پاكستان ميں غيرت كے جرائم كا مسئلہ پانچ برس قبل اپريل ١٩٩٩ء ميں، قومى پريس ميں اُس وقت نماياں ہوا تها جب سمیعہ عمران نامى پشاور كى ايك عورت نے اپنے شوہر كى غير موجودگى ميں گهر سے فرار ہوكر عاصمہ جہانگير كے ادارہ دستك ميں پناہ لى تهى جس كے نتيجے ميں اس عورت كو ماں باپ كے ہمراہ موجود باڈى گارڈ نے گوليوں سے دستك كے د فتر ميں قتل كرديا تها-
حسن مدنی
2004
  • نومبر
ایک استفتاء میں سائل کہتا ہے کہ ''ان دنوں ہم ابلاغ عامہ کے تمام ذرائع کی نشریات میں بکثرت عیسی سال ۲۰۰۰؁ء کی تکمیل اور تیسرے ہزار سالہ عہد کی ابتداء کی تقریب کی مناسبت سے بہت سی باتیں اور کارروائیاں ملاحظہ کرتے ہیں۔ یہودیوں اور عیسائیوں وغیرہ میں سے کفار اس تقریب کی بہت خوشیاں منا رہے ہیں اور اس موقع کو امید کی کرن تصور کرتے ہیں۔
غازی عزیر
2000
  • جنوری
اسلام پاكيزہ مذہب ہے اور پاكيزگى و صفائى ستھرائى كوہى پسند كرتا ہے-يہى وجہ ہے كہ كتاب و سنت ميں متعدد مقامات پر طہارت و پاكيزگى اختيار كرنے كى اہميت و فضيلت بيان كى گئى ہے- اس كے دلائل ميں سے چند آيات و احاديث حسب ِذيل ہيں:
وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ‌ ﴿٤﴾ وَٱلرُّ‌جْزَ فَٱهْجُرْ‌ ﴿٥...سورۃ المدثر
  ”اپنے كپڑے پاك ركهيں اور گندگى سے احتراز كريں-“
عمران ایوب لاہوری
2005
  • اپریل
اجتماعی ملکیت
اجتماعی ملکیت سے مراد یہ ہے کہ "مملوکہ سے حق انتفاع صرف ایک فرد کو نہیں بلکہ تمام افراد اُمت کے لئے یہ حق انتفاع موجود ہے جس میں کوئی بھی ترجیح کا حق دار نہ ہے۔
جب کسی چیز سے امت کے اجتماعی مفادات وابستہ ہوں تو اسے کسی ایک فرد کی ملکیت میں نہیں دیا جا سکتا کہ بڑی بڑی نہریں، دریا، سڑکیں، پل اور آبادی کے اردگرد چراگاہیں اور بڑے بڑے پارک، فوجی ٹریننگ سنٹر وغیرہ ۔۔ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
" الفرات ودجلة لجميع المسلمين فهم فيهما شركاء" (1)
"فرات اور دجلہ تمام مسلمانوں کے لیے ہیں اور سب ان میں برابر کے حصہ دار ہیں"
ہاں اگر اجتماعی مفاد ختم ہو جائے تو حاکم وقت اُمت کے مفاد میں جو مناسب ہو، تصرف کر سکتا ہے مثلا ایک شارعِ عام تھی پھر دوسری شارعِ عام کے وجود سے اس کا مفاد ختم ہو گیا اور اب لوگ اسے استعمال نہیں کر رہے تو حاکم وقت اسے نیلام کر سکتا ہے اور وہ اس طرح انفرادی ملکیت کی طرف بھی منتقل ہو سکتی ہے۔
نصیراحمد اختر
1999
  • جنوری
عصر حاضر ميں متعدد اسباب ہيں جو اس موضوع پرقلم اُٹهانے كا تقاضا كر رہے ہيں :
1۔ نااہل لوگوں نے علم و قابليت كے بغير شريعت ِخداوندى كے اُصول و فروع سے مسائل كے استنباط كى جسارت شروع كردى ہے- ان كى اكثريت نے حديث كے باريك اوربڑے بڑے مسائل ميں كريد اور تعمق شروع كردياہے -
شیخ سلمان بن فہد
2005
  • اپریل
یہ ہے کہ اپنی کشتی کو انسانی معاشروں میں پائے جانے والے ظروف و حالات کے بہائو پر چھوڑ دیا جائے اور نصوص اور احکامِ شرعیہ کوعصری حالات کے تابع کردیا جائے باوجود اس کہ کہ یہ اشیا اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مخالف ہوں ۔ ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ درحقیقت حالاتِ زمانہ انسانی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ اپنے گردوپیش کے ماحول اور رسوم و رواج سے متاثر ہوئے بغیرنہیں رہ سکتا۔ وہ آس پاس کے حالات سے موافقت کرنا اور اُنہیں اپنے حال پر برقرار رکھنا پسند کرتاہے اور نہیں چاہتا کہ کوئی ایسی چیز اس کے رسوم و رواج سے متصادم ہو جسے وہ پسند نہ کرتا ہو۔
