جب بھی کوئی مورخ دنیا کی مختلف اقوام کے عروج و زوال کا تجربہ کرنے بیٹھتا ہے تو اسے جو چیز سر فہرست نظر آتی ہے وہ کسی قوم کی محنت اور جانفروشی ہے۔ جس قوم میں محنت ، جانفروشی اور اپنے فرائض کی خوش اسلوبی سے بجا آوری کا احساس جتنا زیادہ جاگزین ہوتا ہے اسی تناسب سے وہ عروج و اتدار کے زینوں پر چڑھتی ہے اور بعد میں جوں جوں اس میں فرائض سے پہلو تہی اور ذمہ داری سے فرار کا رجحان بڑھتا ہے۔ توں توں اس کے زوال کی داستان شروع ہو جاتی ہے۔
ادارہ
1996
  • مارچ
ایک شوراٹھا،ایک طوفان برپا ہوا کہ"عورت کی نصف گواہی نا منظور!" اور وہ جو ہمیشہ سے عورت کو چراغِ خانہ کی بجائے شمع محفل بنانے کی کوششوں میں مصروف تھے۔چادر اور چار دیواری کے تقدس کو اپنی عیاشیوں کے راستے کا روڑا خیال کرتے۔اور کتاب وسنت کی فضاؤں میں اپنی خواہشات کا دم گھٹتا محسوس کرتے تھے۔اس نعرہ"مستانہ" کو سن کر میدان میں آگئے۔
اکرام اللہ ساجد
1984
  • اگست

مذہب اور ثقافت ایک دوسرے پر اثرانداز بھی ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے اثر پذیر بھی۔ ہمارے ہاں عام طور پر مذہب اور ثقافت کو دو الگ الگ تہذیبی دائروں کے طور پر زیربحث لایا جاتا ہے، یہ زاویہٴ نگاہ قطعاً درست نہیں۔ سیکولر طبقہ اپنے مذہب بیزار رویے کی وجہ سے ثقافتی اُمور میں مذہب کے کردار کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے، لہٰذا جہاں کہیں مذہب اور ثقافت کے درمیان رشتوں کی بات ہوتی ہے،

ادارہ
2001
  • فروری
۲۰۰۲ء کے ماہ مارچ اور پھر ماہ مئی کے دوران وطن عزیز کی پاک سرزمین اپنے دو ایسے فرزندانِ جلیل کے لہو سے گل رنگ ہوئی جن کی شہادت نے اہل و فکر ونظر کو بے تاب وبے قرار کردیا۔ مملکت خدادادِ پاکستان میں امر ربی کے قیام اور تسلسل کا خواب دیکھنے والی آنکھیں اشک بار ہوگئیں اور اس ملک کے طول و عرض میں قرآن و سنت کی سرفرازی کا ارمان رکھنے والے دل مجروح ہوکر رہ گئے!!
ظفر علی راجا
2002
  • جون
کیا غیرت کے نام پر ہونے والے ہر قتل کی سزا قصاص ہے؟

اسلام اور اس کی جدید تجربہ گاہ کے نام پر سینۂ ارضی پر وجود میں آنے والی ریاست پاکستان اپنے قیام کے 65 برس بھی تشخص اورشناخت کے بحران میں مبتلا ہے۔ عظیم اکثریت کا نمائندہ طبقۂ اہل علم اس ملک کو اس کی اصل بنیاد اور اسلامی تقاضوں کی طرف لے جانا چاہتا ہے
حسن مدنی
2014
  • دسمبر
مارشل لاء رخصت ہوا اور جمہوریت بحال ہوگئی ہے۔ 30 دسمبر 1985ء کے سورج کی رو شنی میں قوم نے اپنی ''کھوئی ہوئی منزل'' کو اپنے سامنے یوں اچانک مسکراتے دیکھا کہ وزیراعظم صاحب کے بقول ''جب وہ ایوان میں داخل ہوئے تو مارشل لاء موجود تھا، لیکن جب ایوان سے باہر نکلے تو جمہوریت کا سورج طلوع ہوچکا تھا''اور روزنامہ ''جنگ '' کے مطابق :''گذشتہ ایک ہفتہ سے مسلسل بارشوں، شدید سردی اور کُہر آلود موسم کی لپیٹ 
اکرام اللہ ساجد
1986
  • جنوری
