اس سوال کا اجمالی جواب تو یہ ہے کہ جمہوریت میں یہ لازمی امر ہے کہ مقتدر اعلیٰ کوئی انسان ہو یا انسانوں پر مشتمل ادارہ۔ انسان سے ماوراء کسی ہستی کو مقتدر اعلیٰ تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ جب کہ اسلامی نقطۂ نظر سے مقتدر اعلیٰ کوئی انسان ہو ہی نہیں سکتا ۔ بلکہ مقتدر اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جس کی بنا پر ہم دعویٰ سے کہہ سکتے ہیں کہ موجودہ جمہوریت سے اسلام کبھی سربلند نہیں ہو سکتا۔
ادارہ
1981
  • مارچ
  • اگست
کیا انصار و مہاجرین سیاسی جماعتیں تھیں؟

مہاجرین و انصار میں خلافت کے معاملہ پر سقیفہ بنی ساعدہ میں چند لمحات کے لئے نزاع پیدا ہوئی جو اسی مقام پر ختم ہو گئی۔ تو اس واقعہ کی بنا پر مہاجرین و انصار کو آج کل کی سیاسی پارٹیوں کے مماثل قرار دینا، میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے جمہوریت نواز دوستوں کی بہت بڑی جسارت ہے۔ جب یہ مہاجرین اولین مکّہ کی گلیوں میں پِٹ رہے تھے اور کفّار کے ظلم و تشدد کا نشانہ بنے ہوئے تھے تو کیا یہ سب کچھ اس لئے ہو رہا تھا کہ ہم کسی نہ کسی وقت کاروبارِ حکومت پر قابض ہوں جیسا کہ موجودہ دور کی سیاسی پارٹیوں کا بنیادی مقصود ہی یہ ہوتا ہے۔
ادارہ
1981
  • مارچ
  • اگست
ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ حضرت ابو بکرؓ کے ہاتھ پر خلافت کے انعقاد کے لئے بیعت سقیفہ بنو ساعدہ میں ہوئی۔ پھر دوسرے دن مسجد نبوی میں عام بیعت ہوئی۔ حضرت عمرؓ کو حضرت ابو بکرؓ نے نامزد کیا۔ نامزدگی کے متعلق گفتگو آپ کے گھر پر ہوتی رہی۔ لیکن عام بیعت مسجد نبوی میں ہوئی۔ اسی طرح حضرت عثمان کی خلافت سے متعلق مشورے تو حضرت مسور بن مخرمہ کے گھر پر ہوتے رہے لیکن عام بیعت مسجد نبوی میں ہوئی۔
ادارہ
1981
  • مارچ
  • اگست
1. اقتدارِ اعلیٰ

نظام خلافت میں مقتدر اعلیٰ خود اللہ تعالیٰ ہے۔ وہی ہر چیز کا مالک اور وہی قانون ساز ہے۔ ملت اسلامیہ اور انسانیت کی فلاح و بہبود کے بنیادی قوانین اللہ تعالیٰ خود بذریعہ انبیاء انسانوں کو بتلاتا ہے۔ ایسی قانون سازی کا اختیار کسی نبی کو بھی نہیں ہوتا۔
ادارہ
1981
  • مارچ
  • اگست
خلافت کے لئے بنی ہاشم کی تمنا

پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ جب حضور اکرم ﷺ کا حضرت ابو بکرؓ کو خلیفہ نامزد کرنے کا خیال پیدا ہوا تو اس کی وجہ بھی بتلا دی کہ مبادا اس وقت بعض لوگ خلافت کی آرزو کرنے لگیں یا کچھ دوسرے باتیں بنانے لگیں کہ خلافت تو دراصل ہمارا حق تھا۔
ادارہ
1981
  • مارچ
  • اگست
پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ جب حضور اکرم ﷺ کا حضرت ابو بکرؓ کو خلیفہ نامزد کرنے کا خیال پیدا ہوا تو اس کی وجہ بھی بتلا دی کہ مبادا اس وقت بعض لوگ خلافت کی آرزو کرنے لگیں یا کچھ دوسرے باتیں بنانے لگیں کہ خلافت تو دراصل ہمارا حق تھا۔ پھر آپﷺ نے جو استخلافِ ابو بکرؓ کا ارادہ ترک کر دیا تو اس کی وجہ بھی مذکور ہے کہ ابو بکرؓ کے علاوہ کسی دوسرے کا خلیفہ بننا نہ تو اللہ کی مشیت میں ہے اور نہ ہی مسلمان مجموعی طور پر ابو بکرؓ کے علاوہ کسی دوسرے پر اتفاق کریں گے۔ (اور آپ ﷺ پیش از وقت کسی کی دل شکنی نہیں کرنا چاہتے تھے) چنانچہ یہ دونوں باتیں پوری ہو کر رہیں۔ 
سب سے پہلے خلافت کا خیال بنو ہاشم کو آیا۔ قبیلہ قریش کے اس وقت دس چھوٹے قبائل مشہور تھے۔ ان میں سے ایک بنو ہاشم تھے۔ یہ آنحضرت ﷺ سے قرابت کی وجہ سے اپنے آپ کو خلافت کا حق [1]دار سمجھتے تھے۔ ان کے پیشوا حضرت علیؓ تھے اور حضرت عباسؓ ابن عباس اور حضرت زبیرؓ (جو عشرہ مبشرہ میں سے ہیں) ان کے رشتہ دار اور امرِ خلافت میں ان کے معاون تھے۔ حضور اکرم ﷺ اپنی مرض الموت میں بقید حیات تھے کہ حضرت عباسؓ کو یہ آرزو پیدا ہوئی کہ حضور اکرم ﷺ سے اپنے حق میں فیصلہ لے لینا چاہیے۔
عبدالرحمن کیلانی
1981
  • جون
حضرت علیؓ کی وفات کے قریب آپ سے لوگوں نے کہا اِسْتَخْلِفْ (یعنی اپنا ولی عہد مقرر کر جائیے) آپ نےجواب میں فرمایا: ''میں مسلمانوں کو اسی حالت میں چھوڑوں گا جس میں رسول اللہ نے چھوڑا تھا'' (البدایۃ ج ۸ ص ۱۳-۱۴)
ادارہ
1981
  • مارچ
  • اگست
حضرت عمرؓ سے نامزدگی کی درخواست

عن عبد اللہ ابن عمر قال: قیل لِعُمَرَ: ''الا تستخلف؟'' قال ان استخلف مَنْ ھُوَ خیر منی ابو بکرٍ وان اترک فقد ترک من ھو خیر منی رسول اللّٰہ ﷺ۔

فاثنوا علیہ فقال: رَاغِبٌ راھبٌ وددت انی نجوت منھا لَا لِی ولا عَلَیّ، لَا اَتُحَمَّلُھا حیًّا ومیتًا۔ (بخاری۔ کتاب الاحکام۔ باب الاستخلاف نمبر ۸۹۲)
ادارہ
1981
  • مارچ
  • اگست
1. عن محمد بن عبد اللّٰہ بن سوار بن نویرہ، و طلحۃ بن الاعلم، و ابو حارثہ وابو عثمان، قالوا: بَقِیَت المدینۃ بعد قتل عثمان رضی اللّٰہ عنہ خمسۃ ایام، وامیرھا لغافقی بن حرب، یلتمسون من یُجِیْیُھُمْ الی القیام بالامر فلا یجدونہ۔ یاتی المصریون علیا فیحتبی منھم وَیَلُوْذُ بِحیطان المدنیۃ، فاذا لقوھم، باعَدَھم وتبرا منھم ومن مقالتھم مرۃ بعد مرۃ۔ ویطلب الکوفیون الزبیر فلا یجدونہ فارسلوا الیہ حیث ھو رُسُلًا: فباعدھم او تبرا من مقالتھم
ادارہ
1981
  • مارچ
  • اگست
اہل مغرب نے آئینِ الٰہی کو پس پشت ڈال کر آسمانی ضابطۂ حیات کو عوام کی اکثریت کا تابع بنادیا جبکہ مشرق نے اہلِ مغرب کی غلامی کو ترقی کازینہ سمجھ کر قبول کرلیا اور اسلاف کی سیاست سے روگردانی کرلی۔ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے مشرق و مغرب کا موازنہ کرتے ہوئے اظہار خیال کیا:
عطاء اللہ جنجوعہ
2009
  • نومبر
جمہوریت کا موجودہ دَور انقلاب فرانس ۱۷۷۹ء سے شروع ہوتا ہے۔ واقعہ باسٹیل کے بعد ۴؍ اگست ۱۷۷۹ء کی شب کو جمعیت وطنیت فرانس نے اپنا مشہور منشور انقلاب شائع کیا تھا۔ جس نے تاریخ میں اوّلین فرمانِ حریت کے لقب سے جگہ پائی۔ مشہور فرانسیسی مورخ حال (Ch.Seignobos) نے اپنی تاریخ انقلاب میں اس منشور کا خلاصہ درج ذیل پانچ دفعات میں پیش کیا ہے:
ادارہ
1981
  • مارچ
  • اگست
1۔  فرانس کا منشور جمہوریتاور حقیقی جمہوریت

