مضبوط حکومت کےلئے نئے سے نئے جنگی اورزارا ایجاد  کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ نئے سے نئے آلات موسیقی :
آیات بالا میں حضرت داؤد کی حکومت سے متعلق خبر دی گئی ہے ’’شددنا ملک‘‘ کہ ہم نے ان کی حکومت  کو مضبوط پایا تو اس پر سوال پیدا ہوتا کہ مضبوط  حکومت کے لیے نیا سے نیا اسلحہ ایجادکرنے کی ضرورت ہے یا نئے سے نئے آلات موسیقی  یعنی طبلے طنبورے ،سرنگیاں ،ستاریں ،اکتارے ،کھنجریاں اور گھنگرو ایجاد کرنے کی ؟ سورہ سباء میں حضرت داؤد کے متعلق خبر دی گئی ہے :
﴿وَلَقَد ءاتَينا داوۥدَ مِنّا فَضلًا يـٰجِبالُ أَوِّبى مَعَهُ وَالطَّيرَ وَأَلَنّا لَهُ الحَديدَ ﴿١٠﴾أَنِ اعمَل سـٰبِغـٰتٍ وَقَدِّر فِى السَّردِ وَاعمَلوا صـٰلِحًا إِنّى بِما تَعمَلونَ بَصيرٌ ﴿١١﴾...سبإ
’’اور بلاشبہ ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے (خلافت ارضی کی )فضیلت  عطا فرمائی  اور اس کی مضبوط جنگی قوت کی بدولت ہم نے اپنے قانون کی زبان سے کہہ دیاکہ ) اے پہاڑی لوگوں ! اور اے  آزاد قبائل ،سب اس کے ساتھ مل کر میرے مطیع ہو جاؤ اور ہم نے اس کےلئے  لوہے کو نرم پایا (اور حکم دیا کہ ) تو زرہیں بنا یا کر اور ان کے حلقوں میں صحیح صحیح  اندازے رکھا کر یعنی تم (لوہے سے جنگی سامان تیار کر کے )صلاحیت بخش عمل کیا کرو۔ بیشک تم جوبھی عمل کرتے ہو میں اسے بہت اچھی طرح دیکھنے والا ہوں !
ایم- ایم- اے
1980
  • اپریل
سابق مفتی دیار مصر فضیلۃ الشیخ حسنین محمد مخلوف کا فتویٰ اسلام میں سنّت نبویؐ کا مقام نہایت ارفع و اعلیٰ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم سنّت نبوی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والتسلیمات کی شمع فروزاں سے بے اعتنائی کرکے کبھی جادہ مستقیم پر گامزن نہیں ہوسکتے کیونکہ رسول خدا ﷺ نے جو کچھ فرمایا وہ قرآن پاک کی ہدایت کے خدوخال کی نشاندہی کی۔ اگر ہم سنت نبوی کو یہ کہہ کر ترک کردیں کہ ہمیں کتاب مقدس کی ہدایت کے ہوتے ہوئے کسی اور ہدایت یا رہنمائی کی ضرورت نہیں تو سخت غلطی ہے
حسنین محمد مخلوف
1979
  • جولائی
  • اگست
اقول: اس بات کی سطحیت پر کچھ کہے بغیر ہم قاضی صاحب کے دلائل کا تجزیہ کرتے ہیں۔ آپ نے پہلے ابو امیہ مخزومی کی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے امام ابو حنیفہؒ کے قول کی ناجائز تائید کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔ حالانکہ اس حدیث میں کوئی لفظ تک ایسا نہیں جس سے یہ معلوم ہو کہ قاضی کو رجوع عن الاقرار کے متعلق تلقین کرنی چاہئے بلکہ علامہ خطابی تو اس حدیث کے متعلق فرماتے ہیں:
برق التوحیدی
1978
  • جولائی
