معاشرے میں بڑھتی بے اطمینانی اور لادینیت کی روک تھام کے لئے علماء کرام سرگرم ہیں لیکن مقابل میں اس قدر زیادہ منظم طورپر اور غیرمعمولی وسائل کے ساتھ عریانی ، اِباحیت پسندی اور دین بیزاری کو فروغ دیا جارہا ہے کہ علما کی کوششیں کامیاب نہیں ہوپارہیں۔عالمی سطح پر بھی اسلام کی دعوت کو درپیش مسائل اس پر مستزاد ہیں۔
میاں انواراللہ
2003
  • اکتوبر
رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عبداللہ بن صالح العبید نے امسال حج کے موقعہ پر مکہ مکرمہ میں  رابطہ کی چوتھی سالانہ کانفرنس سے اظہار موافقت کرنے پر خادم الحرمین شریفین شاہ فہد بن عبدالعزیز کاشکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سعودی حکومت صحیح اسلامی عقائد اور اسلامی دعوت کو  پھیلانے اور بین الریاستی وبین الاسلامی بنیادوں پر اسلامی مشن کی مالی ومعنوی سرپرستی کرنے جیسے نمایاں کارناموں پر مبارکبار کی مستحق ہے۔سیکرٹری جنرل نے ولی عہد مملکت سعودی عرب شہزادہ عبداللہ بن عبد العزیز اور نائب وزیر اعظم وزیر دفاع شہزادہ  سلطان بن عبدالعزیز کی اس ضمن میں کی جانے والی کاوشوں کو بھی سراہا۔
حسن مدنی
2000
  • اکتوبر
مرزا غلام احمد نے بیان کیا ہے کہ:
"کسی شخص کو حضور ر سالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم  کی بارگاہ میں بحالت خواب حاضری کی سعادت نصیب ہوئی۔اس نے دیکھا کہ علماء ہند بھی حاضر دربار ہیں۔پھر مجھے(مرزا صاحب کو) بھی حاضر کیاگیا۔علماء نے میرے بارے میں بتایا کہ یہ شخص خود کومسیح کہتاہے۔حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری تکفیر پرعلماء کو مبارک باد دی اور مجھے جوتے لگوائے۔"
اس خواب کاتذکرہ کرنے کے  بعد مرزا صاحب نے اس کا  مضحکہ اڑایا ہے۔اور حاضرین مجلس کا بانداز تحقیر یوں ذکر کیا ہے:
" مولوی محمد حسین کی کرسی کے قریب ایک اور کرسی تھی جس پر ایک بڈھا نودسالہ بیٹھا ہوا تھا۔جسے لوگ نزیرحسین کہتے  تھے۔۔۔اور  سب سے پیچھے ایک نابینا وزیرآبادی تھا۔جس کو  عبدالمنان کہتے تھے۔اور اس کی کرسی سے"انا المکفر"کی زور  سے آواز آرہی تھی۔"[1]
محمد سلیمان اظہر
1985
  • جولائی
محرم الحرام 1420ھ کا چاند دیکھنے کے لیے رؤیت ہلال کمیٹی کے کوئٹہ میں اجلاس کے موقع پر
وزیر مذہبی امور بلوچستان اور حافظ عبد الرحمٰن مدنی
اور دیگر ممتاز علماء کی کوئٹہ میں پریس کا نفرنس

الحمد اللہ علی احسانہ آج سے نئی ہجری سال کا آغاز ہوا ہے ہم پوری ملت اسلامیہ کو بہ صمیم قلب نئے سال کی مبارک باد پیش کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزانہ دعا کرتے ہیں کہ یہ سال پاکستان اور عالم اسلام کے لیے اتحاد اخوت استحکام و ترقی اور نشاۃ ثانیہ کا نقیب ثابت ہو۔ ہم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سراپا تشکر وامتنان ہیں کہ گزشتہ سال پاکستان عالم اسلام کی پہلی اور دنیا کی چھٹی ایٹمی قوت بنا ایٹمی دھماکے کے علاوہ غوری ون اور ٹو اور شاہین میزائل کے کامیاب تجربات نے ملک کو دفاعی لحاظ سے ناقابل تسخیر بنادیا ہے اس اعزاز کے لیے ہماری حکومت مسلح افواج اور ایٹمی و دفاعی سائنسدان اور ٹیکنالوجسٹ بجا طور پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔
