قتل غیرت اور اس پر مختلف موقف

اسلام نے جرمِ بدکاری کی سزا 'موت' (بطورِ حد:سنگسار) مقرر کردی ہے، اس کے لئے چار گواہوں کی شہادت کو لازمی قرار دیا گیا ہے جو عدالت میں پیش ہوکر اس بارے میں شہادت دیں گے۔ اس لئے کسی شخص کو قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کرملزم کوقتل کرنے کی اجازت نہیں۔
محمد اسماعیل قریشی
2004
  • نومبر
۱۲/اکتوبر۱۹۹۹ء کو افواجِ پاکستان کے سربراہ جنرل پرویز مشرف نے عنانِ اقتدار سنبھالی تو اپنی تقاریر میں یہ تاثر دیا تھا کہ انہیں حادثاتی طور پر یہ ذمہ داری بہ امر مجبوری قبول کرنا پڑی ہے اوریہ کہ ان کے کوئی سیاسی عزائم نہیں ہیں۔ جنرل پرویز مشرف نے اس پس منظر میں اپنے آپ کو چیف ایگزیکٹو کہلوانا پسند کیا۔
ظفر علی راجا
2002
  • مئی
قاضی بشیر احمد صاحب نے اپنے مضمون کی قسط 12 سے احکام صلح کے متعلق خامہ فرسائی شروع کی ہے لیکن آپ اس مبحث میں بھی تضاد ، لغت دانی اور حدیث شناسی کے متعدد عجوبے او رنمونے پائیں گے۔ چنانچہ موصوف تشریح 12 ش 4 میں فرماتے ہیں۔ اگر مجنون کو قصاص کا حق حاصل ہو خواہ قصاص نفس کا ہو یا دون النفس کا تو اس کے باپ دادا کو اختیار ہوگا کہ وہ مجنون کی جانب سے قصاص لیں اور اس کو صلح کرنے کابھی اختیار ہے البتہ وہ معاف کرنے کا مجاز نہ ہوگا۔ ''
برق التوحیدی
1979
  • مئی
  • جون
قولہ: قاضی صاحب موصوف نے دفعہ نمبر 6 ش12 میں لکھا ہے کہ ''مرد اور عورت کے درمیان نفس سے کم میں قصاص جاری نہ ہوگا۔'' (ترجمان القرآن جلد 90 ع 4 ص21)

اقول: اس مسئلہ میں احناف او رمالکیہ و شوافع کے درمیان اختلاف ہے او راس اختلاف کی اصل بنیاد اس بات پر ہ کہ کیا عورت او رمرد کے اعضاء میں مماثلت ہے یا نہیں؟ احناف کے نزدیک یہ مماثلت مفقود ہے جبکہ جمہور کے نزدیک مماثلت و مساوت موجود ہے۔
برق التوحیدی
1979
  • جولائی
  • اگست
ملک میں اس وقت بعض مخصوص مقاصد کے تحت حدود آرڈیننس کا میڈیا ٹرائل جاری ہے۔ ماہنامہ محدث نے گذشتہ سالوں میں قانونِ توہین رسالت کے علاوہ حدود آرڈیننس پر بھی متعدد ایسے مضامین شائع کئے جن میں قانونی وابلاغی حلقوں کے اعتراضات کا تفصیلاًجواب دیا گیا ہے۔ صرف 2004ء میں حدود آرڈیننس پر تین تفصیلی مضامین شائع ہوئے
2006
  • جون
وطنِ عزیز کے حالیہ المناک حالات بلاشبہ بداعمالیوں اور کوتاہیوں کا لازمی نتیجہ ہیں ۔ جن دشمنوں کو خوش کرنے کے لئے اپنوں کو بے دردی سے ہلاکت وبربادی کی بھینٹ چڑھایا گیا، آج وہی عراق وافغانستان کی طرح اُسامہ بن لادن کی یہاں موجودگی کا الزام لگاتے ہوئے ہم پر حملہ کے لئے پر تول رہے ہیں ۔
صلاح الدین یوسف
2007
  • اکتوبر
زیر نظرمضمون محترم حافظ صاحب نے چند ماہ قبل ادارۂ محدث کو اشاعت کے لئے دیا تھا جس میں گذشتہ برس پاس ہونے والے تحفظِ حقوق نسواں بل کے خطرناک پہلوئوں کو نمایاں کیا گیا ہے۔ آج ہم بحیثیت ِقوم وملت جن مسائل کا شکار ہیں ، اس تک پہنچنے میں ہماری ماضی کی المناک غلطیوں کا بہت بڑا عمل دخل ہے۔
صلاح الدین یوسف
2007
  • دسمبر
سیاست: سیاست کو لوگ ''دنیا داری'' تصور کرتے ہیں حالانکہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ ہمارے نزدیک ''سیاست'' دین ہے اور نبی کے بعد اس کی جانشینی کا نام ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے:

