(۱) بِالْغَیْبِ (غیب کے ساتھ، غیب پر، پسِ پشت) اس کے دو معنے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا اور رسول کی بات صرف اس لئے برحق تسلیم کرنا اور ماننا کہ چونکہ اس نے فرمایا ہے۔ وہ بات ہمارے ادراک کے بس کا روگ ہو یا ہ ہو۔ دوسرے یہ کہ سامنے ہوں یا غائب اور آنکھوں سے اوجھل ہو جائیں تو ہر حال میں ان کے ایمان و اسلام میں فرق نہیں آتا۔
عزیز زبیدی
1973
  • مئی
گو ان سب کا حاصل ایک جیسا ہے، تاہم ان میں ایک گونہ تنوع بھی پایا جاتا ہے۔ اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ مختصراً اس کا بھی ذکر ہو جائے تو قلب و نگاہ' پر مہر اور پردے والی بات بھی مزید واضح ہو جائے زیادہ یہ تفصیل حضرت امام ابن القیمؒ (ف۷۵۱ھ) کی کتاب 'شفاء العلیل فی مسائل القضاء والقدر و الحکمۃ والتعلیل' (ص ۹۲ تا ص ۱۰۷) سے ماخوذ ہے اور کچھ 'مفرداتِ راغب' سے۔
عزیز زبیدی
1973
  • دسمبر
﴿يـٰأَيُّهَا النّاسُ اعبُدوا رَ‌بَّكُمُ الَّذى خَلَقَكُم وَالَّذينَ مِن قَبلِكُم لَعَلَّكُم تَتَّقونَ ٢١ الَّذى جَعَلَ لَكُمُ الأَر‌ضَ فِر‌ٰ‌شًا وَالسَّماءَ بِناءً وَأَنزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَخرَ‌جَ بِهِ مِنَ الثَّمَر‌ٰ‌تِ رِ‌زقًا لَكُم ۖ فَلا تَجعَلوا لِلَّهِ أَندادًا وَأَنتُم تَعلَمونَ ٢٢ وَإِن كُنتُم فى رَ‌يبٍ مِمّا نَزَّلنا عَلىٰ عَبدِنا فَأتوا بِسورَ‌ةٍ مِن مِثلِهِ وَادعوا شُهَداءَكُم مِن دونِ اللَّهِ إِن كُنتُم صـٰدِقينَ ٢٣ فَإِن لَم تَفعَلوا وَلَن تَفعَلوا فَاتَّقُوا النّارَ‌ الَّتى وَقودُهَا النّاسُ وَالحِجارَ‌ةُ ۖ أُعِدَّت لِلكـٰفِر‌ينَ ٢٤وَبَشِّرِ‌ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّـٰلِحـٰتِ أَنَّ لَهُم جَنّـٰتٍ تَجر‌ى مِن تَحتِهَا الأَنهـٰرُ‌ ۖ كُلَّما رُ‌زِقوا مِنها مِن ثَمَرَ‌ةٍ رِ‌زقًا ۙ قالوا هـٰذَا الَّذى رُ‌زِقنا مِن قَبلُ ۖ وَأُتوا بِهِ مُتَشـٰبِهًا ۖ وَلَهُم فيها أَزو‌ٰجٌ مُطَهَّرَ‌ةٌ ۖ وَهُم فيها خـٰلِدونَ ٢٥﴾... سورة البقرة
عزیز زبیدی
1974
  • جولائی
  • اگست
﴿إِنَّ اللَّهَ لا يَستَحيۦ أَن يَضرِ‌بَ مَثَلًا ما بَعوضَةً فَما فَوقَها ۚ فَأَمَّا الَّذينَ ءامَنوا فَيَعلَمونَ أَنَّهُ الحَقُّ مِن رَ‌بِّهِم ۖ وَأَمَّا الَّذينَ كَفَر‌وا فَيَقولونَ ماذا أَر‌ادَ اللَّهُ بِهـٰذا مَثَلًا ۘ يُضِلُّ بِهِ كَثيرً‌ا وَيَهدى بِهِ كَثيرً‌ا ۚ وَما يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الفـٰسِقينَ ٢٦ الَّذينَ يَنقُضونَ عَهدَ اللَّهِ مِن بَعدِ ميثـٰقِهِ وَيَقطَعونَ ما أَمَرَ‌ اللَّهُ بِهِ أَن يوصَلَ وَيُفسِدونَ فِى الأَر‌ضِ ۚ أُولـٰئِكَ هُمُ الخـٰسِر‌ونَ ٢٧﴾... سورة البقرة
عزیز زبیدی
1974
  • ستمبر
  • اکتوبر
﴿كَيفَ تَكفُر‌ونَ بِاللَّهِ وَكُنتُم أَمو‌ٰتًا فَأَحيـٰكُم ۖ ثُمَّ يُميتُكُم ثُمَّ يُحييكُم ثُمَّ إِلَيهِ تُر‌جَعونَ ٢٨ هُوَ الَّذى خَلَقَ لَكُم ما فِى الأَر‌ضِ جَميعًا ثُمَّ استَوىٰ إِلَى السَّماءِ فَسَوّىٰهُنَّ سَبعَ سَمـٰو‌ٰتٍ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَىءٍ عَليمٌ ٢٩وَإِذ قالَ رَ‌بُّكَ لِلمَلـٰئِكَةِ...٣٠﴾... سورة البقرة

