قارئین محترم! کسی گذشتہ شمارے میں ہم آپ کے سامنے پریوی کونسل لندن کا ایک تاریخی فیصلہ پیش کرچکے ہیں۔ آپ کو اندازہ ہوچکا ہوگا کہ آج کے بریلوی احباب کا واویلا بعد از مرگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ تقلید و عدم تقلید ، رفع الیدین، آمین بالجہر یاقرأت فاتحہ خلف الامام ایسے امور نہیں ہیں کہ ان کاقائل و عامل اہل سنت سے خارج کردیا جائے یا ایسے شخص کی اقتداء میں نماز ناجائز یا مکرہ ہو۔
محمد سلیمان اظہر
1976
  • نومبر
اُمت ِمسلمہ ميں چند صدياں ايسى گزرى ہيں جب اجتہاد كا دروازہ بند كركے پچهلے فقہاء ومجتہدين كى آرا پر ہى عمل كرليناكافى سمجھا جاتا رہا، ليكن موجودہ دور ميں ترقى وايجادات نے جس تيزى سے انسانى زندگى ميں محير العقول تبديلياں برپا كى ہيں، اس كے بعد وہى علما جو پہلے اجتہاد كے دروازے كو بند كرنے كاموقف ركهتے تهے، اب اسے كهولنے كے لئے آمادہ نظر آتے ہيں۔
حسن مدنی
2005
  • اپریل
قاضی بشیر احمد صاحب اسلام کے قانون سرقہ پر بحث ختم کرچکے ہیں اور قسط نمبر 7 سے انہوں نے فصل دوم یعنی قتل کے احکام کا ذکر شروع کیا ہے۔ بحث کے سیاق و سباق کو دیکھنےسے اندازہ ہوتا ہے کہ موصوف فقہ حنفی کی روشنی میں عصمت مال کی طرح عصمت دم کو بھی اورؤالمحدود بالشبہات کی نذر فرما رہے ہیں۔ ہمارے کہے بغیر انشاء اللہ قارئین خود محسوس فرمائیں گے کہ سابقہ روایات کے مطابق اسلامی جذبات و احساسات سے صرف نظر کرتے ہوئے موصوف نے عصمت دم کو فقہ حنفی کی بھینٹ چڑھانے کی کوشش کی ہے
برق التوحیدی
1978
  • اکتوبر
  • نومبر
موجودہ دور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف فکری یلغار کا دور ہے۔ ہمارے حریف نے جب ہمیں میدانِ جنگ میں ناقابلِ تسخیر پایا تو اس نے نظریاتی محاذ پر ہمیں فتح کرنے کا فیصلہ کیا۔ دشمن کا یہ وار کارگرثابت ہوا اور وہی قوم جوشمشیر و سناں کے میدان میں ناقابلِ شکست تھی فکری محاذ پر دشمن کے سامنے نیم بسمل آہو کی طرح ہوکر رہ گئی۔
محمد سرور
2008
  • جولائی
(مضمون نگار پروفیسر موصوف باذوق اہل علم، محقق، تاریخ اور سیر رجال پر عالمانہ نظر رکھنے والے ایک فاضل نوجوان ہیں، انہوں نے اپنے مضمون "انیسویں صدی کی واحد سیاسی جماعت" کی نشاندہی کرتے ہوئے جو نکات پیش کیے ہیں، قابلِ داد اور نہایت محققانہ ہیں، اس میں بعض پہلو ایسے بھی ابھر آئے ہیں جن سے غیر جانبدار مؤرخ سے زیادہ ایک مخصوص زاویہ نگاہ کا رنگ جھلکتا ہے، تو یہ دراصل ایک نوجوان قلم کی قدرتی جنبش کا نتیجہ ہے)
محمد سلیمان اظہر
1977
  • جنوری
(زیر نظر مضمون میں اپنے موضوع کو ایک مختلف انداز میں پیش کیا گیاہے جس سے اتفاق تونہیں کیا جاسکتا بالخصوص اس میں پیش کردہ حل میں اصلاح کی بہت گنجائش ہے لیکن مستشرق مقالہ نگار کی تجزیاتی صلاحیت اور مربوط پیش کش کی بنا پر اس مقالہ کو محدث میں شائع کیا جارہا ہے کیونکہ اس میں موضوع سے متعلقہ بہت سے مخفی پہلو نمایاں ہورہے ہیں،
فرانس روبنس
2001
  • جولائی
۱۹۲۳ء میں سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کی صورت میں خلافتِ اسلامیہ کا ادارہ ختم ہو گیا۔ ملحد و سیکولر ترک رہنما مصطفیٰ کمال پاشا نے اپنی ایک تقریر کے دوران آسمان کی طرف اپنا مکا لہراتے ہوئے خدا کو دکھایا او مسلمانوں میں پہلی دفعہ خدا کے تصور کو ریاست سے جدا کرنے کی بدعت کا آغاز فرمایا۔
محمد زبیر
2009
  • مئی