«کانت بنو إسرائیل تسوسهم الأنبیاء کلما ھلك بنی خلفه بنی وإنه لا نبی بعدی وسیکون خلفاء فیکثرون الحدیث» (بخاری، ابو ھریرہؓ)
عزیز زبیدی
1970
  • دسمبر
زیرنظر مضمون میں 'شرعی قانون' کا لفظ استعمال کیا گیاہے جس کے بارے میں زیادہ محتاط لفظ 'شریعت ِاسلامیہ' ہی ہے۔ کیونکہ شریعت کو 'مسلمان اہل علم انسانوں' کے ذریعے قانونی ضابطہ بندیوں کی شکل دینے میں بھی بعض وہی مسائل درآتے ہیں جو وضعی یا انسانی قانون کیلئے عیب ٹھہرتے ہیں۔
محمد سرور
2007
  • دسمبر
روزنامہ ’جنگ‘ کی اشاعت مؤرخہ 13؍جنوری 2017ء کی وساطت سے معلوم ہوا کہ سینٹ آف پاکستان کی ’قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق‘ قانونِ توہین رسالت کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے چوبیس سالہ پرانی تجاویز پر غوروفکر کرنے لگی ہے ۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ اس قانون کے تحت جھوٹے مقدمات کی روک تھام کے لیے غوروفکر کیا جائے اور اگر ضروری سمجھا جائے تو ضوابطی قوانین (Procedural laws) میں تبدیلیاں بھی لائی جائیں
مفتی محمد خان قادری
2017
  • مارچ
مملكت ِ خداداد ِ پاكستان كے صدر جنرل پرويز مشرف نے 21/ مئى 2000ء ميں اعلان كيا تها كہ توہين رسالت كے قانون كا غلط استعمال ہورہا ہے، اس لئے اس كے ضابطہ كار (Procedural Law) كو تبديل كرنا چاہئے- راقم نے اس تجويز سے اختلاف كرتے ہوئے اس پر گہرى تشويش كا اظہار كيا تها كہ موجودہ طريق كار ميں تبديلى توہين رسالت كے قانون كو غير موٴثر بنانے كى ناروا كوشش ہے- شروع ہى سے اس كے پس پردہ امريكہ اور يورپ كى متعصب عيسائى ذہنيت كار فرما رہى ہے اور ايسى كوشش قومى اشتعال انگيزى كا باعث ہوگى- چنانچہ يہى ہواكہ پاكستان كى دينى اور سياسى جماعتوں نے اس ترميم كى مخالفت كرتے ہوئے اس كے خلاف ملك بهر ميں احتجاجى مظاہرے شروع كرديے-
 
محمد اسماعیل قریشی
2005
  • جنوری
مملكت ِ خداداد ِ پاكستان كے صدر جنرل پرويز مشرف نے 21/ مئى 2000ء ميں اعلان كيا تها كہ توہين رسالت كے قانون كا غلط استعمال ہورہا ہے، اس لئے اس كے ضابطہ كار (Procedural Law) كو تبديل كرنا چاہئے- راقم نے اس تجويز سے اختلاف كرتے ہوئے اس پر گہرى تشويش كا اظہار كيا تها كہ موجودہ طريق كار ميں تبديلى توہين رسالت كے قانون كو غير موٴثر بنانے كى ناروا كوشش ہے۔
محمد اسماعیل قریشی
2005
  • جنوری
قولہ : اگر آلہ کومسلسل استعمال کیا گیا ہو تو احناف کے نزدیک اس صور ت میں بھی قتل شبہ عمد ہوگا..... البتہ امام شافعی کے نزدیک اس صورت میں قتل شبہ عمد ہوگا۔ (ترجمان القرآن فروری 1979ء، صفحہ 13 دفعہ نمبر 15)

اقول: ہم پہلے کسی موقعہ پر غالبا ً بالتفصیل عرض کرچکے ہیں کہ ہتھیار میں تلوار کو خاص کرنا یاایسی شروط عائد کرنا جن سے عموماً مستعملہ چیزیں خارج ہوجائیں۔
برق التوحیدی
1979
  • ستمبر
  • اکتوبر
حکمت و دانش کا تقاضا ہے کہ انسان جس موضوع کے بارے میں زیادہ معلومات نہ رکھتا ہو، اُس کے متعلق کوئی بات کرتے ہوئے یا حتمی رائے کے اظہار سے گریز کرنا چاہیے۔ ورنہ اُس کی کم علمی اور جہالت اُس کے لیے رسوائی اور خجالت کا باعث بن سکتی ہے۔ مگر کچھ لوگ دانش مندی کے تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انتہائی غیرمحتاط اور بے باکانہ انداز میں ایسے بیانات بھی داغ دیتے ہیں
عطاء اللہ صدیقی
2010
  • جون
ملک بھر میں اس وقت 'نظامِ عدل ریگولیشن' کا چرچا ہے اور دنیا بھر میں اسے موضوعِ بحث بنایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں 15/فروری 2009ء کا وہ معاہدۂ امن جو اس نظامِ عدل کی اساس بنا، اور 13/ اپریل کو قومی اسمبلی کی قرار داد کے بعد صدر کے دستخطوں سے منظور ہونے والے نظامِ عدل ریگولیشن کے مسودے کا اُردو ترجمہ، ان دونوں کو ذیل میں شائع کیا جا رہا ہے۔
ادارہ
2009
  • مئی
'ملی مجلس شرعی' کے مقتدر علماے کرام اِن دنوں 'متفقہ تعبیر شریعت'کی تیاری کے مراحل میں ہیں تاکہ نفاذِ شریعت کے کسی بھی مرحلے پر ایک متفقہ تعبیر اور نفاذِ شریعت کاطے شدہ منہج پہلے سے موجود ہو۔ اس سلسلے میں 'ملی مجلس شرعی' نے مختلف مکاتب ِفکر کے نمائندہ ۳۱؍علمائے کرام کے ۱۹۵۱ء میں تیار کردہ ۲۲ نکات کو ہی عصر حاضر میں ریاست وحکومت کے اسلامی کردار کو استوار کرنے کے لئے اساس قرار دیتے ہوئے انہی نکات کی تصویب و حمایت کی ہے۔
خلیل الرحمان
2010
  • مئی