سیکولر ازم کا مفہوم
گذشتہ پانچ صدیوں کے دوران مغرب کی سیاسی فکر میں اہم ترین تبدیلی ریاستی (لفظ مٹا ہوا ہے)سے مذہب کی عملا بے دخلی ہے،یہی امر سیکولر یورپ کا اہم ترین فکری،کارنامہ،بھی سمجھا جاتا ہے۔اس بات سے قطع  نظر۔۔۔کہ جدید یورپ میں کلیسا کے خلاف شدید رد عمل کے  فکری اسباب کیاتھے اور کلیسا اور ریاست کے درمیان ایک طویل محاذ آرائی بالآخر موخرالذکر کی کامل فتح پر کیونکرمنتج ہوئی۔۔۔بیسوی صدی کے وسط میں استعماری یورپ کی سیاسی غلامی سے آزاد ہونے والی مسلمان ر یاستوں میں بھی یہ سوال بڑے شدومد سے زیربحث لایا گیا کہ مذہب کا ریاستی امور کی انجام دہی میں کیا کردار ہوناچاہیے۔مسلمان ملکوں کاجدید دانشور طبقہ جس کی سیاسی فکر کی تمام تر آبیاری مغرب کے فکری سرچشموں سے ہوئی تھی مسلمانوں کی ریاست میں اسلامی شریعت کو ایک سپریم قانون کی حیثیت دینے کوتیار نہ تھا،مذہب کے متعلق اپنے مخصوص ذہنی تحفظات کی وجہ سے وہ اسلام کومحض مسلمانوں کی انفرادی یا شخصی زندگی تک محدود دیکھنے کا خواہشمند تھا۔وہ اسلام اور ریاست کے باہمی تعلق کو بھی مسیحی مغرب کے کلیسا اور ریاست کے تصادم کے تناظر میں بیان کرنے پر مصر تھا۔
عطاء اللہ صدیقی
2000
  • جولائی
الحمد ﷲ رب العٰلمین وأصلِّی وأسَلِّم علی أشرف الأنبیاء والمرسلین سیدنا ونبینا محمَّد بن عبد اﷲ وعلی آلہ وأصحابہ ومن دعا بدعوتہ واھتدٰی بھداہ ...
ہر قسم کی تعریف اللہ ربّ العالمین کو سزاوار ہے۔ اور درود و سلام ہو اَشرف الانبیا والمرسلین ہمارے آقا اور نبی محمدبن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر، ان کی آلؓ و اصحابؓ پر اوران تمام لوگوں پرجنہوں نے آپؐ کی دعوت کو قبول کیا اور آپؐ کے راستے کی پیروی کی۔
کامران طاہر
2007
  • جولائی
عربی کے کسی رسالے میں ایک کہاوت پڑھی تھی  کہ ایک مصور دیوار پر نقش ونگار بنا رہا تھا اور تصویر میں ایک انسان اور ایک شیر کو اس کیفیت میں دکھا رہا تھا کہ انسان شیر کاگلا گھونٹ رہا ہے۔اتنے میں ایک شیر کا وہاں سے گزر ہوا اور اس نے تصویر کو  ایک نظر دیکھا۔مصور نے تصویر میں شیر کی دلچسپی دیکھ کر اس سے پوچھا سناؤ میاں!  تصویر اچھی لگی؟شیر نے جواب دیا کہ میاں!اصل بات یہ ہے کہ قلم تمھارے ہاتھ میں ہے۔ جیسے چاہے منظر کشی کرو،ہاں اگر قلم میرے ہاتھ میں ہوتا تو یقیناً تصویر کا منظر اس سے مختلف ہوتا۔
