(محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی رحمۃ اللہ علیہ  کی شخصیت سے اہل علم بخوبی واقف ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اسلاف کا ساقوت حافظہ عطا فرمایا۔اسماء رجال اور تحقیق حدیث کے سلسلہ میں روئے زمین پر کم از کم دور حاضر میں آپ جیسا کوئی دوسرا آدمی نظر نہ آیا آپ کی بہت سی تصانیف منصہ شہود پر آکر اہل علم اور قدر دان حضرات سے خراج تحسین حاصل کر چکی ہیں۔
آپ کی مشہور زمانہ تالیف صلوۃ النبی  صلی اللہ علیہ وسلم  ہے جس میں آپ نے احادیث مبارکہ کی روشنی میں آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کی نماز کا مکمل نقشہ فرمایا ہے یہ کتاب تمام مسلمانوں کے لیے انمول تحفہ ہے اس کا اردو ترجمہ ہو چکا ہے اور مارکیٹ میں بھی دستیاب ہے۔
علامہ موصوف نے اپنی اس کتاب کی تلخیص بھی شائع کی تھی جس میں انتہائی اختصار مگر حددرجہ جامعیت کے ساتھ نماز کے احکام بیان کئے گئے ہیں۔ الحمد اللہ اس مختصر کتاب کا ترجمہ کرنے کی سعادت راقم الحروف کے حصہ میں آئی ۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے سابقہ تراجم کتب و نگار شات کی طرح اسے بھی برادران اسلام کی اصلاح کے لیے نافع اور میرے لیے ذخیرہ آخرت بنائے۔
قارئین سے التماس ہے کہ اپنی دعاؤں میں راقم کو میرے والد محترم مولانا ابو سعید عبدالعزیز سعیدی مرحوم اور اساتذہ کرام کو بھی یاد رکھیں ۔(مترجم)
ناصر الدین البانی
2000
  • اکتوبر
موضوع کا تقاضا ہے کہ ہم وسیلہ کا بیان ایک مستقل فصل میں کریں، خواہ وہ مختصر ہی کیوں نہ ہو، تاکہ اس موضوع کے بارہ میں صحیح بات واضح ہو سکے۔
توسل کا لغوی معنیٰ: مطلوبہ چیز کا قرب، اور شوق کے ساتھ اس تک پہنچنا، توسل کہلاتا ہے۔
وسیلہ اس ذریعہ کو کہتے ہیں جس کے ذریعے قرب حاصل ہو۔۔۔دعا کرنے والا جب یہ سمجھے کہ اس سے حقوق اللہ کے بارہ میں کوتاہیاں ہو چکی ہیں، اور وہ اللہ کی ممنوعہ حدود کا مرتکب ہو چکا ہے، تو جس شخص کو اپنے سے افضل سمجھتا ہو وہ اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اس کی کوشش ہوتی ہے کہ دعا زیادہ سے زیادہ فضیلت والی ہو، اور جلد قبول ہو جائے۔ چونکہ توسل بھی عبادت کے ضمن میں ہے، اس لیے اس کی دو قسمیں ہو جاتی ہیں:
1۔ اس کی ایک قسم مشروع ہے، جس کا ثبوت قرآن کریم اور سنت صحیحہ سے ملتا ہے۔
2۔ اور دوسری قسم غیر مشروع ہے، جس کا جواز قرآن کریم اور سنت صحیحہ سے نہیں ملتا، بلکہ کتاب و سنت سے اس کا شرک ہونا ظاہر و باہر ہے۔
سعید مجتبیٰ سعیدی
1987
  • اکتوبر
