ہرتہذیب و نظریہ جہاں مختلف اَہداف ومقاصدکا حامل ہوتا ہے، وہاں ان مقاصد کے لئے اپنے نعروں اور لائحۂ عمل کو خوشنما اور دیدہ زیب نام بھی دیتا ہے۔ ان اصطلاحات اور نعروں میں ظاہری اشتراک کے باوجود دونوں کے مفہوم ومدعا اور معنویت میں وہ فرق پوری تاثیر سے موجود ہوتا ہے جو ہر دو نظریات میں درحقیقت پایا جاتا ہے۔
محمد عمران صدیقی
2010
  • اپریل
وَلاء کے معنی بیان کرتے ہوئے امام راغب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایاہے کہ 'ولاء' کے اصل معنی ''دو یا دو سے زیادہ چیزوں کااس طرح یکے بعد دیگرے آنا کہ ان کے درمیان کوئی ایسی چیز نہ آئے جو ان میں سے نہ ہو۔ پھر یہ لفظ استعارہ کے طور پر قرب کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے، خواہ وہ قرب بلحاظ مکان ہو یا بلحاظِ نسب، یا بلحاظِ دین اور دوستی و نصرت کے ہو، یا بلحاظِ اعتقاد کے۔ '' (المفردات،ص555)
ارشاد الحق اثری
2009
  • فروری
زیر نظر خطاب میں محدث العصر شیخ البانی ﷫نے اس اہم سوال کا جواب دیا ہے کہ وہ کیا طریقۂ دعوت ہے جو مسلمانوں کو عروج کی طرف گامزن کردے اور وہ کیا راستہ ہے کہ جسے اختیار کرنے پر اﷲ تعالیٰ اُنہیں زمین پر غلبہ عطا کرے گا اور دیگر اُمّتوں کے درمیان جو اُن کا شایانِ شان مقام ہے، اس پر فائز کرے گا؟...اس کے جواب میں اُنہوں نے دعوتی موضوعات کی ترتیب کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے
ناصر الدین البانی
2013
  • ستمبر
قرآن نے حب ِ الٰہی کو مؤمن کی پہچان اور ایمان کی جان قرار دیا ہے: {وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَشَدُّ حُبًّا ﷲِ} (البقرۃ:125) قرآن میں حب ِ الٰہی کا یہ غیر معمولی مقام اس دلیل کی مضبوطی کا باعث ہے کہ قرآن کا بنیادی تصورِ تزکیہ اللہ کی محبت ہی ہے، نہ کہ اس کی والہانہ اطاعت۔ یہ اطاعت تو اس محبت کا صرف لازمی ثمرہ ہوگی۔
اختر حسین عزمی
2004
  • جنوری
''تاریخ ان لوگوں کے بارے میں فیصلہ کرے گی جن کی ریشہ دوانیوں اور سازشوں کے نتیجہ میں برصغیر میں بد امنی اور انتشار پھیلا۔ ہزاروں لوگوں کو طرح طرح کے مصائب کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں اپنے گھر بار، اپنی املاک، غرض کہ ہر چیز کو خیر باد کہنا پڑا۔ نہتے عوام کو جس منظم طریق سے قتل کیا جا رہا ہے
عبدالمنان راز
1972
  • مارچ
شرک اور اس کی ذیلی صورتوں سے بچنے کے لئے کتاب وسنت میں بے شمار ہدایات پائی جاتی ہیں، اور علماے کرام عوام الناس کو اس کی تلقین بھی کرتے رہتے ہیں۔ لیکن کچھ عرصہ سے بعض لوگوں نے شرک کی ایک خودساختہ تعریف متعین کرکے عوام الناس میں پائے جانے والی شرکیہ کوتاہیوں کو تحفظ دینے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔
عبداللہ طارق
2010
  • اکتوبر
شرک سب سے بڑا گناہ ہے، اور انبیا کی دعوت کا مرکزی اور اساسی نکتہ توحید رہا ہے، جیساکہ قرآن کریم کی متعدد آیات سے پتہ چلتا ہے۔ پاکستان بھر بالخصوص پنجاب کے بڑے شہروں میں شرک وبدعت کے اندھیرے مزید گہرے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ منبرومحراب پر بعض شخصیات نے چند سالوں سے شرک کے خاتمہ کی جدوجہد کی بجائے، نت نئے بہانوں سے اسے تحفظ دینے اور اس کے لئے عوامی جلسے منعقد کرنے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔
عبداللہ طارق
2013
  • جون
ایمان زبان سے قول، دل سے تصدیق ا ورعمل صالحہ کا نام ہے، یہ ایمان کے تین ارکان ہیں اورجو شخص ان تینوں اراکین ایمان کا اعتقاد رکھتا ہے، وہ اہل السنہ والجماعۃ کے موقف پر ہے۔ البتہ جو شخص ان تینوں ارکان کا اعتقاد رکھنے کے باوجود عملاً کوتاہی یا گناہ کا ارتکاب کرے تو اُس سے اس کے ایمان کا درجہ تو کم ہوجاتا ہے، لیکن اس عملی کوتاہی سے وہ شخص مرجئہ نہیں بن جاتا بلکہ وہ اہل السنّہ ہی رہتا ہے
عبداللہ طارق
2012
  • مارچ

اوائل اسلام میں جب مختلف فتنوں نے سر اُٹھایا تو ائمہ اہل السنۃ کی طرف سے ان کی بھرپور علمی تردید کی گئی۔ ان میں سے 'مسئلۂ ایمان و کفر' میں ایک طرف خوارج و معتزلہ تھے تو دوسری انتہا پر مرجئہ و جہمیہ جمے ہوئے تھے ۔ جبکہ اہل السنّۃان دو انتہاؤں کے وسط میں راہِ اعتدال پر قائم تھے اور آج بھی ہیں اور یہ بھی حقیقت بلا ریب ہے کہ مرجئہ و جہمیہ کی طرف سے اہل السنۃکو خارجی ہونے کا طعنہ دیا گیا

ابو عبداللہ
2012
  • جنوری
بے شک آنحضرت ﷺ سے پہلے انسان خدا کی ہستی اور اس کی وحدانیت سے آشنا تھا مگر اس بات سے پوری طرح واقف نہ تھا کہ اس فلسفیانہ حقیقت کا انسانی اخلاقیات سے کیا تعلق ہے۔ بلاشبہ انسان کو اخلاق کے عمدہ اصولوں سے آگاہی حاصل تھی مگر اسے واضح طور پر یہ معلوم نہیں تھا کہ زندگی کے مختلف گوشوں اور پہلوؤں میں ان اخلاقی اصولوں کی عملی ترجمانی کس طرح ہونی چاہئے۔
عبدالمنان راز
1972
  • اپریل
گذشتہ شمارۂ 'محدث'میں 'قرآن اکیڈمی' لاہور کے محقق حافظ محمد زبیر کا وفاق المدارس العربیہ، پاکستان کے صدر مولانا سلیم اللہ خاں کی طرف سے سلفی حضرات پر تنقید کے جواب میں ایک وضاحتی مقالہ بعنوان 'کیا اَئمہ اربعہ مفوضہ تھے؟' شائع ہوا ہے جس میں ایک جگہ کتابت کی غلطی سے مولانا عبد الحی لکھنوی اور مولانا سلیم اللہ خاں کا حوالہ خلط ملط ہو گیا ہے۔
محمد زبیر
2011
  • اپریل
صرف ذاتِ الٰہی ہی وہ ذات ہے جو ہر عیب و نقص سے پاک و منزہ ہے۔ اس کی ذات میں عیب جوئی کفر اور الحاد کے مترادف ہے۔ اس کی مخلوق خواہ نبی ہوں یا ولی، اللہ تعالیٰ کی برگزیدہ ہستیاں ہوں یا اس کے پاکباز بندے سبھی اپنی ہفوات اور لغزشوں کے معترف ہیں۔ اسی لئے قرآن کریم نے بندۂ مومن کی صفات بیان کرتے ہوئے یہ نہیں کہا کہ مومن سے گناہ سرزد نہیں ہوتے، بلکہ فرمایا:
سیف الرحمن الفلاح
1971
  • اگست
حضرت داؤد علیہ السلام کی ننانوے بیویاں تھیں۔ پھر کسی اور عورت سے ازدواجی رشتہ قائم کرنے کا خیال آیا۔ اللہ تعالیٰ کو ان کا یہ خیال اور ارادہ ناگوار گزرا۔ اس کا امتحان لینے اور اس غلطی کا احساس دلانے کی خاطر اللہ تعالیٰ نے دو فرشتے انسانی شکل و شباہت میں حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس بھیجے۔ انہوں نے اپنا کیس حضرت داؤد علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا۔ ایک نے کہا:
سیف الرحمن الفلاح
1971
  • ستمبر