کچھ اسی قسم کی صورت حال کا سامنا عالم اسلام کو آج مغربی میڈیا کے ہاتھوں کرنا پڑ رہا  ہے ۔ابلاغ کے تمام تر ذرائع پرمغرب کا کنٹرول ہے۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹڈ میڈیا دونوں کے سرچشمے اس کی تحویل میں ہیں۔متعصب یہودی کا دماغ اورسیکولر عیسائی دنیا کے وسائل اکھٹے ہوچکے ہیں۔
سیکولر لابیاں انسانی معاشرے میں مذہب کی دوبارہ اثراندازی سے خائف ہوکر مذہب کا ر استہ روکنے کے لئے سیاست،معیشت،میڈیا لابنگ اورتحریف وتحریص کےتمام ذرائع استعمال کررہی ہیں اور مسیحی دنیا کا مذہبی عنصر بھی مرعوبیت کے عالم میں بالادست سیکولر عیسائی قوت کا آلہ کار بنے رہنے میں عافیت محسوس کررہا ہے۔
مغرب کی سیکولر لابیوں کے اعصاب پر یہ خوف سوار ہے کہ انسانی معاشرہ دو  صدیوں میں مذہب سے بغاوت کےتلخ نتائج بھگت کر اب مذہب کی طرف واپسی کے لئے ٹرن لے رہا ہے اور دنیا میں مسلمانوں کے سواکسی اور قوم کے پاس مذہب کی بنیادی تعلیمات(آسمانی وحی اور پیغمبر کی تعلیمات وسیرت) اصلی حالت یں موجود ومحفوظ نہیں ہیں۔اس لئےاسلام منطقی طور پر ا ن کی معاشرہ کے مستقبل کی واحد امید بنتا جارہاہے۔چنانچہ یہودی دماغ اور سیکولر قوتوں کی  صلاحیتیں اور وسائل اب صرف اس مقصد کے لئے صرف ہورہے ہیں کہ اسلام اور اسلامی اصولوں کے علمبردار مسلمانوں کے خلاف میڈیا کے زور سے نفرت کی ایسی فضا قائم کردی جائے جو اسلام کی طرف انسانی معاشرہ کے متوقع رجوع میں رکاوٹ بن سکے۔
زاہد الراشدی
1996
  • جولائی
اللہ کی راہ میں مقدس جنگ 'جہاد فی سبیل اللہ ' کاایک حصہ ہے کیونکہ 'جہاد' غلبہ اسلام کے لئے 'مقابلے کی محنت' کو کہتے ہیں خواہ وہ علمی ہو، بدنی یا مالی۔ جہاد فی سبیل اللہ شریعت کی ایک جامع مانع اصطلاح ہے لیکن کچھ ہماری کم فہمی اور کچھ غیروں کی سازشوں سے اس کا مفہوم اتنابگڑا کہ جہاد کو صرف جنگی کاروائیوں کے لئے ہی بولا جانے لگاجس کا نتیجہ یہ ہوا
اقبال کیلانی
2001
  • مارچ
مسعود صاحب نے ۲۰ فروری کی قسط میں بخاری کی ایک حدیث بیان کی ہے ۔ اس میں اپنی طرف سے اضافے کئے ہیں اور اس طرح رسول اللہﷺ پر جھوٹ باندھا ہے، مثلاً مسعود صاحب نے نبی ﷺ کی طرف یہ فقرہ منسوب کیا جو زمین کی کاشت سے متعلق ہے۔ ''یعنی اس کے کسی حصہ کو بغیر کاشت کے نہیں چھوڑنا چاہئے۔''
ریاض الحسن نوری
1971
  • جولائی
غیر مسلم اقوام میں انسانی حقوق کی مختصر تاریخ:۔
کہا جاتا ہے کہ انسانی حقوق کا تحفظ سب سے پہلے بایل کے بادشاہ حمورابی 2130ھ تا2088ق م) کے کوڈ آف لاء میں ملتا ہے۔یہ صرف دعویٰ ہے کہ کیونکہ جس قانون کی زبان صفحہ ہستی سے نابود ہوچکی ہو۔اور جس کے خالق کے حالات زندگی کا کچھ پتہ نہ ہو اس کے بارے میں یہ کیسے یقین کیا جاسکتا ہے کہ وہ حقوق انسانی کا پہلا علمبردار تھا۔خود اس کوڈ آف لاء کے بعض حصے اتنے ظالمانہ اور وحشیانہ ہیں کہ ان سے بنیادی حقوق کے تصور کو شدید دھچکا لگتا ہے۔