شیخ سلمان بن فہد
2006
  • جنوری
کسی بھی میت کو زیر زمین دفن کرنا فطرتِ انسانی کے عین مطابق ہے، اسی لئے دنیا میں سب سے پہلی میت کو زمین میں گڑھا کھود کر دفنایا گیا۔ حضرت آدم علیہ السلام کے ایک بیٹے (قابیل) نے دوسرے (ہابیل) کو ذاتی اَغراض کے لئے قتل کردیا پھر اسے یہ پریشانی لاحق ہوئی کہ اس لاش کا کیاکیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے ایک کوا بھیجا جو اپنی چونچ اور اپنے پاؤں سے زمین میں گڑھا کھودنے لگا ، ارشادِ باری ہے :
مبشر حسین
2002
  • اپریل
نیل الاوطار / ۴۹:۲ میں فتح الباری شرح البخاری سے نقل کیا ہے کہ:۔
''بعض حنفیہ نے اذانِ سحری کی یہ تاویل کی ہے کہ یہ (اذا سحری) حقیقی اذان نہ تھی جو الفاظ مقررہ سے متعارف ہے بلکہ وہ تذکیر اور منادی کرنا تھا کما یقع للناس الیوم (جیسا کہ آج کل مروج ہے۔)''
ادارہ
1971
  • مارچ
چونکہ لوگوں کے ما بین لین دین کے تمام معاملات میں مرکز و محور زَر ہی ہوتاہے، اس لئے ہر معاشی نظام میں زر اور اس کے متعلقات کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ زَر کی اس اہمیت کے پیش نظر علماے اسلام نے بھی اپنی تحریری کاوشوں میں اس موضوع کے تمام پہلوؤں پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ اسلام کے قرونِ اُولیٰ میں قانونی زر سونے،چاندی کے سکوں (دنانیر و دراہم) کی شکل میں ہوتاتھا مگر دورِ حاضر میں تمام ممالک کے مالیاتی نظام کی اساس کاغذی کرنسی ہے، سونے چاندی کے سکے پوری 
ذوالفقار علی
2009
  • اپریل
(ایک جائز تجارتی سکیم )

اسلام دین رحمت ہے اس نے زندگی کے تمام شعبوں کے لیے ایسے اصول وضوابط مقرر کیے ہیں کہ اگر ان پر عمل کیے جائے تو مسلمان زندگی کی دوڑمیں کبھی بھی پیچھے نہیںرہ سکتے۔ تجارت زندگی کا اہم ترین اور بہت با عزت پیشہ ہے،
محمد اصغر اسد
1998
  • ستمبر
اسلامی ریاست ایک فلاحی ریاست ہے جو اپنے تمام شہریوں کی حاجات و ضروریات کی کفیل ہوتی ہے۔بعض لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ غیرمسلم اسلامی ریاست میں دوسرے درجہ کے شہری ہوں گے اور اسلامی ریاست پر ان کی کوئی ذمہ داری نہ ہوگی جبکہ یہ بات محض مغالطہ ہے کیونکہ اسلام کا نظامِ کفالت ِعامہ اسلامی ریاست کے تمام شہریوں کے لئے بلا تمیز مذہب ونسل ہے۔ اس کی شرط صرف اسلامی ریاست کا وفادار شہری بن کر رہنا ہے۔
نور محمد غفاری
2006
  • ستمبر
خالق ارض وسماء نے کائنات رنگ وبو میں مختلف خاصتیوں کے حامل انسان پیدا کیے ہیں اور ان میں مختلف درجات وطبقات کا سلسلہ قائم کردیا۔ان میں سب سے اعلیٰ درجہ انبیاء کرام  علیہ السلام   کو عطا کیا اور ان میں امام الانبیاء علیہ السلام   اورافضل الانبیاء علیہ السلام   کےمقام پر ہمارے آقا ومولیٰ خاتم النبیین حضرت محمد ر سول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کوفائد کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے بعد تقویٰ وتورع کے لحاظ سے آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین   کامرتبہ اس کائنات میں سب سے بڑھ کر ہے۔ان کے بعد محدثین عظام اور علماء کرام کا مرتبہ ہے۔جنھوں نے اپنے آپ کو دین حق کی ترویج واشاعت کے لئے وقف کردیا اور وہ"إن العلماء ورثة الأنبیاء علیه السلام  " کےمعیار پر  پورے اترے۔