بعض عرب علما کا کہنا ہے کہ عرب 'حاکمیت' کے لفظ سے ناآشنا تھے یہاں تک کہ سید ابو الاعلیٰ مودودی نے اس لفظ کو استعمال کیا اور ان سے سید قطب شہید کے ذریعے یہ لفظ عربی زبان میں وارد ہوا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ 'توحید ِحاکمیت' ایک جدید اصطلاح ہے جو سید قطب شہید کے دعوتی و فکری لٹریچر کے ذریعے عام ہوئی ہے۔
محمد زبیر
2009
  • دسمبر
مسئلہ صفات باری تعالیٰ کا تفصیلی تذکرہ:

اس مسئلے میں اہل علم نے اپنی اپنی کتب میں سیر حاصل بحثیں فرمائی ہیں۔اور ایک دوسرے کے دلائل کو بھی جواباًپیش کیا ہے۔ذیل میں کچھ صفات باری تعالیٰ کے متعلق عرض کیا جاتا ہے۔تاکہ معلوم ہوسکے کہ وہ صفات ہیں کیا جن کے متعلق اتنی بحثیں ہوئیں۔ اور قرون اولیٰ میں کتب در کتب لکھی گئیں۔
سید محمد اکرم
1992
  • جنوری
چونکہ خالق کائنات کے منکر تو کافر بھی نہیں اور اسی سلسلہ میں قرآن کریم قریش مکہ کی طرف سے اللہ تعالیٰ کے اقرار کی تصدیق بھی کرتا ہے۔ اس لئے وجود باری تعالیٰ کو نقلی وعقلی دلائل سے ثابت کرنا کوئی بڑی اہمیت نہیں رکھتا۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے انبیاءؑ کی تعلیمات میں اس توحید علمی پر زیادہ زور نہیں دیا۔جس میں ذات باری تعالیٰ کاوجود زیر بحث ہو۔البتہ اللہ تعالیٰ کی صفات کیا ہیں؟اور ان میں کوئی اللہ کا ہمسر ہے یا مثیل؟قرآن مجید سے بطور خاص موضوع بناتاہے۔اور اس کے سارے پہلو وا کرتا ہے کیونکہ ان صفات کے عقیدہ سے ہمارا عمل براہ راست متعلق ہے۔ کہ ہم اللہ کو جیسا مانیں گے اسی طرح اس سے معاملہ کریں گے۔ اور اگر اس کے علاوہ کسی بھی ذات میں اللہ تعالیٰ کی صفات کا رائی برابر بھی شائبہ ہو یا عکس تو پھر اس سے بھی اسی طرح کا معاملہ درپیش ہوسکتاہے جس طرح اللہ سے ہوتا ہے۔چنانچہ شرک کی تردید میں وحی اسی پہلو کو زیادہ اہمیت دیتی ہے۔زیر نظر مضمون میں بھی آپ کو اسی طرح کی حقیقتیں ملیں گے۔(مدیر)
سید محمد اکرم
1990
  • اکتوبر
ادارئہ محدث کے رکن حضرت مولاناعبد الرحمن کیلانی ؒ کی شخصیت اور علمی خدمات کے تعارف پر مبنی مضامین محدث میں شائع کرنے کے علاوہ آپ کے وِرثہ علمی کو محفوظ کرنے کے لئے مختلف رسائل میں شائع ہونے والے آپ کے تمام مقالہ جات،کتب کی فہرستیں اوران پر سیر حاصل تبصرے محدث میں باقاعدگی سے شائع ہوتے رہے ہیں۔
عبدالرحمن کیلانی
2002
  • جولائی
اللہ تعالیٰ اپنے انبیائے کرام کو نوعِ انسانی کی ہدایت و رہنمائی کے لئے مختلف زمانوں کے اندر اور مختلف قوموں کے درمیان مبعوث فرماتا ہے اور ان کی نبوّت کی حقانیت پر بہت سی باطنی اور ظاہری شہادتیں فراہم کر دیتا ہے تاکہ حقیقت شناس انسان ان کی باطنی شہادتوں کا مشاہدہ کر کے ان کو برحق تسلیم کر لیں اور سطح بین لوگ انکی ظاہری دلیلوں کو دیکھ کر اُن پر ایمان لے آئیں اور جو کج فہم ہوں ان پر حُجت تمام کر دی جائے۔
رفیق جذباتی
1973
  • مئی
  • جون
یہ مسئلہ انتہائی اہم اور اکثر و بیشتر لوگوں سے سننے میں آیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے بکثرت دعا کرتے ہیں لیکن ان کی دعا قبول نہیں ہوتی! آخر و جہ کیا ہے کہ لوگوں کی دعا قبول نہیں ہوتی؟