اس طرح رومی سلطنت کے کچھ قوانین ملتے ہیں۔جس کی رو سے ان حقوق سے صرف  رومی شہری ہی مستفید ہوسکتے تھے،غیر رومی بہر اندوز نہیں ہوسکتے تھے بعد میں انہی رومی قوانین کو یورپی اقوام نے اپنایا۔(1) چنانچہ اٹھارویں صدی کے آخر عشروں  میں انہیں فرانس میں"Droito Del Homme " کے نام سے مدون کیا گیا۔اسی صدی میں برطانیہ میں چند مبہم اور غیر واضح قوانین کا نشان ملتا ہے۔انیسویں صدی میں امریکہ نےانہی قوانین کو اپنے دستور میں شامل کیا :بیسوی صدی کو انہی قوانین کو افریقہ اور ایشیا کے ممالک نے اختیار کیا،وہ بھی صدیوں کی انسانی جدوجہد اور کئی خونی انقلابات کے بعد۔ان قوانین میں زیادہ  تر شادی،خاندان،عدل ،تکریم انسانیت اور کچھ سیاسی وشخصی قوانین شامل تھے۔1917ء میں روسی دستور میں انسانی حقوق کو شامل کیا گیا مگر وہ زیادہ تر مزدورطبقہ کے معاشی وسیاسی حقوق کی یکطرفہ آواز تھی۔
غزل کاشمیری
1996
  • جولائی
بیسویں صدی محیر العقول سائنسی ایجادات، علمی تحقیقات و اکتشافات کے بے نظیر کارناموں کی صدی ہے۔ اس صدی کے ایک ایک عشرے کے دوران انسانی تہذیب و تمدن اور علوم و فنون میں جو تیز رفتار ترقی دیکھنے میں آئی، وہ معلوم انسانی تاریخ کے پورے عرصہ کی اجتماعی ترقی کے مقابلے میں بھی زیادہ ہے۔ لیکن سیاسی اور اخلاقی ترقی کی رفتار کا جائزہ لیا جائے تو اکیسویں صدی کی دہلیز پر پہنچی روشن خیال یک قطبی دنیا اٹھارویں اور انیسویں صدی کی استعماری ظلمتوں میں ابھی تک محصور دکھائی دیتی ہے۔ آزادی، مساوات، جمہوریت اور بنیادی انسانی حقوق کے ضخیم دفاتر کی روشنائیاں، وحشت و بربریت، ظلم و ناانصافی، جارحیت و بہیمیت کی سیاہیوں کا اثر زائل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ ظلم و جبر کے بوجھ تلے سسکتی انسانیت آج بھی ابلیسیت کے ہاتھوں زخم خوردہ ہے۔ سائنسی ایجادات نے زماں و مکاں کے فاصلے سمیٹ کر دنیا کو "انسانی بستی" کی شکل تو عطا کر دی ہے لیکن وائے افسوس! انسانی قلوب کے فاصلوں کو ختم نہیں کر سکی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ "عالمی بستی" بھی عملا ایک روایتی بستی سے مختلف نہیں ہے، اس میں بھی طاقت و وسائل پر قابض وڈیرے موجود ہیں اور ذلت و پستی کی گہرائی میں ڈوبے ہوئے ہاری بھی باقی ہیں۔ عالمی وڈیرہ سائنسی ترقی کے تکبر میں اندھا ہو کر کمزور ہاریوں کو جب چاہے، وحشت و بربریت کا نشانہ بنا ڈلے، مگر اس کے ظالم ہاتھوں کو روکنے والا کوئی نہیں۔
