• فروری
2009
عبدالرزاق ملیح آبادی
امام شافعی رحمة اللہ علیہ کا یہ سفر نامہ ان کے مشہور شاگرد ربیع بن سلیمان نے روایت کیا ہے اور یہاں ابن حجہ کی کتاب ثمرات الأوراق طبع مصر سے ترجمہ کیا گیا ہے۔امام شافعی نے فرمایا:مکہ سے جب میں روانہ ہوا تو میری عمر چودہ برس کی تھی، منہ پر ابھی سبزہ نمودار نہیں ہوا تھا، دویمنی چادریں میرے جسم پر تھیں ۔ ذی طویٰ پہنچا توایک پڑاؤ دکھائی دیا، میں نے صاحب سلامت کی۔ ایک بڑے میاں ، میری طرف بڑھے اور لجاجت سے کہنے لگے: ''تمہیں خدا کا واسطہ،ہمارے کھانے میں ضرور
  • مئی
  • جون
1982
سعید مجتبیٰ سعیدی
وہ مقدس اور مبارک شہر جس میں مسلمانانِ عالم کا قبلہ، بیت اللہ شریف ہے،مکہ مکرمہ کہلاتا ہے۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت اسی شہر میں ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کی 53 بہاریں اسی شہر میں گزارین۔ بعدہ، جب قریش مکہ کے ظلم و ستم حد سے گزر گئے، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو اولا حبشہ کی طرف اور پھر مدینہ کی طرف، ہجرت کی اجازت مرحمت فرمائی۔
  • مارچ
1990
عبدالرؤف ظفر
فقروشاہی واردات مصطفیٰ است
ایں تجلی ہائے ذات مصطفیٰ است (اقبال )

سلسلہ انبیاؑء کی آخری کڑی انسان کا مل حضرت محمدمصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ انسانی زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے راہنمائی نہ ملتی ہو اسی وجہ سے اللہ تبارک وتعا لیٰ نے ارشاد فر ما یا۔
  • دسمبر
1989
شاہ بلیغ الدین
طریقہ طعام:
اُمت مسلمہ کو بہت سا علم امہات المومنین سے ملا۔خاص طور پر حضرت عائشہ   رضی اللہ تعالیٰ عنہا  ،حضرت حفصہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا ،اور حضرت امہ سلمہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے۔سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی غذا کھانے پینے کے طریقے اور اس سےتعلق سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پسند یا نا پسند کے بارے میں بھی اُمت کو بہت سی باتیں اُمت کی ماؤں سے معلوم ہوئیں الشفاء میں قاضی عیاض ؒ نے حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کی ایک روایت بیان کی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کھانا پیٹ بھر کر نہیں کھایا۔اس میں کیا مصلحت تھی۔اس بارے میں حضرت مقدام بن معدی کرب  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی ایک روایت ملتی ہے ۔ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  ہے۔اولاد آ دمؑ نے پیٹ سے بڑھ کر بڑا کوئی برتن  نہیں بھرا۔حالانکہ آدمی کے لئے چند لقمے کافی ہیں۔جو اس کی زندگی باقی رکھ سکتے ہیں۔بہتر ہے کہ وہ اپنی بھوک کے تین حصے کرے۔ایک تہائی غذا کےلئے ایک تہائی پانی کے لئے اور ایک تہائی سانس لینے کے لئے چھوڑدے۔نیند کی زیادتی در اصل کھانے پینے کی زیادتی کی وجہ سے ہوتی ہے اس سے مرض بڑھتا ہے۔اور آدمی مکروفریب میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
  • ستمبر
1984
عبدالمنان نورپوری
"نورستان میں وہاں کے سلفی حضرات نے"دولت انقلابی اسلامی افغانستان" کے نام سے خالص کتاب وسنت کی بنیادوں پر اسلامی حکومت کی داغ بیل ڈالی ہے۔لیکن افسوس کہ جب سے اس حکومت کا قیام عمل میں آیا ہے،مختلف تنظیموں کی طرف سے اس کے خلاف پروپیگنڈہ حتیٰ کہ بغض باطن کا اظہار کیا رہا ہے۔جس کا مرکزی نقطہ اس حکومت کو دہریہ،روس نواز چین نواز اورنیشنلسٹ وغیرہ ثابت کرنا ہے۔پاکستانی علماء اہل حدیث نے اس حکومت سے متعلق سن کر جہاں مسرت کا اظہار کیا۔ وہاں وہ اس ٖغلط پروپیگنڈہ کی اصلیت جاننے کے لئے بیتاب بھی ہوئے۔چنانچہ علماء اہلحدیث کا پہلا وفد مولانا گھر جاکھی (گوجرانوالہ) کی معیت میں نورستان پہنچا۔اوروہاں کے حالات معلوم کیے۔اس کے بعد گزشتہ رمضان المبارک میں دوسرا وفد شیخ الحدیث مولانا حافظ عبدالمنان صاحب(گوجرانوالہ) کی معیت میں نورستان کا دورہ کرکے لوٹا ہے۔
  • ستمبر
1982
عبدالرشید عراقی
جامع صحیح کامقصد ومقصود اعظم : 
                عام نظروں میں امام بخاری ﷫ صرف محدث ہیں اورمحدثین کےمتعلق یہ سمجھ لیاگیا ہےکہ یہ بیچارے صرف جامع ہیں ۔فقہ واستدلال سےان کاکوئی لگاؤ نہیں بلکہ حدیث کا جامع ہونا کچھ ایساعیب سمجھا جاتاہےکہ اس کےساتھ فقہ واستدلال کی خوبیاں بالکل جمع نہیں ہوپاتیں ۔(علوم حدیث میں کم مائیگی کوچھپانے کےلیے یہ کتنی اچھوتی توجیہ ہے؟) یہی وجہ ہےکہ ان لوگوں نےمحدثین کرام کےعطاراورفقہائے کرام کوطبیب (جانچ پڑتال کرنےوالے) کہہ کر اپنی کمزوریوں کوچھپانے کی ناکام کوشش کی ہے۔ان سب لوگوں کےلیے صحیح بخاری کامطالعہ بہترین جواب ہے۔
  • اگست
1982
عبدالرشید عراقی
تصانیف

