنڈ میں اس نے تکبر کیا۔مگر یہ بات طے ہے کہ اس کا تعلق جنات سے تھا۔
دوسری روایت یہ ہے کہ اس کا پہلا نام عزازیل تھا۔فرشتوں میں معزز تھا۔چار پر ر کھتا تھا۔ بعد میں ابلیس کہلایا۔تیسری روایت یہ ہے کہ آسمان وزمین کی بادشاہت اورسیاوت کا مالک تھا۔لیکن معصیت کی پاداش میں اللہ نے اسے مسخ کرکے شیطان رجیم قرار دے دیا۔۔۔
صدیق حسن خان
1992
  • اپریل