عطاء اللہ صدیقی
1999
  • مارچ
۱۱/ ستمبر ۲۰۰۱ء کو نیویارک اور واشنگٹن میں وقوع پذیرہونے والے ہولناک طیارہ بموں کے دھماکوں نے امریکی قیادت کوبالخصوص اور اہل مغرب کوبالعموم شدید غم و غصہ اور جنونیت میں مبتلا کردیاہے۔ ان کے دلوں میں انتقام کے شعلے بھڑک رہے ہیں اوران کی زبانیں لفظوں کی بجائے انگارے برسا رہی ہیں۔
عطاء اللہ صدیقی
2001
  • اکتوبر
تہذیب و ثقافت، محض چند رسوم و رواج اور افکار وخیالات کے مجموعے کا نام نہیں ہے، بلکہ تہذیب و تمدن میں حقیقی طور پر مذہبی عنصر غالب ہے۔ کسی بھی تہذیب میں پائے جانے والے نظریات و خیالات او راس میں موجود رسوم ورواج کا سلسلہ، کسی نہ کسی طرح مذہب سے ضرور ملتا ہے۔اس بحث سے قطع نظر کہ وہ رسوم و رواج مذہب کی نظر میں صحیح ہیں یا غلط، ہمارے ارد گرد ہونے والے رسوم ورواج نسل در نسل چلے آرہے ہیں۔
مولانا محمد یوسف
2012
  • نومبر
''مین حلفا ً بیان کرتا ہوکہ میں نے اس عورت (مونیکا ) کے ساتھ جنسی تعلق قائم نہیں کیا۔ میں نے کبھی کسی کو جھوٹ کے لئے نہیں کہا ،کبھی نہیں ۔یہ میرے خلاف جھوٹا الزام ہے ،جس کا مقصد میری ساکھ کو نقصان پہنچا نا ہے''سی این جی پر(27جنوری ) امریکی صدر بِل کلنٹن کو جب راقم نے تفتیشی کے سامنے یہ الفاظ بے حد خشو خضو سےادا کرتے سنا تو دنیا کے طاقتور ترین شخص کی اس بے بسی اور لا چارگی پر افسوس اور امریکی سماج کی منافقت پر مبنی اخلاق قدرو ں کے دو ہرے معیارات پر سخت تعجب ہوا ۔
عطاء اللہ صدیقی
1998
  • ستمبر
گذشتہ دنوں سپریم کورٹ میں جاری سود کیس کی سماعت کے دوران بنکاری نظام کے طرفداروں نے جو متضاد اورحیران کن باتیں کی ہیں، ان سے قرآن کی حقانیت ثابت ہوجاتی ہے کہ نہ صرف سودی کاروبار میں ملوث بلکہ ان کے طرفدار بھی مخبوط الحواس ہوجاتے ہیں۔

سود کے حامیوں نے اس سوال پر بڑی بحثیں کی ہیںلیکن انٹریسٹ اور یوژری مترادف ہوں
ریاض الحسن نوری
1999
  • ستمبر
  • اکتوبر
سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے 'مغربی نظریہ' کو ایک اور اُبھرتے خطرے کا احساس ہو رہا ہے۔ مغربی اَقوام کا نیا دشمن اور امریکی خارجہ پالیسی کا موجودہ نقطہ ارتکاز 'سبز خطرہ' یا 'اسلامی خوف' ہے۔ اس خطرے کی بنیاد کیا ہے؟ اس خطرے کا اسلام سے کیا تعلق ہے جس سے مغرب کا سیاسی نظام برسرپیکار ہے اور اسلام سے وابستہ ہر چیز کے خلاف نہ ختم ہونے والی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے!!
