گذشتہ چار پانچ صدیوں کے اندر یورپ میں بہت بڑی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ یہ تبدیلیاں ہمہ گیر ہونے کے ساتھ ساتھ عالم گیر بھی ہیں۔ ان کی لپیٹ میں حیاتِ انسانی کا ہر شعبہ اور ہر فرد آیا ہے۔ مشرقی اور مسلم ممالک نےدانستہ اور نادانستہ اُن کے اثرات کو قبول کیا ہے۔ اگر طائرانہ نظر سے دیکھا جائے تو اُن تبدیلیوں کے اثرات اتنے گہرے ہیں کہ دور ِجدید میں ہر فکری تعبیر کےپس منظر میں اُنہیں دیکھا جا سکتا ہے
عبدالحنان کیلانی
2014
  • اپریل
قرآن کریم نے جگہ جگہ لوگوں کو انفاقِ اموال کا حکم دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ حکم ذاتی ملکیتِ مال کو متضمن ہے۔ پرویز صاحب نے اس لفظ سے اس لزوم اور تضمن کو خارج کرنے کے لیے اس کے مفہوم کو قطعی طور پر تبدیل کر دیا ہے چنانچہ ﴿ مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ ﴿٣﴾...البقرة " کے تحت انہوں نے لکھا ہے کہ:
"ان الفاظ کا ترجمہ کیا جاتا ہے۔۔ "جو روزی ہم نے انہیں دی ہے وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔" یہ ظاہر ہے کہ ہر شخص اپنے مال و دولت کو کرچ کرتا ہی ہے۔ لہذا اس میں متعین کی کیا خصوصیت ہے جو ان کے متعلق یہ کہنے کی ضرورت پڑی کہ متقی وہ ہیں جو اپنے مال و دولت کو خرچ کرتے ہیں اس کے لئے زیادہ سے زیادہ یہ کہہ دینا کافی تھا کہ وہ اپنے روپے پیسے کو احتیاط سے خرچ کرتے ہیں اور فضول خرچی (اسراف و تبذیر) سے بچتے ہیں۔" (تفسیر مطالب الفرقان ج1 ص 205)
پروفیسر محمد دین قاسمی
1989
  • اپریل
جنگیں اگرچہ توپ و تفنگ سے لڑی جاتی ہیں لیکن ان کا اصل میدان عقائد و افکار کے مباحث ہیں۔ آج عالم کفر جہاں ملتِ اسلامیہ پر آتش و آہن کی بارش برسا رہا ہے وہیں اس کے تھنک ٹینکس ہمارے تصورِ زندگی اور مذہبی و معاشرتی اقدار کو بدلنے کے لیے بھی دن رات کوشاں ہیں۔ الفاظ و مصطلحات چوں کہ پوری تہذیب کی نمائندہ ہوتی ہیں، اسلیے انھیں بگاڑنے کے لیے وہ تمام تر توانائیاں صرف کر رہے ہیں؛
طاہر الاسلام
2017
  • مارچ