بیعت دراصل اللہ تعالیٰ اور اس کے بندے کے درمیان ایک سودے اور معاہدے کا نام ہے۔ بندہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنی جان اور مال قربان کرنے کا عہد کرتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ بندے کو اس کے بدلے میں جنت دینے کا وعدہ فرماتے ہیں ۔ قرآنِ مجید میں ایک جگہ بیعت کے اس مفہوم کو بڑے ہی خوبصورت اَنداز میں بیان کیاگیاہے
حمزہ مدنی
2007
  • ستمبر
سوال: کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیانِ شرعِ متین بابت اس مسئلہ کے، کہ ہندوپاک میں پیرومرشد عوام سے جو بیعت لیتے ہیں ،اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اور یہ بات کہاں تک درست ہے کہ جس کا کوئی پیرومرشد نہ ہو، اس کا پیرومرشد شیطان ہوتا ہے، جیساکہ عوام میں مشہور ہے؟ براہِ کرام کتاب و سنت کی روشنی میں وضاحت فرما کر ممنون فرمائیں ۔ (قاری محمد ایاز الدین، حیدر آباددکن)
صہیب حسن
2007
  • ستمبر
مشورہ اور اس کے متعلقات

قرآن کریم میں مسلمانوں کی ایک صفت یہ بھی بیان کی گئی ہے: 
﴿وَأَمرُهُم شورىٰ بَينَهُم ... ﴿٣٨﴾...الشورى
اور وہ اپنے معاملات باہمی مشورہ سے طے کرتے ہیں۔ 
اور سورۂ آل عمران میں (جو جنگ اُحد میں نازل ہوئی تھی) حضور اکرم  کو یہ حکم دیا گیا کہ: 
﴿وَشاوِرهُم فِى الأَمرِ فَإِذا عَزَمتَ فَتَوَكَّل عَلَى اللَّـهِ ... ﴿١٥٩﴾...آل عمران
اور اپنے کاموں میں ان سے مشورہ لیا کرو اور جب کسی کام کا عزم کر لو تو اللہ پر بھروسہ رکھو۔ 
حضور اکرم ﷺ مکّی دور سے ہی مسلمانوں سے اکثر مشورہ کیا کرتے تھے۔ جنگ اُحد کے بعد دوبارہ اس لئے تاکید فرمائی گئی کہ جنگِ احد کے دوران مسلمانوں سے چند غلطیاں سرزد ہوئی تھیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ان کی غلطیوں کو معاف کیجیے اور دل میں کوئی بات نہ لائیے بلکہ ان سے حسب دستور مشورہ کا عمل جاری رکھیے اور مشورہ کی اہمیت تو اسی بات سے واضح ہو جاتی ہے کہ جس آیت میں مسلمانوں سے مشورہ کی صفت کو بیان کیا گیا ہے۔
عبدالرحمن کیلانی
1981
  • جون
دنیا کے ۵ درجن کے لگ بھگ مسلم ممالک میں اس وقت کس نوعیت کا اجتماعی نظام مؤثر طور پر کار فرما ہے، اور یہاں کے 'مسلم'معاشرے کن اساسی تصورات کے تحت تشکیل پارہے ہیں ؟ یہ اس دور کے باشعور مسلمان کے لئے بنیادی اہمیت کا سوال ہے۔ اس بارے میں ایک واضح موقف اختیار کرنے کے بعد ہی معاشرتی اصلاح کے دینی فریضے سے عہدہ برا ہونے کے لئے موزوں لائحہ عمل تجویز اور اختیار کیا جاسکتا ہے۔
زاہد صدیق مغل
2009
  • فروری