محترم قارئین کرام اس سے قبل آپ مسلمان کو ذمی کے بدلے قتل کرنے کے متعلق پڑھ چکے ہیں، اب ہم اسی قسط کے ساتھ متعلق دوسرے مسئلہ کی طرف آتے ہیں کہ اگر ایک قتل میں متعدد آدمی ملوث ہوں تو کیا ان میں سے ایک کو قتل کیاجائے گا یا تمام کو ..... لیکن اس مسئلہ کی دوصورتیں ہیں ایک یہ کہ آدمی کو متعدد افراد مل کر برضا و رغبت قتل کرتے ہیں، دوسری یہ کہ ایک آدمی کو دوسرا مجبور کرتا ہے کہ تو فلاں آدمی کو قتل کردے او روہ کرہاً قتل کردیتا ہے تو کیا دونوں پر قصاص ہوگا یا صرف آمر یا مامور پر؟
برق التوحیدی
1978
  • دسمبر
''یہ سمجھنا محض سادگی ہے کہ حضرت عمرؓ کو ان کے ملازم نے محض ذاتی عناد کی نا پر شہید کیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ خلیفہ ثانی مال داروں کی سازش کے نتیجے میں شہید ہوئے۔ اور وہ اس لئے کہ حضرت عمرؓ سماجی معاہدے کے تحت مال داروں کی ذمہ داریوں کے سلسلے میں ان پر سختی کی روش کے قائل تھے۔''
ریاض الحسن نوری
1971
  • جون
گذشتہ دنوں راقم کا ایک مضمون ’ غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ؛ دستورِ پاکستان اور قادیانیت ‘پاکستان کے متعدد رسائل میں شائع ہوا تھا جس میں ملک کے ممتاز دانشور جاوید احمد غامدی کے مضمون ’اسلامی ریاست؛ ایک جوابی بیانیہ‘کے چند نکات پر گفتگو کی گئی ۔ مضمون میں غامدی صاحب کے جوابی بیانیے کے نکتہ نمبر4 پر تفصیلی بحث کی گئی تھی اور اُن سے عرض کیا گیا تھا کہ اپنے بارے میں غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے واضح طور پر اعلان کریں
شکیل عثمانی
2017
  • مئی
اس کے علاوہ آپ کا حاضر فی الذہن ہونا ان لوگوں کی نسبت تو درست ہو سکتا ہے جنھوں نے  آپ کو دیکھا ہے کیونہ ان کےذہن میں آپ کی خاص صورت و شکل حاضر ہو سکتی ہے ۔ لیکن جنھوں نےآپ کو نہیں دیکھا  ان کے ذہن میں تو آپ کی صفات ہیں جو کلیات ہیں جن میں تعین اور تشخص نہیں تو پھر آپ بعینہ حاضر کس طرح ہوئے اور جب آپ بعینہ حاضر نہ ہوئے اور صرف آپ کی صفات ہوئیں ۔ جو کلیات  ہیں تو ان کے نزدیک بھی حاضر فی الذہن ہذا کاحقیقی معنی نہ ہو ا اس سے بھی معلوم ہو اکہ عنی  کا خیال  درست ہے اور اگر بالفرض مان لیا جائے کہ حاضر فی الذہن ہذاکا حقیقی معنی ہو گا۔ پس اس صورت میں عنی  اورحافظ ابن حجر  برابر ہوں گے کیونکہ لفظ جب دو معنوں کے درمیان مشترک ہو تو بغیر دلیل کےکسی کو نہیں لے سکتے نہ حافظ ابن حجر کا مذہب ثابت ہوا نہ عینی کا ۔ ہاں عنی کے مذہب کو اایک اور طرح سے ترجیح ہو سکتی ہے وہ یکہ حاضر فی الذہن کو ہذا کا حقیقی معنیٰ ماننے کی صورت میں لازم آتا ہے کہ ہذا دومعنوں میں مشترک ہوا اور اگر حاضر فی الذہن کو مجازی معنیٰ قرار دیں تو اس صورت میں ہذا حقیقت مجاز ہوگا اور عربیت کا یہ قاعدہ ہےکہ جب ایک  لفظ اشتراک اور حقیقت مجاز کے درمیان دائر ہو تو حقیقت مجاز کی کثرت ہے ۔ پس کثرت پر حمل ہو گا ۔ اس بنا پر بھی عینی کے مذہب کو ترجیح ہوئی اور رسو ل اللہ ﷺ کا مثکوف ہونا ہی غالب رہا ۔
