• جنوری
1996
محمد بلال حماد
مرکزی جمیعت اہلحدیث پاکستان کے سیکرٹری جنرل اور ملی یکجہتی کونسل کے بانی رہنما میاں فضل حق 12-13 جنوری کی درمیانی شب حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے۔ انا لله وانا اليه راجعون

میاں فضل حق کا نام تاریخ پاکستان میں سنیرہ حروف سے لکھا جائے گا۔ انہوں نے تحریک پاکستان میں بڑی جوانمردی کے ساتھ بھرپور خدمات سرانجام دیں۔
  • دسمبر
2006
حافظ صلاح الدین
عمر ہا در کعبہ و بت خانہ می نالد حیات        تازِ بزم عشق یک داناے راز آید بروں
علم ہوا ہے کہ مولاناصفی الرحمن مبارک پوری؛ مصنف 'الرحیق المختوم' اپنے آبائی قصبے حسین پور (مبارک پور، اعظم گڑھ، بھارت) میں یکم دسمبر 2006ء بروز جمعتہ المبارک دنیاے فانی سے رہ گراے عالم بقا ہوگئے۔ اناﷲ وانا الیہ اجعون!
  • جنوری
1996
ام عبدالرب
زیر نظر مضمون مرحوم کی سب سے چھوٹی صاجزادی (زوجہ مولانا عبدالقدوس سلفی، جو طالبات کی معروف دینی درسگاہ "مدرسہ تدریس القرآن و الحدیث" کی مدیرہ ہیں کے آپ کی وفات پر فوری تاثرات و جذبات پر مشتمل ہے۔ باوجود اس کے کہ یہ مضمون کچھ ذاتی حوالوں اور یادوں پر مبنی ہے، قارئین کے لئے بصیرت افروز ہے۔ مولانا عبدالرحمٰن کیلانی کے تفصیلی حالات، کتب کا تعارف، معمولات زندگی اور دینی و جماعتی خدمات کا تعارف "مستقل نمبر" میں ملاحظہ فرمائیے۔
  • فروری
  • مارچ
2010
حافظ محمد طارق

نام ونسب:

ابو عبیدقاسمؒ دوسری صدی ہجری کے معروف فقیہ ، نحوی اور عالم قرآن تھے ۔ آپ کا نام قاسم، کنیت ابو عبید اور باپ کا نام سلام تھا۔ ابن ندیم نے اپنی معروف تصنیف الفہرست میں اتنا اور اضافہ کیا ہے: «قیل سلام بن مسکین بن زید»

  • اپریل
1992
عبدالرشید عراقی
محدثین کے گروہ میں امام محمد بن اسماعیل بخاری کو جو خاص مقام حاصل ہے ا س سے کون واقف نہیں ہے؟امام بخاری ؒ وہ شخص ہیں جنھوں نے اپنی ساری زندگی خدمت حدیث میں صرف کردی ہے۔ اور اس میں جس قدر ان کو کامیابی ہوئی اس سے ہر وہ شخص جو تاریخ سے معمولی سی واقفیت رکھتا ہے۔وہ اس کو بخوبی جانتا ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ وہ امام المحدثین اور"امیر المومنین فی الحدیث" کے لقب سے ملقب ہوئے اور ان کی پرکھی ہوئی حدیثوں اور اور جانچے ہوئے راویوں پر کمال وثوق کیا گیا اور ان کی مشہور کتاب الجامع الصحیح بخاری کو "اصح الکتب بعد کتاب اللہ"کاخطاب  دیاگیا۔
  • مارچ
1990
عبدالرشید عراقی
544ہجری اور 606ہجری
اُن کی علمی خدمات

( ابن اثیر کے نام سے دو بھائیوں نے شہرت پائی! ایک مجدد الدین مبارک صاحب النہایہ فی غریب الحدیث والآثر (م606ہجری) دوسرے عزالدین ساحب اسدالغابہ (م630ھ) اس مقالہ میں مجد الدین ابن اثیرؒ کے حالات اور علمی خدمات کا تذکرہ پیش خدمت ہے۔(عراقی)
  • جولائی
1990
عبدالرشید عراقی
امام ابن العربیؒ کا شمار اُندلس کے ممتاز محدثین کرام میں ہو تا ہے ان کی بدولت اُندلس میں احادیث و اسناد کے علم کو بڑا فروغ حاصل ہوا ۔امام ابن العربیؒ تقات واثبات میں مشہور تھے ۔ارباب سیر نے ان کے حفظ و جبط ،ذکاوت و ذہانت کا اعتراف کیا ہے ۔اور حدیث میں ان کو متبحر عالم تسلیم کیا ہے ۔ امام ابن العربی ؒ علوم اسلامیہ میں مہارت نامہ رکھتے تھے ۔تفسیر القرآن ،حدیث اصول حدیث،فقہ اصول فقہ ،تاریخ ادب وبلاغت ،صرف و نحواور علم کلام میں ماہر تھے ۔علامہ شمس الدین ذہبیؒ (م748ھ)لکھتے ہیں ۔
  • جون
1971
محمد اسحاق
نام اور کنیت:

محمد بن جریر نام، ابو جعفر کنیت، طبرستان کے شہر آمل میں ۲۲۴؁ھ میں آپ کی ولادت ہوئی۔ جب ہوش سنبھالا تو ہر طرف علم و فضل کے چرچے اور زہد و ورع کی حکائتیں عام تھیں، ہوش سنبھالت ہی یہ بھی کسبِ علوم و کمال کی خاطر گھر سے نکل پڑے، دور دراز کے سفر ط کئے اور وقت کے علما و فضلا سے شرفِ تلمذ حاصل کیا، تعلیمی اسفار کے دوران میں آپ کے والد آپ کو باقاعدہ خرچ پہنچاتے رہے۔
  • نومبر
1989
عبدالرشید عراقی
امام ابو الحسن دارقطنیؒ کا شمار ممتا ز محدثین کرام میں ہوتا ہے۔آپ ایک بلند پایہ محدث،متجرعالم اورجُملہ علوم اسلامیہ میں کامل دستگاہ رکھتے تھے۔امام دارقطنیؒ کی شہرت،حدیث میں بدرجہ اتم کمال حاصل کرنے سے ہوئی۔ائمہ فن اور نامور محدثین کرام نے اُن کے عظیم المرتبت اور صاحب کمال ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

علامہ خطیب بغدادی (م463ھ) لکھتے ہیں ،کہ:
  • جنوری
1990
عبدالرشید عراقی
امام ابو القاسم طبرانیؒ ایک بلند پایہ محدث علم و فضل کے جامع حفظ و ضبط ثقاہت واتقان میں بلند مرتبہ تھے ان کے معاصر علمائے کرام اور ارباب کمال محدثین نے ان کے حفظ وضبط اور ثقاہت کا اعتراف کیا ہے اور ان کے صدق و ثقات پر علمائے فن کا اتفاق ہے ۔علامہ شمس الدین ذہبیؒ (م748ھ) فر ما تے ہیں ۔کہ)

