اِدارہ کو محدث کے بارے میں اکثر وبیشتر تعریفی خطوط اور بیش قیمت مشورے موصول ہوتے رہتے ہیں۔ فتنۂ انکار حدیث کی اشاعت کے موقع پر ہمیں بڑی تعداد میں یہ خطوط موصول ہوئے۔ بعض اہم شخصیات کے خطوط کیعلاوہ معاصر دینی جرائد میں بھی محدث اور اس کے خاص شمارے کے بارے میں تبصرے کئے گئے۔قارئین کی آرا اور معاصر جرائد کے نیک جذبات آپ کے پیش خدمت ہیں۔ (ادارہ)
ادارہ
2003
  • جون
(ڈاکٹر اسرار احمد صاحب نے کچھ عرصہ قبل "تنظیم اسلامی" کےنام سے ایک جماعت قائم کی ہے جس کی بنیاد ان سے گہری وابستگی اور مشہور اسلامی مسئلہ بیعت "پر رکھی ہے۔برصغیر کی تقسیم سے قبل بھی دہلی میں ایک عالم دین کی  طرف سے "امامت" کی بنیاد پر ایک جماعت غرباء قائم کی گئی تھی۔اور اس وقت اس مسئلے پر مختلف علماء کی طرف سے اظہار خیال بھی ہوا تھا۔چنانچہ زیر نظر مقالہ میں حافظ عبداللہ محدث روپڑی ؒ کے  ایک  فاضل شاگرد نے اسی مسئلہ کا جائزہ کتاب وسنت کی روشنی میں پیش کیا تھا۔اور جو حالات کی مناسبت سے آج بھی ہدیہ قارئین ہے۔(ادارہ))
قادر بخش
1985
  • مئی
جب آپ نے ان قواعد اور اصولوں کو پہچان لیا تو آپ یہ بھی جان لیں کہ اللہ نے عبادت کو کئی اقسام میں منقسم فرمایا ہے ۔کچھ ان میں اعتقادی ہیں جو دین کی بنیاد ہیں ۔مثلاً اس بات کا اعتقاد رکھے کہ وہ یقینی طور پر اس کا رب ہے۔ پیدائش اور امر کےمعاملہ پر اس کا مکمل کنٹرول ہے۔نفع و نقصان پر اسے مکمل دسترس ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی اجازت کے بغیر اس کے ہاں کسی کو سفارش کرنے کی ہمت نہیں ہوگی۔
محمد بن اسماعیل
1983
  • مارچ
سوال: اگر آپ یہ سوال کریں کہ کیا یہ لوگ جو اولیاء کی قبور اور فاسق لوگوں کے متعلق ایسا عقیدہ رکھتے ہیں۔ کیا یہ ایسے مشرک ہیں جیسے بتوں کے متعلق عقیدہ رکھنے والے تھے؟جواب: تو ميں کہتا ہوں ہاں۔کیونکہ ان لوگوں نے بھی ایسے کام کیے جو ان لوگوں نے کیے او ریہ امور شرکیہ میں ان کے برابرہوگئے۔بلکہ ایسا فاسد عقیدہ رکھنے او ران کے مطیع ہونے او رعبادت کرنے میں ان سے بھی چند قدم اگے نکل گئے، تو ان میں کوئی 
محمد بن اسماعیل
1983
  • اپریل
سوال: اگر آپ یہ کہیں کہ جو اہل قبور اور دیگرایسے لوگوں ، جو زندہ فاسق و فاجر او رجاہل ہیں، کے متعلق حسن عقیدت رکھتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ ہم ان کی عبادت نہیں کرتے، ہم تو صرف اللہ کی عبادت کرتےہیں، ہم ان کی خاطر نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں، نہ حج کرتے ہیں، ہم یہ تمام امور اللہ کے لیے کرتے ہیں؟جواب: تو میں کہتا ہوں ، یہ عبادت کے مفہوم سے عدم واقفیت او رجہالت ہے کیونکہ میں نے جوذکیا ہے، یہ اس
محمد بن اسماعیل
1983
  • جون
سوال: اگر آپ یہ کہیں کہ اس سے یہ لازم آتا ہےکہ تمام امت گمراہی پرمتفق ہوگئی کیونکہ وہ اس کو بُرا کہنے سے خاموش رہے؟ جواب: اجماع کی حقیقت یہ ہےکہ آنحضرتﷺ کے عہد مسعود کے بعد امت محمدیہ کے مجتہدوں کا کسی مسئلہ میں متفق ہونا ہے اور مذاہب کے فقہاء ائمہ اربعہ کے بعد اجتہاد کو محال تصور کرتے ہیں۔ اگرچہ ان کی یہ بات غلط اور باطل ہے او رایسی بات وہی کہتا ہے جو حقائق سے بے خبر ہوتا ہے تاہم ان