محمد صدیق
1980
  • اپریل
او رایک حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لا تصدقوا اھل الکتاب ولا تکذبوھم (مشکوٰة باب الاعتصام) اہل کتاب کوئی بات سنائیں تو ان کو سچا کہو اورنہ جھوٹا۔ اس حدیث سے معلوم ہواکہ جو شے ہم سے غائب ہے اس کا وجود اور عدم اعتقاد کے لحاظ سے برابر ہے یعنی محتمل ہے ہو یا نہ ہو۔ جب دونوں طرف برابر ہوئے تو بتلائیے۔ آپ نے آج تک کون سی دلیل پیش کی ہے۔ جہاں تک ہم نے آپ کے تعاقبات پر نظر کی ہے۔ صفر ہی پایا۔ آپ کوئی صریح حدیث پیش کریں یا کسی سلف کا قول پیش کریں تو کچھ آپ کے تعاقب کی قدر بھی ہو۔ ورنہ ویسے ورق سیاہ کرنے سے کیا فائدہ؟
حافظ ابن حجر او رعلامہ عینی : کیا حافظ  ابن حجر وغیرہ کے محض خیال سے علامہ عینی وغیرہ چپ ہوسکتے ہیں ۔خاص کر جب علامہ عینی وغیرہ کے ہاتھ میں حدیث کا لفظ صریح ھذا ہو جس کا حقیقی معنی محسوس ۔ مبصر منکر ہے۔ تو ایسی صورت میں حافظ ابن حجر وغیرہ کے قول کی کیا وقعت رہ جاتی ہے اور علامہ عینی وغیرہ پر اس کا کیا اثر پڑ سکتا ہے۔ اسکے علاوہ فرضی طور پر تسلیم کرلیاجائے کہ عدم اصل ہے تو بھی علامہ عینی کا پلڑا بھاری رہتا ہے کیونکہ ایسے بے دلیل اصل کو دلیل کے مقابلہ میں ترک کردیا جاتاہے او ریہاں ھذا کا لفظ دلیل موجود ہے ہاں اس سے کسی کو انکار نہیں کہ ھذا کبھی غیرمحسوس یا غیر حاضر میں بھی  استعمال ہوتا ہے مگر چونکہ یہ حقیقی معنی نہیں بلکہ مجازی ہے او رحقیقی معنی مجازی پر مقدم ہے اسلیے ترجیح مکشوف ہونے کو ہے۔
محمد صدیق
1980
  • جون
14؍جون 2006ء کے روزنامہ 'جنگ' میں مکمل دو بڑے صفحات 3،4 پر حدود قوانین کے بارے میں کئی ایک سفارشات پیش کی گئی ہیں۔ روزنامہ جنگ کا اس طرح اس ایشو کو اُٹھانا، اس کے لئے مستقل دو صفحات 3 اور4 کو مختص کرنا اور اوّل وآخر صفحات پر دو بڑی سرخیاں لگانے سے جہاں اس ابلاغی گروپ کے بارے میں شکوک و شبہات پختہ ہو رہے ہیں، وہاں ان صفحات میں شائع ہونے والی سفارشات کے متن نے بھی اس پوری ابلاغی مہم کا پول کھول دیا ہے۔
حسن مدنی
2006
  • جون
قوموں کا عروج و زوال ، انحطاط و ارتقاء اور زندگی  کا دارومدار ان کی اپنی  تاریخ  پر منحصر ہے ۔ زندہ قومیں ہمیشہ اپنی تاریخ کے آہم و روش  ادوار پر گہر  رکھتی ہیں جو قوم اپنی تاریخ  کو بھلا  دتی ہے ۔ یقینا  وہ ایک دن زوال پذیر ہو جاتی ہے ۔
تاریخ اصل مین افراد کی حیات و ممات کے علاوہ تمدنی ، معاشی ، معاشرتی ، سیاسی مذہبی و اخلاقی اور دماغی کارناموں کا مرقع ہوتی ہے ۔ سوانح و تذکرے تاریخ ، ہی کا حصہ ہیں ۔ جن میں فرد کے خصوصی  کانامے ،مذہبی و اقتصادی اصلاحات کے ساتھ ساتہ ان تمام افکار رو عوامل کیاسیر حاصل تذکرہ موجود ہوتا ہے ۔ جس کے ذریعہ فرد عوام کی  نگاہوں میں غیر معمولی مقبولیت و جاذبیت کا حامل ہوتا ہے ۔