امام صاحب کی تصانیف حسب ذیل ہیں:

1۔التاریخ الکبیر2۔التاریخ الاوسط3۔ التاریخ الصغیر4۔ الجماع الکبیر5۔خلق افعال العباد6۔ کتاب الضعفاء الصغیر7۔المسند الکبیر8۔التفسیر الکبیر9۔کتاب الہبہ
  • اگست
1984
غازی عزیز
احیاء علم کی تائید میں علماء کی چند آرا:

حافظ زید الدین العراقی صاحب "الفیہ"(م806ھ) جنہوں نے "احیاء علوم الدین" کی احادیث کی تخریج یعنی راوی اور حدیث کادرجہ اور اس کی حیثیت بیان کی ہے کہتے ہیں کہ امام غزالی ؒ کی احیاء العلوم اسلام کی اعلیٰ تصنیفات سے ہے۔عبدالغافر فارسی جو امام غزالی ؒ کے معاصر اور امام الحرمین کے شاگردتھے۔کہتے ہیں۔
  • اکتوبر
1984
غازی عزیر
(قسط 4)

ذیل میں امام غزالی کے کچھ تصوف آمیز اقوال اور ان پر بعض اکابرین کی آراء نقل کی جا رہی ہیں:

امام غزالی کی ایک اہم کتاب جس کی نسبت کے متعلق کسی کو کوئی شک و شبہ نہیں۔ "المنقذ من الضلال" ہے۔ اس کتاب میں امام غزالی فرماتے ہیں:
  • اگست
2014
عبدالجبار سلفی
قارئین کرام! ہماری اسلامی تاریخ بیدار مغز اور روشن ضمیر خلفا،اُمرا، فقہا وصلحا کے ایمان آفریں تذکروں سے معمور ہے۔ لیکن عبیدیوں، قرامطیوں نے جو بااتفاقِ اہل علم یہودی اور مجوسی النسل تھے، اپنے بنی فاطمہ علیہا صلوات اللّٰہ وسلامہ کی اولاد ہونے کا جھوٹا پروپیگنڈا کروا کر مغربِ اقصیٰ کی مسلم مملکتوں پر قبضہ کر لیا اور پھر اپنے بڑوں کی خیبر اور قادسیہ میں شکستوں کا بدلہ چکانے کے لیے اہل السنّہ مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑ دیےاور پھر اپنی سیاہ ترین کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کے لیے
  • فروری
1984
عبدالرشید عراقی
شیخ نورالحق دہلوی رحمۃ اللہ علیہ (1073ھ)

حضرت شیخ نورالحق حضرت شیخ عبدالحق کے صاجزادے تھے۔ آپ 983ھ میں پیدا ہوئے۔ آپ نے مکمل تعلیم اپنے نامور باپ سے حاصل کی۔ تکمیلِ تعلیم کے بعد آپ کو عہدہ قضاء پیش کیا گیا جس کو آپ نے قبول کر لیا اور آپ نے یہ کام بخیر و خوبی سر انجام دیا۔ مگر اس عہدۃ جلیلہ پر زیادہ عرصہ تک متمکن نہ رہے۔
  • اپریل
1983
عبدالرشید عراقی
برصغیر پاک و ہند میں علمائے اہل حدیث نے اسلام کی سربلندی ، اشاعت ، توحید و سنت نبوی ﷺ کےلیے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے او رعلمائے اہلحدیث نے مسلک صحیحہ کی اشاعت و ترویج میں جو فارمولا پیش کیا اس سے کسی بھی پڑھے لکھے انسان نے انکار نہیں کیا او ربمصداق اس شعر کےآزاد رَو ہوں اور میرا مسلک ہے صلح کل ہرگز کبھی کسی سے عداوت نہیں مجھے !
  • اکتوبر
  • نومبر
1985
عبدالرشید عراقی
مولانا غلام نبی الربانی کے فرزند ارجمند مولانا حافظ عبد المنان محدث وزیر آبادی م 1334ھ کے داماد اور جماعت اہلحدیث کے مشہور عالم ، واعظ ، خطیب اور صحافی مولانا عبد المجید خادم سوہدروی  م 1379ھ کے والد ماجد تھے ۔
ابتدائی کتابیں اپنے والد مولانا غلام نبی الربانی م 1348ھ سے پڑھیں ۔ اس کے بعد صحاح ستہ بشمول موطا امام مالک ، مشکوۃ المصابیح استاذ پنجاب مولانا حافظ عبد المنان صاحب محدث وزیر آبادی سے پڑھیں ۔
وزیر آباد میں تکمیل کے بعد حضرت شیخ الکل میاں سید محمد نذیر حسین صاحب محدث دہلوی م 1330 ھ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حدیث میں سند حاصل کی ۔ دہلی میں تکمیل تعلیم کے بعد مولانا شمس الحق ڈیانوی عظیم آبادی صاحب عون المعبود فی شرح سنن ابی داؤد م 1329ھ اور علامہ حسین عرب یمانی م 1327 ھ سے سند و اجازہ حاصل کیا ۔
  • اکتوبر
1984
عبدالرشید عراقی
اشاعتِ حدیث میں تلامذہ سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی مساعی:

حضرت میاں نذیر حسین صاحب مرحوم و مغفور کے جن تلامذہ نے اشاعتِ حدیث میں گرانقدر علمی خدمات انجام دی ہیں، ان کا مختصر تذکرہ پیش خدمت ہے:

مولانا سید امیر حسن رحمۃ اللہ علیہ (م 1291ھ)
  • جنوری
1985
عبدالرشید عراقی
حضرت الامام السید مولانا عبدالجبار غزنوی رحمۃ اللہ علیہ (م 1331ھ)

