ہم پہلی اقساط میں متعدد مرتبہ یہ بات عرض کرچکے ہیں کہ فقہ علی العموم اس قابل نہیں کہ اسے آج کے معاشرہ میں من و عن نافذ کردیا جائے لیکن فقہ حنفی کی شان تو کچھ نرالی ہی ہےکہ جس کی بنیاد 75 فیصد حیلہ سازی پر ہے اور حیل کےذریعےمجرم کو ''ادرؤا'' کے پردہ میں تحفظ بخشا جاتاہے لیکن نامعلوم ہمارےمہربان ایسی حیلہ سازی کو ختم کرنے کی بجائے الٹا امام بخاری وغیرہ ائمہ محدثین کو کیوں کوستے ہیں
برق التوحیدی
1978
  • اگست
  • ستمبر

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ پچھلے دِنوں ''صحیفہ اہل حدیث'' کراچی اور ہفت روزہ ''اہلحدیث'' لاہور میں صبح کی دو اذانوں کے متعلق مضامین شائع ہوتے رہے ہیں۔ ماہنامہ ''محدث'' لاہور نے بھی مولانا عبد القادر صاحب حصاری کا تعاقب تلخیص سے شائع کیا تھا۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ «اَلصَّلوٰةُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ» دو اذانوں میں س پہلی اذان میں کہا جائے یا دوسری میں؟

عبد الرحمن مدنی
1971
  • نومبر
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر دن رات میں پانچ وقت نماز فرض کی ہے اور اسی طرح ہر نماز کو بھی اس کے وقت پر پڑھنے کا حکم فرمایا جیساکہ اس کا ارشاد ہے:
﴿إِنَّ الصَّلو‌ٰةَ كانَت عَلَى المُؤمِنينَ كِتـٰبًا مَوقوتًا ١٠٣ ﴾....سورة النساء:
کامران طاہر
2011
  • جنوری
جادو و جنات اور ان کے شرعی معالج و علاج
جادو کے علاج کے کچھ طریقے گزشتہ شمارے میں بیان کیے جا چکے ہیں اور باقی طریقے ذیل میں رقم کیے جا رہے ہیں: زیتون کے تیل کے ذریعے علاج:زیتون (درخت اور پھل) بڑا با برکت ہے ،اس کا ذکرقرآن میں کئی مرتبہ آیا ہے۔