(لوگو!) تم خدا کا کیونکر انکار کر سکتے ہو اور (تمہارا حال یہ ہے کہ) تم بے جان تھے اور اسی نے تم میں جان ڈالی۔ پھر (وہی) تم کو مارتا ہے پھر (وہی) تم کو (قیامت میں دوبارہ) جلائے گا (بھی) پھر اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ وہی (قادر مطلق) ہے جس نے تمہارے لئے زمین کی کل کائنات پیدا کی پھر (اس کے علاوہ ایک بڑا کام یہ کیا کہ) آسمان کے بنانے کی طرف متوجہ ہوا تو سات آسمان ہموار بنا دیئے اور وہ ہر چیز (کی کنہ) سے واقف ہے۔ (اے پیغمبر لوگوں سے اس وقت کا تذکرہ کرو) جب
عزیز زبیدی
1974
  • نومبر
  • دسمبر
قَالَ اِنِّیْٓ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۔ وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ کُلَّھَا ثُمَّ عَرَضَھُمْ عَلَی الْمَلٰٓئِکَۃِ فَقَالَ اَنْبِؤُنِیْ بِاَسْمَآءِ ھٰٓؤُلَآءِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۔ قَالُوْا سُبْحٰنَکَ لَا عِلْمَ لَنَا اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَاط اِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ۔ قَالَ یٰٓاٰدَمُ اَنْبِئْھُمْ بِاَسْمَآءِھِمْج فَلَمَّآ اَنْبَائَھُمْ بَاَسْمَآئِھِمْ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّکُمْ اِنِّیْ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا کُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ.

(خدا نے) فرمایا میں وہ (مصلحتیں) جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے اور آدم کو سب (چیزوں کے) نام بتا دیئے پھر ان چیزوں کو فرشتے کے روبرو پیش کر کے فرمایا کہ اگر تم (اپنے دعوے میں) سچے ہو تو ہم کو ان چیزوں کے نام بتاؤ۔
عزیز زبیدی
1975
  • مئی
  • جون
﴿وَقُلْنَا یٰٓاٰدَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّۃَ وَکُلَا مِنْھَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا ھٰذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَکُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ. فَاَزَلَّھُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْھَا فَاَخْرَجَھُمَا مِمَّا کَانَا فِیْہِ وَقُلْنَا اھْبِطُوْا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّج وَ لَکُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰی حِیْنٍ.﴾