1268ھ میں غزنوی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے بھائی مولانا محمد بن عبداللہ غزنوی رحمۃ اللہ علیہ (م 1293ھ) اور مولانا احمد بن عبداللہ غزنوی رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کی۔ اس کے بعد دہلی تشریف لے گئے اور شیخ الکل حضرت مولانا سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ (م 1320ھ) سے حدیث کی سند حاصل کی۔
  • مارچ
  • اپریل
1988
عبدالرشید عراقی
مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی رحمۃ اللہ علیہ (م سئہ 1375ھ)

مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی رحمۃ اللہ علیہ کا شمار اہل حدیث کے اکابرین میں ہوتا ہے۔ مشہور مناظر، شعلہ نوا خطیب، مفسرِ قرآن، علم و فضل اور زہد و تقویٰ میں اعلیٰ نمونہ تھے۔
  • نومبر
1983
عبدالرشید عراقی
خدمت حدیث میں حضرت شاہ صاحب کی گرانقدر علمی خدمات ہیں اور آپ نے اس سلسلہ میں جو کارہائے نمایاں سرانجام دیے، بعد کے علمائے کرام نے آپ کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور آپ کی علمی خدمات کا اعتراف کیا ہے۔مولانا سید عبدالحئ (م1341ھ) لکھتے ہیں:''شیخ اجلّ، محدث کامل، حکیم الاسلام اور فن حدیث کے زعیم حضرت شاہ ولی اللہ فاروقی دہلوی بن شاہ عبدالرحیم (م1176ھ) کی ذات گرامی سامنے آتی
  • جولائی
1984
عبدالرشید عراقی
والا جاہ محی السنۃ مولانا السید نواب صدیق حسن خاں قنوجی رئیس بھوپال(م1307ہجریہ)