محمد بن اسماعیل
1983
  • جولائی
ظاہر ہے کہ کونی امور دنیا میں ان فطری قوانین کے مطابق سر انجام پاتے ہیں، جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں۔۔۔ جبکہ ہر داعی کی ہر دعا قبول و منظور ہو جانے سے ان فطری قوانین میں خلل واقع ہوتا ہے۔ مثلا ہر آدمی مال و دولت چاہتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ ہر آدمی کی اس تمنا و خواہش کو پورا کر دیں تو انسان ایک دوسرے پر ظلم و زیادتی کرنے لگیں اور زندگی تباہ ہو جائے۔
سعید مجتبیٰ سعیدی
1987
  • نومبر
اللہ تعالیٰ سے جو آدمی سوال نہ کرے، اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوجاتے ہیں: ''عن ابی ھریرة رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لم یسأل اللہ یغضب علیہ۔'' ''حضرت ابوہریرہؓ راوی ہیں،آنحضرتﷺ نے فرمایا: ''جو شخص اللہ سے سوال نہ کرے اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوجاتے ہیں۔'' یہ اس لیے کہ تکبر اور لاپرواہی کے سبب سوال نہ کرنا ناجائز ہے۔ تبھی تو اللہ تعالیٰ ناراض ہوجاتے ہیں او رکون ہے جو اللہ تعالیٰ
سعید مجتبیٰ سعیدی
1987
  • اپریل
دعاء کے بہت سے آداب ہیں۔دعاء کو بہتر او رکامل بنانے کے لیے دعاء میں ان آداب کوملحوظ رکھنا چاہیے: 1۔ دُعاء سے پہلے اللہ تعالیٰ کی تعریف کرنا اور آنحضورﷺ پر درود پڑھنا:چونکہ دُعاء میں اللہ تعالیٰ سے اس کے انعامات، احسانات ، رحمت اور مغفرت طلب کی جاتی ہے، اس لیے بہتر ہے کہ دعاء سے پہلے اللہ رب العزت کے شایان شان اس کی تعریف و تمجید کی جائے۔''
سعید مجتبیٰ سعیدی
1987
  • مئی
3۔ گناہ کا اعتراف :انسان جب اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو تو آداب دعاء کا تقاضا ہےکہ اپنے گناہوں، خطاؤں اور تقصیروں کا اقرار بھی کرے۔اسی میں اللہ تعالیٰ کی عبودیت کا کمال اور اس کا انتہا ہے۔''عن ابی ہریرة رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : ان اوفق الدعاء ان یقول الرجل: اللھم انت ربی وانا عبدک، ظلمت نفسی و اعترفت بذنبی یارب فاغفرلی ذنبی انک انت ربی ، انہ لا یغفر الذنوب الا انت''
سعید مجتبیٰ سعیدی
1987
  • جون
11۔ لیلة القدر میں دعاء کرنا:یہ رات انتہائی بابرکت اور افضل راتوں اور اوقات میں سے ہے۔ اس میں دعاء کرنے والوں او راللہ سے مانگنے والوں کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔اُم المؤمنین حضرت عائشہ ؓ کا ذو ق و شوق دیکھیں کہ انہوں نے کہا : ''اے اللہ کے رسولؐ، اگر مجھے لیلة القدر مل جائے تو کیا دعاء کروں؟'' آپؐ نے فرمایا: یہ دعاء کرنا :''اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی''
سعید مجتبیٰ سعیدی
1987
  • اگست
1۔ رات کو دُعاء کرنا:رات کو جبکہ ہر طرف سکون، اطمینان اور فضا میں سناٹا طاری ہوتا ہے، تمام لوگ گہری نیند سو رہے ہوتے ہیں، صرف وہ آنکھیں بیدار ہوتی ہیں جو آسمان کی طرف متوجہ ہوکر اس بے پایاں کائنات میں چلتی ، پھرتی،تیری اللہ کی مخلوقات کے بارہ میں سوچ بچار کر رہی ہوتی ہیں۔ اس پر سکون ماحول میں انسان اپنے آپ کو ایک کمزور او ربے حقیقت شے تصور کرتا ہے۔ تب اس کے قلب میں خلاق کی عظمت