عبداللہ زائد
1994
  • اکتوبر
گذشتہ دنوں امريكہ ميں ايك مسلم خاتون نے جرأتِ رندانہ سے كام لے كر مردوں اور عورتوں كى ايك مخلوط جماعت كى امامت كيا كى كہ پورى دنيا ميں اس كى مخالفت اور حمايت كا بازار گرم ہوگيا- علمااور فقہا نے اس كے خلاف فتوے ديے اور اسے ناجائز عمل بتايا تو روشن خيال مسلم دانشوروں نے اس كى حمايت كى اور اسے ايك انقلابى اقدام قرار ديا-
حافظ ثناء اللہ مدنی
2005
  • جون
نظامِ اسلامی کی آفاقیت و وسعت کو دیکھا جائے تو جہاں وہ مسلم افراد کے لیے وسائل انتاج (پیداواری وسائل) کی ملکیت کو تسلیم کرتا ہے، وہاں پر اپنے زیر سایہ بسنے والے غیر مسلم افراد کے لیے بھی وسائل انتاج کی انفرادی ملکیت کو تسلیم کرتا ہے بلکہ اہل الذمہ کے مذہب و ملت کی آزادی کو اس حد تک تسلیم کرتا ہے کہ ایک مسلمان تو اسلام کی حرام کردہ اشیاء کا مالک ہی نہیں بن سکتا لیکن اگر اسلام کی حرام کردہ کوئی شے غیر مسلم کے ہاں قابل انتفاع اور جائز ہے تو اسلام اپنے زیر سایہ بسنے والے غیر مسلموں کو ان اشیاء کی ملکیت کی اجازت بھی دیتا ہے۔ جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک حکم صادر فرمایا کہ "جزیہ کی وصولی میں شراب و خنزیر وصول نہ کیا جائے بلکہ اہل الذمہ ان اشیاء کو فروخت کر کے اس کی رقم جزیہ میں ادا کریں۔"
نصیراحمد اختر
1999
  • اپریل
قيام پاکستان کے بعد اہلحدیث مجموعہ ہائے فتاویٰ کا تعارف
۱۔ فتاویٰ ثنائیہ ازمولانا ابو الوفاء ثناء الله امرتسری﷫ (۱۸۶۴ء۔۱۹۴۸ء)
مولانا ابو الوفاء ثناء الله بن خضر امرتسریکشمیر کے منٹو خاندان میں ۱۸۶۴ء کو اَمرتسر میں پیدا ہوئے۔
عبدالرؤف ظفر
2012
  • مئی
قيام پاکستان سے قبل اہلحدیث مجموعہ ہائے فتاویٰ کا تعارف
فتویٰ کامفہوم
لغوی اعتبار سے فتویٰ اسم مصدر ہے جو'افتاء' کے معنی میں مستعمل ہے اور اس کی جمع فتاوٰی (بفتح الواو) اور فتاوِی(بکسر الواو) آتی ہے۔
عبدالرؤف ظفر
2012
  • مارچ
ایک شخص کے چند بیٹے کاروبار کے علاوہ دینی اور رفاہی کام بھی کرنا چاہتے ہیں، وہ عدالت کے روبرو باہمی معاہدہ کرتے ہیں کہ جو بیٹے کاروبار کریں گے، وہ دینی اور رفاہی خدمات کا خرچ بھی برداشت کرتے رہیں گے۔ عام طور پر مشہور ہے کہ صدقہ یا ہبہ کا وعدہ پورا کرنا ضروری نہیں ہوتا لیکن عدالت نے اس معاہدے کی توثیق کرتے ہوئے فیصلہ سنادیا ہے۔ اب اس سلسلے میں درج ذیل سوالات کے شرعی جوابات مطلوب ہیں:
ادارہ
2009
  • فروری
قرآنِ كريم نے اس سلسلہ ميں يہ عظيم اور اساسى اُصول بيان كيا ہے كہ غير مسلموں كے ساتھ برتاوٴ اور لين دين ميں اصل يہ ہے كہ ان كے ساتھ حسن سلوك كا رويہ اختيار كيا جائے اور ان كے ساتھ نيكى اور احسان كرنے ميں اس وقت تك ہاتھ نہ كهينچا جائے جب تك ان كى طرف سے صريح دشمنى اور عہد شكنى كا كوئى عملى مظاہرہ نہيں ہوتا
صالح بن حسین
2007
  • مارچ