چند ماہ پہلے۔۔۔وحشی قاتل جاوید مغل کی  طرف سے سو معصوم بچوں کے قتل کی بہیمانہ واردات نے پورے عالم کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے وحشت وبربریت کے اس عدیم النظر واقع کو غیر معمولی کوریج دی۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن  جج جناب اللہ بخش رانجھا نے چند ماہ قبل اس مقدمہ کے متعلق سزا سنائی کہ" جاوید کومغل کو سو بار پھانسی دی جائے" اور اس کے جسم کےٹکڑے کرکے انہیں تیزاب میں اسی  طرح ڈالا جائے جس طرح کہ اس نے سو بچوں کو تیزاب کے ڈرم میں ڈال کر موت کے گھاٹ اُتارا تھا اور یہ کہ ا س سزا پر عملدرآمد مینار پاکستان گراؤنڈ میں عام پبلک کے سامنے کیا جائے تاکہ عبرت حاصل ہو۔"
فاضل جج کی جانب سے اس سزا کے متعلق عوام الناس کا رد عمل نہایت مثبت تھا۔البتہ بعض حلقوں کی طرف سے اس پر اعتراضات بھی وارد کئے گئے۔ یہودی لابی کی تنخواہ وار ایجنٹ عاصمہ جہانگیر اورHRCPکے ڈائیرکٹر آئی اے رحمان قادیانی نے اس سزا کو انسانی حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئےبیان دیا کہ اس سے بربریت میں اضاہوگا۔ پاکستان کے وزیر داخلہ جناب معین الدین حیدر نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت اس سزا پر عمل درآمد نہیں ہونے دی گی۔بعض دینی حلقوں کی جانب سے بھی اس سزا کے شرعی یا غیر شرعی ہونے کے بارے میں سوالات اٹھائے  گئے۔
عطاء اللہ صدیقی
2000
  • اکتوبر
جمہوریت پرستوں کی طرف سے  ملک عز یز میں بحا لی جمہوریت کا جس بیتا بی سے انتظا ر ہو رہا ہے ،اس کے پیش نظر یو ں معلو م ہو تا ہے ،کہ اہالیان پاکستان،جواس کے قیام سے لے کر اب تک تاریکیوں میں بھٹک رہے ہیں ، یکم جنوری 86 کے سورج کی ابتدائی کرنو ں کی رو شنی میں اچا نک اپنی منزل مقصود کو اپنے سا منے دیکھیں گے اور پلک جھپکتے میں ان کےدینی ،سیا سی، سماجی ،معا شی،معاشرتی اور جغرافیائی سبھی مسائل حل ہو جائیں گے۔۔۔یہ الگ بات ہےکہ علمبرداران جمہوریت کو خودبحالی جمہوریت ہی پر اطمینان حاصل نہ ہو ۔یعنی جمہوریت مل جا نے کے با وجود جمہوریت ہی انہیں نصیب نہ ہو اور منتخب حکومت ہی منتخب کہلا نے کی حقدار نہ ہو ۔۔۔وجہ یہ کہ ان کے نزدیک "آسمانی صحیفہ"اورمنزل من اللہ "1973ءکےدستورکی کسی "آیت"کی رُو سے غیر جماعتی انتخابات ،ملک عزیز کو"اسلامی جمہوریہ پاکستان"بنادینے کی راہ میں بری طرح حائل ہیں ۔
اکرام اللہ ساجد
1985
  • دسمبر
موجودہ دور میں مال و دلت، ساز و سامان اور منفعتِ دنیوی کے حصول کے لیے دوڑ جس شدت سے جاری ہے۔ بعض دفعہ اس کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا کوئی بہت ہی قیمتی متاع لوگوں سے چھن گئی ہے، جس کے تعاقب میں یہ ہر ممکن تیزی کے ساتھ روانہ ہو کر اسے حاصل کر لینا چاہتے ہیں ۔۔۔ یا کوئی انتہائی خوفناک بلا خود ان کے تعاقب میں ہے، جس سے یہ جتنی جلد ممکن ہو سکے دور اور دور نکل جانا چاہتے ہیں ۔
اکرام اللہ ساجد
1982
  • مارچ
ایک شخص کئی سال سے قلعہ اسلام پر، اسلام ہی کےحصار میں رہ کر،مسلسل گولہ باری کر رہا ہے۔
