ڈاکٹر مولانا عبد الرشید اظہر ﷫‏سے طویل عرصہ علم وتربیت کا فیض پانے والی محترمہ امّ عبد الربّ جنہیں عوامی حلقوں میں 'باجی فوزیہ 'کے نام سے جانا جاتا ہے،نے اس مضمون میں اپنی گزری یادیں سپردِ قلم کی ہیں۔اپنے اُستاد کے رویّہ، مزاج، علمی ذوق اور دینی جذبات ورجحانات کا اس میں جابجا اظہار موجود ہے۔اس تحریر میں بہت سی ذاتی یادداشتیں بھی آگئی ہیں جنہیں اس بنا پر نذرِ قارئین کیا جارہا ہے

اُمِّ عبدالرب
2012
  • مئی
آہ شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ تعالیٰ
علم و عمل اور ہدایت کے آفتابِ عالم کا غروب

افسوس ہے کہ 26 محرم الحرام 1420ھ، مطابق 13 مئی 1999ء بروز جمعرات عالم اسلام کی عظیم علمی شخصیت اور سعودی عرب کے مفتی اعظم سماحۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز ریاض میں انتقال فرما گئے ۔۔۔ انا لله انا اليه راجعون !! دوسرے دن بروز جمعۃ المبارک خانہ کعبہ میں ان کی نمازِ جنازہ پڑھی گئی اور جنة المعلىٰ کے مشہور اور تاریخی قبرستان میں اُن کی تدفین عمل میں آئی۔ علاوہ ازیں سعودی عرب سمیت پورے عالم اسلام کے ہر شہر اور قریے میں شیخ مرحوم کی نماز جنازہ غائبانہ ادا ہوئی اور ان کی مغفرت اور رفع درجات کے لئے دعا کی گئی۔ پاکستان میں بھی ہر جگہ بڑی بڑی مساجد اہل حدیث میں نمازِ جنازہ غائبانہ کا اہتمام کیا گیا۔اس سلسلے میں لاہور میں جامع مسجد قدس اہل حدیث چوک دالگراں میں سب سے بڑا اجتماع ہوا، جس میں مولانا حافظ عبدالرحمٰن مدنی صاحب نے مرحوم کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور اُن کی دینی، ملی اور علمی خدمات پر روشنی ڈالی۔
صلاح الدین یوسف
1999
  • جون
فرد کی تربیت کی جب بھی بات ہوئی ہے تو ایک سوال ہمیشہ یہ رہا ہے کہ فرد کی تربیت کا مقصود اصلی کیا ہے؟ مسلمان کی نظر میں تو مقصود اصلی کا کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا۔ اس لیے کہ جہاں یہ ایمان ہوکہ یہ زندگی عارضی ہے اور بالآخر ایک نئی زندگی آنی ہے جہاں کامیابی اور ناکامی کے نتائج سامنے آئیں گے وہاں منزل مقصود کاسوال متعین ہے اور واضح ہے۔ لیکن جن اقوام میں آخرت کاکوئی تصور نہیں ہے۔ ان کے ہاں یہ سوال بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ فرد کی تربیت کا محرک کیا ہو؟
محمود احمد غازی
2009
  • اگست
عربی زبان دین اسلام کی پہچان اور شعار ہے کیونکہ اس میں ہماری آخری اور ابدی کتاب 'قرآنِ کریم' نازل ہوئی، اور ہمارے پیغمبر حضرت محمد ﷺ کی زبان یہی تھی۔ آپ اور ان کے صحابہ عرب تھے۔ قرآنِ کریم کی طرح ان کی تمام احادیث کا ذخیرہ اور آپ کی سیرتِ مبارکہ اسی زبان میں ہے۔
محمد بشیر
2009
  • اگست
جمعیت اہل حدیث پاکستان کی مرکزی درس گاہ ''جامعہ سلفیہ'' کے تعارف کے سلسلے میں حضرت مولانا محمد اسماعیل  بحیثیت ''ناظم تعلیمات'' لکھتے ہیں:

''جس میں طلباء کی اس نہج سے علمی تربیت کی جائے کہ وہ مستقبل میں جماعت کے لائق مصنف، بہترین خطیب، سلجھے ہوئے مقرر، صاحب تحقیق مفتی، زمانہ کے نشیب و فراز سے آشنا مُبلغ او ربلند کردار مُدرس ثابت ہوں نیز وہ اس خصوصیت کے حامل ہوں کہ اہل حدیث کے علاوہ دوسرے لوگ بھی ان کے علم و فضل اور تحقیق و کاوش سے متاثر و مستفید ہوسکیں۔''
ابو شاہد
1976
  • اگست
تعلیم ایک ذریعہ ہے،اس کا مقصد اچھی سیرت سازی اور تربیت ہے۔علم ایک روشن چراغ ہے جو انسان کو عمل کی منزل تک پہنچاتا ہے۔اس لحاظ سے تعلیم وتربیت شیوۂ پیغمبری ہے۔ اُستاد اورشاگرد تعلیمی نظام کے دو نہایت اہم عنصر ہیں۔ معلّم کی ذمہ داری صرف سکھانا ہی نہیں، سکھانے کے ساتھ ساتھ تربیت دینا بھی ہے۔
عبدالولی خان
2011
  • مئی
لارڈ میکالے کی تعلیمی یادداشت برصغیر پاک وہند کی تعلیمی تاریخ کی اہم ترین دستاویز ہے جو اپنے وقت ِتحریر سے اب تک ماہرین تعلیم کی شدید تنقید کا ہدف رہی ہے۔ اس کج نہاد خشت ِاوّل کے سبب برصغیر پاک وہند میں قومی تعلیمی زندگی کی عمارت صحیح طور پر تعمیر نہ ہوسکی۔ ہند کے گورنر جنرل لارڈ ولیم بیٹنک کو ۲؍فروری ۱۸۳۵ء کو پیش کی جانے والی یہ یادداشت ہندوستان میں پہلی دفعہ ۱۸۵۵ء میں مدراس کی 'ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن' نے شائع کی،
لارڈ ٹی بی میکالے
2004
  • ستمبر
میرا آج کا موضوع یہ ہے کہ اپنی عظیم اسلامی درسگاہوں میں کمسن بچوں کو قرآنِ کریم کی تدریس کے دوران عربی زبان کیسے پڑھائیں؟ اس سے قبل میں اپنے دو مضامین** میں سورۂ فاتحہ اور پھر سورۂ بقرہ کے پہلے رکوع کی تدریس کے دوران عربی زبان کی تعلیم و تربیت پر مثالوں سمیت لکھ چکا ہوں۔
محمد بشیر
2010
  • نومبر
برٹرینڈ رسل برطانیہ کا عظیم مفکر اورفلسفی گزرا ہے، اس کے زیر نظر مضمون میں مشہور فلسفہ 'حب ِوطن' کا ناقدانہ جائزہ لیاگیا ہے جو جہاں حقیقت شناسی کی عمدہ مثال ہے ، وہاں مغربی اقوام کے مذموم ریاستی مقاصد پر بھی اچھے انداز میں روشنی ڈالتا ہے۔ جدید ریاست ابھی تک حب ِوطن کی یہی تعلیم دینے پر مصر ہے، جس سے انسانیت میں سرزمین وطن سے محبت کے نام پر نفرت کے بیج بوئے جارہے ہیں ۔ ح م
