انسان اللہ تعالىٰ كى نافرمانى كرتے ہوئے اس بات كو بهول جاتا ہيں كہ اللہ تعالىٰ رحيم وكريم ہونے كے ساتھ سب سے بڑا عدل وانصاف كرنے والا اور اپنے وعدوں كو سب سے زيادہ پورا كرنے والا بهى ہے- چنانچہ وہ اپنے نافرمانوں اور اطاعت كرنے والوں كے ما بين بهى پورا پورا انصاف كرے گا اور حسب ِوعدہ بھلائى اور برائى كے ايك ايك ذرّے كا اللہ تعالى حساب لے گا اور اس كا بدلہ عطا كرے گا۔
نامعلوم
2005
  • جنوری
دوزخيوں كو جہنم ميں جسمانى اور باطنى ہر دو قسم كے عذابوں سے دوچار ہونا پڑے گا- حسى عذاب كى يہ صورتيں ہوں گى :
(1)آگ جو اب لاكهوں ہزار سال جلنے كے بعد كالى سياہ ہوچكى ہے، جہنمیوں كے چہرے بهى اسى طرح كالے سياہ ہوجائيں گے :
وْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ ۚ فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ٱسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكَفَرْ‌تُم بَعْدَ إِيمَـٰنِكُمْ فَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُ‌ونَ ﴿١٠٦...سورۃ آل عمران
نامعلوم
2005
  • مارچ
اس جہانِ رنگ و بو میں کروڑوں نہیں اربوں انسان زندگی بسر کر رہے ہیں۔ مسلم بھی اور غیر مسلم بھی، نیک بھی اور بَد بھی، ظالم بھی آباد ہیں اور مظلوم بھی، جاہل افراد بھی موجود ہیں اور دانش مند بھی۔ مگر اس دَور میں نیکی کی بجائے بدی کا، عدل و انصاف کی بجائے ظلم و تشدّد کا اور امن و آشتی کی بجائے جہالت و بربریت کا غلبہ ہے۔ ہر طرف تاریکی چھائی ہوئی ہے۔ قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے۔
محمود احمد غازی
1972
  • فروری
آج ہر طرف بے دینی اور مادہ پرستی کا دور دورہ ہے، اسلام کی تعلیم حاصل کرنے والے تو کجا ، اس پر عمل کرنے والوں کو بھی 'کٹھ ملا' کہہ کرکھلے عام پھبتی کسی جاتی ہے۔ اُنہیں بزعم خود 'طالبان' باور کیا جاتا اور دہشت گردی کے محرک نہ سہی تو ان کے مؤید ضرور شمار کیا جاتا ہے۔ یہ رِیت کوئی نئی نہیں بلکہ ہر دور میں اہل ایمان سمیت انبیا ورسل کو بھی ایسی ایذارسانیوں کاسامنا رہا ہے۔
آباد شاہ پوری
2010
  • اگست
عیدالفطر کے روز نماز فجر کے بعد صبح سویرے میں قبرستان کی طرف گیا۔ اس قبرستان میں ایک نہیں میرے کئی عزیز  کتنے احباب منوں مٹی کے نیچے محو خواب ہیں۔ میں چل رہا تھا او رمیرے ہمرکاب ایک جنازہ بھی تھا۔ یہ فکر کا جنازہ تھا جسے فکر کا ندھا دیئے ہوئے تھا۔ یہ دل کا جنازہ تھا جو دل کے ہمراہ جارہا تھا۔ یہ ایک ایسی حالت تھی جو گریہ کناں تھی اور ایک ایسی کیفیت تھی جس پر آنسو بہائے جارہے تھے۔
میرا معمول رہا ہے کہ میں جب بھی ان راہوں سے ہوتا ہوا اس جگہ آتا ہوں تو میرے ساتھ میری اشکبار آنکھیں ساون کی گھٹائیں لے ہوئے ہوتی ہیں اور دل ہجوم غم و الم کے جلو میں یہاں فروکش ہوتا ہے۔میں قبرستان اس لیے گیا تھا کہ اپنے عزیز وں، دوستوں سے ملاقات کروں، دنیا کے تفکرات سےالگ تھلگ  ان کی صحبت میں کچھ لمحات گزاروں دنیا و آخرت او رحیات و ممات کے فلسفے پرکچھ ان سے تبادلہ خیال کروں ! اس شہر خاموشاں کے باسیوں سے کچھ ان کے حالات معلوم کروں ۔ آہ۔ وہاں وہ تو مجھے وہاں نہ ملے مگر ان کی لاشوں پر مٹی کے ڈھیر نظر آئے           ؎
