محدث كے گذشتہ شمارے ميں 'فیملى پلاننگ سے مغربى مفادات' كے موضوع پر ايك مضمون شائع كيا گيا تها، اسى مضمون ميں پيش كردہ بعض نكات كى مزيد تصديق وتكميل كيلئے حسب ِذيل مقالہ خصوصى اہميت ركهتا ہے- اس مقالہ ميں مغربى مفكرين كے خيالات كى روشنى ميں ترقى اور نشو ونما كے باب ميں آبادى كے مثبت كرداركا جائزہ پيش كيا گيا ہے۔
محمد حماد لکھوی
2005
  • اگست
سب سے پہلے تاریخ ِپاکستان پر ایک سرسری نظر ڈالنا ضروری ہے۔ تاریخی جھلکیاں پیش کرنے سے پہلے ایک بات کی پیشگی وضاحت مناسب ہوگی۔ اگرچہ سیاسی نظام کے متعلق علماء و زعما ئے ملت کا اُصولی موقف یہ رہاہے کہ اسلامی مملکت میں مغربی سرمایہ دارانہ جمہوریت جائز نہیں، تاہم انہوں نے ماضی میں اضطراراً و مجبوراً نافذ شدہ نظام کو عارضی طور پر جاری بھی رکھا، صرف اس لئے کہ کہیں ملک ِعزیز اغیار کے کسی بڑے شر کا شکار نہ ہوجائے۔
عبدالمجیب
2003
  • اکتوبر
۶؍اکتوبر ۲۰۰۳ء کو پاکستان کے پُرفضا دارالحکومت اسلام آباد پر اُترنے والی خنک سہ پہر، وطن عزیز میں دہشت گردوں کے حوالے سے ایک اہم باب کے طور پر یاد رکھی جائے گی، یہ پیر کا دن تھا۔ سیاسی اور دینی جماعت ملت ِ اسلامیہ کے سربراہ اور قومی اسمبلی کے رکن مولانا اعظم طارق اپنے چار ساتھیوں کے ساتھ جھنگ سے روانہ ہوئے اور اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے جب اسلام آباد میں داخل ہوئے
ظفر علی راجا
2003
  • اکتوبر