اور ہم نے (آدم سے) کہا: اے آدم تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو سہو اور اس میں جہاں کہیں سے جی چاہے
عزیز زبیدی
1975
  • ستمبر
  • اکتوبر
جمع وتدوینِ قرآن کے اَدوار گذشتہ تصریحات سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ قرآنِ کریم کو تین مرتبہ جمع کیا گیا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے دور میں حضرت عثمان بن عفانؓ کے دور میں لیکن ان تینوں اَدوار میں جمع قرآن کی نوعیت میں واضح فرق ہے۔ ذیل میں ہم فرق کی اس نوعیت کو واضح کریں گے
محمد اسلم صدیق
2008
  • فروری
زیر نظر مضمون کے مرتب علومِ قرآن کے حوالے سے عالم عرب کی ایک معتبر شخصیت ہیں جن کی اس موضوع پر متعدد کتب ومقالات کے علاوہ، شاگر دوں کی بڑی تعداد دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہے۔ سعودی حکومت کے کنگ فہد قرآن کمپلیکس میں قرآنِ کریم کی عالمی پیمانے پر نشر واشاعت اور اصلاح کے لئے قائم کردہ کمیٹی نے ان کی کتب سے بھرپور استفادہ کیا ہے جو آپ علمیت کا مدینہ نبویہ میں حکومتی سطح پر ایک اعتراف ہے۔
محمد اسلم صدیق
2008
  • اپریل
گذشتہ صفحات میں ہم تفصیل سے واضح کرچکے ہیں کہ دور ِعثمانی میں مصاحف کی جو نقلیں تیار کرکے مختلف بلادِ اسلامیہ کو بھیجی گئیں تھیں، وہ ایسے رسم الخط پر مشتمل تھیں جو ساتوں حروف کا متحمل سکے ۔ اسی مقصد کے پیش نظر ان مصاحف کو نقطوں اورحرکات سے خالی رکھا گیا تاکہ ان حروف کی تمام متواتر قراء ات __ جو عرضۂ اخیرہ کے وقت باقی رکھی گئی تھیں اور ان کی تلاوت منسوخ نہیں ہوئی تھی_
محمد اسلم صدیق
2008
  • مارچ
قرآنِ مجید کے ترجمہ و تفسیر کی ضرورت ہر دور میں رہی ہے۔ اورعلماے اسلام نے اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے نہایت قیمتی اور قابل قدر کام کیا ہے۔صحیح فہم قرآن کے لیے چند مسلّمہ بنیادی اُصول ہیں جن کا علم ضروری ہے ، ذیل میں بالاختصار یہ اُصول بیان کئے جاتے ہیں:

1. قرآنِ مجید کو سمجھنے سے قبل آدمی اپنے دل و دماغ کو ان تصورات اور تعصّبات سے بالکل خالی کردے
محمد رفیق چودھری
2013
  • جنوری
اللہ تعالیٰ کا یہ قاعدہ اور دستور ہے کہ وہ قوموں کو خوابِ غفلت سے جگانے اور خلافت سے متعلق اپنے فرائض و واجبات انجام دینے سے متعلق ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنے کے لیے اُنہیں طرح طرح کی زمینی اور آسمانی آزمائشوں سے دوچار کرتا ہے تاکہ اس کے بندے خوابِ غفلت سے جاگیں اور اپنی حقیقت اور اصلیت کو جان سکیں۔
محمود الحسن عارف
2009
  • دسمبر
سورۃا لفا تحہ

نام:

حدیث ابوہریر ہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں آیا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا
صدیق حسن خان
1989
  • اکتوبر
بعض علماء نے کہا ہے کہ کو ئی چیز ایسی نہیں جس کا قرآن مجید سے اخذا کرناناممکن ہو مگر یہ وہ کر سکتا ہے ۔جسے اللہ نے سمجھ دی یہاں تک کہ بعض اہل علم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر (63) برس سورہ منافقین کی اس آیت سے اخذا کی :

﴿وَلَن يُؤَخِّرَ‌ اللَّهُ نَفسًا إِذا جاءَ أَجَلُها...﴿١١﴾... سورة المنافقون
چودھری عبدالحفیظ
1989
  • جولائی
﴿وَما نَقَموا إِلّا أَن أَغنىٰهُمُ اللَّهُ وَرَ‌سولُهُ مِن فَضلِهِ...٧٤﴾... سورة التوبة

ان منافقوں نے صرف اس بات کا انتظام لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے (اللہ) کے فضل سے انہیں غنی بنا دیا۔

تمہیدی گزارشات:
سیف اللہ سپرا
1972
  • اپریل
(زیر نظر تحریر میں فاضل مضمون نگار نے بڑے دیانتدارانہ طریقے سے "سبعہ احرف" سے مراد کے تعین کی کوشش کی ہے۔اور بظاہر اس دقیق بحث کو اپنے آسان طرز بیان سے انھوں نے بڑی حد تک سہل کردیا ہے ۔اسلوب نگارش بڑا ہی منطقی اور اصولی ہے۔ اس تفصیلی مضمون کی ایک قسط اس سے قبل پچھلے شمارے میں بھی شائع ہوچکی ہے جو اپنے مقام پر ایک مستقل حیثیت کی حامل ہونے کے ساتھ ساتھ اس بحث سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہے۔
عبدالعزیز القاری
1994
  • جنوری
﴿واذ قلنا للملٰکۃ اسجدوا لادم فسجدوآ الا ابلیس ابی واستکبر وکان من الکفرین﴾