مادری زبان میں بات: صدر ناصر انگریزی اور فرانسیسی بھی جانتے تھے لیکن غیر ملکی رہنمائوں سے بات ''عربی'' میں ہی کرتے تھے۔ ترجمانی کے لئے ترجمان رکھتے تھے (روزنامہ امروز)

اِدھر یہ حال ہے کہ:
ادارہ
1970
  • دسمبر
مولانا امرتسری رحمۃ اللہ علیہ نہ صرف اپنے دور کے عظیم انسان ہیں بلکہ برصغیر ہند و پاک کے علمائیں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ دیگر متعدد خوبیوں کے علاوہ اُن کی خوش بیانی اور مناظرہ کی مہارت کے تو غیر بھی معترف ہیں، تقسیم ہند سے قبل تقریباً نصف صدی تک غیر مسلموں اور گمراہ فرقوں سے ان کی ٹھنی رہی اور مہارت فن اور عظیم الشان کامیابیوں کی بنا پر رئیس المناظرین اور شیر پنجاب کے لقب سے معروف ہوئے۔
اختر راہی
1973
  • مئی
رسول اللہ ﷺ کو کس مقصد کے لئے اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا اس کا ذکر مختصر مگر نہایت بلیغ الفاظ میں سورۂ احزاب میں ہوا ہے۔ ارشاد ہوا ہے یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ اِنَّا اَرْسَلْنٰکَ شَاھِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا وَّدَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ وَسِرَاجًا مُّنِیْرًا۔ یعنی بحیثیت رسول آپ ﷺ کے پانچ اوصاف ہیں۔ آپ ﷺ (نوعِ انسانی پر) گواہ ہیں، بشارت دینے والے ہیں، ڈرانے والے ہیں، اللہ کی طرف بلانے والے ہیں اور چراغِ روشن ہیں۔
آباد شاہ پوری
1976
  • مارچ
  • اپریل
بنو ہاشم پر ناجائز دباؤ اور نبی پاک ﷺ کے صحابہ کرام کی تعذیب کے علاوہ مخالفین اسلام حضور ﷺ کے اس دعوے پر بھی شدید تنقید کرتے تھے کہ آپ ﷺ پر خدا کی طرف سے وحی نازل ہوتی ہے۔ حقیقت میں وہ تنزیل کے تصور ہی کے خلاف تھے۔ اس سلسلے میں وہ چار پہلوؤں پر تنقید کرتے تھے۔
عبدالحمید صدیقی
1976
  • مارچ
  • اپریل
۱۹۷۰؁ء میں ہمارے ملک پاکستان میں یحییٰ خان کے دورِ حکومت میں جو انتخابات ہوئے اس میں پیپلز پارٹی نے بھرپور حصہ لیا تھا۔ اس پارٹی کے مقبول ترین نعرہ کے اجزاء درج ذیل تھے:

1. اسلام ہمارا دین ہے۔
عبدالرحمن کیلانی
1981
  • مارچ
  • اگست
سماع سے مراد گانے باجے سننا ہے۔ یہ جائز ہے یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے۔ علمائے احناف میں حضرت امام عبد الغنی نابلسی (ف ۱۱۴۴ھ) کا نظریہ یہ ہے کہ مشروط طور پر جائز ہے ، ورنہ ناجائز۔ انہوں نے اس موضوع پر ایک کتاب بھی لکھی ہے اس کا نام ''ایضاح الدلالات فی سماع الآلات۔'' اس میں انہوں نے ''سماع'' کے مختلف پہلوؤں سے بحث کی ہے جو خاصی دل چسپ اور طویل ہے۔
عزیز زبیدی
1972
  • مارچ
مختصر تعارف:

حضرت امام ابن تیمیہؒ ۷۶۸ھ / ۱۳۲۸ء) آٹھویں صدی کے ''مجاہد مجدد'' ہیں۔ علامہ شبلی نعمانی رحمۃ اللہ علیہ (۱۳۳۳ھ / ۱۹۱۴ء) اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں:
ادارہ
1972
  • ستمبر
  • اکتوبر
جب ہم عالمى سطح پر كفاركى پالىسىوں، اقدامات اور مسلمانوں كى صورتحال كا جائزہ لىتے ہىں تو كچھ نتائج نكھر كر ہمارے سامنے آتے ہىں، جو ىہ ہىں:
1.   دنىا كے كسى بھى خطے مىں شورشوں، اندرونى خلفشاروں اور دہشت گردىوں كا تسلسل ہے تو وہ بلادِ اسلامىہ ہى ہىں۔ بلادِ غىر مىں آپ كو اىسا كوئى تسلسل نظر نہىں آئے گا۔ اىك آدھ واقعہ ہو جانا اور بات ہے۔
محمد نعمان فاروقی
2017
  • مئی
پروفيسر خورشيد عالم ماہنامہ 'اشراق' لاہور ميں 'عورت كى امامت'كے بيان ميں لكھتے ہيں:
"پچهلے دِنوں ايك نيك سيرت اور پڑهى لكھى خاتون نے نيويارك (امريكہ) ميں جمعہ كى نماز ميں مردوں اور عورتوں كى امامت كى..."