"امام ابو القاسم طبرانی ؒ ضبط و ثقاہت اورصدق وامانت کے ساتھ بڑے عظیم رتبہ اور شان کے محدث تھے
  • اگست
1989
عبدالرشید عراقی
امام ابو محمد عبداللہ کا شمارممتاز محدثین کرام میں ہوتا ہے۔قدرت نے ان کو غیر معمولی حفظ وضبط کا ملکہ عطا کیا تھا۔ارباب سیر اورائمہ حق نے اُن کی جلالت ۔قدر۔اورعظمت کا اعتراف کیا ہے۔امام ابو بکر خطیب بغدادی (م643ھ) لکھتے ہیں کہ:
"امام  دارمی ؒ ان علمائے اعلام اور حفاظ حدیث میں سے ایک تھے جو احادیث کے حفظ وجمع کے لئے مشہور تھے۔"[1]
امام دارمی ؒ کی ثقاہت وعدالت کے بھی علمائے فن اور ارباب کمال معترف ہیں۔حافظ ابن حجرؒ (م852ھ) نے تہذیب التہذیب میں امام ابو حاتم رازی ؒ (م264ھ) کا یہ قول نقل کیا ہے کہ "دارمی ؒ سب سے زیادہ ثقہ وثابت تھے۔"[2]
امام دارمیؒ احادیث کی معرفت وتمیز میں بھی بہت مشہور تھے۔روایت کی طرح درایت میں بھی اُن کا مقام بہت بلند تھا۔ ر وایت اوردرایت میں اُن کی واقفیت غیر معمولی اور نظر بڑی وسیع اور گہری تھی۔
  • اپریل
1985
عبدالرشید عراقی
امام ابو نعیم اصفہانی ؒ جن کا نام احمد بن عبد اللہ تھا ان کا شمار ممتاز محدثین کرام میں ہوتا ہے تفسیر حدیث ،فقہ اور جملہ علوماسلامیہ مہارت تامہ رکھتے تھے حدیث اور متعلقات حدیث کے علوم میں ان کو کمال کا درجہ حاصل تھا حدیث کی جمع روایت اور معرفت و روایت میں شرت وامتیاز رکھتے تھے علوئے اسناد حفظ حدیث اور جملہ فنون حدیث میں تبحر کے لحاظ سے پوری دنیا میں ممتاز تھے ۔
  • مئی
1990
عبدالرشید عراقی
تابعین کے فیض  تربیت سے جولوگ بہر ور  ہوئے۔اوراُن کے بعد علوم دینیہ کی ترقی وترویج میں ایک اہم کردار ادا کیا،اُن میں اسحاق بن راھویہ ؒ کا شمار صف اول میں ہوتا ہے۔آپ علمائے اسلام میں سے تھے۔اہل علم اورآپ کے معاصرین نے آپ کے علم وفضل کا اعتراف کیا ہے۔امام اسحاق بن راھویہؒ نہ صرف علم وحدیث میں بلند مقام کے حامل تھے۔بلکہ دوسرے علوم اسلامیہ یعنی تفسیر ،فقہ،اصول فقہ، ادب ولغت،تاریخ وانساب اور صرف ونحو میں بھی ید طولیٰ رکھتے تھے۔
امام خطیب بغدادی ؒ(م463ھ) لکھتے ہیں کہ:
"امام اسحاق بن راھویہؒ حدیث وفقہ کے جامع تھے۔ جب وہ قرآن کی تفسیر بیان کرتے تھے تو اس میں بھی سند کاتذکرہ کرتے تھے۔[1]
حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ(م852ھ) نے تہذیب التہذیب میں امام ابو حاتم رازی ؒ (م264ھ) کا یہ قول نقل کیا ہے کہ:
"حدیث کے سلسلہ میں روایت اور الفاظ کا یاد کرنا تفسیر کے مقابلہ میں آسان ہے۔ابن راہویہ ؒ میں یہ کمال ہے کہ وہ تفسیر کے سلسلہ سند کو بھی یاد کرلیتے تھے۔[2]
  • مئی
2006
شفیق مدنی
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کا نام محمد، کنیت ابوعیسیٰ اور والد کا نام عیسیٰ ہے۔ پورا سلسلۂ نسب یوں ہے: ابوعیسیٰ محمد بن عیسیٰ بن سورہ بن موسیٰ بن ضحاک ضریراور نسبت کے اعتبارسے سلمی،بوغی اور ترمذی کہلاتے ہیں جیسا کہ ابن اثیرنے جامع الاصول میں بیان کیا ہے۔آخر عمر میں نابینا ہونے کی وجہ سے ضریراور قبیلہ بنوسلیم سے تعلق رکھنے کی وجہ سے سُلمي کہلائے۔جبکہ بوغی قریہ بوغ کی جانب نسبت ہے جو ترمذ سے 18؍میل کی مسافت پرواقع ہے۔
  • مئی
2005
حافظ انس نضر

امام زرکشی رحمہ اللہ کے مختصر حالات زندگی۔

نام و نسب: امام زركشى كا پورا نام محمد بن عبد اللہ بن بہادر ہے۔بعض كے نزديك ان كے باپ كا نام بہادر بن عبد اللہ ہے ۔