سوانح  و تذکروں کی ترتیب کا دوسرا اہم مقصد یہ ہوتا ہے کہ فرد کے اہم کا رناموں  کی انجام دہی ملی و مذہبی عظیم  اصلاحی پہلوؤں کی طرف خیالات و افکار کا میلان فطری  و جبلی صلاحیتوں کی نشوونما اور کار ز ارحیات کے نشیب  و فراز کی واضح تصویر کو قارئین  کے سامنے لایا جائے ۔ نئی نسلیں  ماضی میں اپنے اسلاف کے حیات آفرین کارناموں سے واقفیت کے بعد ہی مستقبل کے لیے ٹھوس اور پائیدار لائحہ عمل معین کرتی ہیں ۔ اس میدان میں جب ہماری نظریں کسی مشہور و معروف شخصیت  کی تاریخ  سے مزین صحفہ پر پڑتی ہیں تو اچانک ایک ہمہ گیر شخصیت سامنے آجاتی ہے ۔ یا کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جس قوم کی  سطح ذہن پر آجاتی ہیں۔ اسی طرح ملتوں اور جماعتوں کی تاریخ کا حالہے ۔
عبدالرشید عراقی
1980
  • اپریل
محدث کے تصویر نمبر کی اشاعت کے بعد بعض اہل علم نے اپنے موقف ارسال کئے۔ زیر نظر شمارہ میں اس نوعیت کے تین مضامین بالترتیب شائع کئے جارہے ہیں ، جن میں باہم متضاد موقف بھی اختیار کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ یہاں پیش کردہ بعض دلائل کا تصویر نمبر میں بھی جائزہ لیا جا چکا ہے۔ اس بحث میں جو اہل علم مزید حصہ لینا چاہیں ، ان کے لئے 'محدث' کے صفحات حاضر ہیں ۔
زاہد الراشدی
2008
  • دسمبر
نبی آخر الزمان سید المرسلین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دارِ فانی سے رحلت فرما جانے کے بعد اللہ کا وہ دین 'اسلام' اور عطا کردہ ضابطہ حیات پایۂ تکمیل کو پہنچ چکا ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پسند فرمایا۔ اس دین میں جو کمی بیشی اور اس طرزِ حیات میں جو تبدیلی ہونا تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتمام وکمال اسے جبریل امین ؑسے وصول کرکے اپنی اُمت تک پہنچا دیا، اور اس کے بعد اس دین میں ترمیم کرنے کا کسی کو کوئی اختیار باقی نہیں رہا۔جیسا کہ خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر نازل ہونے والی آیات میں تکمیل دین کا اعلان کردیا گیا ۔(المائدة: 3)
حسن مدنی
2006
  • دسمبر
شمارہ ہذا میں دو مقالے ''زکوٰۃ و ٹیکس کی شرعی حیثیت'' کے بارے میں شائع کیے جارہے ہیں جومحکمہ زراعت پنجاب کے شعبہ اطلاعات لاہورکے زیراہتمام مجلس مذاکرہ میں پڑھے گئے۔ اگرچہ دونوں مقالہ نگار پروفیسر منظور احسن عباسی اور ڈاکٹر عبدالرؤف صاحبان اسلام کے پُرخلوص شیدائی ہیں لیکن اپنے افکار میں زکوٰۃ و ٹیکس کو دو مختلف حیثیتوں سے دیکھ رہے ہیں۔ محدث کےمدیراعلیٰ نے اسی مذاکرہ میں اسلام کے معاشی نظام کے بعض پہلوؤں کی وضاحت کرتے ہوئے دونوں حضرات کے خیالات کا جائزہ بھی لیاتھا۔جو محدث کی کسی قریبی اشاعت میں پیش خدمت ہوگا۔ انشاء اللہ!