مولانا سید نواب صدیق حسن خان 19 جمادی الاول سن 1248ہجری کو بانس بریلی میں پیدا ہوئے۔آپ کا تعلق حسینی سادات سے ہے اور آپ کانسب 33 واسطوں سے جنا ب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا ہے۔ آپ کے والد کا نام سید اولادحسن (م1253ہجری) ہے جو اپنے وقت کے ممتاز اورجید عالم۔
  • جولائی
1983
عبدالرشید عراقی
حضرت شیخ محمد طاہر پٹنی کے بعد علم حدیث کی نشرواشاعت کےسلسلہ میں شیخ عبدالحق بن سیف الدین بخاری کا نام آتاہے۔حضرت شیخ عبدالحق 958ھ (بمطابق 1551ء )کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد شیخ سیف الدین سے حاصل کی، اس کے بعد مختلف اساتذہ کرام سے اکتساب فیض کیا۔ 22 سال کی عمر میں تکمیل تعلیم کے بعد حرمین شریفین کے لیے روانہ ہوئے۔ راستہ میں احمد آباد میں شیخ وجیہ الدین علوی گجراتی (م998ھ) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کی صحبت سے فیض حاصل کیا۔
  • مئی
1986
عبدالرشید عراقی
آپ کا سن ولادت 1850ء؍1267ھ ہے۔ابتدائی تعلیم اپنے والد مولانا مسیح الزمان(م1295ھ) او ربرادر بزرگ مولانا بدیع الزمان(م1312ھ) سے حاصل کی۔ 15 سال کی عمر میں درس نظامی سے لے کر انتہائی عربی علوم و معقول میں تکمیل کرکے فارغ التحصیل ہوگئے۔اساتذہ فنون:مولانا مفتی عنایت احمد(مصنف علم الصیغہ) مولانا سلامت اللہ کانپوری تلمیذ مولانا شاہ عبدالعزیز دہلوی، مولانا محمد بشیر الدین قنوجی(م1273ھ)
  • اپریل
1987
عبدالرشید عراقی
مولانا عبدالتّواب ملتان (م1366ھ) 1288ھ میں ملتان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد مولانا قمر الدین ملتانی سے حاصل کی۔اس کے بعد دہلی جاکر شیخ الکل مولانا سید محمدنذیر حسین محدث دہلوی (م1320ھ) سے حدیث کی سند لی۔تکمیل تعلیم کے بعد ملتان میں درس و تدریس شروع کی اور کتابوں کی خرید و فروخت اور اشاعت کا کاروبار شروع کیا۔ بیرون ملک سے کتب حدیث منگوا کر مستحق علماء میں مفت تقسیم کرنا آپ کا
  • جنوری
  • فروری
1980
طالب ہاشمی
حدیث اور سیرت کی کتابوں میں بیسوی ایسی خواتین کے نام ملتے ہیں جن کا شمار عظیم  للرتبت صحابیات میں ہوتا ہے لیکن ان کے حالات زندگی بہت کم معلوم ہیں یہاں ہم ایسی بارہ صحابیات کے حالات ( جس قدر معلوم ہیں ) نذر قارئین  کرتے ہیں ۔
