نظامِ کائنات پر غور فرمائیے! آگ کی حدّت اور برف کی برودت، جھلسا دینے والی گرمی اور کپکپا دینے والی سردی، دن کی روشنی اور رات کی تاریکی، خزاں کی بے رونقی اور بہار کی بہاریں کانٹوں کا زہر اور پھولوں کی صباحت و ملاحت، پتھر کی ٹھوس اور سنگلاخ چٹانیں اور پانی کی روانی کفر و شرک کی آندھیاں اور اسلام کی رحمت آلود گھٹائیں غرض اضداد و اختلافات کا ایک سلسلہ جس پر دنیا کی بقاء کا انحصار ہے۔
اکرام اللہ ساجد
1972
  • دسمبر
  • جنوری
افضل ہے مرسلوں میں رسالت حضور ﷺ کی اکمل ہے انبیاء میں نبوت حضور ﷺ کی
ہے ذرّہ ذرّہ ان کی تجلّی کا اِک سراغ آتی ہے پھول پھول سے نکہت حضور ﷺ کی
پہچان لیں گے آپ ﷺ وہ اپنوں کو حشر میں غافل نہیں ہے چشمِ عنایت حضور ﷺ کی
احسان دانش
1976
  • مارچ
  • اپریل
قلب و نظر میں آپ ﷺ ہی رہتے ہیں جلوہ گر دنیا و دیں میں آپ ﷺ کا اُسوہ ہے راہ بر
معیارِ حق ہے آپ ﷺ کی ہر بات، ہر عمل نامعتبر تمام جہاں، آپ ﷺ معتبر
فاراں کی چوٹیوں سےجو جلوہ نما ہوا کرنیں اس آفتاب کی پہنچیں نگر نگر
راز کاشمیری
1976
  • مارچ
  • اپریل
زیر نظر مقالہ میں تعددِ ازواج کی حکمتوں میں اگرچہ جنسی ضرورتوں کو زیادہ اُجاگر کیا گیا ہے، کیونکہ عام لوگ نکاح کو صرف ایک جنسی ضرورت ہی سمجھتے ہیں، حالانکہ اسلام میں 'نکاح' خاندانی نظام کی بنیاد ہے جو مہذب معاشرہ کی بنیادی اکائی ہے۔ اگر کوئی صاحب نکاح (شادی) اور سفاح(معاشقہ) کے دیگر پہلوئوں بالخصوص سماجی پہلوئوں پر بھی قلم اُٹھائے تو آج اس کی بڑی اہمیت ہے۔
نوید احمد شہزاد
2002
  • دسمبر
غارِ حرا تھی منزلِ خلوت حضورؐ کی فتح مبین بن گئی ہجرت حضورؐ کی
تکمیلِ کائنات ہے بعثت حضورؐ کی اور اُمّتوں میں خیر ہے امت حضورؐ کی
تیغوں کے سائے میں بھی تبسم لبوں پہ تھا صلِ علیٰ یہ شان عزیمت حضور ؐ کی
عبدالکریم ثمر
1976
  • مارچ
  • اپریل
دُنیا کی تمام زندہ قومیں اپنےمشاہیر کی یاد سے اپنے دلوں کو گرماتی اور تازہ دم ہوجاتی ہیں لیکن ملّت اسلامیہ اپنے مزاج کے لحاظ سے بالکل جداگانہ نوعیت کی ہے۔ یہ قوم اپنی رُوح کی تازگی کے لیے ہمیشہ حضرت محمد ﷺ کی سیرت طیبہ سےحصول فیض کرتی ہے اور ان برگزیدہ شخصیتوں کی یاد سے اپنے دلوں کوگرماتی ہے جن کی زندگیاں اسوہ حسنہ کے سانچے میں ڈھلی ہوں او رانسانیت کاجیتاجاگتا نمونہ بن گئی ہوں۔
عبدالرؤف ظفر
1979
  • ستمبر
  • اکتوبر
شیعہ حضرات کے رسالہ ماہنامہ ''معارف اسلام'' لاہور کا تازہ شمارہ ''علی و فاطمہ نمبر'' ہمارے سامنے ہے۔ اس فرقہ کی دوسری نگارشات اور مؤلفات کی طرح اس خصوصی نمبر کے مطالعہ سے بھی ایک قاری کو جو عام تأثر ملتا ہے وہ یہ ہے کہ:
عزیز زبیدی
1973
  • فروری
یوں تو نوعِ انسانی کے بلند پایہ طبقوں میں ہزاروں لاکھوں انسان نمایاں ہیں۔ جنہوں نے اپنی زندگیاں اپنے بعد میں آنے والے لوگوں کے لئے مشعلِ راہ اور نمونہ کے طور پر پیش کی ہیں مگر ان کی طویل فہرست میں سے انبیائے کرام کی سیرت ہی بطورِ خاص عوام الناس کے لئے اسوہ اور بہترین نمونہ ہیں۔ کیونکہ ان کی سیرتیں ہر لحاظ سے بے داغ اور ان کا دامن حسنِ اخلاق و کردار سے آراستہ و پیراستہ ہیں۔
ثریا بتول علوی
1974
  • مارچ
  • اپریل
نہیں جس کے دل میں ولائے محمدؐ ہے محرومِ ظِلِّ لوائے محمدؐ