انسان کے وہ بنیادی حقوق جو تمدنی زندگی میں انتہائی ضروری ہیں اور معاشرہ کا کوئی فرد بھی اس سے مستغنی نہیں ہوسکتا، وہ یہ ہیں ؛ انسانی جان کا تحفظ، خون کا تحفظ، مال کا تحفظ، عزت کا تحفظ اور عقل کا تحفظ۔ اسلام نے انتہائی مؤثر تعلیمات کے ذریعے اور عملاً جس طرح انسان کے ان تمدنی حقوق کا تحفظ کیا ہے، دنیا کا کوئی مذہب اس کی ہم سری کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔
صالح بن حسین
2007
  • جنوری
چند صدیوں سے 'ریاست' کے ادارہ نے غیرمعمولی ترقی حاصل کرکے زندگی کے ہر پہلو تک اپنے دائرئہ کار کو وسعت دے لی ہے۔ ریاست کا ایک تصور تو مغرب کا دیا ہوا ہے جس کی بنیاد وطنیّت یعنی کسی خطہ ارضی سے وابستہ ہے۔ اس لحاظ سے ایک خطہ ارضی میں بسنے اور کسی ملک کی سرحدوں میں رہنے والے تمام افراد کے حقوق مساوی ہیں،اسی تصور پر پاسپورٹ اور آمد ورفت کے قوانین بنائے جاتے اور ملکی لکیروں کو تقدس دیا جاتا ہے
صالح بن حسین
2006
  • ستمبر
(3) اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی کا حق
اسلام کا اپنے ہم وطن مخالفین کے ساتھ رواداری کا ایک روشن پہلو یہ ہے کہ اس نے اُنہیں اپنے شرعی احکام کا پابند نہیں بنایا۔ زکوٰة جو اسلام کا ایک اہم رکن ہے ، سب غیر مسلم اس سے مستثنیٰ ہیں۔ دوسری طرف اگر کوئی مسلمان زکوٰة کے وجوب کا انکار کرتے ہوئے زکوٰة دینے سے انکار کردے تواسلام اسے مرتد قرار دے کر اس کے خلاف جہادکا حکم دیتا ہے۔
صالح بن حسین
2006
  • نومبر
اس شمارے ميں دو مضامين شائع كيے جارہے ہيں جن ميں كهڑے ہوكر كهانے پينے اور كهڑے ہوكر پیشاب كرنے كى اجازت كو پيش كيا گيا ہے اور ان سلسلے ميں اجازت پر مبنى تمام احاديث كو يہاں ذكر كيا گيا ہے ليكن ان احاديث كا مدعا اس سے زيادہ نہيں كہ يہ بتايا جائے كہ كهڑے ہوكر كهانا پينا يا پیشاب كرنا مطلقاً حرام نہيں ہيں بلكہ ضرورت كے پيش نظر شریعت سے ايسا كرنے كا جواز مل سكتا ہے۔
سعید مجتبیٰ سعیدی
2005
  • مئی
گذشتہ شمارے ميں بعض اُصولى تصورات كے نكهاركے بعد اس موضوع كے نماياں پہلووں كو چند سوالات (تنقیحات) كى صورت ميں ہم پيش كرتے ہيں جن پرمستقل بحث آگے آرہى ہے :
1. پارلیمانى اجتہاد سے مقصودپہلى مدوّن فقہوں پر كسى نئى تدوين كا اضافہ ہے يا كسى نئى فقہ كو قانونى حيثيت دے كر لوگوں كو اس كا پابند بنانا؟ جسے عربى ميں تقنين كہتے ہيں-
عبد الرحمن مدنی
2005
  • مئی
توہین رسالت کا مسئلہ قرآن وسنت میں بڑی شرح وبسط سے بیان ہوچکاہے ، اور اجماع امت سے اس کی توثیق ہوچکی ہے ۔ توہین رسالت کے حوالے سے جو اعتراضات بالعموم اُٹھائے جاتے ہیں، ان کا حقیقت میں نہ علم سے تعلق ہے اور نہ ہی قرآن کے متون سے ان کا کوئی دور کا واسطہ ہے ۔ اسی طرح تفسیر وحدیث اور نہ ہی اجماعِ اُمت اس کی تائید کرتے ہیں ۔ 
ابتسام الہی ظہیر
2011
  • جنوری
توہین رسالت کےحوالہ سے ملک بھر میں جاری بحث مباحثہ میں بعض ایسے اعتراضات بھی اُٹھائے جارہے ہیں جن سے یہ تاثر دیا جاسکے کہ توہین رسالت کی سزا یا تو شرعی طورپر ایک مسلمہ امر نہیں، یا اس کا اطلاق موجودہ حالات پر نہیں ہوتا۔ اس نوعیت کے اعتراضات نے چونکہ میڈیا کے ذریعے ہر عام وخاص کو متاثر کیا ہے، اس لئے ان کے بارے میں شریعت ِاسلامیہ کے موقف کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے۔
حسن مدنی
2011
  • فروری