ابراہیم ابوخالد
2001
  • جولائی
برطانيہ ميں آج زيادہ تر عورتيں وہ ہيں جو 40 سال كے بعدبچہ پيدا كرتى ہيں اور ان ميں شرح پيدائش نوجوان عورتوں سے بهى زيادہ ہے كيونكہ نوجوان عورتيں تو بچہ چاہتى ہى نہيں- BBC كے مطابق 40 سال كى زچہ عورتوں كى تعداد ميں گزشتہ دس سال ميں دگنا اضافہ ہوگيا ہے-شمالى آئرلينڈ والے بهى پريشان ہيں كہ ان كى آبادى كى شرح كم ترين سطح تك پہنچ گئى ہے۔
قاضی کاشف نیاز
2005
  • جولائی
اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرما کر دنیا میں اپنی بندگی او رعبادت کی ذمہ داری سونپی، عبث پیدا کردینے کی بجائے انسان کو مکلف بنایا کہ وہ عمل کی دنیا میں اپنے آپ کو بہتر واَحسن ثابت کرے۔ کامیاب انسان وہ ہے جو اس میزان پر پورا اُترا اور آخرت میں آگ سے بچ کر جنت کا مستحق ہوا۔ اس عظیم مقصد کے لئے اللہ نے انسان کو کسی رہنمائی کے بغیر چھوڑنے کی بجائے ایک مکمل نظامِ بندگی عنایت کیا
زاہد صدیق مغل
2009
  • نومبر
دہشت گردی کسے کہتے ہیں؟ کیا دین اسلام میں اس کا کوئی تصور ہے...؟
جنوبی افریقہ کے رِچ اَم کُھن ڈو، نیویارک ٹائمز کے سرج شِمے مان، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا راروائن کے مارک لیوائن، معروف صحافی رے بکا سکاروف اور مارک ڈیری، افسانہ نگار رچرڈ فورڈ، کوئنز کالج اور گریجویٹ سینٹر کولم، بیایونیورسٹی کے پروفیسر جان جیریسی،
کوکب نورانی
2002
  • اکتوبر
  • نومبر
پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت کے طول و عرض میں لاکھوں کی تعداد میں پھیلے ہوئے دینی مدارس ومکاتب کاموجودہ نظام ۱۸۵۷ء کی جنگ ِآزادی میں مسلمانوں کی ناکامی کے بعد پیدا ہونے والے حالات کانتیجہ ہے۔ اس سے قبل پورے برصغیر میں درسِ نظامی کا یہی نصاب تعلیمی اداروں میں رائج تھا جو مغل بادشاہت کے دور میں اس وقت کی ضروریات اور تقاضوں کو سامنے رکھ کرمرتب کیا گیا تھا اور جو اَب بھی ہمارے دینی مدارس میں بدستور رائج چلا آرہا ہے۔
زاہد الراشدی
2002
  • جنوری
مغرب کے فکری دستر خوان کے خوشہ چین عجب تضادات کا شکار ہیں:
سواد اعظم کے دباؤ کے زیراثران میں اتنی اخلاقی جرات تو نہیں کہ وہ کھلم کھلا اسلام کے کامل دین ہونے کے خلاف کچھ کہہ سکیں۔لیکن ان کی فکر کے تمام دھارے اسلام کی مخالفت سمت میں بہہ رہے ہیں تاہم انہیں اصرار ہے کہ انہیں بہرحال مسلمان سمجھا جائے۔
2۔ان کو تاہ فکرفرنگ زدہ دانشوروں سے اگر دریافت کیا جائے کہ آخر مغرب کے پیش کردہ بلند بانگ انسانی حقوق کی طولانی فہرست کا وہ کونسا گوشہ ہے جو اسلام کے عالمگیر معاشرے کی تشکیل کے وسیع دائرے میں شامل نہیں ہے تو وہ کسی ایک بھی نکتے کی نشاندہی کرنے سے قاصر ہیں۔
3۔اگرچہ وہ مسلمان کہلانے پر مصر ہیں۔لیکن اسلام کے نام پر شروع کی جانے والی کسی بھی تحریک میں شرکت کا داغ اپنے اوپر لینے کو تیار نہیں۔اسلام میں انسانی حقوق کاجو وسیع نظام موجود ہے۔مغرب کے انسانی حقوق کاخاکہ اس کے عشر عشیر بھی نہیں ہے۔لیکن"کل"کوچھوڑکر"جزو" کو محض زعم باطل میں مبتلا ہوکر اختیار کیے ہوئے ہیں کہ  ترقی پسندی اورروشن خیالی کے حصول کا ان کے نزدیک واحد راستہ یہی ہے۔
4۔درحقیقت وہ فکری اعتبار سے نہ تو وہ صحیح معنوں میں ترقی پسند ہیں اور نہ روشن خیال،ان کے فکر کی ہر تان وعظمت آدم اور شرف انسانیت کے تصورسے متصادم ہے ان کی سرگرمیوں کا سار محور عظمت  انسانی سے زیادہ مغربی آقاؤں کے سامنے اپنے آپ کو ترقی پسند کے روپ میں پیش کرنا ہے۔