برٹرینڈرسل
2009
  • فروری
     اسلام اور مسلمانوں کا خواتین کی تعلیم وتربیت کے بارے میں کیا موقف ہے،اور اسلام میں خواتین کی تعلیم کی کتنی ترغیب موجود ہے، خواتین کی تعلیم کی نوعیت کیا ہونی چاہیے؟اس بارے میں بہت سے سوالات لوگوں کے ذہنوں میں پائے جاتے ہیں۔اسلام کو عورتوں کی تعلیم کا مخالف بتایا جاتا اورمیڈیا میں مسلم خواتین کو تعلیم کا مطالبہ کرتے دکھایا جاتا ہے ۔ کچھ عرصہ قبل ملالہ یوسف زئی کو مسلم خواتین میں تعلیم کا سفیر بنا کر پیش کیا گیا
حسن مدنی
2015
  • دسمبر
ہمارے پہلے آباؤ اجداد جو اپنے عمل و اخلاق، تہذیب و تمدن اور معاشرتی ترقی کی بدولت، ساری دنیا کے پیشوا تھے، جن کی طرف ہماری نسبت ایک ناخلف کی ہی حیثیت سے ہو سکتی ہے۔ ان کا طرزِ عمل عورتوں کے معاملہ میں درست تھا، کیونکہ ان کے ہاں عورت اگر ایک طرف معاشرے کی متحرک روح اور چاق و چوبند فرد تھی جو علم و عمل کے خانگی،
تقی الدین ہلالی
1971
  • جون
یہ ہے کہ  عورتوں کو بغیر کسی تفہیم و تفسیر کے صرف سادہ قرآن مجید کی تعلیم دی جائے۔ ان کی نظر میں یہی رائے عمدہ ترین اور یہی نظریہ باقی تمام نظریات سے درست ہے، ہمارے آباؤ اجداد۔۔۔۔ جو ہم سے بہتر تھے۔۔۔۔۔ ان کی روشن بھی یہی تھی۔ تعلیم نسواں ان کے اخلاق کو بگاڑ دیتی ہے، کیونکہ ناخواندہ عورت شیطان سیرت مردوں کی دسترس سے دور رہتی ہے، بدیں وجہ کہ قلم بھی۔
عبدالسلام کیلانی
1971
  • مئی
مشرقی ساحل پر امریکہ کے شمالی کونے میں بوسٹن شہر آباد ہے۔ دورِ حاضرکی دو عظیم درس گاہیں یہاں واقع ہیں۔ نام ان کے ہارورڈ اور ایم آئی ٹی ہیں۔ عجیب اتفاق ہے کہ دونوں پاس پاس واقع ہیں۔ اتنا قریب کہ زائر چاہے تو ایک کے کیمپس سے پیدل دوسری کے احاطہ میں چلا جائے۔ یہ وہ خوش نصیب جگہیں ہیں جہاں نہ صرف علم کی انتہائی بلندیوں تک رسائی کا اہتمام ہوتا ہے،بلکہ یہاں پڑھنے پڑھانے والے ہر دم نئی کہکشاؤں کی تلاش میں مگن رہتے ہیں۔
مہر جیون خان
2004
  • ستمبر
حافظ عبدالرحمٰن مدنی، معاونِ سپریم کورٹ کے وضاحتی مراسلات اور بیانات

