نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چلتا پھرتا قرآن تھے تو صحابہ کرامؓ اس کے شاہد اور امین۔بلا شبہ قرآنِ کریم کے جواہرات جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معصوم زندگی کی لڑی میں پروئے جاتے تو یہ ہار صحابہ کی نظروں کو خیرہ کرتا۔چنانچہ بعد کے مفسرین قرآن پر آپؐ کے اصحابؓ کو یہی امتیاز حاصل ہے کہ قرآنِ مبین اُن کی زبان میں اُترتا تھا اور وہ اپنے سامنے وحی ٔ نبوت کا مشاہدہ بھی کرتے تھے۔
محمد رفیق چودھری
2006
  • جولائی
پاکستان کے مسلمہ مسالک کے کوئی سے تین معتمد علماے کرام کی منصفی میں لاہور کےکسی بھی میڈیا فورم پر درج ذیل دس (10) مسائل پر مجادلۂ احسن کا چیلنج دیا جاتا ہے
  1. اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے یا نہیں؟
ادارہ
2007
  • اگست
قرآنِ کریم کے اوّل مخاطب صحابہ کرامؓ ہیں ، اور ایک کلام اسی وقت ہی بلیغ ومبین کہلا سکتا ہے جب وہ اپنے اوّل مخاطبین کی سمجھ میں آئے، وگرنہ اس کے اِبلاغ میں نقص ماننا پڑے گا۔ اس لحاظ سے صحابہ کرامؓ کی قرآن فہمی کو دیگر اہل علم پر کئی پہلوئوں سے ترجیح حاصل ہے۔ صحابہ کرامؓ کی قرآن فہمی کے تین مرحلے ہیں اور تینوں کے احکام مختلف ہیں : a جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ فلاں آیت اس واقعہ کے بارے میں نازل ہوئی تو اس واقعہ کے تعین،حقیقت اورکیفیت کے بارے میں صحابہ کا موقف حجت ہے
محمد رفیق چودھری
2006
  • اگست
دورِ حاضر کے تجدد پسند گروہ (Miderbusts)نے مغرب سے مرعوب و متاثر ہوکر دین اسلام کاجدید ایڈیشن تیار کرنے کے لئے قرآن و حدیث کے الفاظ کے معانی اور دینی اصطلاحات کے مفاہیم بدلنے کی ناپاک جسارت کی ہے۔ہمارے ہاں اس فتنے کی ابتدا سرسید احمد خان نے کی۔ پھر اُن کی پیروی میں دو فکری سلسلوں نے اس فتنے کو پروان چڑھایا۔ ان میں سے ایک سلسلہ عبداللہ چکڑالوی اورمولانا اسلم جیراج پوری سے ہوتا ہوا جناب غلام احمد پرویز تک پہنچتا ہے۔
محمد رفیق چودھری
2006
  • نومبر
غامدی صاحب نے اُمت کے جن متفقہ، مُسلّمہ اور اجماعی اُمور کا انکار کیا ہے، اُن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ قرآنِ مجید کی (سبعہ و عشرہ) قراء اتِ متواترہ کو نہیں مانتے۔ اُن کے نزدیک قرآن کی صرف ایک ہی قراء ت صحیح ہے جو اُن کے بقول ' قراء تِ عامہ' ہے اور جسے علما نے غلطی سے ' قراء تِ حفص' کا نام دے رکھا ہے۔
محمد رفیق چودھری
2007
  • اگست