عبدالرحمن عاجز
1980
  • جون
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے انسانی طبائع کو جہاں گونا گوں صفاتِ عالیہ سے نوازا ہے وہاں اُس میں کچھ کوتاہیاں بھی رکھ دی ہیں،جو اُس کے بشر ہونے پر دلیل ہیں۔خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو ان خامیوں کے اِدراک کی صلاحیت بھی بخشی ہے اور دور کرنے کا سلیقہ بھی عطا کیاہے۔اِنسانی شعور ان کو محسوس کرسکتا ہے اور اسباب و علل کو تلاش کرکے علاج بھی کرسکتا ہے۔
مریم جمیلہ علوی
2010
  • اپریل
نفاذ شریعت کا ایک اور نقطہ نظر........... تدریج
پاکستان میں اسلامی قانون کا اجراء آج کل ہماری گفتگو کا ایک اہم موضوع ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ تفصیل کے ساتھ اس مسئلہ کا جائزہ لیا جائے او رملک میں اسلامی قانون جاری کرنے کے لیے جن ذرائع تدابیر کا اختیار کرنا ضروری ہو انہیں عملی جامہ پہنایا جائے؟
اسلامی قانون کے اجراء کے متعلق بعض لوگوں کے ذہن میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ نظام حکومت کے تغیر کا اعلان ہوتے ہی پچھلے تمام قوانین یک لخت منسوخ ہوجائیں گے او راسلامی قانون بیک وقت نافذ ہوجائے گا لیکن یہ لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ ملک کے قانون کا اس کے اخلاقی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی نظام کے ساتھ گہرا تعلق ہوتا ہے ، جب تک کسی ملک کا نظام زندگی اپنے تمام شعبوں کے ساتھ نہ لائے اس کے قانونی نظام کابدل جانا ممکن نہیں، خاص کر اس حالت میں کہ انگریزی تسلط نے ہماری زندگی کے تمام پورے تمام کو اسلامی اصولوں سے ہٹا کر غیر اسلامی اصولوں پر چلایا اور اب اسے پھر بدل کر دوسری بنیادوں پر لانا کس قدر محنت طلب ہے؟
منظور احمد
1980
  • جون
پاکستان طبی کانفرنس کا تحقیقی اجلاس مورخہ 80؍2؍15 جو جہاں نما گلبرگ لاہور مین منعقد ہوا جس میں دو سائنسدان دو ڈاکٹر اور تین حکیموں نے ''ہائی بلڈ پریشر''کے موضوع پرمقالے پڑھے۔ زیر نظر مقالہ اسی اجلاس میں ڈاکٹر ظہیر احمد ڈائریکٹر نیشنل ہیلتھ اسلام آباد کی صدارت میں پڑھا گیا۔
(ادارہ)
صاحب صدر!
حضرات و خواتین!! السلام علیکم !
اسے ضنعط الدم یا بلڈ پریشر بھی کہتے ہیں۔ اس مرض کے متعلق میرے ساتھی معالج روشنی ڈالیں گے۔لہٰذا میں مناسب نہیں سمجھتا کہ اس کی تفصیلات کو موضوع بحث بناؤں۔ نیز اس مرض سے آپ بخوبی واقف ہیں کیونکہ آپ میں سے اکثر بحیثیت معالج زندگی بسر کررہے ہیں۔اس لیے علامات، اسباب او رعلاج کی تفصیلات بتانےکی ضرورت نہیں۔ مگر بطور تمہید یہ عرض کردوں کہ اس مرض کے لیے موٹے موٹے اسباب تقریباً تین بنتے ہیں۔
1۔ فساد کون یعنی (خون کاغیر ہوجانا خصوصاً گاڑھا یا غلیظ)
ادارہ
1980
  • جون
محدث کے 'تصویر نمبر' کی اشاعت سے ایک ماہ قبل مؤقرمعاصر جریدہ 'ساحل' کراچی میں 'ٹی وی او رتبلیغ اسلام' کے حوالے سے 6صفحات پر محیط چند خیال افروز نگارشات پیش کی گئیں۔ حال ہی میں ان اَفکار کو ایک مستقل مضمون کی صورت میں محدث میں اشاعت کے لئے ارسال کیا گیا۔ چونکہ مضمون کے مندرجات کافی اہم ہیں اس لئے اس پر تاثر و تبصرہ بھی ہمراہ پیش کیا جارہا ہے۔
حسن مدنی
2008
  • اگست