سعید مجتبیٰ سعیدی
1987
  • جولائی
1۔ مسلمان بھائی کے لیے دُعاء کرنا او راپنے لیے نہ کرنا:
یہ شرعاً جائز اور آنحضرتﷺ سے ثابت ہے۔ حضرت ابوموسیٰ ؓ فرماتے ہیں، نبی اکرمﷺ نے دعاء کی تھی:
’’اللٰھم اغفرلعبید ابی عامر اللٰھم اغفر لعبد اللہ بن قیس ذنبه‘‘ (صحیح بخاری :11؍35)
’’یا اللہ! ابوعامر عبید کی مغفرت فرما! یا اللہ، عبداللہ بن قیس کی خطائیں بخش دے۔‘‘ 
اسی طرح آپؐ کا حضرت انس ؓ کے حق میں دعاء کرنابھی آیا ہے:
’’عن انس رضی اللہ عنه قال : قالت اُم سلیم للنبی صلی اللہ علیه وآله وسلم انس خادمک، قال: اللٰھم اکثر ماله وولده و بارک له فیما اعطیته‘‘(صحیح بخاری :11؍136)
’’حضرت انس ؓ کہتے ہیں، اُم سلیم ؓ نے آنحضرتﷺ سے درخواست کی ،  ’’اللہ کے رسولؐ، انس ؓ آپ کا خادم ہے۔‘‘ تو آپؐ نے دعاء فرمائی: ’’یا اللہ ، اس کے مال اور اولاد کو زیادہ کر اور اسے دی ہوئی  نعمتوں  میں برکت عطا فرما۔‘‘
شیخ عبداللہ الحضری
1987
  • ستمبر
فضیلۃ الشیخ عبداللہ الخضری نے عربی زبان میں دعاء کے موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے، جسے الدار السلفیہ کویت نے شائع کیا ہے۔ افادہ عام کی غرض سے حضرت مولانا سعید مجتبیٰ السعیدی نے اسے اردو قالب میں ڈھالا ہے۔ امید ہے قارئین محدث اس سلسلہ کو پسند فرمائیں گے۔ (ادارہ)...........................جب انسان کے تمام دنیاوی اسباب منقطع ہوجائیں، جب انسان کے سارے حیلے عاجز رہ جائیں، جب انسان کے تمام
سعید مجتبیٰ سعیدی
1987
  • مارچ
(((نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی اصل حیثیت تو اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  ہونے کی ہے۔اور آپ کے طرز عمل میں سب سے گہرارنگ وحی کی صورت میں اللہ سے رہنمائی لینے اور اس کو عمل میں لانے کا ہے۔اس اعتبار سے جب ہم مسلمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے مختلف کرداروں کا جائزہ لیتے ہیں تواسی بنیادی حقیقت پر ایمان رکھنے کی وجہ سے ہر معاملے کو اللہ کی طرف سے ہدایت کے سپرد کرکے مطمئن ہوجاتے ہیں۔اور ان زمینی حقائق کی جستجو میں نہیں پڑتے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کے طور پر تمام امور دنیا میں جاری کررکھی ہے۔کہ وہ ہرکام کی تکمیل عموماً واقعاتی بنیادوں اور وسیلوں کے ذریعے ہی کرتاہے۔
ایمان واعتقاد کے لیےتو اسی رویہ کی ضرورت ہے لیکن اگر حیات مبارکہ سے اس دور کے واقعات کی درست انجام دہی کے واقعاتی حقائق بھی تلاش کرلیے جائیں تو اس طرح آپ کے طرز عمل کی تشریح مزید آسان اور اس کی افادیت دو چند ہوجاتی ہے۔ہمارا اعتقاد ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کا اسوہ مبارکہ آپ کی ہر حیثیت(قاضی،حاکم،سپہ سالار وغیرہ) میں مسلمانوں کے لیے راہ ہدایت اور ذریعہ نجات ہے۔زیر نظر مضمون میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی ایک حیثیت کا مختصر مطالعہ پیش کا کیا گیا ہے۔(حسن مدنی)))
طاہرہ بشارت
1999
  • دسمبر