منظور احسن عباسی
1979
  • نومبر
  • دسمبر
٭رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت نبی ہیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع بھی امت کے لیے تاقیامت لازمی ہے۔

٭ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر قول اور ہر فعل ہمارے لیے شرعی راہنما ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے کسی حصہ کو نبوت سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ نبی علیہ السلام کی شخصی اور نبوی دو الگ الگ حیثیتیں متعین کرنا ایک بہت بڑا دھوکا، ایک بہت بڑی جسارت اور اہالیاِنِ اسلام کے خلاف ایک گہری سازش ہے۔
اکرام اللہ ساجد
1982
  • مئی
  • جون
طاہر القادری کس مقصد کے حصول کے لئے واپس آئے ہیں...؟ وہ معاشرے میں کیا تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں...؟ کینیڈا سے وہ کس کا ایجنڈا پورا کرنے آرہے ہیں...؟ طاہر القادری کونسا انقلاب لانا چاہتے ہیں...؟ ان تمام اُمور کو مروّجہ سیاسی معیارات پر پرکھنے کے بجائے ہم طاہر القادری کے عقائد ونظریات کی ایک جھلک ذیل میں پیش کررہے ہیں جس سے یہ تمام اُمور خود بخود واضح ہوجائیں گے:
عبدالجبار سلفی
2013
  • جنوری
۱۹۹۹ء کا یہ سال، عالم اسلام بالعموم اور سلفی حضرات کے لئے بالخصوص’عامِ حزن‘ ہے جس میں یکے بعد دیگرے نامور اسلامی شخصیات اس جہانِ فانی سے رخصت ہو کر اپنے خالق حقیقی کے پاس پہنچ گئیں اور عالم اسلام ان کے علم وفضل سے محروم ہوگیا۔ اناللہ وانا الیہ راجعون!… اسی سال داغِ مفارقت دینے والے حضرات میں حضرت شیخ مصطفی زرقا، شیخ مناع قطان، شیخ عطیہ سالم، شیخ علی طنطاوی، مولانامحمد عبدہ الفلاح، شیخ محمد عمر فلاتہ، شیخ عبدالقادر حبیب اللہ سندھی، شیخ علامہ عبدالعزیز بن باز اور آخر میں محدث العصر حضرت علامہ شیخ الالبانی رحمہم اللہ سرفہرست ہیں۔
ارشاد الحق اثری
1999
  • نومبر
ایک زمانہ تھا جب پرویز صاحب علماے سلف و خلف کی ہم نوائی میں قرآن و سنت کے سرچشمہ اسلام ہونے کے قائل تھے۔ دونوں کو (یعنی قرآن کو بھی اور سنت ِ رسول کو بھی) اَدلہ شرعیہ مانتے تھے اور ہر چیز کو کتاب و سنت ہی کی کسوٹی پر پرکھنے کے دعوے دار تھے، اور اثبات ِ دعویٰ کے لئے خود اپنے آپ پر بھی، اور دو سروں پربھی کتاب و سنت ہی سے دلیل پیش کرنے کا مطالبہ کیا کرتے تھے۔
محمد دین قاسمی
2006
  • مارچ
بلاناغہ ہر سال ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو 'عید میلاد النبی ﷺ 'کے نام پر جشن منایا جاتا ہے۔ ربیع الاول کے شروع ہوتے ہی اس جشن میلاد کی تقریبات کے انتظامات شروع ہوجاتے ہیں۔ نوجوان گلی کوچوں اور چوراہوں میں راہ گیروں کا راستہ روک کر زبردستی چندے وصول کرتے ہیں۔ علما حضرات مسجدوں میں جشن ولادت منانے کے لئے دست ِسوال دراز کرتے ہیں۔
مبشر حسین
2003
