قرآن وسنت کو پاکستان کا بالا تر(Supreme)قانون بنانا مقصود ہے اورآئین کی نویں ترمیم چونکہ شریعت کے مطابق قانون سازی کے تقاضے پورے نہیں کرتی، اس لیے ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس (پا کستان زون)نے آئین میں ترمیم کے لیے حسب ِذیل سفارشات مرتب کی ہیں تا کہ نویں آئینی ترمیمی بل کو اس کے مطابق بنایا جائے یا پھر اس کو پرائیویٹ بل کی صورت میں قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے۔
ادارہ
2010
  • مئی
۳۰؍ اگست ۱۹۸۶ء کو لاہور میں 'متحدہ شریعت محاذ پاکستان' کے زیر اہتمام جملہ دینی مکاتبِ فکر کی نمائندہ کمیٹی نے شریعت بل کے ترمیم شدہ مسودے پر اتفاق کیا اور مؤرخہ ۲۶ء اکتوبر ۱۹۸۶ء جامعہ نعیمیہ، لاہور میں ہزاروں اور مشائخ کے عظیم الشان کنونشن میں مولانا سمیع الحق کی طرف سے، قاضی عبد اللطیف کی تائید سے ترمیمی شریعت بل کے لئے قرار داد پیش کی گئی جو متفقہ طور پر منظور ہوئی۔
ادارہ
2010
  • مئی
بموجب فرمانِ شاہی ۱؍۹۰ مجریہ ۲۷؍شعبان ۱۴۱۲ھ بمطابق یکم مارچ ۱۹۹۲ء

"المادة الأولی: المملکة العربیة السعودیة دولة عربیة إسلامیة، ذات سیادة تامة،دینھا الإسلام، ودستورھا کتاب اﷲ تعالیٰ وسنة رسولﷺ،ولغتھا ھي اللغة العربیة، وعاصمتھا مدینة الریاض"
محمد اسحٰق زاہد
2010
  • مئی
آغا شورش کاشمیریؒنے دورِ حاضر کی سیاست کو ایک ایسی طوائف سے تشبیہ دی تھی جو تماش بینوں میں گھری ہوئی ہے۔ کچھ اس طرح کا معاملہ ہمارے حال ہی میں آزاد ہونے والے میڈیا کا بھی ہے۔ بعض اوقات معمولی واقعات کواس قدر غیر معمولی کوریج دی جاتی ہے کہ دیکھنے والے حیران و پریشان ہوجاتے ہیں کہ آیا یہی سب سے بڑا قومی مسئلہ ہے؟
خلیل الرحمان
2010
  • مئی
۷؍ مارچ ۱۹۴۹ء کو پاکستان کے سب سے پہلے وزیر اعظم قائد ملت جناب لیاقت علی خان مرحوم نے ملک کی مجلس دستور ساز میں حسب ذیل قرار داد پیش کی۔ ۱۲؍ مارچ کو یہ منظور کی گئی۔ یہ تاریخی قرار داد 'قرار دادِ مقاصد' کے نام سے مشہور ہے جس کا متن پیش خدمت ہے:

چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کل کائنات کا بلا شرکتِ غیر حاکم مطلق ہے
ادارہ
2010
  • مئی
اس سے قبل علما کے ۲۲ نکات اور دستور پاکستان ۱۹۷۳ء کا ایک تقابل پیش کیاجا چکاہے۔ اس تقابلی جائزہ سے ظاہر ہے کہ اَب 'ملی مجلس شرعی' کی قرار داد میں اِن اُمور کا مطالبہ ہونا چاہئے:

1. حکومت کا سیاسی عزم"Political Will"اور مقتدرہ اشخاص کااسلامی ذہن "Mindset" اسلامی اقدار کے فروغ کے لئے ضروری ہے۔
خلیل الرحمان
2010
  • مئی
مدت ِ دراز سے اسلامی دستور ِ مملکت کے بارے میں طرح طرح کی غلط فہمیاں لوگوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اسلام کاکوئی دستورِ مملکت ہے بھی یا نہیں؟ اگر ہے تو اس کے اُصول کیا ہیں اور اس کی عملی شکل کیا ہوسکتی ہے؟ اور کیااُصول اور عملی تفصیلات میں کوئی چیز بھی ایسی ہے جس پر مختلف اسلامی فرقوں کے علما متفق ہوسکیں؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کے متعلق عام طور پر ایک ذہنی پریشانی پائی جاتی ہے
ادارہ
2010
  • مئی