تاریخِ اسلام کے ابتدائی دور سے ہی کسی نہ کسی شکل میں کچھ گروہ، دین کی تخریب کاری اور امتِ مسلمہ میں انتشار و افتراق کے ذمہ دار رہے ہیں۔ اس گروہ کے مختلف طبقات میں سے ہمیں دو طبقے ایسے نظر آتے ہیں جنہوں نے ادعائے اسلام کے باوجود اسلامی تعلیمات کو شدید مجروح کیا اور اپنی مشقِ ستم کا نشانہ بنایا ہے۔ ان میں سے ایک طبقہ "اہل تشیع" یا "شیعہ" کے نام سے معروف ہے۔ اور دوسرا "اہل تصوف" یا "صوفیاء" کے نام سے۔
غازی عزیر
1985
  • فروری
آیت اللہ خمینی  کے عقائد و افکار کی ایک ہلکی سی جھلک آپ نے ملاحظہ فرمائی ، اب اندرون و بیرون ملک ان کا کیا کردار ہے ، اس کی طرف بھی ذرا سی توجہ فرمائیں ۔ بقول ماہنامہ الفرقان لکھنؤ:
’’ ایران کے سرکاری مہمان خانہ بزرگ ( استقلال ہوٹل ) میں ٹھہرے ہوئے بیرونی مہمان اس قسم کے بیتر بالعموم دیکھتے ہیں جن پر لکھا ہوتاہے :
’’ سنتحد وسنت لاحم حتي نسترد من ايدي المقصبين اراضينا المقدسة القدس والكعبة والجولان ‘‘
’’ یعنی ہم متحد ہوں گے او رجنگ آزما ہوں گے یہاں تک کہ غاصبوں کے قبضے میں سے اپنی مقدس زمینیں یعنی بیت المقدس ، کعبہ اور گولان واپس لے لیں ۔ ‘‘ ( ماہنامہ الفرقان لکھنؤ مجریہ ماہ ستمبر 1983 )
روزنامہ ’’ جسارت‘‘ کراچی میں جماعت اسلامی پاکستان کے مشہور اہل قلم و رکن جناب خلیل حامدی صاحب کا ایک مکتوب شائع ہوا تھا جس کا اقتباس پیش خدمت ہے
غازی عزیر
1985
  • اپریل
ابلیس کے جس کی اصل جن ہے،کےلغوی معنی پر ر وشنی ڈالتے ہوئے ابو یعلیٰ ؒ فرماتے ہیں:
"جن یعنی مستور اصلاً،استتار،سے مشتق ہے۔جن سے جنین یعنی وہ بچہ جو ماں کے رحم میں ہو اور نظر نہ آئے،اور مجنون الفاظ نکلے ہیں کیونکہ پاگل کا خبال عقل مستور ہوتا ہے۔ 
اس طرح "بہشت" کو "جنت" بھی اس لئے کہاجاتا ہے کہ وہ مستور ہے اور ہماری نظریں اسے دیکھنے سے قاصر ہیں۔
عام طور پر یہ بات مشہور ہے کہ"ابلیس" پہلے فرشتوں میں انتہائی عابد،پرہیز گار،عالم،اور مجتہد بلکہ دربارالٰہی کا مقرب ترین فرشتہ تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کرنئ کرنے کی وجہ مسے مردود ٹھہرا۔بعض لوگ اسے معلم الملکوت طاؤس الملائکۃ،خازن الجنت،اشرف الملائکہ ،رئیس الملائکہ اور نہ جانے کیا کیا بتاتے ہیں لیکن فی الواقع ملائکہ میں اس کی فضیلت تودرکنار بنیادی طور پر اس کا فرشتہ ہونا بھی انتہائی مشکوک بات ہے۔
غازی عزیر
1990
  • اکتوبر
'محدث' کا شمارہ مارچ ۲۰۰۲ء نظر نواز ہوا جس میں فکر ونظر کے ادارتی کالموں میں "بھارتی مسلمان اور ہم! " کے عنوان سے بھارتی مسلمانوں کی حالت ِزار کے پیش نظر ملت ِاسلامیہ کو سنجیدہ توجہ دلائی گئی ہے اور پاکستان کی اساس 'دو قومی نظریہ' کی بنیاد پر اسے پاکستان کا خصوصی مسئلہ قرار دیا گیا ہے ۔
مبشر حسین
2002
  • اپریل
استاذ ناصر الدین البانی علمی دُنیا میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ان کا اسلوب تحریر او رطرز استدلال صرف کتاب اللہ اور سنت ِ رسول اللہ ﷺ پر مبنی ہے او ریہی مسلک اہل حدیث کا طرہ امتیاز ہے۔زیر نظر مقالہ اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو ہدایت اور ثابت قدمی عطا فرمائے۔ آمین!واجبات مریض :مندرجہ ذیل ہدایت پر عمل کرنا ہرمریض کے لیے انتہائی ضروری ہے:1۔ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی رہے
