• مارچ
2002
عطاء اللہ صدیقی
جنسی آوارگی، بیہودگی اور خرافات کو ذرائع ابلاغ کس طرح ایک 'مقدس تہوار' بنا دیتے ہیں، اس کی واضح مثال 'ویلنٹائن ڈے' ہے۔ یہ بہت پرانی بات نہیں ہے کہ یورپ میں بھی 'ویلنٹائن ڈے' کو آوارہ مزاج نوجوانوں کا عالمی دن سمجھا جاتا تھا، مگر آج اسے'محبت کے متوالوں' کے لئے 'یومِ تجدید ِمحبت' کے طور پر منایا جانے لگا ہے۔ اب بھی یورپ اور امریکہ میں ایک کثیر تعداد 'ویلنٹائن ڈے' منانے کو برا سمجھتی ہے،
  • دسمبر
2001
شیخ علی طنطاوی
میں نے آج سے ۳۱ سال پہلے ریڈیو دمشق سے اس موضوع پر گفتگو کی تھی اور خیال یہ تھاکہ مدت بیت گئی،عصری تقاضوں سے اس کی مناسبت ختم ہوگئی اور یہ موضوع ایک قصہ پارینہ بن گیا ہے۔ ایک دن اپنے لکھے گئے کالموں کی ورق گردانی میں میرا یہ پرانا کالم میرے ہاتھ لگا۔جب میں نے اس کامطالعہ کیا تو مجھے یوں محسوس ہوا کہ یہ موضوع پرانا نہیں بلکہ نیا اور تازہ ہے۔
  • جنوری
2002
عطاء اللہ صدیقی
یونانی فلسفی ارسطو نے کہا تھا کہ انسان 'سماجی حیوان' ہے جو سماج کے بغیر زندگی نہیں گزار سکتا، اسے ہر صورت میں اپنے جیسے انسانوں سے ربط و تعلق استوار رکھنا پڑتا ہے۔ اہل مغرب کو ارسطو کایہ حکیمانہ قول اس قدر پسندآیا ہے کہ انہوں نے اس کی بنیادپر اپنا پورا فلسفہ حیات مرتب کرنے کی کوشش کی ہی۔ وہ اسے ایک'آفاقی حقیقت'کا درجہ دیتے ہیں۔
  • جنوری
2002
شیخ علی طنطاوی
اسلامی ممالک کی صورت حال عام طور پر یہ ہے کہ مغرب کی تقلید میں انہوں نے بھی تعلیم کے لیے مخلوط کالج اور یونیورسٹیاں اور تعلیمی ادارے بنا لیے جن میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اکٹھے پڑھتے اور رہتے سہتے ہیں- پارکوں میں وہ جس طرح ایک دوسرے کے ساتھ بیہودہ اور فحش حرکات کرتے ہیں، وہ یقیناً ایک مسلم معاشرے کے لیے باعث شرم اور نہایت قابل مذمت ہے۔
  • اپریل
2006
عطاء اللہ صدیقی
کسی تہوار کوہندوانہ رسم ثابت کرنے کے لئے تاریخی حقائق اگر کچھ اہمیت رکھتے ہیں ، تو یہ بات تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں ہے کہ بسنت ہندوانہ تہوار ہے۔ وہ لوگ جو ان تاریخی حقائق سے چشم پوشی کرتے ہیں اور بسنت کومحض ایک موسمی اور مسلمانوں کاثقافتی تہوار کہتے ہیں ، ان کی رائے مغالطہ آمیز اور غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ ہم اس موضوع پر ایک دوسرے مضمون میں تفصیلاً بحث کر چکے ہیں ۔ (دیکھئے شمارہ محدث: فروری 2002ئ)
  • فروری
  • مارچ
2010
زاہد صدیق مغل
تمہید از مدیر: بیسویں صدی کا پہلا نصف مغربی اَقوام کی آپس میں اور دوسرا نصف مغربی اَقوام کی اشتراکیت کے ساتھ مخاصمت وکشمکش کا دور ہے۔ اس دور کی عالمی سیاست میں اسلام کے حوالے سے عالم اسلام کا کوئی نمایاں کردار نظر نہیں آتا۔ بلکہ یہ صدی مسلم شعور کی انگڑائی اور عوامی تحریکوں کی شکل میں ملی اِحیا پر ہی مشتمل ہے۔
  • جولائی
1972
ریاض الحسن نوری
قتلِ جنین (Abortion) کا رائج العام ہونا نہ صرف کسی معاشرے کے جنسی فساد کا ثبوت ہوتا ہے، بلکہ فطرت سے یہ طریقِ تصادم بتاتا ہے کہ انسایت کے اعلیٰ جذبات اور قیمتی اقدار کی تباہی ہو چکی ہے۔ مغربی معاشروں میں قتلِ جنین ایک کھیل بن چکا ہے۔ وہاں ادارہ ہائے اسقاط کو لفظ ''مِل'' (Mill) بہ معنی کارخانہ سے موسوم کیا جاتا ہ۔ یعنی کارخانہ ہائے قتلِ انسانِ نامولود۔
  • ستمبر
2003
مہاتیر محمد
ڈاکٹر مہاتیر محمد اسلامی ملک ملائشیا کے صرف ہردلعزیزحکمران ہی نہیں بلکہ کئی کتب کے مصنف ایسے عظیم عالمی مفکر بھی ہیں جن سے دورِ حاضر کا مالی استعمار اور مغرب شدید خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے قیام اور فعالیت کے بعد 'گلوبلائزیشن' کے نعرے تلے ۱۹۹۶ء میں ملائشیا سمیت متعدد ایشیائی ممالک کو جس معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑا،
  • فروری
  • مارچ
2010
عطاء اللہ صدیقی
۱۴؍فروری کو منایا جانے والا ویلنٹائن ڈے کا نام نہاد تہوار بھی جدید یورپ کی تہذیبی گمراہی اور ثقافتی بے اعتدالیوں کا شاخسانہ ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ نے بالآخر جنسی آوارگی، بے ہودگی اور خرافات کو مسلسل پراپیگنڈے کے زور پر ایک 'تہوار' بنا دیا ہے۔ مغربی میڈیا نوجوانوں میں اخلاقی نصب العین کے مقابلے میں ہمیشہ بے راہ روی کو فروغ دینے میں زیادہ دلچسپی کا اظہار کرتا ہے۔
  • فروری
2015
محمد عاصم حفیظ
بھارت میں نامور بالی وڈ سٹار عامر خان کی فلم' پی کے'ریلیز ہونے کے بعد خوب ہنگامہ بپا ہے۔ ہندوانتہاپسند تنظیموں کی جانب سے ملک بھر میں ہنگاموں کے ساتھ ساتھ فلم کے ہیرو اور پروڈیوسر پر مقدمات بھی درج کرائے گئے ہیں ۔آر ایس ایس اور وشوا ہندو پریشدجیسی تنظیموں کا خیال ہے کہ اس فلم میں دیوتاؤں کی توہین کی گئی ہے جبکہ ہندو مذہب کے بنیادی نظریات کو تضحیک کا نشانہ بنایا گیا ہے۔