عورت كى امامت كى دليل بيان كرتے ہوئے لكھتے ہيں:
"سنن ابوداود ميں عورت كى امامت كے عنوان كے تحت اُمّ ورقہ سے دو حديثيں روايت كى گئى ہيں۔
محمد شفیق احمد کمبوہ
2005
  • جون
ترقی سائنس، ارتقا اور معیارِ زندگی کی بلندی کے مفروضات کی تلاش میں سرگرداں ہونے سے قبل اس سوا ل پرنہایت گہرے غوروفکر کی ضرورت ہے کہ رسول اللہﷺ تاریخ کے کس موڑ پر تشریف لائے؟ جب آپؐ دنیا میں آئے تو اس دنیا کا کیانقشہ تھا؟ اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی نبوت کے لیے جس خطے کا انتخاب کیا،اس کی جغرافیائی اہمیت و حیثیت کیا تھی؟
نعمان ندوی
2011
  • مارچ
جنسی آوارگی کو انسانی جبلت قرار دینے والا مغرب، اسلامی اور ایشیائی معاشروں میں غیرت و حمیت کے تصور کے معروضی اِدراک سے اگر معذور ہے تو یہ امر تعجب کا باعث نہیں ہونا چاہئے کیونکہ رویپ کی زبانوں میں کوئی بھی لفظ ایسا نہیں ہے جسے صحیح معنوں میں "غیرت" کا مترادف قرار دیا جا سکے۔ لیکن پاکستان میں انسانی حقوق کے انتھک منادوں کی طرف سے "غیرت کے نام پر قتل" کے لئے سزائے موت کا اگر مطالبہ کیا جاتا ہے تو یقینا اسے ان کی مریضانہ مغرب زدگی سے تعبیر کیا جانا چاہئے۔
گذشتہ کئی برسوں سے مغرب کے سرمائے سے پاکستان میں چلائی جانے والی انسانی حقوق کی علمبردار NGOs کی طرف سے مسلسل یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کے لئے سزائے موت کا قانون تشکیل دیا جائے۔ اگست 1997ء میں سپریم کورٹ کے معزز جج اسلم ناصر زاہد کی سربراہی میں قائم کردہ "خواتین حقوق کمیشن" نے مفصل سفارشات پیش کیں تو اس میں ایک سفارش یہ کی گئی:
"غیرت کے مسئلہ پر قاتلانہ واردات کو قانون کے تحت "قتل عمد" قرار دیا جائے اور اس کے لئے مناسب قانون بنایا جائے" (رپورٹ، باب نمبر 6)
عطاء اللہ صدیقی
1999
  • جون
قارئین کرام نے ''محدث'' کی پہلی اشاعت کے بعد ہمیں جس طرح تحسین و تبریک کے کلمات سے نوازا ہے ہم ان کے انتہائی مشکور ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ہمارے احباب اسی طرح خصوصی توجہ اور نیک دعاؤں سے ہمیں یاد رکھیں گے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل خاص ہمارے شاملِ حال نہ ہوتا تو ہم ''محدث'' کو اِس صورت میں پیش نہ کر سکتے۔ ہم اپنی کوتاہ ہمتی کے بلا تامل اعتراف کے ساتھ بعون اللہ کوشش کریں گے
ادارہ
1971
  • فروری
  • فروری
ترجمان القرآن میں مولانا ابو الکلام آزاد مرحوم و مغفور نے سورۂ انبیا کی آیت (107) ﴿وَما أَر‌سَلنـٰكَ إِلّا رَ‌حمَةً لِلعـٰلَمينَ ﴿١٠٧﴾... سورة الانبياء" کے حواشی میں یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ آنحضرت محمد ﷺ کے ظہور کو دنیا کے لئے رحمت قرار دے کر قرآن نے ایک کسوٹی ہمارے حوالے کر دی ہے جس پر اس ظہور کی ساری صداقتیں ہم پرکھ سکتے ہیں۔ ساتھ ہی فرمایا کہ مقدمہ تفسیر کے ایک باب کا موضوع یہی مسئلہ ہے
