یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مسلما ن خواتین نے اپنے دین کے لیے بڑ ی قربانیاں دیں۔ اس کے لیے اُنھوں نے قریب ترین تعلقات اور رشتوں کی بھی پروا نہ کی۔خاندان اور قبیلہ سے جنگ مول لی۔مصیبتیں سہیں، گھر با ر چھوڑا ۔غرض یہ کہ مفادِدین سے اُن کا جو بھی مفاد ٹکرا یا، اُسے ٹھکرانے میں اُنہوں نے کوئی تامل اور پس و پیش نہیں کیا
عذرا شفیع
2011
  • مئی
میں ایک اہم موضوع پر اظہار خیال کرنے اُٹھی ہوں ۔ مجھ سے پوچھا گیا کہ معاشرہ کی تعمیر میں عورت کا کیا کردار ہوناچاہئے؟ یہ ایک انتہائی اہم موضوع ہے...!بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پوچھا جارہا ہے کہ کیامعاشرے کی تعمیر میں مسلمان عورت کا کوئی عمل دخل اور ذمہ داری ہے؟
زینب الغزالی
2007
  • جنوری
اسلام سے قبل عورت کی جو حالت تھی، محتاجِ وضاحت نہیں۔ اہل علم اس سے پوری طرح باخبر ہیں۔ اسلام نے اسے قعر مذلت سے نکالا اور عزت و احترام کے مقام پر فائز کیا۔ وہ وراثت سے محروم تھی، اسے وراثت میں حصے دار بنایا۔نکاح و طلاق میں اس کی پسندیدگی وناپسندیدگی کا قطعاً کوئی دخل نہ تھا، اسلام نے نکاح و طلاق میں اسے خاص حقوق عطا کئے۔ اسی طرح اسے تمام وہ تمدنی و معاشرتی حقوق عطا کئے جو مردوں کو حاصل تھے۔
صلاح الدین یوسف
2004
  • نومبر
بالوں کا رکھنا سنت، ان کی اصلاح اور ان کا اکرام ضروری (ابو داؤد) یہ قطعاً ممنوع ہے کہ بالوں کو پراگندہ رکھا جائے (مالک) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ''بے شک اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے (صحیح مسلم) لہٰذا اس اصول کی روشنی میں بال خوبصورتی سے سجے ہوئے ہونے چاہئیں نہ کہ بکھرے ہوئے بالوں میں کنگھی کی جائے پہلے سیدھی طرف پھر الٹی طرف (صحیح بخاری) سر کے بیچ میں مانگ نکالی جائے (ابو داؤد)
جماعۃ المسلمین
1972
  • نومبر
کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں، جو بری ہوتی ہیں اور برائی کا سبب بنتی ہیں، لیکن یوں عام ہوتی ہیں، جیسے شرعاً ان میں کوئی قباحت ہی نہ ہو۔ اس لئے اصلاحِ حال کی طرف نہ ذہن جاتا ہے اور نہ ہی اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

اس فرصت میں ہم اس سلسلے کے صرف وہ چند امور سامنے رکھیں گے، جو مستورات سے تعلق رکھتے ہیں، جو حد درجہ خطرناک ہیں مگر حد درجہ عام بھی ہیں۔
عزیز زبیدی
1971
  • اگست
برصغير ميں مرد وعورت ہر دوصنفوں كى ايك دوسرے پر برترى يا مساوات كى بحثيں مغربى تہذيب كے زير اثر عرصہٴ دراز سے چلى آرہى ہيں، جن ميں عورتوں كى كلى مساوات كے نعرہ سے لے كر ان كے پردہ كے مسائل بهى زير بحث آتے ہيں- اسى تناظر ميں ہمارے دينى ادب ميں بہت سى كتب بهى تحرير كى گئيں جن ميں متوازن اسلامى موقف پيش كرنے كى كوشش كے ساتھ اسلامى حجاب كى مصلحتوں پر بهى بہت لكها گيا-
ابو الکلام آزاد
2004
  • نومبر
خواتین کو اسلام نے پردہ کا پابند اس لئے کیا ہے کہ ان کی عزت و عفت پر کوئی حرف نہ آئے۔ جس طرح ملک کی اعلیٰ شخصیات کوبلٹ پروف گاڑی اور حفاظتی دستہ دے کر ان کو قید کرنا مقصود نہیں ہوتا بلکہ ان کی حفاظت مطلوب ہوتی ہے، اسی طرح ان گراں قدر موتیوں (خواتین) کو پردہ کے حفاظتی قلعہ میں قید نہیں کیا گیا بلکہ ان کی حفاظت کا سامان کیا گیاہے ۔
اعجاز حسن
2002
  • اپریل
"نہیں، تم کچھ نہیں جانتے منٹو! ... یہ نور ہے نورجہاں ہے، سرور ِ جہاں ہے۔ خدا کی قسم ایسی آواز پائی ہے کہ بہشت میں خوش اَلحان سے خوش الحان حور سنے تو اسے سیندور کھلانے کے لئے زمین پر اُتر آئے"
جھوٹ کی حد تک مبالغہ آرائی پر مبنی یہ وہ جملے ہیں
عطاء اللہ صدیقی
2001
  • فروری
اپنے مسلم معاشرہ میں یہ بات عام طور پر کہی اور سنی جاتی ہے کہ:
"جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔"
بعض علماء واعظین اور خطباء بھی "(ألجنة تحت أقدام الأمهات)" (جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے) کا تذکرہ اپنی تصانیف اور پُر نصائح وعظ و تقاریر میں بلاتکلف کرتے نظر آتے ہیں گویا یہ اَمرِ ثابت ہو حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ یہ مرذج و مشہور الفاظ کسی جید اور قابلِ اعتماد اسناد کے ساتھ مرفوعا ثابت ہی نہیں ہیں۔ اس موضوع کی جتنی روایات ذخیرہ احادیث میں موجود ہیں۔ شارحینِ حدیث نے ان کا کیا معنی و مطلب متعین کیا ہے اور ان روایات کا محدثین کے نزدیک کیا مقام و مرتبہ ہے۔ یہ واضح کرنے کے لئے یہ مختصر مضمون ہدیہ ناظرین ہے۔
غازی عزیر
1989
  • فروری