زکوٰہ سے کیا مراد ہے؟ یہ وہ مخصوص مقدارِ مال ہے جو اسلامی مملکت، مسلم اغنیاء سے وصول کرتی ہے اور اُسے امتِ مسلمہ کے اہلِ حاجت کی طرف لوٹا دیتی ہے۔ تاکہ اُن کی ضروریات بھی پوری ہوں اور وہ بھی معاشی خوشحالی کی طرف گامزن ہو سکیں۔ چودہ صدیوں پر مشتمل اسلامی ادب، زکوٰۃ کا یہی مفہوم تواتر اور تسلسل کے ساتھ پیش کرتا رہا ہے۔ چونکہ زکوٰۃ کا یہ مفہوم بجائے خود فاضلہ دولت کی شخصی ملکیت کا ثبوت ہے۔ اس لیے بانی طلوعِ اسلام کو اصطلاحِ زکوٰۃ سے یہ مفہوم خارج کرنے کے لیے اور اس کی جگہ نیا مفہوم داخل کرنے کے لیے خاصی کوہ کنی کرنی پڑی ہے۔ نئے دور میں "زکوٰۃ" کا ماڈرن مفہوم اب کمیونزم اور مارکس ازم سے ہم آہنگ ہو کر رہ گیا ہے۔ چنانچہ پرویز رقم طراز ہیں:
"قرآن کریم کے پیش کردہ[1] معاشی نظام کی رو سے مملکت کی ساری آمدنی "زکوٰۃ" ہے کیونکہ اسے نوعِ انسانی کی نشوونما کے لیے صرف کیا جاتا ہے (ایتاء زکوٰۃ کے معنی نشوونما دینا ہوتا ہے) جسے آج کل زکوٰۃ کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں اس کا ذکر تک نہیں ہے۔" (تفسیر مطالب الفرقان ج6 ص 68)
پروفیسر محمد دین قاسمی
1989
  • مارچ
نماز کو ترک کر دینا کفر ہے اور ملت اِسلامیہ سے خارج کر دینے والے اور اَبدی جہنم کا موجب ہے جس طرح کہ قرآن وحدیث اور اقوال سلف سے ثابت ہے لہٰذا وہ شخص جو نماز کاتارک ہے اس کے لیے مکہ میں داخل ہوناحلال نہیں ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
{یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا إنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوْا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِہِمْ ہٰذَا} (التوبہ:۲۸)
کامران طاہر
2010
  • اکتوبر
ہم رمضان المبارک کا استقبال کیسے کریں؟
اللہ تعالیٰ نے اس ماہ مبارک کو بہت سے خصائص وفضائل کی وجہ سے دوسرے مہینوں کے مقابلے میں ایک ممتاز مقام عطا کیاہے جیسے:
ا س ماہ مبارک میں قرآن مجید کا نزول ہوا:
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ (البقرہ:2/185)
اس کے عشرہ اخیر کی طاق راتوں میں ایک قدر کی رات(شب قدر) ہوتی ہے جس میں اللہ کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے:
لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ (القدر 97/3)
"شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے"
ہزار مہینے 83 سال اور 4 مہینے  بنتے ہیں۔عام طور پر ایک انسان کو اتنی عمر بھی نہیں ملتی۔یہ امت مسلمہ پر اللہ کا کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے اسے اتنی فضیلت والی رات عطا کی۔
رمضان کی ہر رات کو اللہ تعالیٰ اپنےبندوں کو جہنم سے آزادی عطا فرماتے ہیں۔
اس میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کےدروازے بند کردیئے جاتے ہیں۔
سرکش شیاطین کو جکڑ دیاجاتا ہے۔
صلاح الدین یوسف
1999
  • دسمبر

رمضان کامہینہ مسلمانوں پرعطیۂ خداوندی ہے۔اس کے تمام تراَحکامات اور حدود و قیود شارع کی حکمت ِبالغہ کی آئینہ دار اور یقینا اس کے پیداکردہ بندوں کے حق میں بہتر ہیں، تبھی تو ربّ العالمین نے اس پر مہینے کے روزوںکو اپنے بندوں پرفرض قرار دیا ہے۔ فرمانِ ربانی ہے:

{یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ} (البقرہ:۱۸۴)

کامران طاہر
2010
  • اگست
احباب کے زیر مطالعہ مجلہ ''محدث'' شیخ التفسیر حافظ محمد حسین صاحب روپڑی، شیخ الحدیث حافظ عبد اللہ صاحب روپڑی اور خطیب ملت حافظ محمد اسماعیل صاحب روپڑی رحمۃاللہ علیہم اجمعین کے باقیات صالحات سے ہے۔ اس لئے رمضان المبارک کے احکام و مسائل میں ہم خطیب ملت حضرت مولانا حافظ محمد اسمٰعیل صاحب روپڑی کا یادگار مضمون ہدیہ قارئین کر رہے ہیں
اسماعیل روپڑی
1971
  • نومبر
اپنے آپ اور اپنے ماحول کو عبادت کے لئے تیار کرنا، توبہ و استغفار کی طرف جلدی کرنا، رمضان کے آنے پر خوشی منانا اور پورے ادب کے ساتھ روزے رکھنا، تراویح میں دل جمعی اور خشوع کا خیال رکھنا، سستی سے باز رہنا، خصوصاً آخری دس دن میں شب ِقدر کی تلاش میں لگے رہنا، تدبر و تفکرکے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کرنا اوراسے ایک سے زائد بار مکمل کرنے کی کوشش کرنا رمضان المبارک کے اہم کام ہیں۔
محمد بن صالح المنجد
2007
  • اکتوبر

صوم کا لغوی اور شرعی معنی:صَوْم جسے اُردو زبان میں روزہ سے تعبیر کرتے ہیں، کالغوی معنی رک جانا ہے اور اس کا شرعی معنی طلوعِ فجر سے لے کر غروبِ آفتاب تک تمام مُفطرات (روزہ توڑنے والی چیزوں) سے بحالت ِایمان اجر و ثواب کی نیت سے رُک جاناہے۔

روزہ کامقام: اسلام کی عمارت جن پانچ ستونوں پر استوار کی گئی ہے، ان میں ایک روزہ ہے جومرتبہ کے اعتبار سے چوتھے درجہ پرہے

حفیظ الرحمن لکھوی
2001
  • جنوری
'سجدہ سہو' ایسے دو سجدوں کو کہتے ہیں جنہیں ایک نمازی بھول چوک کی وجہ سے اپنی نماز میں پیدا ہونے والے خلل کو پورا کرنے (نقص کی تلافی) کے لیے کرتا ہے۔ اس کے اسباب تین ہیں: 1۔زیادتی 2۔کمی اور 3۔شک

ذیل میں ہر صورت کے احکام ومسائل علیحدہ علیحدہ پیش کیے جاتے ہیں:
محمد بن صالح العثیمین
2014
  • دسمبر

سوال نمبر1:کیا ضعیف اور موضوع احادیث رسول اللہ ﷺپر بہتان ہیں؟
جواب:ضعیف روایات کی کئی قسمیں ہیں ۔بعض نے 17اور بعض نے ۵۱ تک بھی بیان کی ہیں اور ہر ایک کے ضعف میں درجہ کےاعتبارسے فرق ہوتا ہے۔ لہٰذا ضعیف روایات کے بارے یہ بات کہنا درست نہیں ہے

فاروق رفیع
2012
  • مئی
تمام تعریف اللہ تبارک و تعالیٰ کو سزاوار ہے جس نے اپنے صالح بندوں کو ایسے مواقع عطا کئے جن میں کثرت کے ساتھ نیک اعمال بجا لاتے ہیں اور موت تک اُنہیں یہ مہلت اور موقع فراہم کیا کہ نیکیوں کے ان مختلف موسموں سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے دن اور رات کی مبارک گھڑیوں میں بھلائیوں کے وافر ثمرات اپنے دامن میں سمیٹ سکیں ۔
کامران طاہر
2008
  • جنوری
یوں تو اللہ ذوالجلال والاکرام کی رحمت کی بارش ہمیشہ ہوتی رہتی ہے۔ شب و روز کے چوبیس گھنٹوں میں کوئی لمحہ بھی ایسا نہیں جب اللہ ارحم الراحمین کے رحم و کرم کے سمندر سے دیا سیراب نہ ہوتی ہو، مگر بعض ایام، بعض عشرے اور بعض ماہ ایسی خصوصیتیں رکھتے ہیں جو دوسرے دِنوں میں موجود نہیں۔