دو عالم میں کوئی نہیں ہے معظّم ورائے محمدؐ سوائے محمدؐ
محمدؐ کا فرمان، فرمانِ حق ہے یہ فرما رہا ہے خدائے محمدؐ
عبدالرحمن عاجز
1976
  • مارچ
  • اپریل
نقش ہو دل پر نقشۂ احمﷺ
لب پہ ہو جاری نغمۂ احمدﷺ
کب سے ہے پنہاں، دل میں یہ ارماں، رحمتِ یزداں سے ہو نمایاں
عبدالرحمن عاجز
1971
  • اپریل
لفظ ِ 'عيد' عود سے مشتق ہے، جس كا معنى لوٹنا اور بار بار پلٹ كر آنا ہے- اس كا نام عيد اس لئے ہے كہ يہ ہر سال لوٹ كر آتى ہے اور كسى بهى چيز كے پلٹ كر آنے ميں كوئى نہ كوئى حكمت پنہاں ہوتى ہے اور عيد كے ہر سال لوٹ كر آنے ميں بهى دنيا بهر كے مسلمانوں كو يہ سبق ياد دلانا مقصود ہوتا ہے كہ وہ جاہلیت كے اَطوار و عادات اور اہل جاہلیت كى تہذيب و ثقافت كو چهوڑ كر اپنے اصل اسلام كى طرف لوٹ آئيں، كيونكہ اسى سے ان كى كهوئى ہوئى عزت بحال ہوسكتى ہے۔
محمد رمضان سلفی
2004
  • فروری
فتح مکّہ پہ پیشِ سرورِ ﷺ دیں آئے جب بانیانِ فتنہ و کیں
ان میں جو جس قدر بھی سرکش تھا آج اتنی ہی خم تھی اس کی جبیں
سب کا انجام صاف ظاہر تھا لمحۂ آخریں تھا ان کے قریں
خالد بزمی
1976
  • مارچ
  • اپریل
لے کے آجائے اگر بخت سلیماں کوئی آپ ﷺ سے بڑھ کے معزز نہ ہو انساں کوئی
طاعتِ حضرتِ سرکارِ دو عالم کے بغیر ہو نہیں سکتا کبھی صاحبِ ایماں کوئی
بحرِ زخّار کو کوزے میں سموئے کیونکر کیسے تعریف لکھے اُن کی سخنداں کوئی
راسخ عرفانی
1976
  • مارچ
  • اپریل
اِس مہینے کی فضیلت کے متعلق حدیث کی کسی کتاب میں کوئی ذِکر نہیں ملتا۔ شیخ عبد الحق دہلوی نے اپنی کتاب ''ما ثبت بالسنہ'' میں لکھا ہے کہ ''اس ماہ میں شیخ عبد القادر جیلانیؒ کی وفات ہوئی تھی، اور ان کا عرس ۹ تاریخ کو ہوتا ہے اور مشہور گیارہویں تاریخ ہے'' یہ لکھنے کے بعد انہوں نے عرس کے استحسان کا ذِکر کیا ہے۔
صدیق حسن خان
1971
  • جون
دنيا كے تمام مذاہب ميں اسلام كى ايك مابہ الامتياز خصوصیت يہ ہے كہ اس نے تمام عبادات و اَعمال كا ايك مقصد متعین كيااور اس مقصد كو نہايت صراحت كے ساتھ ظاہر كرديا- نماز كے متعلق تصريح كى: ﴿إنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ﴾ (العنكبوت:٤٥)
"نماز ہر قسم كى بداخلاقيوں سے انسان كو روكتى ہے-"
ابو الکلام آزاد
2004
  • فروری
ترے خیال کو دل میں بسا کے لایا ہوں میں ایک ذرّے میں صحرا چھپا کے لایا ہوں
ترے کرم کی نہایت ہے یہ کہ تیرے حضورؐ میں اپنے آپ کو خود سے بچا کے لایا ہوں
میں دیکھتا تھا کبھی جس میں اپنی ذات کا عکس اس آئینہ کی میں کِرچیں اُٹھا کے لایا ہوں
عارف عبدالمتین
1976
  • مارچ
  • اپریل
السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔

نعتِ نبویؐ، معروفِ صنفِ سخن ہے۔ مسلمان ہی نہیں غیر مسلم شعراء نے بھی بارگاہ نبوت میں ہدیۂ عقیدت پیش کیا ہے۔ نعت گوئی کے مندرجہ ذیل پہلوؤں پر شرعی اعتبار سے روشنی ڈال کر رہنمائی فرمائیے!
منظور احسن عباسی
1976
  • مارچ
  • اپریل
عیاں ہیں دن کی طرح سب صفاتِ پیغمبر ﷺ کھلی کتاب ہے گویا حیاتِ پیغمبر ﷺ
اُسی کے دَم سے ہوئی کائنات کی تسخیر وہ اعتماد جو تھا کائناتِ پیغمبر ﷺ
نہیں ہے ثبت بغیرِ جواز اے لوگو! صحیفۂ دوسرا پر ثباتِ پیغمبر ﷺ
احسان دانش
1976
  • مارچ
  • اپریل