پاکستان کے معروف محقق پروفیسر ڈاکٹر شیر محمد زمان چشتی کے سالہا سال کے مطالعہ اور علمی تجربہ کا نچوڑ 'نقوشِ سیرت' ہے جو 234 صفحات پر مشتمل ہے۔ خوبصورت جلد میں یہ کتاب نہایت دیدہ زیب ہے۔ 2007ء میں اسے 'پروگریسو بکس' اُردو بازار لاہور نے شائع کیا ہے۔کتاب کی ابتدا میں ملک کے معروف سکالر اُستادِ محترم پروفیسر ڈاکٹر خالد علوی رحمة اللہ علیہ، معروف ادیب اور عربی زبان کے فاضل اجل پروفیسر ڈاکٹر خورشید رضوی اورممتاز دانش ور پروفیسر عبدالجبار
عبدالرؤف ظفر
2009
  • فروری
مضبوط جلد میں درمیانے سائز کے 456 صفحات/قیمت: 180
سفید کاغذ، بہترین طباعت اور دیدہ زیب کمپوزنگ
ملنے کا پتہ: ادارہ خواتین میگزین، چیمبرلین روڈ، لاہور
 
گذشتہ چار صدیوں کے دوران مغرب کے چشمہ ظلمات سے ضلالت اور گمراہی کے جتنے بھی فتنہ پرور فوارے پھوٹے ہیں ان میں "آوارگی نسواں" کا فتنہ اپنی حشر سامانیوں اور تہذیبی ہلاکتوں کی وجہ سے سب فتنوں سے بڑا فتنہ ہے۔
سیکولر ازم، لبرل ازم، سوشلزم، فاش ازم جیسے باطل نظریات نے مغرب کی مذہبی اساس کو ریزہ ریزہ کر دیا تھا لیکن ان کی یلغار سے خاندانی اقدار اور سماجی قدریں بڑی حد تک محفوظ رہیں۔ مردوزن کے سماجی رشتوں کی وجہ سے قائم خانگی توازن خاصی حد تک قائم تھا لیکن "عورت ازم" (Feninism) کے ہوش ربا فتنہ نے خاندانی نظام کی عمارت کو اس قدر زمین بوس کر دیا ہے کہ مغرب میں سماجی ادارے کے طور پر خاندان کا تصور تک معدوم ہوتا جا رہا ہے۔
عطاء اللہ صدیقی
1999
  • جنوری
صفحات:432 ... مصنّفین: ڈاکٹر مفتی عبد الواحد و مفتی شعیب احمد

عمار خان ناصر صاحب کا تعارف یہ ہے کہ وہ پاک و ہند کی مشہور علمی شخصیت مولانا سرفراز خان صفدر﷫کے پوتے اور دوسری مشہور شخصیت مولانا زاہد الراشدی﷾ کے صاحب زادے ہیں۔ گوجرانوالہ سے شائع ہونے والے ماہ نامے 'الشریعہ'کے مدیر ہیں۔
مفتی عبداللہ
2014
  • اپریل
خوارزم جمہوریہ ازبکستان (روس) کا ایک اہم صوبہ ہے جہاں عہد اسلام میں بے شمار اہلِ علم نے جنم لیا۔ خیوہ اس صوبہ کا مرکزی شہر ہے۔ مامون الرشید کے دور کا مشہور منجم اور الجبرا کا ماہر محمد بن موسیٰ الخوارزمی اسی مردم خیر خطے میں پیدا ہوا۔ مشہور محدث محمد بن محمود خوارزمی (م ۶۶۵ھ) اسی علاقے سے نسبت رکھتے ہیں اور معلمِ ثانی ابو نصر فارابی کا مولد ''فاراب'' اسی علاقے میں واقع ہے۔
اختر راہی
1973
  • ستمبر
صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے اللہ تعالیٰ کی کتاب پاک کو بسم اللہ سے ہی شروع کیا تھا۔سب علماء کا اس بات پراتفاق ہے۔کہ بسم اللہ سورہ نمل کی ایک آیت ہے۔ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سورت کا دوسری سورت سے فرق نہ پہچانتے تھے ۔حتیٰ کہ بسم اللہ اُترتی۔ابوداؤد نے اسے صحیح اسناد سے ر وایت کیا ہے۔یہ روایت مستدرک حاکم میں بھی آئی ہے۔
چودھری عبدالحفیظ
1989
  • نومبر
نام کتاب : سید محمد داؤد غزنویؒ