5۔ان کے ذہن مغربی ژولیدگی سے مزین ہیں۔اور ان کی زبانوں کو مغرب کے زہریلے پروپیگنڈے کی چاٹ لگی ہوئی ہے۔ان کے ذہن ہر اس ہتک آمیز فلسفے ،اصطلاح اور لفظ کی جگالی کرتے رہتے ہیں جو انہیں مغرب کے ذرائع ابلاغ سے ملتاہے۔اسلام پسندوں کی تضحیک وتوہین میں وہ اپنے مغربی آقاؤں سے بھی دو چار ہاتھ آگے ہیں۔
عطاء اللہ صدیقی
1996
  • جولائی
''پشاور میں سول سوسائٹی کے نام پر'شغل سوسائٹی'کے کارندے آپے سے باہر ہو گئے۔ احتجاج کی کوریج کے دوران نشے میں دُھت افراد نے دنیا نیوز کی ٹیم کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔''

خبر کی تفصیل میں بتایا گیا کہ
محسن فارانی
2015
  • فروری
سیکولرازم  ایک وسیع الجہات اور سریع الارثر نظر یہ ہے جو اپنے معتقدین کی فکر میں انقلاب برپا کردیتا ہے۔تصور کائنات یعنی انسان کے کائنات میں مقام سے لے کر زندگی کے ہر پہلو کے بارے میں سیکولرازم پر یقین رکھنے والوں کے خیالات  یکسر بدل جاتے ہیں چونکہ یہ نظریہ مسیحی یورپ کی دینی آمریت کے خلاف رد عمل کے طور پر پروان چڑھا اسی لیے سیکولرافراد میں مذہب کے خلاف شدید نفرت اور عمومی بغاوت کا مزاج پیدا ہو جاتا ہے وہ اگر کسی بات کو درست بھی سمجھتے ہوں جونہی انہیں معلوم  ہو جائے کہ اس بات کا سر چشمہ مذہب کی تعلیمات ہیں تو وہ اس سے شدید بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے اس کو جنوبی انداز میں مسترد کر دیتے ہیں ان کے اندر مریضانہ عقل پرستی بلکہ الحاد پرستی کا نفسیاتی مرض پیدا ہو جا تا ہے ذرا معتدل مزاج کے سیکولرافراد خدا کے باوجود سے تو کلیۃ انکار نہیں کرتے مگر یوم آخرت  جنت اور دوزخ کے معاملات  انہیں محض علامتی باتیں لگتی ہیں جن کا حقیقت سے کو ئی تعلق نہیں ہے (نعوذ باللہ)
عطاء اللہ صدیقی
2000
  • اگست
امریکہ کی موجودہ جنگ طالبان کی بجائے اسلام سے جنگ ہے، بعض اہل دانش اسے تہذیبوں کی جنگ بھی قرار دے رہے ہیں، جیسا کہ صدر بش نے ۱۱/ستمبر کے حملوں کو امریکی تہذیب کے خلاف حملہ قرار دیا۔اسلام اپنی تہذیب میں کیا خصوصیات رکھتا ہے اور غیر مسلم تہذیبوں کے بارے میں اس کا رویہ کیا ہے ؟ زیر نظر مضمون اسی موضوع کے بعض پہلوؤں پر روشنی ڈالتا ہے ۔
خالد ظفراللہ
2002
  • اپریل
جدید مغربی تہذیب کا مولد اور اوّلین پیشوا انگلستان یا برطانیہ ہے۔ امریکہ سپر پاور ہونے کے باوجود مغرب کی تہذیبی اقدار کی نمائندگی کے حوالے سے آج بھی برطانیہ کا ہم پلّہ نہیں۔ اس لئے مغرب میں عورتوں کے ساتھ برتاؤ کے حوالے سے برطانیہ کا مطالعہ نہایت اہم ہے۔ مساواتِ مرد و زن کا نعرہ برطانیہ ہی میں سب سے پہلے بلند ہوا
ثروت جمال اصمعی
2013
  • جون
مغرب کی اِستحصالی معیشت، سودی نظام کے ظالمانہ شکنجے میں کراہ رہی ہے۔ مغرب کے اجتماعی معاشی ڈھانچے میں بینکاری نظام کو وہی مقام حاصل ہے جو انسانی جسم میں گردشِ خون کو۔ جس طرح سرطان زدہ خونی خلئے ( (Cells پورے اِنسانی جسم کے لئے خطرات کا باعث بنتے ہیں بالکل اسی طرح مغرب کا بینکنگ سسٹم مغربی معیشت کے اجتماعی جسد میں سرطانی جڑیں پھیلا رہا ہے۔
عطاء اللہ صدیقی
1999
  • ستمبر
  • اکتوبر
دیکھ کر رنگِ چمن نہ ہو پریشان مالی!!