كنيت ابو عبد اللہ، جبكہ نسب زركشى اور مصرى ہے۔تركى الاصل اور شافعى المسلك ہيں۔
  • مارچ
1999
حمیداللہ عبدالقادر
نام و نسب
مالک نام، کنیت ابو عبداللہ، امام دارالهجرة لقب اور باپ کا نام انس تھا۔ سلسلہ نسب یہ ہے: مالک بن انس بن مالک بن ابی عامر بن عمرو بن الحارث بن غیلان بن حشد بن عمرو بن الحارث (1)
بلاشک آپ رحمۃ اللہ علیہ دارِ ہجرت (مدینہ منورہ) کے امام، شیخ الاسلام اور کبار ائمہ میں سے ہیں۔ آپ حجاز مقدس میں حدیث اور فقہ کے امام مانے جاتے تھے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے ان سے علم حاصل کیا اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ بھی آپ کی مجالس علمی میں شریک ہوتے رہے۔
پیدائش و وفات
آپ 93ھ میں پیدا ہوئے۔ آپ کی تاریخ پیدائش میں مؤرخین نے اختلاف کیا ہے لیکن امام ابو زہرہ کی تحقیق کے مطابق زیادہ صحیح تاریخ پیدائش 93ھ ہے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا مقام پیدائش مدینۃ النبی ہی ہے۔ (2)
آپ رحمۃ اللہ علیہ 179ھ میں مدینہ منورہ میں ہی فوت ہوئے، چھیاسی سال کی عمر پائی۔ 117ھ میں مسند درس پر قدم رکھا اور باسٹھ برس تک علم و دین کی خدمت انجام دی۔ امام رحمۃ اللہ علیہ کا جسدِ مبارک جنتُ البقیع میں مدفون ہے۔ (3)
  • اکتوبر
1992
عبدالرشید عراقی
امام اسحاق بن راہویہ:امام اسحاق بن راہویہ کا شمار ان اساطین امت میں ہوتا ہے جنھوں نے دینی علوم خصوصاً تفسیر حدیث کی بے بہا خدمات سر انجام دیں۔آپ کے اساتذہ میں امام عبداللہ بن مبارک (م181ھ) امام وکیع بن الجراح اور امام یحییٰ بن آدم کے نام ملتے ہیں۔امام اسحاق بن راہویہ کو ابتداء ہی سے علم حدیث سے شغف تھا۔لیکن اس کے ساتھ ان کو تفسیر وفقہ میں دسترس تھی۔
  • اکتوبر
1989
حمیداللہ عبدالقادر
اور اُن کی الجامع الصحیح کا تعارف اور صحیحین کا موازنہ

ولادت 194ھ وفات :256ھ

نا م ونسب :
  • جنوری
1992
عبدالرشید عراقی
دوسری صدی ہجری میں جن ممتاز تبع تابعین نے توحید وسنت کے اشاعت وترویج اور شرک بدعت کی تردید ویبخ کنی میں کارہائے نمایاں سر انجام دیئے۔ان میں امام وکیع بن الجراح ؒ (196ھ) کا نام بھی آتا ہے۔امام وکیع بن الجراحؒ کی تصانیف کے سلسلہ میں ارباب سیر اورتذکرہ نگاروں نے خاموشی اختیار کی ہے لیکن ان کے علم وفضل،عدالت وثقاہت ،ذہانت وفطانت اور زہدوورع کا اعتراف کیا ہے۔امام وکیع بن الجراح ؒ کے علوئے مرتبت اور جلالت شان کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے
  • جون
1989
عبدالرشید عراقی
631ہجری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔676ہجری