’’ طلوع اسلام ،، کےنام پرغروب آفتاب اسلام اس کی زندگی کی سب سےبڑی تمنا ہے- وہ قرآن کاسہارا لےکر قرآن سےکھیلتا ، حدیث کی آڑ میں حدیث پرحملہ آور ہوتا ، صحابہ سےمحبت جتلا کر انہی کامذاق اڑاتا، دین کی پناہ حاصل کرکےدین کی بنیادیں ہلاتا ، اشتراکیت کی مذمت کرکےاشتراکیت ہی کا پرچارکرتا، مادیت پرستی سےدشمنی ظاہر کرکے مادیت کی راہ ہموار کرتا، مادیت اور روحانیت کےدرمیان بظاہر قرآنی راہ اعتدال کاحوالہ دے کرشریعت سےبیزاری کااظہار کرتا، سائنس کےنام پرعلماء دین کورگیدتا ، سائنسی علوم کےمقابلے میں علوم دین کو ہیچ سمجھتا ، تاریخ کومسخ کرتا ،آخرت کا تصوّر دلوں سےمحوکرتااورشعاراسلام کی علی الاعلان تضحیک کرتا ہے۔ اتنا شاطر، اتنا چالاک ، اس قدر ذہین لیکن اسی قدر بدباطن کہ آیات قرآنی کےمختلف ٹکڑے چنتا ، ان کوایک خاص ترتیب دےکراس خوبی سےان کوباہم مربوط کرتا اور اُن کوخوش نما معانی پہنا کرمن مانے مطالب اخذکرتا ہے
اکرام اللہ ساجد
1982
  • ستمبر
﴿ أَلَيسَ مِنكُم رَ‌جُلٌ رَ‌شيدٌ﴾

ملک میں عام انتخابات کے انعقاد کے لئے 16 نومبر سئہ 1988ء کی تاریخ مقرر ہوئی ہے۔۔۔لیلائے اقتدار کے پرستار لنگر لنگوٹ کس کر میدان میں اُتر چکے ہیں اور ایک دوسرے کو نہ صرف دعوتِ مبارزت دے رہے ہیں، بلکہ کہیں کہیں باقاعدہ کشتیوں، ہاتھا پائی، توڑ پھوڑ اورفائرنگ وغیرہ کی خبریں بھی پڑھنے سننے میں آئی ہیں۔
اکرام اللہ ساجد
1988
  • اکتوبر
پاکستان کا مطلب کیا ....... لا َ اِلٰہَ اِلاَ اللّٰہ

کا نعرہ بھی قوم کو سنا دیا تھا، اس لیے اب ان کوچاہیے کہ وہ اس کی پابندی بھی کریں گویا کہ اس کے معنے یہ ہوئے کہ اگر وہ یہ نعرہ نہ دیتے تو ہم عنداللہ بری الذّمہ ہوتے، حالانکہ یہ بات اصولاً بالکل غلط ہے۔کیونکہ ایک مسلم کی حیثیت سے ہم اسلام کے سوا او رکسی نطام کے بارے میں سوچنے کے مجاز بھی نہیں ہیں۔الا یہ کہ ہم (خاکم بدہن) خدا اور اس کے رسولﷺ کا کلمہ بھی پڑھنا چھوڑ دیں۔
ادارہ
1978
  • مارچ
  • اپریل
پاکستان کو معرضِ وجود میں آئے تینتیس سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ۔۔۔ اس دوران کئی حکومتیں تبدیل ہوئیں اور مختلف نظامہائے حکومت آزمائے گئے، لیکن نہ تو کسی حکومت کو استحکام نصیب ہو سکا اور نہ ہی یہاں کوئی طرزِ حکومت کامیاب ہو سکا، بلکہ نت نئے تجربوں نے خود ملک کی سلامتی ہی کو داؤ پر لگا دیا ۔۔۔ چنانچہ جو لوگ 14 اگست سئہ 1947ء کو نقشہ دُنیا پر ایک نئی اسلامی مملکت کے وجود سے آشنا ہوئے تھے،
اکرام اللہ ساجد
1981
  • دسمبر
بين الاقوامى اسلامى يونيورسٹى كے زير اہتمام كام كرنے والے علمى ادارے ’ادارہ تحقيقاتِ اسلامى‘ اسلام آباد نے چند ماہ قبل اجتماعى اجتہاد كے عمل كو متعارف كرانے كى غرض سے اہل علم كا ايك بين الاقوامى سيمينار منعقد كرنے كا فيصلہ كيا- 19سے 22/مارچ 2005ء تك يہ سيمينار فيصل مسجد سے ملحقہ كيمپس كے آڈيٹوريم ميں منعقد ہوا۔
حسن مدنی
2005
  • اپریل
اسلام دین کامل ہے۔یہ آج سے چودہ صدیاں قبل مکمل ہوا۔اورآج تک کتاب وسنت میں مکمل ،جوں کاتوں موجود ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا سے رخصت ہوتے وقت اپنی امت کو یہ وصیت فرمائی تھی:
"میں تم میں دو چیزیں چھوڑ چلاہوں۔جن کو اگر تم نے مضبوطی سے تھامےرکھا تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے ان میں سے پہلی چیز کتاب اللہ ہے اور دوسری اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت!"