''اور جب ہم نے فرشتوں سے کہاکہ آدم کے آگے جھکو تو شیطان کے سوا (سب کے سب)جھکے پڑے اس نے نہ مانا اور شیخی میں آگیا اور (وہ دراصل) نافرمانوں میں سے تھا۔''
عزیز زبیدی
1975
  • جولائی
  • اگست
ان کے تاریخی حقائق کی تفصیل بڑی طویل ہے ، جس کا یہ مقام متحمل نہیں ہے بہرحال وہ جتنی بھی ہے انہی حقائق کی ذیلی سرخیاں ہیں جوقرآن حکیم نے بیان فرمائی ہیں جن کاخاکہ اوپر کی سطور میں ہم نے سامنےرکھا ہے۔کتاب اللہ کی طرح ''سنت رسول اللہﷺ'' نے بھی بعض مقامات پر ان کاذکر کیا ہے ،گو ان سب کا استقصا یہاں مشکل ہے، تاہم وہ چند امور جو ضروری ہے، حاضر ہیں:
عزیز زبیدی
1976
  • جولائی
﴿اتامرون الناس بالبر وتنسون انسکم و انتم تتلون الکتٰب افلا تعقلون۔ واستعینوا بالصبر والصلوٰۃ وانھا لکبیرۃ الا علی الخشعین۔ الذین یظنون انھم ملقوا ربھم وانھم الیہ راجعون۔﴾

''کیا تم (دوسرے)لوگون سے نیکی کرنے کو کہتے ہو او راپنی خبر نہیں لیتے۔ حالانکہ تم کتاب (الہٰی بھی) پڑھتے رہتے ہو کیاتم (اتنی بات بھی )نہیں سمجھتے اور (مصائب کی سہار کے لیے) صبر اورنماز کا سہارا پکڑو او رالبتہ نماز سخت مشکل کام ہے مگر ان کے لیے
عزیز زبیدی
1976
  • اگست
﴿مَثَلُهُم كَمَثَلِ الَّذِى استَوقَدَ نارً‌ا فَلَمّا أَضاءَت ما حَولَهُ ذَهَبَ اللَّهُ بِنورِ‌هِم وَتَرَ‌كَهُم فى ظُلُمـٰتٍ لا يُبصِر‌ونَ ١٧ صُمٌّ بُكمٌ عُمىٌ فَهُم لا يَر‌جِعونَ ١٨ أَو كَصَيِّبٍ مِنَ السَّماءِ فيهِ ظُلُمـٰتٌ وَرَ‌عدٌ وَبَر‌قٌ يَجعَلونَ أَصـٰبِعَهُم فى ءاذانِهِم مِنَ الصَّو‌ٰعِقِ حَذَرَ‌ المَوتِ ۚ وَاللَّهُ مُحيطٌ بِالكـٰفِر‌ينَ ١٩ يَكادُ البَر‌قُ يَخطَفُ أَبصـٰرَ‌هُم ۖ كُلَّما أَضاءَ لَهُم مَشَوا فيهِ وَإِذا أَظلَمَ عَلَيهِم قاموا ۚ وَلَو شاءَ اللَّهُ لَذَهَبَ بِسَمعِهِم وَأَبصـٰرِ‌هِم ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلىٰ كُلِّ شَىءٍ قَديرٌ‌ ٢٠﴾... سورة البقرة
عزیز زبیدی
1974
  • مئی
  • جون
کچھ عرصہ سے ہم نے محدّث میں التفسیر والتعبیر کے کالموں میں قرآن کریم کی مسلسل تفسیر روک کر الکتاب والحکمۃ کے عنوان سے مناسبِ احوال قرآنی آیات کے درس کی اشاعت شروع کر دی تھی کیونکہ التفسیر والتعبیر کی پاروں کی صورت میں اشاعت کا پروگرام تھا لیکن محترم مولانا عزیز زبیدی صاحب کی ناسازیٔ طبع اور دیگر مصروفیات کی وجہ سے یہ کام تیزی سے جاری نہ رہ سکا۔ لہٰذا ہم قارئین کو کسی مزید انتظار میں رکھے بغیر پھر سے یہ سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ (ادارہ)
عزیز زبیدی
1978
  • جون
اس دن وہ جھگڑیں گے:

ایک دوسرے کو وہ وہاں ملزم ٹھہرائیں گے اور کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم گمراہ نہ ہوتے۔