مصنف : عبد الرشید اظہرؔ

ضخامت : ۸ صفحات

قیمت : غیر مجلد ۷۵/۱ روپے مجلد ۵۰/۲ روپے
عبدالمنان راز
1972
  • ستمبر
  • اکتوبر
نوٹ: تبصرہ کے لئے ہر کتاب یا رسالہ کے دو نسخے ارسال فرمائیں اور اس پر ''برائے تبصرہ'' لکھ کر اپنے دستخط ثبت کریں۔

کتاب : مرزائے قادیاں اور علمائے اہل حدیث

مؤلف : محمد حنیف یزدانی (قصوری)
ادارہ
1972
  • نومبر
نام کتاب : ہدایہ النبّی المختار (المعروف مکمل نماز)

مؤلف : حضرت مولانا عبد الوہاب دہلوی رحمۃ اللہ علیہ

صفحات : ۴۴۸

طابع و ناشر : کتب خانہ اشاعت الکتاب والسنۃ۔ کراچی
عبدالمنان راز
1973
  • ستمبر
مسلمانوں میں ابتدا سے ایک ایسا گروہ رہا ہے جس کی زندگی یاد خداوندی اور ریاضت و عبادت کے لیے مخصوص تھی۔ اس گروہ نے دنیوی کشاکش سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور عوام کی انفرادی اصلاح کے لیے وعظ و نصیحت اور عبادت و ریاضت کی تلقین، زندگی کا مقصد بنا لیا تھا۔ ابتداء میں یہ گروہ کسی خاص نام سےموسوم نہ تھامگر دوسری صدی میں یہ گروہ ''گروہ صوفیہ'' او راس کا مسلک ''تصوف'' کہلایا۔
ابو شاہد
1974
  • جنوری
  • فروری
کلیسا اور آگ : از نسیم حجازی

ضخامت : 428 صفحات۔ (سفید کاغذ، عمدہ کتابت طباعت)

قیمت : 20 روپے

ناشر : قومی کتب خانہ۔ 19 فیروز پور روڈ لاہور
ازہر بی-اے
1974
  • جنوری
  • فروری
فضائل القرآن : مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی

مرتب : جناب حفیظ الرحمٰن احسن

صفحات : 155
طالب ہاشمی
1978
  • دسمبر
مسلمانوں کی تاریخ کا وہ انتہائی سیاہ دن تھا جب کسی کلمہ گو نے حضرت علیؓ کی (بزعم خود) عقیدت میں کھو کر حضرت ابو بکرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت عمرؓ کو اپنی تنقید کا ہدف بنایا اور وہ روز بھی تاریخ اسلامی کا یقیناً تاریک ترین ہے جب کسی دوسرے کلمہ گو نے حضرت ابو بکرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت عمرؓ کی محبت میں سرشار ہو کر حضرت علیؓ کی تذلیل کی کوشش کی ہو گی۔
عبدالمنان راز
1972
  • مارچ
مولانا احمد دین گکھڑوی کا نام مناظر اسلام کی حیثیت سے دینی حلقوں میں خاصا معروف ہے۔ انہوں نے قیامِ پاکستان سے پہلے عیسائیت کے علاوہ شرک و بدعت کے خلاف اسلام کی ترجمانی اور دفاع میں بڑے معرکہ آراء مناظروں میں حصہ لیا ہے اور اسلام کی حقانیت کا پرچم بلند کرنے میں بڑھ چڑھ کر کام کیا۔ ''سیرت سید العالمین'' (ﷺ) ان کی مناظرانہ انداز کی تصنیف ہے۔
عبدالمنان راز
1972
  • اپریل
نام کتاب: ماہنامہ ''الجامعہ'' کا اتحاد عالم اسلام نمبر

ایڈیٹر: چودھری برکت علی شمیم ایم۔ اے، مہر احمد خاں عرفانی

نگران: مولانا محمد ذاکر صاحب
عبدالمنان راز
1972
  • مئی
نام کتاب: جائزہ مدارسِ عربیہ، مغربی پاکستان

سائز: ۱۷x۲۷/۸

ضخامت: ۸۰۳: صفحات
عبدالمنان راز
1972
  • اگست
کتاب : ہفت روزہ ''المنبر'' استقلال پاکستان نمبر