شبِ تاریک کی طوالت اپنی جگہ ہے، نورِ سحر کا امکاں ابھی باقی ہے۔ ظلم کی سیاہ رات کو دَوام نہیں ہوتا۔ خورشید کی کرنیں گھٹا ٹوپ اندھیروں کا سینہ چیز کر کائنات کے لیے ضوفشانی کا سامنا کیا کرتی ہیں۔ تپتے ہوئے صحرا کی وسعتیں دیکھ کر مایوس نہیں ہونا چاہئے، مسافر عزم و ہمت سے کام لیں تو اُمید کا نخلستان مل ہی جایا کرتا ہے۔ ملتِ اسلامیہ کا شجر اگر آج خزاں گزیدہ ہے تو کیا ہوا، اسلام دشمن لابیاں اپنے زہریلے اور اعصاب شکن پراپیگنڈہ سے مسلمانوں میں مایوسی پھیلا رہی ہیں۔ مایوسی اور قنوطیت ایسے نفسانی امراض ہیں جو قوموں کو ایک دفعہ گر کر دوبارہ اٹھنے کے قابل نہیں چھوڑتے۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو﴿ لا تَقنَطوا مِن رَحمَةِ اللَّـهِ ...﴿٥٣﴾...الزمر  کا درس دیتا ہے۔
عطاء اللہ صدیقی
1999
  • اپریل
(غیر مسلموں کی بہتان تراشیوں اور اعتراضات کاجواب)


ہم اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے ہیں اور درودوسلام بھیجتے ہیں اللہ کے برگزیدہ پیغمبر آقائے نامدار حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم  کی ذات گرامی پر،آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی آل رضوان اللہ عنھم اجمعین  اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  پر اوران ہستیوں پر جنھوں نے قیامت تک کے لیے   آ پ صلی اللہ علیہ وسلم  اور صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  کے دامن کو مضبوطی سےتھامے رکھا۔
درود وسلام کے بعد! میں آ پ   کو مبارکباد دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سب کو اسلام جیسی  پاکیزہ اور بے پایاں نعمت سے سرفراز فرمایا اور اللہ سے اس کی محبت اور خوشنودی کا خواستگار ہوں۔دعا گو ہوں کہ اللہ ہمیں اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ہمیں گفتار اور کردار کا غازی بنائے،ہمیں ایمان کامل اور صدیق یقین کی دولت سے مالا مال فرمائے۔یقیناً وہی دعاؤں کا سننے والا قبول کرنے والا ہے۔
محمد علی الصابونی
2000
  • دسمبر
جناب آباد شاہ پوری صاحب کا یہ مقالہ ان کی ایک زیر طبع کتاب ''سوشلزم اور اسلامیان روس'' کا ایک باب ہے۔ اس باب میں انہوں نے مستند کتابوں اور خود یہودی مآخذ کے حوالے سے ثابت کیا ہے کہ سوشلزم کا نہ صرف تانابانا یہودیوں نے بنا تھا۔ بلکہ روس، یورپ اور امریکہ میں سوشلسٹ تحریک کے علمبرداروں اور رہنماؤں کی بھاری اکثریت بھی یہودیوں ہی پر مشتمل تھی، آباد شاہ پوری ایک اہلحدیث علمی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں اور آج کل ملک کے مشہور ماہنامے اردو ڈائجسٹ میں مدیر و معاون ہیں۔ (ادارہ)
آباد شاہ پوری
1971
  • اگست