جمہوریت کا موجودہ دَور انقلاب فرانس ۱۷۷۹ء سے شروع ہوتا ہے۔ واقعہ باسٹیل کے بعد ۴؍ اگست ۱۷۷۹ء کی شب کو جمعیت وطنیت فرانس نے اپنا مشہور منشور انقلاب شائع کیا تھا۔ جس نے تاریخ میں اوّلین فرمانِ حریت کے لقب سے جگہ پائی۔ مشہور فرانسیسی مورخ حال (Ch.Seignobos) نے اپنی تاریخ انقلاب میں اس منشور کا خلاصہ درج ذیل پانچ دفعات میں پیش کیا ہے: 
$11.      استیصال حکم ذاتی: یعنی حقِ حکم و ارادہ اشخاص کی جگہ افراد کے ہاتھ میں جائے۔ شخص، ذات اور خاندان کو تسلط و حکم میں کوئی دخل نہ ہو۔ یعنی ملک ہی پریزیڈنٹ کا انتخاب کرے۔ اِسی کو حق عزل و نصب ہو۔ 
$12.      مساوات عامہ: جس کی بہت سی قسمیں ہیں: 
مساوات جنسی، مساوات خاندانی، مساوات مالی (حق ملکیت) مساوات قانونی (         ) مساوات ملکی و شہری وغیرہ وغیرہ۔ اس بنا پر بھی پریزیڈنٹ کو عام باشندگان ملک پر کوئی تفوق و ترجیح نہ ہو۔ 
$13.      خزانہ ملکی: ملک کی ملکیت ہو۔ اس پر پریزنڈنٹ کو کوئی ذاتی تصرف نہ ہو۔ 
$14.      اصولِ حکومت ’’مشورہ‘‘ ہو۔ اور قوتِ حکم و ارادہ افراد کی اکثریت کو ہو۔ نہ کہ ذات و شخص کو۔
عبدالرحمن کیلانی
1981
  • جون
بعد از خطبہ مسنونہ... اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے!
﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذينَ ءامَنوا مِنكُم وَعَمِلُوا الصّـٰلِحـٰتِ لَيَستَخلِفَنَّهُم فِى الأَر‌ضِ كَمَا استَخلَفَ الَّذينَ مِن قَبلِهِم وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُم دينَهُمُ الَّذِى ار‌تَضىٰ لَهُم وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِن بَعدِ خَوفِهِم أَمنًا يَعبُدونَنى لا يُشرِ‌كونَ بى شَيـًٔا وَمَن كَفَرَ‌ بَعدَ ذ‌ٰلِكَ فَأُولـٰئِكَ هُمُ الفـٰسِقونَ ٥٥ ﴾... سورة النور
عبدالجبار شاکر
2012
  • مارچ
خلفائے راشدین کا دور جہاں روحانی سعادتوں سے مالا مال تھا۔ معاشرتی اور سیاسی اعتبار سے بھی بے مثال تھا۔ خلفائے راشدین کی راتیں اللہ کے حضور میں قیام و سجود کی حالت میں گزرتی تھیں اور دن مخلوقِ الٰہی کی خدمت میں بسر ہوتے تھے۔
سید ابوبکر غزنوی
1971
  • جنوری
  • فروری
حضور اکرم ﷺ نے اپنی زندگی میں ہی یہ خبر دے دی تھی کہ ان کے بعد ان کے جانشین (خلیفہ) قبیلہ قریش سے ہوں گے ۔ اور ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بیان فرما دی تھی۔ اس سلسلہ میں بہت سی احادیث وارد ہیں اور امام بخاریؒ نے تو ''الامراء من قریش'' (کتاب الاحکام) کے عنوان سے ایک مستقل باب بھی باندھا ہے۔ چند ایک احادیث ذیل میں درج کی جاتی ہیں۔
ادارہ
1981
  • مارچ
  • اگست
1:امامت قریش میں ہو گی
حضور اکرم ﷺ نے اپنی زندگی میں ہی یہ خبر دے دی تھی کہ ان کے بعد ان کے جانشین (خلیفہ) قبیلہ قریش سے ہوں گے[1]۔ اور ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بیان فرما دی تھی۔ اس سلسلہ میں بہت سی احادیث وارد ہیں اور امام بخاریؒ نے تو ’’الامراء من قریش‘‘ (کتاب الاحکام) کے عنوان سے ایک مستقل باب بھی باندھا ہے۔ چند ایک احادیث ذیل میں درج کی جاتی ہیں۔ 
$11.الناس تبع لقریش فی ھذا الشان مسلمھم تبع لِمُسْلِمِھم وکافرھم تبع کافرھم (مسلم، کتاب الامارۃ باب الناس تبع لقریش والخلافة فی قریش) 
’’موجودہ صورت حال یہ ہے کہ لوگ قبیلہ قریش ہی کی پیروی کر سکتے ہیں۔ جو مسلمان ہیں وہ مسلمان قریش کی اور جو کافر ہیں وہ کافر قریش کی۔‘‘ 
گویا امر خلافت کو فیصلہ قریش سے منسوب ہونے کی وجہ یہ تھی کہ عرب قبائل قریش کے علاوہ کسی دوسرے فیصلہ کی اطاعت گوارا ہی نہ کر سکتے تھے۔ 
آپ نے یہ بھی فرما دیا تھا کہ میرے بعد خلفا قبیلہ قریش سے ہوں گے اور ۱۲ خلفاء تک اسلام غالب رہے گا اور یہ سب قبیلہ قریش سے ہوں گے۔ 
$12.عن جابر بن سمرة یقول سمعت النبی ﷺ یقول: لا یزال الاسلام عزیزا الی اثنی عشر خلیفة ثم قال کلمة لم افھمھا۔ فقلت لابی ما قال؟ فقال کلھم من قریش (مسلم، ایضا) (بخاری کتاب الاحکام۔ باب الاستخلاف)
عبدالرحمن کیلانی
1981
  • جون
خلافت میں خلیفہ کا تعین عوام کی بجائے اہل حل وعقدکرتے ہیں اور خلیفہ کے تعین کے لئے یہ اقدام 'بیعت خاصہ' کہلاتا ہے جو خلیفہ کی تعیناتی کے ساتھ اس کی اطاعت کی بیعت بھی ہوتی ہے جس کی توثیق و عہد بعد میں عامتہ المسلمین کی 'بیعت ِعامہ' کی صورت ہوتی ہے۔ لیکن خلیفہ کے درست تعین کا حقیقی دارومدار کسی بھی خارجی ودیگر منفعت کی بجائے دین الٰہی کے نفاذ کے لئے اَصلح ترین فرد کی صورت ہوتا ہے۔
عطاء اللہ جنجوعہ
2009
  • جون
'مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان' کے زیر اہتمام 'پیغام ٹی وی' نے 25؍فروری 2012ء سے اپنی باقاعدہ نشریات کا آغاز کردیا ہے۔ پیغام ٹی وی نے مدیر 'محدث' سے پاکستانی سیاست کو درپیش مذکورہ بالا اہم مسئلہ پر انٹرویو کیا جسے بعد میں ایک سے زائد بار چینل پر نشر کیا گیا۔ مذکورہ انٹرویو ضروری اصلاح کے بعد ہدیۂ قارئین ہے۔
حسن مدنی
2012
  • مارچ
کیا کثرت رائے معیارِ حق ہے؟