﴿ثُمَّ إِنَّكُم يَومَ القِيـٰمَةِ عِندَ رَ‌بِّكُم تَختَصِمونَ ﴿٣١﴾... سورة الزمر"﴿يَر‌جِعُ بَعضُهُم إِلىٰ بَعضٍ القَولَ يَقولُ الَّذينَ استُضعِفوا لِلَّذينَ استَكبَر‌وا لَولا أَنتُم لَكُنّا مُؤمِنينَ ﴿٣١﴾... سورة سبا
عزیز زبیدی
1978
  • جولائی
بِسمِ اللَّهِ الرَّ‌حمـٰنِ الرَّ‌حيمِ ١ الحَمدُ لِلَّهِ رَ‌بِّ العـٰلَمينَ ٢ الرَّ‌حمـٰنِ الرَّ‌حيمِ ٣ مـٰلِكِ يَومِ الدّينِ ٤ إِيّاكَ نَعبُدُ وَإِيّاكَ نَستَعينُ ٥ اهدِنَا الصِّر‌ٰ‌طَ المُستَقيمَ ﴿٦﴾ صِر‌ٰ‌طَ الَّذينَ أَنعَمتَ عَلَيهِم...٧﴾... سورة فاتحة

الٰہی! ہم صرف تیری ہی غلامی کریں گے اور (اس کے لئے) تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔ہم کو سیدھا رستہ دکھا۔ ان لوگوں کا رستہ جن پر تو نے (اپنا فضل) کیا۔
عزیز زبیدی
1973
  • ستمبر
﴿وَمِنَ النّاسِ مَن يَقولُ ءامَنّا بِاللَّهِ وَبِاليَومِ الءاخِرِ‌ وَما هُم بِمُؤمِنينَ ٨ يُخـٰدِعونَ اللَّهَ وَالَّذينَ ءامَنوا وَما يَخدَعونَ إِلّا أَنفُسَهُم وَما يَشعُر‌ونَ ٩ فى قُلوبِهِم مَرَ‌ضٌ فَزادَهُمُ اللَّهُ مَرَ‌ضًا ۖ وَلَهُم عَذابٌ أَليمٌ بِما كانوا يَكذِبونَ ١٠ وَإِذا قيلَ لَهُم لا تُفسِدوا فِى الأَر‌ضِ قالوا إِنَّما نَحنُ مُصلِحونَ ١١ أَلا إِنَّهُم هُمُ المُفسِدونَ وَلـٰكِن لا يَشعُر‌ونَ ١٢ وَإِذا قيلَ لَهُم ءامِنوا كَما ءامَنَ النّاسُ قالوا أَنُؤمِنُ كَما ءامَنَ السُّفَهاءُ ۗ أَلا إِنَّهُم هُمُ السُّفَهاءُ وَلـٰكِن لا يَعلَمونَ ١٣ وَإِذا لَقُوا الَّذينَ ءامَنوا قالوا ءامَنّا وَإِذا خَلَوا إِلىٰ شَيـٰطينِهِم قالوا إِنّا مَعَكُم إِنَّما نَحنُ مُستَهزِءونَ ١٤ اللَّهُ يَستَهزِئُ بِهِم وَيَمُدُّهُم فى طُغيـٰنِهِم يَعمَهونَ ١٥ أُولـٰئِكَ الَّذينَ اشتَرَ‌وُا الضَّلـٰلَةَ بِالهُدىٰ فَما رَ‌بِحَت تِجـٰرَ‌تُهُم وَما كانوا مُهتَدينَ ١٦﴾... سورة البقرة
عزیز زبیدی
1974
  • جنوری
  • فروری
﴿اِنِّیْ جَاعِلٌ فِیْ الْاَرْضِ خَلِیْفَةً﴾

جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں (اپنا ایک) نائب بنانے والا ہوں

قبر میں رکھتے ہی دو ڈراؤنے فرشتے 'منکر نکیر' احتساب کرنے، جائزہ لینے اور ان کو چیک کرنے کے لئے قبر میں آدھمکتے ہیں: اذا انصرفوا اتاه ملكان فيقعد انه فيقولان له ما كنت تقول في ھذه الرجل محمد ﷺ (صحيحين عن انس) اقاه ملكان اسودان ارزقان يقال لاحدھما المنكر وللآخر النكير (مجمع الفوائد۔ ابو ھريره)
عزیز زبیدی
1975
  • جنوری
  • فروری