شفیق الرحمٰن زاہد
2015
  • جولائی
  • اگست
حج اِسلام کا ایک بنیادی رکن ہے، اور ہر اس مرد و عورت پر فرض ہے جو اس کی طاقت رکھتا ہے، فرمانِ الٰہی ہے:﴿وَلِلَّهِ عَلَى النّاسِ حِجُّ البَيتِ مَنِ استَطاعَ إِلَيهِ سَبيلًا.....٩٧ ﴾......سورة آل عمران" یعنی "حج بیت اللہ کرنا ان لوگوں پر اللہ کا حق ہے جو اس کی طرف جانے کی طاقت رکھتے ہوں" اور جب حج کرنے کی قدرت موجود ہو تو اسے فوراً کرلینا چاہئے
سہیل حسن
2001
  • فروری
۱۔ نیت 'حج تمتع'کرنیوالا «اللّٰهُمَّ لَبَّيْک عُمْرَةً» اَور 'حج مفرد'کرنے والا«اللّٰهُمَّ لَبَّيْکَ حَجًّا»،جبکہ 'حج قران' کرنیوالا «اللّٰهُمَّ لَبَّيْکَ عُمْرَةً وَحَجًّا» کہے گا۔
۲۔ میدانِ عرفات میں ٹھہرنا ۔
۳۔ طوافِ زیارة کرنا۔
۴۔ صفا مروة کی سعی کرنا۔
حافظ انس نضر
2001
  • فروری
نوجوان آج کے باغ و بہار اور مستقبل کا قیمتی اثاثہ ہیں۔'نوجوان'ایسی نسل ہےجس کی ہر دور میں قدر و قیمت رہی ہے۔ان کی تعلیمی یا تربیتی عمل میں کہیں ذرا سی بھی کمی واقع ہو تو معاشرہ اضطراب کی کیفیت کا شکار ہو جاتا ہے۔آج کا معاشرہ بھی کچھ اسی طرح کی صورتحال میں اُلجھا ہوا ہے۔جرائم کی اکثریت ، معاشرتی بگاڑ ، لادینیت کی اندھی تقلید، بدامنی، قتل و فساد اور ہر طرف بے سکونی کی فضا چھائی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
ندا اشرف
2013
  • جون
اسلام کے سطح بین دشمن عموماً یہ پروپیگنڈا کرتے رہتے ہیں کہ اسلام چونکہ ایک جارحانہ مذہب ہے اس لئے اس کی عمومی دعوت کو کامیابی سے ہمکنار ہونے میں کچھ زیادہ دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور دوسرے مذاہب کے مقابلے میں یہ قلیل عرصہ میں اقصائے عالم میں پھیل گیا۔ اس سراسر معاندانہ اور متعصبانہ اعتراض کے اگرچہ آج تک بہت کافی اور شافی جوابات دیئے جا چکے ہیں
سلیم تابانی
1976
  • مارچ
  • اپریل
تاریخِ عالم پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی ذات ہی وہ بے نظیر ہستی ہے جس کی زندگی کا ایک ایک گوشہ تاریخ کی روشنی میں منور ہے۔ مہاتما بدھ کی زندگی اساطیر میں الجھی ہوئی ہے۔ حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ کی زندگی کے بارے میں تورات و اناجیل کے غلط سلط، بے ربط واقعات کے علاوہ کچھ دستیاب نہیں اور ان واقعات کی غلطی قرآن کریم میں واضح کی گئی ہے۔
اختر راہی
1973
  • مئی
  • جون
رمضان المبارک میں نیکی کا اجر کئی گنا زیادہ ہو جاتا ہے۔ رغبت رکھنے والے ہر انسان کے لئے بھلائی کے تمام دروازے کھلے ہوئے ملتے ہیں۔ اسی بابرکت مہینہ میں قرآنِ مجید نازل ہوا۔ اس کا پہلا حصہ رحمت ، دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے آزادی کا ہے۔ ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی ا نے فرمایا:
"جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں،جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں
محمد اختر صدیق
2001
  • دسمبر
رمضان اسلامی سال کا نواں قمری مہینہ ہے۔ اس کا تلفظ یوں ہے: رَ مَ ضَ تینوں مفتوح (زبر کے ساتھ) جبکہ الف ساکن ہے یعنی رَمَضَان۔ یہ رمض سے مشتق ہے جو باب ضَرَبَ یَضْرِبُ، نَصَرَ یَنْصُرُ اور سَمِعَ یَسْمَعُ سے مصدر آتاہیـ اس کا معنی شدید گرمی، دھوپ کی شدت سے تپ جانے والی زمین یاپتھر، نیزے کی نوک کو تیز کرنا اور گرمی کی شدت سے کسی کا جلنا وغیرہ آتاہے۔
محمد ارشد کمال
2009
  • اگست
1۔ یہ روزہ کا مہینہ ہے:
﴿فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهرَ‌ فَليَصُمهُ -- ١٨٥ ﴾.... سورة البقرة
'' تم میں سے جوکوئی رمضان کا مہینہ پائے تو وہ روزے رکھے۔''
اُمِّ عبدالرب
2012
  • جولائی
روزہ اسلام کا دوسرا رکن ہے۔ جس طرح مسلمان اپنی اولاد کو سات برس کی عمر سے نماز کی عادت ڈالتے ہیں، اسی طرح بچوں کو روزہ بھی رکھواتے ہیں۔ اس لئے روزے کا طریقہ معلوم کرنا ہر مسلمان مرد عورت، بوڑھے اور بچے پر ضروری ہے۔ رمضان کے روزے شعبان ۲ ہجری میں فرض ہوئے تھے۔ اس کی فرضیت ویسی ہی ہے جیسے نماز کی۔
صدیق حسن خان
2002
  • اکتوبر
  • نومبر