عبد الرحمن مدنی
1999
  • مئی
عمرہادر کعبہ بت خانہ می نالہ حیات
تاز بزم عشق تک دانائے راز آیدبرون
علامہ سید سلیمان ندوی علم کا بحرذخارتھےاور ان کی ذات میں اللہ تعالی ٰ نےبیک وقت گونا گوں اوصاف جمع کردیئے تھے۔وہ اپنے دور کےاردو زبان کےسب سےبڑے ادیت اورمصنف تھے۔انہوں نے مختلف موضوعات پرقلم اٹھایا اورمتعدد ضخیم کتابیں ترتیب دیں اورملک سےخراج تحسین حاصل کیا ۔ان کی تصانیف میں سیرۃ النبیﷺ،سیرۃ عائشہ ؓ ، مقام ، تاریج ارض القرآن، نقوش سلیمان اورحیات شبلی بہت مشہور ومعروف ہیں ۔ ان کےعلاوہ آپ نےسینگڑوں علی ، دینی اورمذہبی ،تاریخی وتنقیدی اورتحقیقی ، ادبی وسیاسی مضامین الندوۃ لکھنؤ ، الہلال کلکتہ اورمعارف اعظم گڑھ میں لکھے۔اورآپ کےکئی مقامات اتنے طویل تھےکہ ان کی زندگی میں کتابی صورت میں ہوئے ۔
عبدالرشید عراقی
1998
  • جولائی
شیخ الحدیث مولانا عبیداللہ رحمانی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی جنوری 94ء) ماضی قریب کی ایک انتہائی سربرآوردہ علمی شخصیت تھے علم و عمل میں اسلاف کے جانشین اور برصغیر پاک و ہند کی جماعت کی علمی آبرو اور ان کے لیے سرمایہ افتخار۔ انکے فتاویٰ علم و تحقیق کا بہترین نمونہ ہوتے تھے جو اخبارات کی فائلوں میں بکھرے ہوئے ہیں۔ ضرورت ہے کہ ان کو مرتب اور یکجا کر کے شائع کیا جائے تاکہ ایک تو وہ دستِ برد زمانہ سے محفوظ ہو جائیں اور دوسرے عوام و خواص اُن سے استفادہ کر سکیں۔
شیخ عبید اللہ رحمانی مبارکپری
1999
  • جنوری
نعرہ بازی کی سیاست یا علمی تحقیق اور تبلیغ و جہاد؟
حضرت مولانا حافظ عبدالرحمن مدنی مدظلہ العالی پاکستان کی معروف علمی شخصیات میں سے ہیں۔ آپ جامعہ لاہور الاسلامیہ میں، مدرسہ رحمانیہ، کلیۃ الشریعۃ اور وکلاء و جج حضرات کی شرعی تربیت گاہ انسٹی ٹیوٹ آف ہائر سٹیڈیز جیسی درسگاہوں کے علاوہ، مجلس تحقیق اسلامی اور "ماہنامہ محدث" لاہور کے مدیر اعلیٰ ہیں۔
موصوف جنوری کے مہینے میں سعودی عرب تشریف لائے۔ اس دوران میں، جہاں وہ مکۃ المکرمہ، ریاض اور قصیم گئے۔ وہاں مدینۃ المنورہ میں بھی جلوہ افروز ہوئے۔ مدینہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ نے ان کے اعزاز میں ایک استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا۔ جس میں پاکستانیوں کے علاوہ ہندی، بلتستانی اور کشمیری طلبہ بھی۔۔۔۔ باوجودیکہ سب کے سب ششماہی امتحان کی تیاری میں مصروف تھے کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔
اس انتہائی پُروقار تقریب میں انہوں نے طلبہ سے ایک تاریخی خطاب فرمایا: جس کے چند اہم نکات پیش خدمت ہیں۔
محمد اسحاق بھٹی
1989
  • اپریل
مو لا نا عبد الرحمٰن کیلا نی رحمہ اللہ تعا لیٰ (وسن پورہ لا ہو ر ۔۔۔جن کا انتقال 18دسمبر 1995ء مطا بق 25رجب 1416ھ کو ہوا ۔۔۔۔جما عت اہلحدیث کے ان علماء میں سے ایک ممتاز عالم اور صاحب قلم بزرگ تھے جنہوں نے نام و نمود کی خواہش کے بغیر نہا یت خا مو شی سے ٹھوس دینی اور علمی خدمات سر انجا م دیں ۔ مو لا نا مر حوم کا تعلق اس کیلا نی خا ندان سے ہے جو ہمیشہ کتا بت میں معروف ہو نے کے علاوہ دینی و علمی روایات کا بھی حا مل چلا آرہا ہے زیر نظر تحریر میں اختصار کے ساتھ انہی دو مو ضو عات پر روشنی ڈا لی گئی ہے پہلے حصہ میں تو کیلا نی خا ندان کا تعارف پس منظر اور ان کی دینی خدما ت کا تذکرہ ہے جبکہ دوسرے حصہ میں مو لا نا عبد الرحمٰن کیلا نی کی بیش قیمت تصانیف پر تبصرہ کیا گیا ہے ۔
خاندانی تعارف و پس منظر :۔
ان کے بزرگوں میں حا جی محمد عارف سب سے پہلے کیلیانوالہ میں آکر مقیم ہو ئے ان کے بیٹوں میں امام الدین اور محمد الدین تھے جن سے ان کا سلسلہ نسب پھیلا ایک اور بیٹے سلطا ن احمد بھی تھے مو لا نا عبد الرحٰمن  کیلا نی رحمۃ اللہ علیہ   کے جدا امجد امام الدین تھے جو مدرسہ غزنویہ امرتسر کے فیض یا فتہ تھے ۔ ان کے آگے تین بیٹے تھے ۔نور الٰہی،عبد الحی اور عبد الواحد ،مو لا نا امام الدین کے بڑے بیٹے نو رالٰہی  اور ان کی اولا د مولوی نور الٰہی صاحب سے جو بہت عمدہ کا تب تھے اور خوش نویسی ہی ان کا ذریعہ معاش تھا چار بیٹے ہوئے ۔محمد سلیمان محمد ادریس ،عبد الرحمٰن اور عبد الغفور اور یہ چاروں بھا ئی ماشاء اللہ اپنے آبائی پیشے کتابت کے علاوہ علم و فضل میں بھی ممتاز رہے ۔یہ سب کیلیانوالہ کی نسبت سے جوان کے آباؤ واجداد کا کئی پشتوں سے مسکن تھا کیلا نی کہلاتے ہیں ۔
صلاح الدین یوسف
1996
  • جولائی
مکتوب مولانا عبیداللہ رحمانی مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ
المؤلف مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح
بنام مولانا عبدالغفار حسن حفظہ اللہ تعالیٰ
۔۔۔(دوسرا مکتوب)۔۔۔
ابو الحسن عبیداللہ الرحمانی
رانی پورہ مبارکپور،اعظم گڑھ،یوپی،الہند
عزیز مکرم ومحترم جناب مولانا عبدالغفار حسن صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ !
السلام وعلیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
اُمید ہے آپ مع اہل وعیال ہر طرح بعافیت ہوں گے۔آپ کا اپنے کسی عزیز سے 21۔9۔1989ء کو املا کرایا گیا خط اور اس کے ساتھ آپ کی مرسلہ کتابیں(عظمت حدیث،معیاری خاتون،دین میں غلو،خطبہ نکاح کی تشریح) اکتوبر 1989ء میں مجھے مل گئی تھیں۔اور آپ کادوسراخط مرقومہ 1990ء۔3۔2۔کو اپنے قلم سے لکھا ہوا مع کتاب"عظمت حدیث" اپریل 1990ء کے شروع میں موصول ہواتھا۔
1999
  • فروری