محمد صاحب
1971
  • جنوری
  • فروری
طب کا علم، حیوانی جسم کی ترکیب اور اس کے اعضا کی کارکردگی کے متعلق دقیق بحث کرتا ہے۔ وہ اپنی تحقیق کی ابتدا حیوانی جسم کی ترکیب کے دقیق ترین اکائی (خلیہ) سے کرتا ہے اور پھر مشترک کارکردگی والے خلیوں کے مجموعے پر دادِ تحقیق دیتا ہے اور پھر دل ، دماغ، جگر، گردہ جیسے اعضاے رئیسہ کی کاکردگی پر حیرت انگیز انکشافات کرتا ہے، پھر وہ نظامِ انہضام میں مشترک کردار ادا کرنے والے اعضاے حیوانی پر ریسرچ کرتا ہے اور ہر ایک کا الگ الگ کردار بیان کرتا ہے ۔
عبدالجبار سلفی
2013
  • دسمبر
عہد قدیم سے یہ روایت چلی آرہی ہے کہ سال بھر میں ایک یا ایک سے زیادہ دن ایسے ہونے چاہئیں جن میں لوگ روز مرہ کاروبارِ حیات کومعطل کرکے عمدہ لباس پہن کر کسی مرکزی جگہ اکٹھے ہوں اور مختلف تقریبات منعقد کرکے اپنی حیثیت و شوکت کی نمائش کریں۔ایسے تہواروں کو مختلف ناموں سے پکارا گیا ہے اور تاریخ و دن کاتعین قوموں نے اپنی تاریخ کے اہم واقعات کی یادتازہ رکھنے کے لئے کیا ہے۔
محمد اسماعیل سلفی
2001
  • جنوری
انگلینڈ سے ایک فاضل نے استفسار فرمایا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ:

یہاں پر حسب سابق اس دفعہ بھی عید پر مسلمانوں میں خاصا اختلاف پیدا ہوا اور تین مختلف دنوں میں عید کی گئی اور اس سلسلے میں تین گروہ بن گئے۔ اس مسئلے پر میں آپ کا نقطۂ نگاہ بھی معلوم کرنا چاہتا ہوں۔ صورت حال کچھ اس طرح بنی۔
ادارہ
1977
  • اکتوبر
  • نومبر
اللہ کریم کو اپنے بندوں سے بہت محبت ہے اوروہ نہیں چاہتا کہ اس کا کوئی بندہ نارِ جہنم کا ایندھن بنے، اِسی لئے اس نے اپنے انبیاے کرام کے ذریعے اپنے بندوں کے لئے جنت کے راستے ہموار کئے اور ایسے ایسے عظیم اور آسان طریقے اور ذرائع مقرر کئے کہ جنہیں اپناکر انسان اللہ تعالیٰ کے قریب ہوجاتا ہے، دنیا و آخرت کی ذلت و رسوائی سے محفوظ ہوجاتاہے اور جنت الفردوس اس کا مقدر بن جاتی ہے۔
فیض احمد بھٹی
2007
  • جنوری
قربانی کے متعلق علماء کا اختلاف ہے کہ یہ واجب ہے یا سنت؟ لیکن احادیث سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ جب تک مدینہ منورہ رہے قربانی کرتے رہے اور دوسرے مسلمان بھی قربانی کرتے رہے کسی حدیث سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آپ ﷺ نے قربانی کے لئے وجوبًا حکم دیا ہو۔ چنانچہ عبد اللہ بن عمرؓ سے کسی نے دریافت کیا کہ کیا قربانی واجب ہے؟ آپ نے جواب دیا:
سید داؤد غزنوی
1972
  • فروری
بہت سے لوگ سوال کرتے ہیں کہ قیامت کے دن ان کے نام کے ساتھ ان کے آباء کا نام لیا جائے گا یا اُن کی ماؤں کا؟... اس بارے میں بکثرت سوالات کے پیش نظر قدرے تفصیل حاضر خدمت ہے۔
عبدالرؤف
2014
  • دسمبر