لغوی معنی:

قرآن مجید، حدیث نبوی اور عربی لغت میں روزے کے لئے لفظ صوم استعمال ہوا ہے۔ عربی زبان کی یہ خصوصیت ہے کہ کسی چیز کا نام رکھتے وقت اس کے اصلی وصف کا پورا لحاظ ہوتا ہے۔ یہی حال صوم کا ہے جس کے اصلی معنی رکنے کے ہیں۔ چنانچہ امام لغت ابو عبیدہؒ فرماتے ہیں:

عبدالسلام کیلانی
1971
  • نومبر
لغوی معنی:

ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہم لفظ ''صوم'' جسے قرآن حکیم میں ایک خاص عبادت کے لئے مخصوص کیا گیا ہے، کے لغوی معنی متعین کریں اور پھر دیکھیں کہ اس کا مفہوم کیا ہے۔ اس لفظ کا مادہ ص۔ و۔ م اور صوم کا لغوی معنی ہے ''کام سے رُک جانا'' کسی جگہ پر ٹھہر جانا۔
چودھری عبدالحفیظ
1972
  • ستمبر
  • اکتوبر
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اس لیے ہر انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کا ہر لمحہ اس کی رضا کے مطابق گزارے اور اس کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہے۔تاہم اللہ تبارک وتعالیٰ نے بعض ایسے خوبصورت مواقع بھی عطا کیے ہیں جس میں اس کی عبادت کا اجر عام دنوں سے بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے ۔
آباد شاہ پوری
2010
  • نومبر
عقیقہ کے وجہ تسمیہ میں علما کے کئی اقوال ہیں:
1.  حافظ ابن حجربیان کرتے ہیں کہ ''عقیقہ نو مولود کی طرف سے ذبح کیے جانے والے جانور کا نام ہے اور اس کے اشتقاق میں اختلاف ہے۔ چنانچہ ابو عبید اور اصمعی کہتے ہیں:
«أَصْلُهَا الشَّعْرُ الَّذِي یَخْرُجُ عَلى رَأْسِ الْمَوْلُوْدِ»
فاروق رفیع
2012
  • نومبر
شریعت كے وہ چند مسائل جو ہمارى توجہ كسى نہ كسى تاريخى واقعہ كى طرف مبذول كرتے ہيں ان ميں سے ايك قربانى بهى ہے- ايسے مسائل سے مقصود محض انہيں مقررہ وقت پر كر لينا ہى كافى نہيں ہے بلكہ ان تاريخى واقعات پر گہرى نگاہ ڈالتے ہوئے اس جذبہ عبادت اور قربانى كى ناقابل فراموش كنہ وحقيقت كو سمجھ كر اپنانے كى كوشش كرنابهى ضرورى ہے جس كے باعث يہ مسائل ہمارى اسلامى روايات ميں جزوِلاينفك كى حيثيت اختيار كر گئے۔
عمران ایوب لاہوری
2004
  • فروری
نازلةمصیبت کو کہتے ہیں اور قنوت دعا کو۔ اس لئے قنوتِ نازلہ کا معنی ہے: مصائب میں گھر جانے اور حوادثِ روزگار میں پھنس جانے کے وقت نماز میں اللہ تعالیٰ سے گریہ زاری والحاح، ان کے ازالہ و دفعیہ کی التجا کرنا اور بہ عجز و انکساری ان سے نجات پانے کے لئے دعائیں مانگنا۔
پھر مصیبتیں کئی قسم کی ہوسکتی ہیں۔
محمد اسحاق بھٹی
2001
  • دسمبر
قرب ووصال کی گھڑیاں، ایام صیام کی ساعتیں