امام یحییٰ بن شرف نووی ؒ کا شمار بلند پایہ محدثین کرام میں ہوتا ہے۔ائمہ فن اور تذکرہ نگاروں نے ان کے حنظ وضبط اور عدالت وثقاہت کا اعتراف کیا ہے۔علم حدیث اور اس کے متعلقات سے انہیں غیر معمولی شغف تھا۔اوران کاشمار ممتاز (لفظ مٹا ہوا ہے) حدیث میں ہوتا ہے۔
  • اکتوبر
1990
عبدالرشید عراقی
دوسری صدی ہجری کے اوائل میں جن تبع تابعین نے علم وعمل کی قندیلیں روشن کیں۔ان میں ایک امام یزید بن ہارون اسلمی ؒ بھی تھے۔ جو جملہ علوم اسلامیہ یعنی تفسیر،حدیث ،فقہ،اصول فقہ وغیرہ میں مہارت تامہ رکھنے کے ساتھ سیرت کردار کردار کے اعلیٰ مرتبے پر فائز تھے ان کے جلالت قدر حفظ وضبط عدالت وثقاہت ذکاوت وفطانت ،زہد وورع ،بے نفسی،خشیت الٰہی تبحر علمی کا اندازہ ان کے اساتذہ وتلامذہ کی فہرست سے لگایا جاسکتاہے۔
اساتذہ:
تابعین کرام میں امام یزید بن ہارون اسلمی ؒ کے اساتذہ میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ (م93ہجری) کے تلمیذ رشید حضرت یحییٰ بن سعید ؒ(م143ھ) اورحضرت سلیمان بن طرخاںؒ تیمی(م143ھ) شامل ہیں۔
امام یحیٰ بن سعید ؒ (م143ھ) علمی اعتبار سے اپنے دور کے ممتاز ترین تابعین میں تھے۔ ان کی جلالت علمی پر تمام ائمہ کا اتفاق ہے۔امام نوویؒ (م676ھ) لکھتے ہیں کہ ان کی توثیق جلالت اور امامت پر سب کا اجماع ہے۔ حافظ شمس الدین ذہبی ؒ (م847ھ) نے ان کو امام اورشیخ الاسلام کے القاب سے یاد کیا ہے۔
  • جنوری
1993
عبدالوہاب عبداللطیف
نام، نسب، کنیت اور لقب : آپ کی کنیت ابوالفضل، لقب جلال الدین او رنام عبدالرحمٰن بن الکمال ابی بکر محمد بن سابق .......... الخضیری، الاسیوطی، الشافعی ہے۔ولادت : آپ کی ولادت یکم رجب 849ھ بروز اتوار بعد نماز مغرب ہوئی۔سیوطی کا انتساب : ''اُسیوط'' کی طرف نسبت سے آپ ''اسیوطی'' مشہور ہوئے۔اسیوط کا تلفظ : پہلے حرف پر پیش، دوسرا ساکن اور تیسرے پر بھی پیش ہے۔مراصد الاطلاع : میں ہے کہ یہ ''صعید مصر'' کے نواح میں دریائے نیل کے مغربی
  • جنوری
1999
عبدالرشید عراقی
ولادت: حافظ شمس الدین ابو عبداللہ بن احمد بن عبدالہادی ابن قدامہ مقدسی حنبلی 714ھ میں پیدا ہوئے۔ (1)
اساتذہ و تلامذہ: حافظ ابن عبدالہادی نے اپنے دور کے نامور اساتذہ دن سے جملہ علوم اسلامیہ کی تحصیل کی۔ اور تمام علوم میں کمال پیدا کیا۔ آپ نے حافظ ابوالحجاج یوسف بن عبدالرحمین مزی رحمۃ اللہ علیہ (م 742ھ) سے تحصیل حدیث کی۔ اور دو سال تک آپ حافظ مزری کی خدمت میں رہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خاص طور پر فن حدیث و رجال میں اقران پر فائق تر ہو گئے۔ اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ علل و رجال میں حافظ شمس الدین ذہبی رحمۃ اللہ علیہ (م 748ھ) اور آپ کے استاد حافظ مزی آپ سے استفادہ کیا کرتے تھے۔ (2)
  • اگست
1993
مولانا محمد عبدہ الفلاح
آبائی وطن "کمیر پور"ضلع امرتسر ہے۔1304ھ میں پیدا ہوئے اور 1384ھ مطابق 1964ء وفات پائی۔کل عمر 80 سال حیات رہے۔راقم الحروف ان سطور میں صرف ان کی علمی زندگی اور دینی خدمات کے متعلق کچھ عرض کرنا چاہتا ہے۔

تعلیم کا آغاز:۔
  • فروری
1989
عبدالرشید عراقی
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی کدمتِ حدیث تاریخِ اسلام کا ایک دخشندہ باب ہے۔ آپ نے جس دور میں جنم لیا، اس وقت برصغیر تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ تاہم آپ کی سعی و کوشش سے برصغیر میں روشنی کے آثار پیدا ہوئے۔
علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ (م 1373ھ) لکھتے ہیں:
"ہندوستان کی یہ کیفیت تھی، جب اسلام کا وہ دختر تاباں نمودار ہوا جس کو دنیا شاہ ولی اللہ دہلوی کے نام سے جانتی ہے۔ مغلیہ سلطنت کا آفتاب لبِ بام تھا۔ مسلمانوں میں رسوم و بدعات کا زور تھا۔ جھوٹے فقراء اور مشاءخ جا بجا اپنے بزرگوں کی خانقاہوں میں مسندیں بچھائے اور اپنے بزرگوں کے مزاروں پر چراغ جلائے بیٹھے تھے۔ مدرسوں کا گوشہ گوشہ منطق و حکمت کے ہنگاموں سے پُر شور تھا۔ فقہ و فتاویٰ کی لفظی پرستش ہر مفتی کے پیش نظر تھی۔ مسائل فقہ میں تحقیق و تدقیق سب سے بڑا جرم تھا۔ عوام تو عوام، خواص تک قرآن پاک کے معانی و مطالب اور احادیث کے احکام و ارشادات اور فقہ کے اسرار و مصالح سے بے خبر تھے۔ شاہ صاحب کا وجود اس عہد میں اہل ہند کے لئے موہبت عظمیٰ اور عطیہ کبریٰ تھا۔