زیر ادارت : مولانا عبد الرحیم اشرفؔ

سائز و ضخامت : 23x36/8۔ 58 صفحات
ابو شاہد
1972
  • دسمبر
بچوں اور بڑوں کے لئے افادی ادب کی تخلیق میں مائل خیر آبادی صاحب کا قابل قدر حصہ ہے۔ وہ سادہ و سلیس اور شگفتہ و رواں زبان میں لکھتے ہیں۔ اندازِ بیان دلکش ہے۔ زیرِ نظر کتاب ''بدنصیب'' میں انہوں نے ان دس بد نصیبوں کا حال کہانی کے انداز میں لکھا ہے جن تک اللہ کا دین پہنچا لیکن وہ کسی نہ کسی وجہ سے اس نعمت سے محروم ہو گئے۔ واقعی اس شخص سے زیادہ بد نصیب کون ہو سکتا ہے جس کے سامنے جنت کا راستہ ہو
عبدالمنان راز
1973
  • مارچ
ڈاکٹر مجیب الرحمٰن کا شمار ان اہل علم میں ہوتا ہے جو علومِ قدیم وجدید کی جامعیت سے بہرہ مند ہیں۔ایک طرف وہ 'جامعہ محمدیہ'(اوکاڑہ) اور 'جامعہ سلفیہ' (فیصل آباد) جیسی معروف دینی درسگاہوں سے فارغ التحصیل ہیں تو دوسری طرف یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے حامل ہیں۔اسی طرح تدریس کے میدان میں ڈاکٹر صاحب موصوف کو نہ صرف 'جامعہ اہل حدیث' (چوک دالگراں) لاہور میں
ادارہ
2011
  • مارچ
کتاب الصلوٰۃ (مترجم) : ابن القیم 

ترجمہ : مولانا عبدالرشید حنیف

صفحات : 280

قیمت : 15 روپے
عزیز زبیدی
1979
  • جولائی
  • اگست
کتاب کے مصنّفین تو ایک سے زائد ہیں لیکن ٹائٹل پر نا م صرف مفتی فیصل جاپان والا لکھا ہوا ہے حالانکہ مفتی فیصل صاحب نے اس کتاب کے تقریباً ۲۵ صفحات لکھے ہیں ۔اس کتاب کا اکثر و بیشتر حصہ مفتی ذیشان پنجوانی صاحب کا ہے جنہوں نے غامدی صاحب کے نظریات پر نقد کرتے ہوئے تقریباً ۹۰ صفحات رقم کیے ہیں ۔
محمد زبیر
2008
  • دسمبر
قحط الرجا ل کے اس دور میں کسی صاحب علم و فضل کا اٹھ جا نا "موت العا لم مو ت العالم" کا مصداق ہے ۔علم دین شریعت کا فقدان اصحا ب علم دین کے اٹھ جا نے سے ہی ہو تا ہے 1995ء میں بہت سے اصحا ب علم و فضل داربقا کی جا نب رخت سفر باندھ گئے ان کے اٹھ جا نے سے خلا پیدا ہوا ہے اسے پر کرنا بڑا دشوار اور مشکل ہے آنے والا جا نے ہی کے لیے آتا ہے ان آکر جا نے والوں میں بہت سے اوصاف و ممیزات کی مالک ایک شخصیت مولانا عبد الرحمٰن کیلا نی رحمۃ اللہ علیہ  کی ہے مو صوف 18دسمبر 1995ءسوموار کے روز اپنے ہاتھوں سے تعمیر کردہ مسجد میں نماز عشا ء ادا کرتے ہو ئے پہلی صف میں دائیں جا نب حالت سجدہ میں دا عی اجل کو لبیک کہہ گئے ۔
انا الله وانا اليه راجعون 
ایسی قابل رشک موت خوش نصیبوں کو ہی نصیب ہو تی ہے باوضو  فرض نماز باجماعت پہلی صف میں دا ئیں جا نب حا لت سجدہ میں زبا ن سے رب کا ئنا ت کی روح و ثنا کے ترا نے اجتما عیت میں شریک ہر ایک کے احسان سے سبکدوش رب اکبر کی کبرا یا ئی کا ورد کرتے ہو ئے وہ گئے!!!
سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ،•، سُبْحَانَ اللَّه الْعَظِيم
عبدالوکیل علوی
1996
  • جولائی