ابو الکلام آزاد
1973
  • مئی
  • جون
موت اللہ تبارک و تعالیٰ کا وہ آئینی جابطہ ہے جس سے کسی ذی روح کو فرار میسر نہیں۔ ہر انسان اپنی زندگی کے مکتلف ادوار بچپن، جوانی یا بڑھاپا۔ کسی حصہ میں بھی کسی وقت بھی اچانک اس آئین کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ اس آئین کے تفصیلی پہلوؤں میں سے ایک تو یہ ہے کہ اس کا اطلاق ہر جاندار پر بلا تخصص و استثناء ہوتا ہے۔ چاہے وہ خود صاحبِ آئین اللہ جل شانہ، کا برگزیدہ رسول یا نبی ہی کیوں نہ ہو۔ چنانچہ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ارشاد ہوتا ہے:
﴿إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَ ﴿٣٠﴾ ... الزمر 
"آپ کو بھی مرنا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے۔"
عبدالغفور عاجز
1989
  • فروری
اسلام ایک معتدل و متوازن دین ہے جو میانہ روی کو پسند کرتاجبکہ غلو اور انتہا پسندی کے خلاف ہے۔ قرآن و سنت میں جابجا ایسی تعلیمات موجود ہیں جو اعتدال و توازن کاسبق دیتی ہیں۔ مثلاً 'انفاق' کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
وَٱلَّذِينَ إِذَآ أَنفَقُوا۟ لَمْ يُسْرِ‌فُوا۟ وَلَمْ يَقْتُرُ‌وا۟ وَكَانَ بَيْنَ ذَ‌ٰلِكَ قَوَامًا ﴿٦٧..سورۃ الفرقان
ابو الحسن علوی
2007
  • جون
اُمید ہے، مزاجِ گرامی بخیر ہوں گے۔ باعث ِتحریر آنکہ بندہ کا گذشتہ کئی سالوں سے 'الشریعہ' کے ساتھ قاری کی حیثیت سے تعلق ہے۔ شمارئہ اپریل 2007ء سے ہںیگ اچھی طرح اس کی قیمت اداکرنا پڑی ہے کہ دو ناقابل تسخیر اور بلند قامت شخصیات کے درمیان مسجد ِاقصیٰ کو کچا کھانے کے لئے پیش کردیا گیا ہے۔
2007
  • جون
مطالعۂ سیرت کی متعدد ضرورتیں، مختلف نقطۂ نظر اور ان کی اہمیتیں ہیں۔

سب سے پہلی ضرورت تو مسلمانوں کی تعلیم و اصلاح کے نقطۂ نظر سے ہے۔ حضور اکرم ﷺ کی زندگی مسلمانوں کے لئے اسوہ حسنہ ہے۔

﴿لَقَد كانَ لَكُم فى رَ‌سولِ اللَّهِ أُسوَةٌ حَسَنَةٌ...٢١﴾... سورة الاحزاب
ابوسلمان شاہ جہاں پوری
1973
  • مئی
  • جون
لاہور میں قادیانیوں کے خلاف دہشت گردی کے تازہ واقعات کے بعد، گذشتہ چند ہفتوں سے ہمارے سیکولر کالم نگار اور لبرل دانشور تواتر سے دینی مدارس کو جارحانہ تنقید کا نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔ بالخصوص انگریزی اخبارات میںاس طرح کے کالم اور مضامین تسلسل سے شائع ہو رہے ہیں۔یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ مضامین 'رینڈ کارپوریشن' جیسے امریکی تھنک ٹینکس کی کسی تازہ رپورٹ اور سفارشات کی تائید میں لکھے جارہے ہیں
عطاء اللہ صدیقی
2010
  • جولائی