ہم پہلے اسلامی نقطۂ نظر سے یہ ثابت کر چکے ہیں کہ دلیل کے مقابلہ میں کثرت رائے کی کوئی حیثیت نہیں۔ اب جمہوریت پرستوں کی مجبوری یہ ہے کہ جمہوری نظام ''کثرت رائے بظور معیار حق'' کے اصول کے بغیر ایک قدم بھی نہیں چل سکتا۔
ادارہ
1981
  • مارچ
  • اگست
ہمارے جمہوریت نواز دوست عموماً یہ تاثر دیتے ہیں کہ:

1. سقیفہ بنی ساعدہ اس دَور کا پارلیمان تھا۔

2. جہاں انصار و مہاجرین نے سرکردہ حضرات نے جو اس دَور کے قبائلی نظام کے مطابق اپنے اپنے قبیلہ کے نمائندہ کی حیثیت رکھتے تھے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے انتخاب میں حصہ لیا اور
ادارہ
1981
  • مارچ
  • اگست
قرآن کریم میں مسلمانوں کی ایک صفت یہ بھی بیان کی گئی ہے:

وَاَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ (۴۲/۳۸)

اور وہ اپنے معاملات باہمی مشورہ سے طے کرتے ہیں۔
ادارہ
1981
  • مارچ
  • اگست
ایک صاحب فرماتے ہیں:

تعاونوا علی البر والتقویٰ کو پارلیمنٹری پارٹی کی اصل قرار دیا جا سکتا ہے۔ جو لوگ پارٹیوں کو گوارا نہیں کرتے وہ چاہتے ہیں کہ ہر دو سال بعد جنگ جمل، ۵ سال بعد جنگ صفین اور دس سال بعد کربلا بپا کرتے رہیں۔
ادارہ
1981
  • مارچ
  • اگست
1. بدر کے قیدیوں کے متعلق آنحضرت ﷺ کا صحابہ سے مشورہ

جنگ بدر میں قریش کے ستر بڑے بڑے آدمی گرفتار ہو کر دربار نبوت میں پیش کیے گئے تو آپ نے حسبِ عادت مجلس شوریٰ طلب کی اور یہ مسئلہ زیرِ بحث آیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔
ادارہ
1981
  • مارچ
  • اگست