دنیا اپنا ایک مزاج اور اسلوب رکھتی ہے ، جس طرح اس کوبالکلیہ نظر انداز کرنا اس کے فطری حقوق اور احترام کے بالکل منافی ہے ، اسی طرح اس کو بالکلیہ آزاد اور آوارہ چھوڑ دینا بھی نادان کے ہاتھوں میں چُھری تھما دینے کےمترادف ہے۔
ادارہ
1975
  • جولائی
  • اگست
اِس مہینے کی فضیلت کے متعلق کوئی حدیث نظر سے نہیں گزری، جو اعمالِ حسنہ عام طور پر کئے جاتے ہیں وہی اعمال صالح اس مہینے میں بھی پیش نظر رکھے جائیں۔ اس مہینے کی برائی بھی احادیث میں مذکور نہیں بلکہ ایامِ جاہلیت میں اس مہینے سے بد شگونی کی جاتی تھی، اور اس مہینے کی طرف طرح طرح کی آفات و مصائب منسوب کی جاتی تھیں۔ نبی کریم ﷺ نے ایسے عقائد کو باطل قرار دیا۔
صدیق حسن خان
1971
  • اپریل
محرم الحرام ہجری تقویم کا پہلا مہینہ ہے جس کی بنیاد نبی اکرمﷺکے واقعہ ہجرت پر ہے۔ گویا مسلمانوں کے نئے سال کی ابتدا محرم کے ساتھ ہوتی ہے۔ ماہِ محرم کے جو فضائل و مناقب صحیح احادیث سے ثابت ہیں، ان کی تفصیل آئندہ سطور میں رقم کی جائے گی اور اس کے ساتھ ان بدعات و خرافات سے بھی پردہ اُٹھایا جائے گا جنہیں اسلام کا لبادہ اوڑھا کر دین حق کا حصہ بنانے کی مذموم کوششیں کی گئی ہیں۔
مبشر حسین
2003
  • اپریل
مطالعۂ سیرت نبوی، علیٰ صاحبہا الصلٰوۃ والتسلیم کی ضرورت و اہمیت پر گفتگو باہر تحصیلِ حاصل معلوم ہوتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج ہم جس طرح اس فریضہ سے غفلت برت رہے ہیں وہ محض اس وجہ سے ہے کہ اس کی حقیقی ضرورت و اہمیت کا احساس ہمارے دلوں سے محو ہو گیا ہے۔ ہماری زندگیوں کی نہج کچھ ایسی بن گئی ہے کہ ہمیں اس اہم خلاء کا احساس بھی کم ہوتا ہے
حفیظ الرحمن لکھوی
1974
  • مارچ
  • اپریل
ابتدائیہ
متن کی روح کے مطابق ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ کرنا مشکل کام ہے اور اگر متن کسی قانون دستاویز کا ہو تو کام مشکل تر ہو جاتا ہے۔ صائمہ کیس میں دئیے گئے مسٹر جسٹس احسان الحق چوہدری کے عربی اور انگریزی زبان میں لکھے گئے بہتر (72) صفحات پر مشتمل فیصلے کو اردو کے قالب میں ڈھالتے ہوئے راقم الحروف نے جہاں یہ کوشش کی ہے کہ ترجمہ جہاں تک ممکن ہو سکے، آسان الفاظوں میں کیا جائے۔ رواں دواں ہو ۔۔۔ اور با محاورہ ہو، وہاں یہ کوشش بھی شامل ترجمہ رہی ہے کہ یہ ترجمہ فیصلے کی لفظ بہ لفظ معنوی عکاسی کر سکے۔ یہاں یہ گزارش ضروری معلوم دیتی ہے کہ ہر زبان کی ایک اپنی تہذیب، ایک اپنا محاوراتی رچاؤ اور تمثیلاتی سبھاؤ ہوتا ہے۔
جسٹس احسان الحق
1997
  • جولائی
نمازِ پنجگانہ کی رکعات کی صحیح تعداد کے متعلق عام طور پر عامۃ الناس میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں جیسے عشاء کی نماز کی ١٧ رکعات وغیرہ اور پھر ان رکعات کے مؤکدہ اور غیر مؤکدہ نوافل کے تعین کامسئلہ بھی زیر بحث رہتاہے۔ذیل میں افادۂ عام کے لیے نمازِ پنجگانہ کے مؤکدہ اور غیرمؤکدہ نوافل اور فرائض کی صحیح تعداد کو دلائل کے ساتھ پیش کر دیا گیا ہے۔
کامران طاہر
2011
  • جون