زبان نبوت سے ادا ہونے والے یہ پاکیزہ اور قیمتی الفاظ اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسلامی تعلیمات کوابدیت حاصل ہے۔تاقیامت ہمیں نہ کسی دوسرے شریعت کی ضرورت پیش آئے گی۔اور نہ ہی شریعت محمدیہ میں کسی قسم کی کمی بیشی یاتبدیلی کی گنجائش ہے!۔قیامت تک اب کوئی نبی نہیں آئے گا۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین اور خاتم المرسلین ہونے کا یہی نتیجہ ہے کہ شریعت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہر دور میں ہماری راہنمائی ہوگی!
اکرام اللہ ساجد
1985
  • اگست
گذشتہ دو ماہ سے پاکستانی اخبارات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے متعلق بحث ایک دفعہ پھر جاری ہے۔ چند روز پہلے 'نوائے وقت' میں 'مکتوبِ امریکہ' کے کالم میں ایک صاحب نے امریکہ میں مقیم چند پاکستانیوں کے خیالات کو شامل کیا ہے جو چاہتے ہیں کہ حکومت ِپاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے کااعلان کرے۔
عطاء اللہ صدیقی
2003
  • اکتوبر
حامیان جمہوریت جمہوری نظام کی ایک خوبی یہ بھی بیان فرماتے ہیں کہ اس طریق سیاست میں عوام کی نمائندگی کا مکمل تصور پایا جاتا ہے۔اور اس کی صورت یہ ہے کہ عوامی کثرت رائے کے اصول کے تحت ہر علاقے سے نمائندوں کاانتخاب کرکے پارلمینٹ میں بھیجا جاتا ہے۔اور اس میں انتخاب مملکت کا ہر فرد اپنی ذاتی حیثیت سے اثر انداز ہوتا ہے جو کہ عوامی نمائندگی کی مکمل اورعام فہم شکل ہے۔اور عوام کو باور یہ کرایا جاتا ہے کہ درحقیقت سب کچھ کا ا ختیار رکھتے ہیں۔
ادارہ
1992
  • اکتوبر
آج پانچ برس گزرنے کے بعد پاکستانی قوم ایک بار پھر انتخابات کے اہم ترین قومی مرحلے کا سامنا کررہی ہے۔ پاکستان کی تاریخ کے یہ انتخاب جہاں ایک طرف انتہائی متنازعہ حیثیت کے حامل ہیں ، شکوک وشبہات اور وسوسوں ،اندیشوں کے مہیب سائے پھیلے ہوئے ہیں وہاں اس کے نتائج بھی نوشتہ دیوار کی طرح ثبت ہیں ۔ اس کے باوجود خواہی نخواہی ہر آنے والا دن انتخابات کی طرف ہمارے قدم بڑھا رہا ہے۔
حسن مدنی
2008
  • فروری
وہ قوم کہ جس کے ایوانوں کی رونق مدتِ مدید تک عالمِ اسلام کے علوم و فنون کی رہینِ منت رہی، جس کے دانشوروں نے ایک طرف مسلمانوں کی تضحیک کی، ان کے دین اور ان کی کتاب کو اعتراضات کا نشانہ بنایا، ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق پر رکیک اور پست حملے کئے۔۔۔ اور دوسری طرف اس نے انہی مسلمانوں کے عادات و خصائل، ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ پاک اور انہی کی کتابِ ہدایت (قرآن مجید) کا بغور مطالعہ کیا
اکرام اللہ ساجد
1982
  • فروری
مدیر اعلیٰ کی تقریر....... جو 19جون 1978ء کو پاکستان نیشنل سنٹر لاہور میں کی گئی۔ موجودہ صورت میں یہ تقریر