نماز وروزہ صرف بدنی عبادات ہیں اور زکوٰة صرف مالی، جبکہ حج وعمرہ ،مالی وبدنی ہر قسم کی عبادات کا مجموعہ ہے۔اسلام کے پانچ ارکان میں سے حج ایک اہم رکن ہے۔ایمان و جہاد کے بعد حجِ مبرور ومقبول افضل ترین عمل ہے۔دورانِ حج اگر کسی سے کوئی شہوانی فعل اور کسی گناہ کا ارتکاب نہ ہو تو حاجی گناہوں سے یوں پاک ہو کر لوٹتا ہے ، جیسے آج ہی وہ پیدا ہوا ہے۔حجِ مبرور کی جزا جنت ہے۔
منیر قمر
2007
  • دسمبر
اللہ تعالی قرآنِ کریم میں فرماتے ہیں
﴿إِنَّ عِدَّةَ الشُّهورِ‌ عِندَ اللَّهِ اثنا عَشَرَ‌ شَهرً‌ا فى كِتـٰبِ اللَّهِ يَومَ خَلَقَ السَّمـٰو‌ٰتِ وَالأَر‌ضَ مِنها أَر‌بَعَةٌ حُرُ‌مٌ ۚ ذ‌ٰلِكَ الدّينُ القَيِّمُ ۚ فَلا تَظلِموا فيهِنَّ أَنفُسَكُم....٣٦ ﴾...... سورة التوبة
سہیل حسن
2001
  • اپریل
اسلامی عبادات میں یہ پہلا رکن بلکہ رکن عظیم ہے جس کی ادائیگی امیر و غریب، بوڑھے و جوان، مرد و عورت اور بیمار و تندرست سب پر یکساں فرض ہے۔ ایسی عبادت کہ جس کا حکم کسی بھی حالت میں ساقط نہیں ہوتا۔ ایمان لانے کے بعد مسلمان سے اولین مطالبہ ہی یہ ہے کہ وہ نماز قائم کرے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے: )
محمد آصف احسان
2002
  • اکتوبر
  • نومبر
چند دنوں کی بات ہے کہ نماز عصر کے بعد ایک دوست پوچھنے لگے کہ اہل کتاب یعنی یہودو نصاریٰ کی عورتوں سے نکاح کے بارے میں ذرا وضاحت کریں ۔ تفصیل پوچھنے پر انھوں نے بتا یا کہ میرا ایک دوست عرصہ بارہ سال سے جرمنی میں رہائش پذیر ہے وہاں جا کر اس نے دوسرے سال ہی ایک عیسائی عورت سے شادی کر لی تھی۔جب بھی کبھی وہ پاکستان آتا ہے تو یہی کہتا ہے کہ میں دلی طور پر اس شادی سے مطمئن نہیں ہوں۔جب کہ وہ عورت اب تک اپنے دین یعنی عیسائیت پر قائم ہے اور بچوں کو بھی عیسائیت کی طرف مائل کر رہی ہے چونکہ ان کے بچے بھی ہیں اس لیے اس عورت کو چھوڑنا ممکن نہیں رہا۔ مزید تفصیل پر معلوم ہوا کہ یہ صرف اسی کا ہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ وہاں کے مشنری ادارے فوراً اپنی لڑکیوں کا ان مسلمانوں سے نکاح کرا دیتے ہیں جو تلاش پر روزگار کے سلسلے میں وہاں جاتے ہیں اور جب یہ مسلمان واپس آتے ہیں تو ان عورتوں کو ویسے ہی چھوڑآتے ہیں اس طرح یہ صرف نام کے ہی مسلمان رہ جا تے ہیں وگرنہ ان کی تہذیب معاشرت لین دین اکل و شرب سب کچھ عیسائیوں جیسا ہی ہوتا ہے وہ اتوار کے اتوار گرجامیں تو بےشک نہیں جاتے مگر اپنی نمازوں سے ضروربیگانہ ہو جا تے ہیں اپنی عیسائی بیویوں کے ساتھ مل کر بلا جھجک خنزیر کا گوشت بھی کھاتے ہیں اور شراب سے بھی دل بہلاتے ہیں یہ صرف جرمنی کا ہی واقعہ نہیں بلکہ گرین کارڈ اور نیشنلٹی کے چکر میں برطانیہ امریکہ الغرض دوسرے کئی ایک ممالک میں مسلمان اپنی عاقبت خراب کر رہے ہیں ۔
نجیب الرحمن کیلانی
2000
  • اکتوبر
اس سلسلہ میں علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے "فیض الباری علی صحیح البخاری" میں فقہی مذاہب کی جو تفصیل بیان کی ہے، اس کا خلاصہ درج ذیل ہے:
1۔ حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ، حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد گرامی یہ ہے کہ عاقلہ بالغہ کنواری لڑکی ولی کی رضامندی اور اجازت کے بغیر نکاح نہیں کر سکتی بلکہ ولی کی اجازت اور رضا کی صورت میں بھی ایجاب و قبول کا اختیار لڑکی کو حاصل نہیں ہے بلکہ اس کی طرف سے یہ ذمہ داری ولی سر انجام دے گا۔
2۔ احناف میں سے حضرت امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ بھی یہ ہے کہ عاقلہ بالغہ لڑکی ولی کی رضا  کے بغیر نکاح نہیں کر سکتی البتہ ولی کی رضا اور اجازت کی صورت میں ایجاب و قبول وہ خود کر سکتی ہے۔
3۔ امام اعظم حضرت ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مذہب یہ ہے کہ عاقلہ بالغہ لڑکی اپنا نکاح ولی کی اجازت کے بغیر بھی کر سکتی ہے البتہ اسے اس طرح اپنا نکاح کرنے کی صورت میں "کفو" کے تقاضوں کا لحاظ رکھنا ہو گا اور اگر اس نے ولی کی اجازت کے بغیر "غیر کفو" میں نکاح کر لیا تو ولی کو نہ صرف اعتراض کا حق ہے بلکہ وہ تنسیخ نکاح کے لئے عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔
# فقہ جعفریہ کے مطابق باکرہ کے لئے باپ یا دادا کی اجازت ہونا احتیاط واجب ہے (جامعۃ المنتظر، لاہور)
4۔ "کفو" کا مفہوم فقہائے کرام کے ارشادات کی روشنی میں یہ ہے کہ کسی لڑکی کا نکاح ایسی جگہ نہ ہو جہاں لڑکی کا ولی اور اہل خاندان اپنے لئے عار محسوس کریں۔ "کفو" کے اسباب فقہائے کرام رحمۃ اللہ علیہم نے اپنے اپنے عرف اور ذوق کے مطابق مختلف بیان کئے ہیں جن سب کا خلاصہ یہ ہے کہ لڑکی اور اس کا خاندان جس سوسائٹی میں رہتے ہیں وہاں کے عرف اور معاشرتی روایات کے مطابق جو بات بھی ان کے لئے باعث عار سمجھی جاتی ہو وہ "کفو" کے اسباب میں شامل ہو گی کیونکہ "کفو" کی علت سب فقہاء نے "دفع ضرر عار" بیان کی ہے اور عار کے اسباب ہر معاشرہ اور عرف میں مختلف ہوتے ہیں۔
زاہد الراشدی
1996
  • اکتوبر
٭ سوال: گذشتہ دنوں لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج صاحب نے یتیم پوتے کی وراثت کے بارے میں مختلف ریکارکس دئے ہیں ۔۔ ازراہِ کرم اس ضمن میں صحیح شرعی رائے بتلائیے، تفصیلی دلائل بھی ذکر فرما سکیں تو میں بہت شکر گزار ہوں گا ۔۔ جزاکم اللہ (سمیع الرحمٰن، لاہور)
جواب: اس بارے میں شرعی دلائل یوں ہیں ۔۔ قرآن کریم میں ہے:
﴿لِلرِّجالِ نَصيبٌ مِمّا تَرَكَ الوٰلِدانِ وَالأَقرَبونَ وَلِلنِّساءِ نَصيبٌ مِمّا تَرَكَ الوٰلِدانِ وَالأَقرَبونَ مِمّا قَلَّ مِنهُ أَو كَثُرَ... ﴿٧﴾...النساء
"ماں باپ اور عزیز و اقارب کے ترکہ میں مردوں کا حصہ بھی ہے اور عورتوں کا بھی۔ (جو مال ماں باپ اور اقارب چھوڑ مریں) خواہ وہ مال کم ہو یا زیادہ (اُس میں) حصہ مقرر کیا ہوا ہے۔"
صلاح الدین یوسف
1999
  • اپریل