(سطورذیل میں مدیر محدث حافظ عبدالرحمن مدنی کا انٹرویو تفصیل سے شائع کیا جا رہا ہے جو روزنامہ"وفاق"کے نمائندہ جناب جلیل الرحمان شکیل نے"اسلام میں سیاسی جماعتوں کے وجود"کے موضوع پر ان سے لیا تھا اور مورخہ 24نومبر85ءکے"وفاق"میں اس کی رپوٹ شائع ہو چکی ہے)         (ادارہ)
سوال:کیااسلام میں سیاسی جماعتوں کے قیام کی گنجائش موجو د ہے؟
جواب:اسلا م میں تنظیم جماعت کا تصور،ملت کے تصور سے منسلک ہے جبکہ ملت اسلامیہ تین چیزوں سے تشکیل پاتی ہے،اللہ ،قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !چونکہ ملت کا تعلق فکروعمل کے امتیازات یا بالفاظ دیگر اسلامی تہذیب وثقافت کی اقدار سے ہے ۔لہٰذا اس کی تشکیل وتعمیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں انجام پاتی ہے یہی وجہ ہے کہ ملت کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی طرف ہوتی ہے اور وہی ملت کی وحدت کا تحفظ مہیا کرتا ہے۔۔۔واضح رہے کہ ملت کے معنی عربی زبان میں ثبت شدہ یا لکھی ہو ئی چیز کے ہیں،اور چونکہ کسی فکرکے عملی خطوط اسوہ حسنہ کی صورت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم  ثبت کرتا ہے
عبد الرحمن مدنی
1985
  • دسمبر
انصاف: حدود اللہ اور حدود آرڈیننس میں آپ کیا فرق سمجھتے ہیں ؟
مولانا مدنی:حدود اللہ سے مراد وہ سزائیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے خود مقرر فرمائی ہیں تاکہ معاشرے سے بدکاری اور بے حیائی ختم ہو اور لوگ امن و امان اور عزت سے زندگی گزار سکیں ۔ اللہ تعالیٰ کل انسانیت کے خالق ہیں اور اللہ کو ہی بہتر علم ہے کہ انسانی معاشرے کو بگاڑ سے بچانے کا طریق کارکیا ہے؟ وہ علاج اللہ نے کتاب و سنت کی شکل میں ہمیں دیا ہے جس میں حدود اللہ بھی شامل ہیں ۔ 
عبد الرحمن مدنی
2006
  • جون
1979ء میں نفاذِ شریعت کے پیش نظرپانچ آرڈیننس جاری کئے گئے تھے جن میں سے آرڈیننس نمبرVIIجرمِ زنا سے متعلق ہے اور جرمِ قذف (تہمت ِزنا) وغیرہ سے تعلق رکھنے والا آرڈیننسVIIIہے۔ اس وقت جرمِ زنا آرڈیننس نمبرVIIزیر بحث ہے اور کسی قدر جرمِ قذف آرڈیننس VIII...جو مستقل قانون ہے... کو بھی لپیٹ میں لیا جارہا ہے۔
عبد الرحمن مدنی
2006
  • اگست
*سوال :مولانا ! یہ فرمائیں کہ دینی مدارس میں گریجویشن لیول تک مروّجہ نظامِ تعلیم میں عصری علوم کا حصہ کس قدر ہے ؟
مولانا مدنی : جنرل محمد ضیاء الحق کے دورِ حکومت، ۱۹۸۲ء میں تشکیل پانے والے دینی مدارس کے مختلف 'وفاقوں' کی آخری ڈگری 'یونیورسٹی گرانٹس کمیشن' کے توسط سے منظور کی گئی تھی جس کی رو سے یہ ڈگری عربی اور اسلامیات کی تدریس اور اعلیٰ تحقیق کے لئے
محمد اسلم صدیق
2002
  • فروری
مولانا حافظ عبدالرحمن مدنی کا شمار ملک کے معروف علماء ،دینی سکالرز اور قانون و شریعت کے ماہرین میں ہوتا ہے۔ مذہب اور دین کے حوالے سے انہوں نے غیر معمولی تحقیقی کام کیا ہے۔آپ انسٹیٹیوٹ آف ہائر سٹڈیز (شریعت و قضائ) کے ڈائریکٹر ،اسلامک ریسرچ کونسل کے سیکرٹری جنرل اور اسلامک ہیومن رائٹس فورم کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