یوں تو اس کی متعدد وجوہات ہیں لیکن بنیادی و جہ یہ ہے کہ دعا کرنے والا مسنون طریقے سے دعا نہیں مانگتا
جمیل اختر
2002
  • دسمبر
رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ میں نزولِ اجلال فرمایا، تو انصارِ مدینہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے دیدہ و دل فرش راہ کر دیے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں اپنے ایک انصاری جاں نثار کو نہ پایا جو بیعت عقبہ کبیرہ میں والہانہ جوش و خروش کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر چکے تھے اور بآوازِ بلند خدا کی قسم کھا کر یہ عہد کر چکے تھے کہ حضور مدینہ تشریف لائیں تو ہم اپنی جان اور آل اولاد کے ساتھ آپ کی حفاظت کریں گے۔
طالب ہاشمی
1981
  • دسمبر
نبی ٴ عربی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لائے بغیر اور آپ کے لائے ہوئے دین اسلام کو اختیار کئے بغیر بنی نوعِ انسان کی نجات ممکن نہیں۔ اوراس نجات سے صرف اُخروی نجات ہی مرادنہیں بلکہ حقیقت میں دنیاکی تلخیوں اور مشکلات سے نجات بھی دامن رسالت ِمحمدیہ سے وابستہ ہونے ہی میں ہے۔ یعنی آپ کی رسالت پر ایمان رکھنے والے ہی آخرت میں فوز و فلاح سے ہم کنار ہوں گے۔
صلاح الدین یوسف
2002
  • جون
اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ قرآن میں قتل مرتد کی سزا موجود نہیں ہے بلکہ احادیث سے ثابت ہے تب بھی احادیث کو کسی منطقی یا شرعی دلیل سے مخالفِ قرآن نہیں کہا جا سکتا۔ کیونکہ جرائم کی بے شمار اقسام ایسی ہیں جن کا مرتکب مستوجب سزا قرار دیا گیا ہے۔ حالانکہ ان کا ذکر قرآن کریم میں نہیں ہے۔ بلکہ حدیث شریف میں ہے لہٰذا ایسے حکم کو قرآن کے خلاف نہیں کہا جا سکتا۔
منظور احسن عباسی
1973
  • ستمبر
مؤلفِ کتاب نے محض اختلافی نکتوں پر اپنے دلائل کی بنا رکھی ہے۔ متفقہ فیصلہ کو نظر انداز کر دیا ہے۔ لیکن احادیث کی تمام بحث میں کوئی ایک نظیر بھی ایسی نہیں ہے جس سے ظاہر ہو کہ کسی مرتد کو ارتداد کی حالت میں زندہ رہنے کا حق ہے۔ اختلافات کی صورتِ تطبیق یہ ہے کہ مرتد کو مہلت توبہ دی جائے تو بہتر ہے۔ نہ بھی دی جائے تو چنداں مضائقہ نہیں۔
منظور احسن عباسی
1973
  • اکتوبر
  • نومبر
قارئین جناب جسٹس ایس اے رحمان صاحب کی انگریزی تصنیف Punishment of Apostacy in Islam کے چیدہ چیدہ مقامات پر تبصرہ محدّث کے صفحات پر ملاحظہ فرما رہے ہیں۔ حالیہ شمارہ میں آخری قسط پیشِ خدمت ہے، جس کے ساتھ یہ خوشخبری بھی ہے کہ اسی موضوع پر جناب پروفیسر منظور احسن عباسی کی مفصل کتاب ''جرام ارتداد'' بھی عنقریب منظر عام پر آرہی ہے۔ (ان شاء اللہ) (ادارہ)
منظور احسن عباسی
1973
  • دسمبر
'توحید'کا لغوی معنی کسی چیز کوایک بنانا اور اس کا شرعی مفہوم، اللہ تعالیٰ کو اپنی ذات وصفات میں یکتا سمجھنا ہے۔ توحید کی ضد الإشراک باللہ یعنی اللہ کی ذات وصفات میں کسی دوسرے کو بھی حصہ دار سمجھنا ہے۔ 'الاشراک باللہ' کو مختصر الفاظ میں 'شرک'بھی کہا جاتاہے۔ توحید کے اثبات سے شرک کا ردّ از خود ہوجاتا ہے۔ شرک کی جملہ اقسام سے اجتناب سے ہی عقیدئہ توحید میں پختگی اور استحکام پیداہوتا ہے۔
عبدالرحمن کیلانی
2002
  • جنوری