حضرت ام ایوب انصاریہ ﷜
اصل نام معلوم نہیں اپنی کنیت  ’’ام ایوب‘‘ سے مشہور ہیں ۔ میزبان روسول اللہ ﷺ حضرت ابو ایوب انصاری ﷜ کی اہلیہ تھیں ۔ ہجرت نبوی سے قبل اپنے شوہر کے ساتھ ہی اسلام قبول کیا ۔ سرور عالم ﷺ مدینہ منورہ  تشریف لائے تو سات ماہ تک  حضرت ابو ایوب ﷜ کے گھر میں ہی قیام فرمایا ۔ اس دوران میں حضرت ام ایوب ﷜ ہی حضور ﷺ کے لیے کھانا تیار کیا کرتی تھیں ۔ ابتداء میں حضور ﷺ نے حضرت ابو ایوب ﷜ کے مکان کی زیریں منزل  میں قیام فرمایا ۔ حضرت ابو ایوب﷜ اور ام ایوب  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  اگرچہ  حضور ﷺ کی ابنی خواہش کے مطابق بالاخانہ میں منتقل ہو گئے تھے مگر دونوں میاں بیوی کو ہر وقت یہ خیال مضطرب رکھتا تھا
  • ستمبر
2012
سعید مجتبیٰ سعیدی
بقیع (بروَزن امیر) ایسے کھلے میدان کو کہتے ہیں جس میں مختلف قسم کے خودرُو گھاس، پودے اور درخت ہوں۔ مدینہ منورہ کے قرب و جوار میں بہت سی جگہیں بقیع کہلاتی تھیں۔ مثلاً 'بقیع الغرقد' جہاں عوسج کا ایک بہت بڑا درخت تھا، اسے غرقد کہا جاتا او راسی نسبت سے اس جگہ کو 'بقیع الغرقد' کہتے تھے۔ اس کے علاوہ بقیع الزبیر، بقیع الخیل او ر بقیع الخبخبة بھی معروف مقامات تھے۔
  • جنوری
1996
ادارہ
انسٹیٹیوٹ آف ہائر سٹڈیز ان شریعہ اینڈ جوڈیشری 99- جے، ماڈل ٹاؤن لاہور کے زیر اہتمام شریعت اور عربی زبان کے اعلیٰ کورس کی افتتاحی تقریب آج بوقت 3:00 بجے سہ پہر زیر صدارت محترم جناب وسیم سجاد صاحب، چئیرمین سینٹ آف پاکستان منعقد ہوئی۔

تقریب کا آغاز پرنسپل کلیة القرآن الکریم قاری محمد ابراہیم میر محمدی صاحب کی تلاوت سے ہوا۔
  • ستمبر
1983
عبدالرشید عراقی
شیخ نور الدین احمد آبادی : (م1155ھ)
آپ کا نام محمد صالح ہے۔ 1064ھ میں احمد آباد گجرات میں پیدا ہوئے۔ممتاز علمائے وقت سے تحصیل تعلیم کے بعد حرمین شریفین کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ آپ صاحب تصانیف کثیرہ ہیں۔حدیث کی خدمت اور نشرواشاعت میں آپ کی گرانقدر خدمات ہیں۔نور القاری کے نام سے بخاری شریف کی شرح لکھی ۔11155ھ میں 91 سال کی عمر میں آپ نے وفات پائی۔2