ناصر الدین البانی
1983
  • ستمبر
مسئلہ خلق قرآن

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام اور اس کی صفات میں سے ایک صفت اور غیر مخلوق ہے۔ سلف صالحین رحمة اللہ علیھم اور ائمہ اہل السنة والجماعة کا یہی عقیدہ ہے۔ جبکہ جھمیة اور معتزلہ نے اپنے "اصول توحید" کے پس پردہ اللہ تعالیٰ کی اس صفت کا بھی انکار کرتے ہوئے اسے مخلوق گردانا ہے اور کہتے ہیں کہ
عبدالقوی لقمان
1996
  • جنوری
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَما لَهُم بِهِ مِن عِلمٍ ۖ إِن يَتَّبِعونَ إِلَّا الظَّنَّ ۖ وَإِنَّ الظَّنَّ لا يُغنى مِنَ الحَقِّ شَيـًٔا ﴿٢٨﴾ فَأَعرِ‌ض عَن مَن تَوَلّىٰ عَن ذِكرِ‌نا وَلَم يُرِ‌د إِلَّا الحَيو‌ٰةَ الدُّنيا ﴿٢٩﴾ ذ‌ٰلِكَ مَبلَغُهُم مِنَ العِلمِ ۚ إِنَّ رَ‌بَّكَ هُوَ أَعلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبيلِهِ وَهُوَ أَعلَمُ بِمَنِ اهتَدىٰ ﴿٣٠﴾... سورةالنجم
عبدالقوی لقمان
1995
  • نومبر
ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَدَّ كَثيرٌ‌ مِن أَهلِ الكِتـٰبِ لَو يَرُ‌دّونَكُم مِن بَعدِ إيمـٰنِكُم كُفّارً‌ا حَسَدًا مِن عِندِ أَنفُسِهِم مِن بَعدِ ما تَبَيَّنَ لَهُمُ الحَقُّ...﴿١٠٩﴾... سورة البقرة

ترجمہ بہت سے ہل کتاب اپنے دل کی جلن سے یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لا چکنے کے بعد تم کو پھر کا فر بنا دیں ۔حالانکہ ان پر حق ظاہر ہو چکا ہے۔
عبدالقوی لقمان
1993
  • اگست
فرمان باری تعالیٰ ہے:۔
﴿إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّـهِ الْإِسْلَامُ ۗ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِآيَاتِ اللَّـهِ فَإِنَّ اللَّـهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ ﴿١٩﴾...آل عمران
"  بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے، اور اہل کتاب نے اپنے پاس علم آجانے کے بعد آپس کی سرکشی اور حسد کی بنا پر ہی اختلاف کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ جو بھی کفر کرے اللہ تعالیٰ اس کا جلد حساب لینے والا (اور سزا دینے والا)ہے "
عبدالقوی لقمان
1994
  • اکتوبر
مشورہ کے لغوی معنی:
عربی زبان میں مشورہ "اور شوریٰ" کا استعمال رائےدینے کے لئے کیا جاتا ہے۔مشاورت (باہم رائ زنی کرنا) اوراستشارۃ(رائے طلب کرنا) ایسے الفاظ ہیں جو خاص طور پر انھیں موقع پر بولے جاتے ہیں۔ایک اور لفظ جس کا استعمال مخصوص اس بارے میں نہیں ہے بلکہ صلہ کے بدلنے سے اس کے معنی بھی بدل جاتے ہیں۔اور وہ لفظ اشارہ کے صلہ میں"الیٰ"آتا ہے۔تو اس کے معنی محض کسی چیز کی طرف اشارہ کرنے کے ہوتے ہیں۔اوراگر علی آتا ہے تو اس کے معنی مشورہ دینے کے ہوجاتے ہیں۔یہ پانچوں الفاظ اگرچہ باعتبار صیغوں اور باب کے مختلف ہیں مگر ماخذ اور موضع اشتقاق ان کا ایک ہے ان سب کی اصل شور ہے۔
لطیف الدین
1990
  • اکتوبر