نوٹس سے ترتیب دی گئی ہے، اس لیے الفاظ کی کمی بیشی اور بعض تفصیلات کی ذمہداری مرتب پر ہے۔ (خرم بشیر)

الحمد لله و کفیٰ و سلام علی عیاده الذین اصطفیٰ۔ امابعد
ادارہ
1978
  • اگست
  • ستمبر
يورپ ميں نكاح كے بغير جنسى تعلقات معمول كى بات ہے- نسب كے تحفظ كے ذرائع اختيار نہ كرنے كى بنا پر اُنہوں نے نسب كے تعين كے لئے طبعى ذرائع پرانحصار كرركها ہے، جس ميں جديد سائنسى طريقہDNA بڑا كارآمد ثابت ہوا ہے- وہاں جنسى بے راہ روى اس حد تك ہے كہ كوئى انسان يقين سے اپنے باپ كى نشاندہى نہيں كرسكتا، يہى وجہ ہے كہ اب باپ كے بجائے ماں كے نام كو زيادہ اہميت حاصل ہوتى جارہى ہے-
حسن مدنی
2005
  • جولائی
ہمارے بزرگ دوست ابو محمد سید بدیع الدین شاہ صاحب کتاب و سنت سے گہری عقیدت اور آزادانہ سوچ کے اعتبار سے ایک امتیازی حیثیت کےحامل ہیں۔ سعودی عرب کے طویل سفروں اور وہاں کے قیام نے شاہ صاحب موصوف کے توحیدی فکر کو مزید جلا بخشی ہے۔ الحمدللہ، کچھ عرصہ سے وہ سیاسی امور میں بھی خوب دلچسپی لے رہے ہیں او راس سلسلہ میں چند ایک پریس کانفرنسوں سے بھی خطاب کرچکے ہیں۔جس کاموضوع ''آئین شریعت''، ''اسلامی سزائیں'' اور اسلامی نظام کے دیگر پہلو'' ہیں۔ زیر نظر پریس کانفرنس منعقدہ 5 مارچ 1979ء بھی اس کی ایک کڑی ہے۔ جس پر تعلیقات ہماری طرف سے ہیں۔
ادارہ
1979
  • مارچ
  • مئی
صعید ِمکہ معظمہ سے بلند ہونے والی یہ آواز ہر سال مسلم ممالک کے سیاسی مفادات اور سرکاری جکڑ بندیوں سے بالا تر ہوکر کلمہ اسلام کے نام پر ملت ِاسلامیہ کو مخاطب کرتی ہے۔ مسلمانوں کے عالمی اجتماع سے بلند ہونے والی یہ صدا اسلام کا ایک جامع نقشہ کھینچتے ہوئے مسلم اُمہ کو درپیش حالات پر ایک جامع تبصرہ پیش کرتی اور ان کی مشکلات کا ایسا حل سامنے لاتی ہے
کامران طاہر
2008
  • اپریل
یوں تو افسوسناک واقعات و حوادث اس ملک میں روز مّرہ کا معمول بن گئے ہیں، لیکن 13 فروری 1986ء کو لاہو رمیں جو حادثہ رونما ہوا، اس نے ملک کے اسلام پسند طبقہ کو بجا طور پر یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والے اس ملک میں خود اسلام کامستقبل کیا ہوگا؟ کھلے سر اور کھلے چہروں کے ساتھ، (اور ماسوائے معدودے چند) دوپٹے سے بے نیاز کچھ ''خواتین'' نے، جنہیں خواتین کہنا خودخواتین کی بھی توہین ہے،
اکرام اللہ ساجد
1986
  • مارچ
مدیر اعلیٰ نے یہ تقریری ۱۹ مئی ۱۹۷۴ء کو ریڈیو پاکستان سے کی، جو چند ضروری اضافوں کے ساتھ ہدیۂ قارئین ہے۔ (ادارہ)

کلمہ طیبہ 'لا له لا الله محمد رسول الله'نہ صرف مسلمانوں کا مذہبی شعار ہے بلکہ ان کی دینی و اخلاقی، انفرادی و اجتماعی اور سیاسی و معاشی جملہ قسم کی سر بلندیوں اور ترقیوں کا ضامن ہے۔ وحدتِ انسانیت اور عروج بشریت کی بے مثال تاریخ اس سے وابستہ ہے۔
ادارہ
1974
  • جولائی
  • اگست