  • جون
موجودہ دورِ حکومت میں بالخصوص 'پاکستان میں اسلام یا سیکولرازم؟' کو مختلف پہلوئوں سے زیر بحث لایا جارہا ہے۔ وطن عزیز میں بعض لوگ ایسے ہیں جو قیامِ پاکستان کی اساس اور نظریۂ پاکستان سے ہی منحرف ہیں ۔ اپنے مزعومہ مقاصد کے لئے وہ تواتر سے قائد اعظم کے بیانات کو بھی توڑ مروڑ کر پیش کرتے رہتے ہیں ۔ ذیل میں اس حوالے سے قائد اعظم کے بیانات اور موقف کا تذکرہ کیا گیا ہے جس سے مقصود محض تاریخی حقائق اور امرواقعہ کی درستگی ہے۔ 
عطاء اللہ صدیقی
2006
  • ستمبر
۱۲؍ اکتوبر کو غیر معمولی حالات میں عنانِ اقتدار سنبھالنے کے بعد جنرل مشرف کو پہلی مرتبہ جس بات پر مخالفانہ بیانات کا سامنا کرنا پڑا، وہ میاں نوازشریف کی حکومت کی معزولی کا معاملہ نہیں تھا، میاں صاحب کی حکومت کے خاتمہ پر سکوت تو خود جنرل پرویز مشرف کے لئے بھی ایک تعجب انگیز امر تھا۔
عطاء اللہ صدیقی
2000
  • جنوری
جاويد احمد غامدى كے زير نگرانى سرگرم حلقہ اشراق كى تحقیق و تنقيد اور دلچسپیوں كا مركز ايسے مسلمہ اُمورہيں جن كے بارے ميں اُمت ِمسلمہ ميں چودہ صديوں سے عمومى طور پر اتفاقِ رائے پايا جاتا ہے- چونكہ عالمى سطح پر سپر قوتوں كے ايجنڈے كے مطابق اسلام اور مغربى تہذيب كى كشمكش ميں ايسے بعض مسلمات كو ہدفِ تنقيد بنايا جارہا ہے،
ضیاء اللہ برنی
2005
  • اگست
مکہ مکرمہ کی مسجد ِ حرام میں 20 تراویح کے بارے میں اکثر وبیشتر سوال کیا جاتا ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت آٹھ سے زیادہ تراویح نہیں ہیں ، تو پھر بیت اللہ میں اس پر عمل کیوں نہیں کیا جاتا۔ ایک طرف سعودی عرب کی تمام مساجد میں جواکثر وبیشتر حکومت کے ہی زیر نگرانی ہیں ، آٹھ تراویح پڑھی جاتی ہیں ، پھر بیت اللہ میں کیوں 20 تراویح پڑھائی جاتی ہیں ؟
محمد اسحٰق زاہد
2007
  • ستمبر
امیرالمؤمنین فاروق اعظم حضرت عمر ؓ کی حق پرستی، انصاف پروری، اجراء حدود الٰہی میں عزیز و بے گانہ کے ساتھ ان کے یکساں برتاؤ کی روشن اور درخشاں حیثیت کو (ان کے فرزند ابو شحمہ) کے متعلق ایک بے بنیاد و بے اصل خود ساختہ واقعہ کے ذریعہ منظر عام پر لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حالانکہ امیرالمؤمنین حضرت عمرؓ کی بےنظیر انصاف پروری اور عدل گستری آپ کے دور خلافت کے طریق کار یہ سب ایسے صحیح اور معتبر تاریخی روایات سے ثابت اور مشہور ہیں
محمد امین
1979
  • مئی
  • جون
چند سال قبل پنڈی میں مسلمانوں کی ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی تھی۔ اس میں دیگر اہلِ علم و فضل حضرات کے علاوہ یادش بخیر جناب مسعود صاحب نے بھی جو اس وقت محکمۂ اوقاف کے ناظمِ اعلیٰ تھے، ایک مقالہ پڑھا تھا۔ مسعود صاحب کے معتقدات ڈھکے چھپے نہیں، وہ اشترا کی ذہن کے حامل اور تجدد پسند ہیں۔
ریاض الحسن نوری
1971
  • مئی