سپریم کورٹ (شریعت اپلیٹ بنچ) میں زیرسماعت مشہور مقدمہ سود میں حافظ عبدالرحمٰن مدنی عدالتِ عظمیٰ کے معاون کی حیثیت سے پیش ہو رہے ہیں۔ آپ نے 3 مئی اور 6 مئی کے دوران مکمل مذکورہ موضوع پر اپنی بحث پیش کی لیکن بعض اخبارات کے نمائندوں کی غفلت یا کم علمی کی وجہ سے رپورٹ نہ صرف خلط ملط ہوئی بلکہ موقف کچھ کا کچھ بن گیا۔ حافظ صاحب موصوف نے اسلام آباد سے ان خبروں کا نوٹس لیتے ہوئے دو مراسلات اور اپنا وضاحتی بیان دفتر محدث کے ذریعے روزنامہ اخبارات کے نام جاری کیا جو شاید اخبارات نے اپنے بعض صحافتی مصالح کی بنا پر تفصیل سے شائع کرنا مناسب نہ سمجھا۔ لہذا ہم ادارہ محدث کی طرف سے اخباروں کے مدیران کے نام دونوں مراسلات اور وضاحتی بیان شائع کر رہے ہیں ۔۔ (حسن مدنی)
ادارہ
1999
  • جون
(ہمارے فاضل رفیق مجلس التحقیق الاسلامی جناب پروفیسر عبد الجبار شاکر نے اپنے ادارہ بیت الحکمت کی نومبر 1998ءمیں افتتاحی تقریب کا اہتمام کیا تو صرف ایک رسمی تقریب کے بجائے اس کو ایک تعلیمی سیمینار کی شکل دے دی اور مختلف ماہرین تعلیم کو ملک بھر سے عصری اور دینی تعلیم کے اصلاح احوال کے بارے میں اظہار خیال کی دعوت دی گئی دن بھر جاری رہنے والے اس سیمینار میں ادارہ محدث سے منسلک جامعہ لاہور الاسلامیہ کے شعبہ کلیہ القرآن الکریم والعلوم الاسلامیہ کے پرنسیل یگانہ روزگار شخصیت  قاری محمد ابراہیم میر محمدی کو تجوید قرآءت کی تعلیم کے موضوع پر اظہار خیال کی دعوت دی گئی ۔جناب قاری محمد ابراہیم صاحب بو جوہ اس سیمینار میں کلمات نہ کہہ سکے لیکن انھوں نے سیمینار سے ایک روز قبل راقم الحروف کو اپنی دیرینہ دلچسپی اور محنت سے حاصل ہونے والے گراں قدر تجربات سے نواز اور مجھے اس موضوع پر لکھنے کو ارشاد فرمایا راقم الحروف چونکہ حفظ کا خود تجربہ رکھتا ہے کچھ عرصہ قاری صاحب موصوف سے سبعہ عشرہ قرآءت سیکھتا رہا ہے علاوہ ازیں محترم قاری صاحب کی معیت میں چند سال کلیہ القرآن کے مدیر کے طور پر خدمت انجام دینے کا موقع بھی ملا ہے اس لیے ذمہ داری کو قبول کیا۔ سیمینار کے روز ہی چند گھنٹوں میں لکھے جانے والا یہ مقالہ آخری وقت میں پہنچے کی بناپر سیمینار میں تونہ پڑھا جا سکا لیکن اب سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد اسے محترم قاری صاحب  کی پسند کے ساتھ بعینہ محدث کے قارئین کی نذر کیا جارہا ہے اس مقالہ میں خطاب کے نقطہ نظر سے جو بعض مشکلات محسوس ہوں قارئین سے نظرانداز کرنے کی گذارش ہے(حسن مدنی)
حسن مدنی
2000
  • مئی
علم نور ہے اورجہالت گمراہی !