شہنازاختر
2000
  • مارچ
(((ملک میں نفاذ شریعت کے حوالے سے بعض اسلام دشمن لابیوں کے پردہ کے بارے میں کیے جانے والے پروپیگنڈہ کے تناظر میں روزنامہ جنگ نے گذشتہ دنوں چند سوالات ترتیب دیے اور ادارہ محدث سے ان کی بابت شرعی رائے طلب کی۔ان سوالات کی نوعیت ان سے مختلف ہے۔جن میں شرعی رائے معلوم کرنے کا مقصد عموماً اس پر عمل کرنا ہوتا ہے ۔بلکہ یہ سوالات اس مغرب ذدہ ذہن کی عکاسی کرتے ہیں جن سے بعض اوقات تو اسلام پر تنفیذ کے نئے دروازے کھولنا اور بعض اوقات صرف نظری بحث تک ہی کفایت کرنا مقصود ہوتاہے۔پردہ اور اسلامی ستر وحجاب کی حقیقت اور نوعیت روز روشن کی طرح واضح ہے۔سوال صرف اس ایمانی غیرت وجذبے کاہے جس کی بنا پر مسلمان کے لیے اس صریح حکم اسلامی کی بجالائے بنا چارہ نہ رہے۔۔۔علاوہ ازیں ان سوالات کا زیادہ تر تعلق اصل موضوع کی بجائے دعوت دین کی حکمت عملی سے بھی ہے جس کو بجالانا دور جدید کے مخصوص تناظر میں ازحد ضروری بلکہ دینی تقاضاہے ۔اسی کے پیش نظر در ج ذیل جوابات دئے گئے ہیں۔(ادارہ)))
مریم مدنی
1999
  • فروری
مدیر اعلیٰ 'محدث' حافظ عبدالرحمن مدنی حفظہ اللہ ایک اہم ملی مشن کی تکمیل کے لئے مئی ۲۰۰۹ء کے وسط میں عرب امارات کے دورے پر تھے۔ شارجہ میں 'جیو نیوز' کے مشہور پروگرام 'عالم آن لائن' میں اُنہیں سوات کی صورتحال پر تبادلہ خیال کی دعوت دی گئی۔ ملکی سطح پر اس انٹرویو کو خو ب سراہا گیا اور کئی بار نشر کیا گیا،
عامر لیاقت حسین
2009
  • جون
(سعودی عرب کے نائب مفتی اعظم کے جوابات)

مجلہ "الفرقان" جو جمعیت احیاء التراث الاسلامی، کویت سے ہر ماہ شائع ہوتا ہے، نے گذشتہ دنون سعودی عرب کے معروف عالم دین شیخ محمد صالح العثیمین حفظہ اللہ سے ایک خصوصی انٹرویو کیا اور ان سے چند اہم نوعیت کے سوالات کئے جنہیں ہم افادہ عام کے لئے اُردو میں پیش کر رہے ہیں۔
(1)الفرقان: کیا جہاد افضل ہے طلبِ علم؟
العثیمین: اس کا جواب مختلف لوگوں کے اعتبار سے مختلف ہے۔ سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ جہاد شرعی کا اصل مقصد اعلاء کلمۃ اللہ ہے۔ جب یہ حقیقت طے ہو چکی تو ہم لوگوں کے احوال کا جائزہ لے کر ان میں سے بعض کو تو جہاد کا حکم دیتے ہیں اور کچھ کو طلب علم کا، کیونکہ بہادر، جراءت مند، مضبوط جسم اور صاحبِ رائے کے لئے جہاد افضل ہے اور ادلہ شرعیہ سے استخراج مسائل کرنے والے اور صاحبِ عقل و دانش کے لئے طالبِ علم۔
یہ بات آپ کے علم ہونی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے طلب علم کو جہاد فی سبیل اللہ کے ہم پلہ قرار دیا ہے، چنانچہ فرمان الہیٰ ہے:
ترجمہ: "اور یہ مناسب نہیں کہ (ہر لڑائی میں) سب کے سب مسلمان نکل کھڑے ہوں، ایسا کیوں نہیں کرتے کہ ہر فرقے میں سے کچھ لوگ نکلیں تاکہ (جو لوگ نہیں نکلے اور مدینہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہ گئے) وہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور جب ان کی قوم کے لوگ (جہاد) سے لوٹ کر آئیں تو ان کو سنا دیں تاکہ وہ بچے رہیں" (التوبہ: 122)