انسانی معاشرہ کی تعمیر و ترقی کے لئے تعلیم و تربیت، علم و آگہی اور شعور بنیادی اہمیت کے حامل ہیں، دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ طبقہ نسواں معاشرے کا نصف حصہ ہیں۔ لہٰذا اس طبقہ نسواں کی تعلیم و تربیت معاشرے کی صلاح و فلاح کے لئے از بس ضروری اور ناگزیر ہے۔
ثریا بتول علوی
2004
  • نومبر
دمشق کی مختصر تاریخ:

دمشق ملک شام کا سب سے قدیم شہر ہے۔ جنگ یرموک کے فوراً ہی بعد ۱۴؁ھ میں اس پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا۔ پہلے اس پر باز نطینی حکومت تھی۔

۱۴ ؁ھ سے لے کر آج تک اس کو ہمیشہ اسلامی ثقافت کے مرکز کی حیثیت حاصل رہی۔
عادل خاں
1975
  • ستمبر
  • اکتوبر
یہ امر کسی سے مخفی نہیں ہے کہ ہمارے ملک، برصغیر پاک وہند کے پورے علاقے کی دینی درسگاہوں بلکہ سرکاری سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی، قرآنِ کریم کی تعلیم وتدریس کا جو طریقہ عرصۂ دراز سے رائج چلا آ رہا ہے، وہ 'ترجمہ قرآنِ کریم' کے نام سے معروف ہے۔ یہ بچوں کی ابتدائی تعلیم کے مرحلے میں تین چار سال تک جاری رہتا ہے۔
محمد بشیر
2008
  • جولائی
ہمارے دینی مدارس کے نصاب پر کسی تبصرہ سے قبل ضروری معلوم ہوتا ہے کہ جن علوم و فنون پر اس کا خاکہ مشتمل ہے ان کی عصری خصوصیات کا ایک مختصر جائزہ پیش کر دیا جائے جس سے ان علوم کی صحیح افادیت اور حقیقی اہمیت کے ساتھ ساتھ اس بات کا بخوبی اندازہ ہو سکے گا کہ ہماری مروجہ نصابی کتب طلباء کی کیسی ذہنی ربیت کر رہی ہیں اور ایسی کتابیں کس حد تک اپنے فنی مقاصد پورے کر سکتی ہیں؟
عبدالرشید اظہر
1972
  • جولائی
قارئین کرام اسوۂ انبیاء کے ذکر کے سلسلہ میں تین جلیل القدر انبیاء کے رحلات علم کا بیان پڑھ چکے ہیں۔ اب جن اسلافِ امت نے اس ورثہ انبیاء کی حفاظت کرتے ہوئے علمی سفر کئے ان میں سے چند ایک کا حال سنیئے:
ثناء اللہ بلتستانی
1972
  • مئی
قارئین کرام محدثین کے چند رحلات علم کے ذکر سے ان کی مشقتوں کا اندازہ فرما چکے ہیں۔ تاریخ امم میں مسلمانوں کے اس عظیم کارنامہ کی مثال نہیں ملتی جس کا اعتراف غیر مسلموں نے بھی کیا ہے۔ واقعی کسی انسان کی پوری زندگی کے اقوال و افعال کا اس طرح جمع ہونا ایک معجزہ ہے۔ اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے محدثین کے ہاتھوں قرآن مجید کی طرح اس کی تفسیر و تعبیر یعنی حدیث بھی محفوظ فرما دی۔
ثناء اللہ بلتستانی
1972
  • جون
کثرتِ مرتحلین:

اسلامی قرونِ اولیٰ، وسطیٰ اور متاخرہ ہر زمانہ میں یہ رواج رہا ہے کہ علم کے شائقین کثیر تعداد میں علمی مراکز میں آس پاس سے جمع ہوتے تھے۔ دورِ خلافتِ راشدہ تک تو حجاز میں زیادہ رونق رہی۔
ثناء اللہ بلتستانی
1972
  • جولائی

مجھے اس امر کا اعتراف ہے کہ خصوصاً ہماری دینی درسگاہوں میں عربی زبان و ادب کی نہایت وقیع اور معیاری کتابیں پڑھائی جاتی ہیں، نیز عربی گرامر کے دونوں شعبوں یعنی علم صرف اور علم نحو میں مستند اور مفصل کتابوں کی تدریس ہوتی ہے اور ان کی تعلیم و تدریس کئی سال جاری رہتی ہے، جو بڑی محنت اور جانفشانی سے کی جاتی ہے اور پھر ان تینوں علوم (عربی زبان، علم صرف اور علم نحو) کی تدریس کی ذمہ داری صرف کہنہ مشق اور محنتی اساتذہ کو ہی دی جاتی ہے۔

محمد بشیر
2007
  • اکتوبر
مشہور انگریز دانشور اور مترجم قرآن مارما ڈیوک پِکھتال جنہوں نے سالہا سال عرب ممالک کی سیاحت کرکے اسلام اور مسلمانوں کو سمجھا اور پھر اسلام قبول کرکے اس کی قابل قدر خدمت کی، اپنے مقالات میں لکھتے ہیں کہ انگریزی زبان کے قواعد کی مثال عربی زبان کی وسعت کے مقابلے میں ایسی ہے گویا انگریزی کے قواعد کا وجود ہی نہ ہو۔
عبدالکبیر محسن
2005
  • جنوری
علم ریاضی کی اس شاخ کا نام ہی اس بات پر شاہد ہے کہ اس کے خالق عرب ہیں۔ الجبرا پر قدیم ترین معلوم تحریر محمد بن موسیٰ الخوارزمی کی کتاب ''المختصر فی حساب الجبرا والمقابلہ ہے جو اس نے ۸۲۵ء میں لکھی، محمد بن موسیٰ الخوارزمی مامون الرشید کے عہد میں شاہی رصد گاہ کا مہتمم اور شاہی کتب خانے کا ناظم تھا۔
اختر راہی
1971
  • جولائی