(2) الفرقان: قانون ساز اسمبلیوں کی رکنیت کے متعلق کیا حکم ہے؟
العثیمین: میں قانون ساز اسمبلیوں کی رکنیت کو جائز سمجھتا ہوں۔ بشرطیکہ رکن اسمبلی اپنی رکنیت کے ذریعے (حکومت کے) کسی شر کو روکنے یا (پارلیمنٹ میں) خیر و بھلائی کی کسی بات کو پہنچانے کی امید رکھتا ہو، کیونکہ ایسی اسمبلیوں میں نیک لوگ جس قدر زیادہ ہوں گے اتنا ملک و قوم کو شر سے محفوظ اور آزمائش سے دور رکھنا ممکن ہو گا، اور رہی احترام آئین پر حلف برداری تو رکن اسمبلی کو چاہئے کہ وہ اس نیت سے حلف اٹھائے کہ وہ آئین کا احترام کرے گا بشرطیکہ وہ شریعت کے مخالف نہ ہو، اور "اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی"
اسحاق زاہد
1996
  • اکتوبر
معروف سیرت نگار اور محقق پروفیسر ڈاکٹر یٰسین مظہرصدیقی ہر سال کی طرح امسال بھی پاکستان کےعلمی دورہ پر تشریف لائے اور آپ نے ایک ماہ کے دوران سرگودھا ، فیصل آباد ، لاہور اور کراچی میں سیرت النبی ﷺکے موضوع پر اہم خطبات دیے۔ آپ نے مولانا ابو الحسن علی ندوی اور مولانا محمد رابع حسنی ندوی جیسی شخصیات سےکسبِ فیض کیا اور تمام تعلیم دار العلوم ندوۃ العلماء ، جامعہ ملّیہ اور مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے حاصل کی ،
کامران طاہر
2015
  • اپریل
سطور ذیل میں محدث کے مدیر اعلیٰ حافظ عبد الرحمٰں مدنی کا ''اسلام کے سیاسی تصور'' کے موضوع پر وہ انٹرویو دیا جا رہا ہے جو نمائندہ ہفت روزہ ''بادبان'' لاہور میاں شعیب الرحمٰن صاحب نے حافظ صاحب موصوف سے کیا۔ کتابت کی بعض اہم غلطیوں اور آخری دو صفحات میں عبارت کی غلط جڑائی نے اِسے ناقص بنا دیا تھا۔ قارئین اسے صحیح صورت میں ملاحظہ کریں۔ (ادارہ) لانبے قد، سیاہ داڑھی اور عالمانہ وجاہت رکھنے والے حافظ
عبد الرحمن مدنی
1981
  • جولائی
دعوتِ دین کا مضبوط اور مؤثر نیٹ ورک چلانے والے ممتاز عالم دین، دانش ور، ماہر قانون اور جامعہ لاہور اسلامیہ، گارڈن ٹاؤن لاہور اور معروف علمی مجلّہ 'محدث' کے مدیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ نظریات اور جذبات کبھی فوجی قوت سے دبائے نہیں جا سکتے ہیں۔ اس قسم کے مسائل کا واحد حل ذہن سازی ہے۔ سوات میں جس طرح مولانا صوفی محمد کو بیچ میں ڈال کر طالبان کو غیر مسلح کرنے کی کوشش کی گئی،
عامر نجیب
2009
  • جون
ڈاکٹر محمد محسن خاں کون ہیں؟ اور کیا ہیں؟ اس کی ایک جھلک تو قارئین کو خود اس انٹرویو میں ملے گی۔ اگر ڈاکٹر صاحب موصوف کی ناگواریٔ خاطر کا احساس نہ ہوتا تو آج ہم دل کھول کر موصوف کے متعلق باتیں کرتے۔ مختصر یہ کہ آپ مجسمۂ اخلاص و نیکی ہیں جس کا اندازہ ڈاکٹر صاحب موصوف سے پہلی ملاقات ہی میں ان کے چہرہ مہرہ سے ہو جاتا ہے۔
حافظ نذر احمد
1976
  • مارچ
  • اپریل